Search

کیا عمران نیازی نے پچاس کروڑ تک کی کرپشن حلال کر دی ہے؟

Updated: Dec 31, 2019

29/12/2019


کل ایک صاحب نے میسیج بھیجا ہے کہ ٓاپ ہر وقت فوج پر ہی تنقید کیوں کرتے ہیں۔۔۔پاکستان میں اور بھی بہت سارے مسائل ہیں ۔۔۔ان کے حوالے سے بات کیوں نہیں کرتے۔۔۔اس وقت ملک میں گیس کا بحران ہے۔۔۔لوگوں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہو گئے ہیں۔۔۔سردی کا زور ہے اور نہانے کے لئے گرم تو کجا ٹھنڈا پانی بھی مشکل سے ملتا ہے۔۔۔مہنگائی اتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ اب غریب اپنے بچوں کو روٹی کی تصویر دکھا کر چپ کرانے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ انکے پاس گیس اور بجلی کے بل دینے کے بعد سوائے فاقہ کشی کے کوئی ٓاپشن نہیں بچتا۔


بات تو ان صاحب کی بجا ہے لیکن میں اس پر تبصرہ کرنےسے پہلے ایک لطیفہ ٓاپ سے شئیر کر لیتا ہوں۔۔۔ہو سکتا ہے کہ جو غریب عمران نیازی اور جنرل باجوہ کی سونامی کی وجہ سے اپنے بچوں کو سادہ روٹی کی تصویر دکھا کر بہلا رہے ہیں انہیں اس میں اپنے بچوں کو بہلانے کے لئے بہتر ٓاپشن مل جائے۔



ایک بہت ہی کنجوس ٓادمی جو کہ رنڈوا بھی تھا ہر روز اپنے بچوں کو ناشتے میں دیسی گھی کا پراٹھا کھلایا کرتا تھا۔۔۔اس نے دیسی گھی ایک ڈبے میں میں ڈال رکھا تھا اور اس پر تالا لگا کر چابی اپنے پاس رکھی ہوئی تھی۔۔۔ہرصبح وہ خشک روٹی پکا کر اسے اس دیسی گھی والے ڈبے پر رگڑ کر اپنے بچوں کو دیتا اور کہتا یہ لو دیسی گھی کا پراٹھا کھا لو۔۔۔ایک بار اسے کاروبار کے سلسلے میں شہر سے باہر جانا پڑا اور وہ جاتے ہوئے اس دیسی گھی والے ڈبے کی چابی بھی ساتھ لے گیا اور اپنے بڑے بیٹے سے کہا کہ وہ چھوٹے بہن بھائیوں کا خیال رکھے اور انہیں ٹائم پر کھانا کھلا دیا کرے۔


اگلے روز جب وہ کنجوس باپ گھر واپس ٓایا اور اس نے اپنا روایتی دیسی گھی والا پراٹھا تیار کیا تو اس نے اپنے بڑے بیٹے سے پوچھا کہ کل ان بچوں کو ناشتے میں کیا دیا تھا۔۔۔بڑا بیٹا بولا ۔۔۔ابا جی کل میں نے بھی ٓاپ ہی کی طرح ان سب کو دیسی گھی والے پراٹھے کھلائے ہیں۔۔۔کنجوس باپ کو یہ سن کر بڑا غصہ آیا اور بولا الو دے پٹھیو اک دن تے ُسکی روٹی کھا لینی سی۔


پاکستان کی بائیس کروڑ عوام کا بھی ان دنوں یہی حال ہے۔۔۔عمران نیازی اور اس کے چیلے روز اس قوم کو اسی طرح کے دیسی گھی والے پراٹھے کھلا رہے ہیں اور یہ اس کنجوس رنڈوے باپ سے بھی دو ہاتھ ٓاگے نکل گئے ہیں کہ یہ دیسی گھی کے ڈبے پر اصلی روٹی کی بجائے اس سافٹ ویر سے بنی ہوئی روٹی پھیر کر کھلا رہے ہیں جس سافٹ ویئر کی مدد سے انہوں نے پورے پاکستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنا دیا ہے۔


اب میں ان صاحب کے اس اعتراض کا جواب دے دیتا ہوں کہ میں فوج پر تنقید نہیں کرتا بلکہ زیادہ تر جرنیلی مافیا کے بارے میں گفتگو کیوں کرتا ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں ایسے لکھاریوں کی تعداد کافی ہے جو کہ روز مرہ کے مسائل پر ٹی وی شوز بھی کرتے ہیں اور اخبارات میں کالم بھی لکھتے ہیں لیکن جرنیلی مافیا کے بارے میں لکھنے والے انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں اور یہ لوگ بھی پاکستان کے مسائل پر بات کرتے ہوئے ان مسائل کی جڑ پر کھل کر بات نہیں کرتے اور اس کےلئے کبھی حساس ادارے اور کبھی اسٹیبلشمنٹ کا لفظ ڈال کر بات کو کافی حد تک بے اثر کردیتے ہیں۔


