Search

31-12-19 - پاکستان بچانے کے لئے مستری باجوہ کی کتنی ضرورت ہے؟ کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد

ٓاج پاکستان کے قبضہ گروپ کے سب سے بڑے مسئلے پر بات کر لیتے ہیں جس نےڈھیٹ ٓاف ٓارمی اسٹاف جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کی صورت میں پورے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

جیسا کہ ٓاپ سب کہ علم میں ہے کہ اس ایکسٹینشن کے حوالے سے ریویو پٹیشن سپریم کورٹ میں دائر کی جا چکی ہے۔۔۔یہ ایک لمبی چوڑی درخواست ہے جس میں جنرل باجوہ کی زات کی اتنی خوبیاں بتائی گئی ہیں کہ وہ اس ٓانت سے بھی طویل ہو گئی ہیں جسے محاورے کی زبان میں شیطان کی ٓانت اور سیاسی زبان میں عمران کی ٓانت کہا جاتا ہے۔

اس درخواست میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کا سادہ زبان میں مطلب یہ ہے کہ پاکستان قائد اعظم نے بنا تو دیا ہے لیکن اب یہ بچ اسی صورت میں سکتا ہے کہ اس گرتی ہوئ دیوار کو جنرل باجوہ نام کا فوجی مستری پلستر کرتا رہے۔۔۔۔اگر ہم نے اس فوجی مستری کو ہٹا دیا تو اس کی جگہ پاکستان کی فوج میں کوئی ایسا قابل مستری نہیں جو یہ کام جاری رکھ سکے۔

سپریم کورٹ میں چونکہ اس وقت نئے چیف جسٹس گلزار نے انصاف کا ہتھوڑا اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے اس لئے اب یہ اس نئے ہتھوڑا گروپ پر منحصر ہے کہ وہ اپنے ہتھیار سے قبضہ گروپ پر وار کرتا ہے یا پھر ثاقب نثار کی طرح پاکستان اور اس کے عوام کے سر کچلنے کا کام کرتا ہے۔۔۔۔میری زاتی رائے میں تو ہتھوڑا گروپ کے اس نئے سربراہ سے نیکی کی امید کم ہی رکھنی چاہئے۔

اب ٓاپ یقیننا پوچھیں گے کہ اس ناامیدی کی وجہ کیا ہے تو میں وہ بھی ٓاپ سے شئیر کر لیتا ہوں۔

کل میں نے ٓاپ سے ایک گمشدہ وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کا زکر کیا تھا۔۔۔یہ صاحب ابھی تک لاپتہ ہیں لیکن ٓاج چیف جسٹس نے ان کی دائر کردہ ایک درخواست کو خارج کر دیا ہے اور مجھے ایسالگتا ہے کہ ان کو اغوا کرنے والوں کا ایک بڑا مقصد پورا ہو گیا ہے تو ہو سکتا ہے کہ جلد ہی انہیں گھر پہنچا دیا جائے۔

انعام صاحب چونکہ خود بھی قبضہ گروپ کا حصہ رہے ہیں اس لئے وہ ان سارے وارداتیوں کو اچھی طرح جانتے ہیں۔۔۔یہ زاتی طور پر ایماندار اور شریف ٓادمی بتائے جاتے ہیں اور فوج کی نوکری کے دوران بھی وہ اس قبضہ گروپ کے دھندے میں پوری ایمانداری سے شامل نہیں ہوتے تھے اس لئے انہیں جلد فوج سے فارغ کر دیا گیا تھا اور پھر اس کے بعد انہوں نے اپنی قانون والی ڈگری کا اچھا استعمال کرتے ہوئے بہت سارے گم شدہ لوگوں کے لواحقین کو قانونی مدد فراہم کی۔