ان کی یہ پہلیاں پاکستان کے دانشور طبقے کو تو سمجھ میں ٓا جاتی ہیں لیکن کم پڑھے لکھے اور عام شعبوں سے تعلق رکھنے والے جو کہ اصل میں اس چکی میں پس رہے ہیں انہیں اس بات کا اندازہ نہیں ہو پاتا کہ ان کے ساتھ جو واردات ہو رہی ہے۔۔۔اس کا ہدایتکار کون ہے۔۔۔یہ لوگ کبھی نواز شریف اور کبھی آصف زرداری کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر ٓاتے ہیں اور ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ ان کے بچےجس مہنگائی کا شکار ہیں وہ ان کرپٹ حکومتوں کی وجہ سے ہے۔


پاکستان اور پاکستانی عوام کی غربت کا ایک سبب وسائل کی کمی ہے۔۔۔ہماری ٓابادی ان وسائل کے تناسب سے کہیں زیادہ ہے لیکن وسائل کی کمی کے ساتھ ساتھ ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان محدود وسائل کی تقسیم میں بھی ڈنڈی ماری جار ہی ہے۔۔۔یہ ڈنڈی فوجی جرنیلوں کے ہاتھ میں ہے اور وہ اس غریب ملک کے بجٹ کا بیشتر حصہ دفاع کے نام پر ہڑپ کر جاتے ہیں۔


میرے بچپن میں اردو کی ایک نصابی کتاب میں ایک کہانی تھی جس میں ایک شخص کے پیٹ میں درد ہو جاتا ہے۔۔۔وہ گاوں کے حکیم کے پاس جاتا ہے اور اس سے پیٹ درد کی دوا طلب کرتا ہے۔۔۔حکیم صاحب اسے کوئی پڑیا دینے کی بجائے دیا سلائی پر سرمہ لگا کر اس کی ٓانکھوں میں لگاتے ہیں۔۔۔مریض حیران ہو کر پوچھتا ہے کہ حکیم صاحب درد تو میرے پیٹ میں ہے لیکن آپ علاج میری ٓانکھوں کا کر رہے ہیں۔۔۔حکیم صاحب کہتے ہیں کہ میں اگر تمہیں پیٹ درد کی دوائی دوں گا تو تمہارا یہ پیٹ درد ٓاج ٹھیک ہو جاے گا لیکن یہ بار بار ہوتا رہے گا۔۔۔اس لئے میں تمہیں ایسی دوائی دے رہا ہوں تاکہ تمہیں پھر کبھی پیٹ درد نہ ہو۔۔۔ساتھ ہی حکیم صاحب اسے بتاتے ہیں کہ اس نے کل جلی ہوئی روٹی کھا لی ہو گی جس کی وجہ سے اس کے پیٹ میں درد ہوا ہے۔۔۔اب چونکہ ٓانکھوں میں سرمہ ڈال دیا ہے اسلئے تمہیں بہتر دکھائی دے گا اور تم کبھی جلی ہوئی روٹی نہیں کھاو گے اور پیٹ کا درد بھی نہیں ہوگا۔


پاکستان اس وقت ایسی ہی کیفیت سے گزر رہا ہے لیکن بدقسمتی سے اس کے جرنیلی معالج اسے پیٹ درد کی دوائی تو دیتے رہتے ہیں لیکن اسے تینوں وقت جلی ہوئی روٹی کھانے پر مجبور کر رہے ہیں۔۔۔جب تک پاکستانی عوام کو اس جلی ہوئی روٹی اور جرنیلی واردات کی اچھی طرح سمجھ نہیں ٓائے گی ہر طرح کے مسائل اسی طرح پیش ٓاتے رہیں گے۔۔۔پچھلے دنوں ان جرنیلوں نے پاکستانی عوام کے پیٹ درد کا علاج کرنے کے لئے عمران نیازی والی پڑی کا استعمال کیا لیکن اس پڑی نے تو اتنا برا اثر دکھایا ہے کہ پاکستان عوام تو ایک طرف ان جرنیلوں کے پیٹ میں بھی مروڑ اٹھنے شروع ہو گئے ہیں ۔۔۔اب یہ لوگ اپنے مروڑوں کا علاج ڈھونڈنے میں مصروف ہیں اور اس کے لئے انہوں نے غیر ملکی معالج بھی منگوائے ہوئے ہیں لیکن اب کام اتنا بگڑ گیا ہے کہ ٹھیک ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔۔۔لیکن اس صورت حال میں بھی یہ جرنیلی مافیا صرف اپنے مسائل حل کرنے میں لگا ہوا ہے اور جرنل باجوہ کو دیکھ لیں کہ ان کی ساری توجہ اپنی نوکری کی توسیع کی طرف لگی ہوئی ہے۔۔۔جرنیلی ماہر قانون اور سرکاری ماہر قانون سارے سر جوڑ کا اس مسئلے کا حل تلاش کر رہے ہیں۔۔۔لوگوں کو زندگی کی بنیادی سہولتیں مل رہی ہیں یا نہیں انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ۔


اس لئے پاکستان کے لوگوں کو اس وقت اس حکیم صاحب کی ضرورت ہے جو ان کی ٓانکھوں میں ایسا سرمہ ڈالے جس سے انہیں پتہ چلے کہ ان کے پیٹ میں درد کس وجہ سے ہو رہا ہے ۔۔۔جب عوام کو اصل مجرموں کا پتہ چل جائے گا تو پھر یہ جو چھوٹے چھوٹے سیاسی وارداتئیے ہیں یہ خود ہی توبہ تائب کر لیں گے اور اگر باز نہیں ٓائیں گے تو پھر عوام کے پاس اتنے اختیارات ہوں گے کہ وہ بنی گالہ میں پرورش پانے والے اس مافیا کوڈی چوک میں نمائش پر لگا دیں۔


اب جاتے جاتے عمران نیازی کی نیب گردی کا زکر ہو جائے۔۔۔خلیفہ جی نے نیب کا ترمیمی ٓارڈیننس دو ہزار انیس اپنی صدارتی ٓارڈیننس فیکٹری سے جاری کروا دیا ہے۔


اس ٓارڈیننس کا مقصد یہ ہے کہ ان افسروں اور سرمایہ داروں کو تحفظ دیا جائے جنہوں نے پاکستان کو معاشی طور پر دیوالیہ کرنے میں عمران نیازی کی مدد کی ہے اور ان لوگوں نے اتنا سرمایہ اکٹھا کر لیا ہے کہ جب عمران نیازی یو ٹرن لے کر وزیر اعظم یونیورسٹی سے نکلے گا تو یہ گینگ اس کے اگلے داخلے تک اس کے کچن اور دھرنوں کے اخراجات کا بندوبست ٓاسانی سے کر سکیں۔


عمران نیازی نے اقتدار سنبھالتے ہی جس دوست پروری کا مظاہرہ کیا تھا اور پوری دنیا سے اپنے فنانسروں کو پاکستان میں موج میلہ کرنے کے لئے بلوا لیا تھا یہ ترمیمی ٓارڈیننس بھی اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔۔۔۔ اس ترمیمی ٓارڈیننس کے بعد سرکاری ملازم یا عوامی عہدیدار کے خلاف 50کروڑ سے زائد کرپشن پر اسکروٹنی کمیٹی کی منظوری کے بعد ہی کارروائی ہو سکے گی ۔۔۔اسے ٓاپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ دونمبر خلیفہ نے اپنے درباریوں سے کہا ہے کہ کرپشن کرتے ہوئے دھیان رکھنا کہ وہ اس باٹا ریٹ کے مطابق ہو جس میں جوتے کی قیمت ایک ہزار کی بجائے نو سو نناوے رکھی جاتی ہے تا کہ خریدنے والے کو جوتا مہنگا نہ محسوس ہو۔۔۔یعنی کرپشن ضرور کرو لیکن اسے انچاس اور پچاس کروڑ کے درمیان ہی رکھنا تا کہ نیب کے شکنجے سے بچے رہو۔


یہ چونکہ کرکٹ کا کھلاڑی ہے اور اسے اچھی طرح پتا ہے کہ جب اپنی ٹیم کی اننگ ختم ہوتی ہے تو پھر فیلڈنگ کا وقت ٓا جاتا ہے اور اس میں اگر اپنے بالر کمزور ہوں تو پھر خوب پدی لگتی ہے۔۔۔اس کی سیاسی اننگ خاتمے کے قریب ہے ۔۔۔اس نے نیب کی مدد سے جرنیلی ایجنڈے کے سیاسی مخالفین کے ساتھ جو زیادتیاں کرنی تھیں وہ اس نے کر لی ہیں۔۔۔اب اس کو خدشہ ہے کہ یہ ہتھیار اس کے اپنے گینگ کے خلاف استعمال ہو گا اس لئے اس نے اس کو اتنا کھونڈا کر دیا ہے کہ جب احتساب کا چھرا ان پر چلے گا تو وہ زیادہ گہرا زخم نہیں کر سکے گا۔

348 views