اپنے اسی حق سچ کی جنگ والے مشن میں انہوں نےایک درخواست سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی کو قبضہ گروپ کے شکنجے سے بچانےکے لئے دائر کر رکھی تھی۔۔۔اس درخواست کی ٓاج سماعت تھی جو کہ عدالتی ہتھوڑا گروپ کے نئے سربراہ نے سنی۔۔۔اس کی سماعت بھی ان کے چیمبر میں ہوئی۔۔۔درخواست دہندہ کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم چونکہ اس وقت قبضہ گروپ کی خفیہ ایجنسی کے کسی شیلٹر ہوم میں ہیں اس لئے وہ تو اپنی درخواست کی پیروی کے لئے نہیں ٓا سکے۔۔۔اس موقع پر ان کے کچھ ساتھی وکلا نے حاضر ہو کر چیف جسٹس کو ساری صورت حال بتائی کہ درخواست گزار چونکہ اس وقت کسی کی قید میں ہے اور خود پیش نہیں ہو سکتا لہذا اس درخواست کی سماعت ملتوی کر دی جائے۔

درخواست گزارکی گمشدگی ایک بہت بڑا واقعہ ہے اور وہ ایک معروف وکیل بھی ہیں تو یقیننا ان کی گمشدگی والا سارا فوجی ڈرامہ چیف جسٹس کے علم میں بھی ہوگا لیکن چیف جسٹس نے اس درخواست کو اس لئے خارج کر دیا کہ درخواست گزار خود نہیں ٓایا۔


غور طلب بات یہ ہے کہ یہ درخواست انعام الرحیم صاحب نے ایک ایسے جج کو انصاف دلوانے کے لیئے دی جو کہ اس وقت قبضہ گروپ کے خلاف ایک فیصلہ دینے کی وجہ سے جرنیلی عتاب کا شکار ہے۔۔۔اس درخواست سے انعام الرحیم کو کوئی زاتی فائدہ نہیں ملنا تھا لیکن اس کے باوجود ہتھوڑا گروپ کے اس نئے سربراہ نے اس درخواست کو عدم پیروی کی وجہ سے خارج کر دیا ہے۔۔۔چیف جسٹس کے اس عمل سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ جنرل باجوہ کی درخواست کی قبولیت کی گھڑی قریب ٓا گئی ہے۔۔۔محکمہ موسمیات کے رپورٹر کی زبان میں یوں کہہ لیں کہ اسلام ٓاباد میں موسم ابر ٓالود ہے اور ہوا کا رخ پنڈی کی طرف ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ جلد ہی جنرل باجوہ کے گھر اور اس کے گرد نواح میں ایکسٹینشن والا بادل کھل کر برسے گا۔

نئے چیف جسٹس نے پاکستان کے فوجی قبضہ گروپ اور دیگر سیاسی اور غیر سیاسی گروپس کے لئے بھی ایک نیا راستہ کھول دیا ہے۔۔۔ان کی طرف سے یہ درخواست خارج کر کے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اول تو اپنے حریف کو عدالت کے اندر ہی نہ ٓانے دو لیکن اگر وہ ٓاپ کے خلاف چیخ و پکار کرتا ہوا عدالت میں پہنچ بھی جائے تو اس کے کیس کی شنوائی سے پہلے ہی اسے غائب کروا دو۔۔۔نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔

بات ختم کرنے سے پہلے میں ایک چرواہے کا قصہ ٓاپ سے اور ان لوگوں سے شئیر کر لیتا ہوں جو کہ جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن سے خوش نہیں ہیں اور ایک عرصے سے اس باجوائی منصوبے کو مسلسل ناکام بنا رہے ہیں۔۔۔ٓاپ لوگ تو اس قصے کو سن کر ایک کان سے دوسرے کان کی طرف ٹرانسفر کر دیں کیوں کہ ٓاپ میں سے زیادہ تر اس کھیل میں خاموش تماشائی کو کردار ادا کر رہے ہیں لیکن ٓازادی مارچ والے اور جنرل باجوہ کے حریف جرنیل چاہیں تو اسے غور سے سن لیں۔

گاوں کے لوگوں نے اپنی بکریوں کو چرانے کے لئے معقول تنخواہ پر ایک چرواہا رکھا ہوا تھا۔۔۔بکریوں کی حفاظت کے لئے اسے ایک لمبی سی لاٹھی بھی دے رکھی تھی۔۔۔ایک روز جب وہ جنگل میں بکریوں کو لے کر گیا تو بھیڑیوں کے غول نے حملہ کر دیا۔۔۔چرواہے نے مقابلہ کرنے کی بجائے درخت پر چڑھ کر جان بچائی۔۔۔بکریوں کو کھانے کے بعد بھیڑئیے کافی دیر درخت کے نیچے چکر لگاتے رہے کہ جیسے ہی چرواہا اترے وہ اسے بھی کھا جائیں لیکن چرواہا درخت سے نہ اترا۔۔۔ اور بھیڑیوں کے جانے کا انتظار کرتا رہا اور اس دوران عمران نیازی اسٹائل میں تسبیح کے دانوں پر انگلیاں پھیرتا رہا۔

خیر جب بھیڑیئے واپس چلے گئے تو چرواہا گاوں واپس گیا اور اس نے گاوں والوں کو بتایا کہ ان کی بکریوں کو بھیڑیئے کھا گئے ہیں تو گاوں والے بہت غصے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ اس نے بکریوں کی حفاظت کا زمہ لیا تھا۔۔۔وہ اس بات کی تنخواہ بھی لیتا تھا اور اس کے پاس بکریوں کی حفاظت کے لئے لاٹھی بھی تھی تو اس نے ان بکریوں کو بچانے کی کوشش کرنے کی بجائے ہتھیار کیوں ڈال دئے اور درخت پر کیوں چڑھ گیا۔

چرواہے نے جواب دیا کہ ٓاپ کی دی ہوئی لاٹھی سے میں ان مسکین بکریوں کی مارپیٹ تو کر سکتا ہوں لیکن خونخوار بھیڑیوں سے لڑنے کی حماقت نہیں کر سکتا۔جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کے حوالے سے اب سپریم کورٹ میں بھی ایسی ہی صورت حال بنتی ہوئی نظر ٓا رہی ہے۔۔۔ مظلوم کشمیری جو ابھی تک پاکستان کی فوجی حکومت سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں وہ بھی اس قصے سے اپنے لئے سبق تلاش کر سکتے ہیں ۔

بہر حال اب ایسا لگ رہا ہے کہ قبضہ گروپ کے بھیڑیئے بکریوں کو کھانے کے لئے تیار ہیں اور چرواہا اس بات کو اچھی طرح سمجھتا ہے کہ وہ اپنے عدالتی ہتھیاروں سےان بھیڑیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔۔۔اسی لیئے اس نے درخت پر چڑھنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔۔۔ٓاج گمشدہ وکیل انعام الرحیم کو درخواست کو خارج کرنے کا یہی مطلب ہے۔۔۔لیکن اب یہ ان لوگوں کی زمہ داری ہے جنہوں نے ٓاصف کھوسہ جیسے بد دیانت اور بد نیت جج کو ریٹائرمنٹ سے چند دن پہلے مومن کر لیا تھا اور اس میں اتنی دلیری پیدا کر دی تھی کہ اس نے عدالتی ہتھوڑے سے قبضہ گروپ کےبھیڑیوں کو زخمی کر دیا تھا۔۔۔اب بھی ان کے پاس وقت ہے کہ جنرل باجوہ کے بھیڑیوں سے لڑنے کے لئے سپریم کورٹ کے ججوں کوایسے ہتھیار اور حوصلہ دیں جن سے وہ ایک ایسا تاریخی فیصلہ کریں جس کی بنیاد پر جنرل باجوہ کو چھ ماہ سے پہلے ہی گھر بھیجا جا سکے۔

498 views