Search

بریانی والا ڈاکو اور پاکستان کی نیشنل سیکیورٹی پر امریکی قبضہ ۔

پاکستان کی فوج میں شاعر ادیب کم ہی پروان چڑھتے ہیں۔۔۔اگر غلطی سے کوئی افسر باقاعدہ طور پر شاعری شروع کر دے تو ایسے لوگوں کو بہت جلد ہی باعزت طریقے سے پنشن دے کر گھر بھیج دیا جاتا ہے کہ یہ بندوق چلانے والا محکمہ ہے اس میں قلم اور دماغ استعمال کرنے والوں کی گنجائش نہیں۔۔۔ایسے ہی ایک شاعر میجر صادق نسیم مرحوم بھی تھے۔۔۔بہت زیادہ شاعری کرتے تھے اور اس میں سے بعض اوقات اچھے شعر بھی نکل ٓاتے تھے۔۔۔ان کا ایک شعر مجھے یاد ٓا رہا ہے


ہوا ہی ایسی چلی ہے ہر ایک چاہتا ہے


تمام شہر جلے ایک میرا گھر نہ جلے


یہ شعرتیس چالیس سال پرانا شعر ہے اور میں نے ایک مشاعرے میں ان سے سنا تھا اور انہیں اس پر بہت داد بھی ملی تھی۔۔۔اس مشاعرے میں انہوں نے بطور شاعر شرکت کی تھی لیکن اپنے میجر ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نہ صرف اس مشاعرے کی صدارت بھی کی تھی بلکہ اتنا زیادہ کلام سنایا تھا کہ ایسا لگ رہا تھا کہ اس مشاعرے میں بھی ضیا الحق کا فوجی مارشل لگ گیا ہے جو کہ ٓایا تو نوے دن کے لئے تھا لیکن پھر جانے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔


ٓاج مجھے یہ شعر اس لئے یاد ٓایا کہ میں نے روزنامہ جنگ میں ایک خبر پڑی ہے جس نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے اور ساتھ ہی یہ شعر بھی یاد دلا دیا ہے۔۔۔اس خبر کی سرخی کچھ یوں ہے کہ


ایک پلیٹ بریانی دینے کے بہانے گھر لوٹنے کی کوشش اہلخانہ کی چالاکی سے ناکام


اس خبر کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ کراچی میں ایک گھر پر ایک صاحب نے دستک دی۔۔۔اس کے ہاتھ میں بریانی کی پلیٹ تھی۔۔۔جب گھر کے ایک فرد نے دروازہ کھولا تو اس بریانی والے بندے نے کہا کہ یہ نیاز کی بریانی ہے۔۔۔پڑوس والوں نے بھیجی ہے۔۔۔اب یہ کراچی کے کلچر میں ایک عام سی بات ہے لوگ حلیم اور بریانی کی دیگیں پکوا کر ٓاس پڑوس میں بھجواتے ہیں۔۔۔گھر والے نے یہ بریانی کی پلیٹ لی اور اسے خالی کرنے کے لئے اندر گیا لیکن اس نے بڑی سمجھداری کا ثبوت دیا اور جاتے ہوئے گھر کے دروازے کو کھلا چھوڑنے کی بجائے اسے لاک کر دیا۔۔۔جب بریانی کی پلیٹیں خالی کرنے کے بعد گھر والے نے پلیٹیں واپس کرنے کے لئے دروازہ کھولا تو اس بریانی دینے والے کے ساتھ تین مشکوک لوگ اور بھی تھے۔۔۔گھر والے نے موقع کی نزاکت کو بھانپ لیا اور اس سے پہلے کہ وہ لوگ گھر پر اس طرح کا قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے جس طرح کا قبضہ، قبضہ گروپ کا ٹرپل ون بریگیڈ مارشل لا والی لوٹ مار کرنے سے پہلے وزیر اعظم ہاوس پر کرتا ہے۔۔۔گھر والے نے دروازہ بند کرتے ہی مدد کے لئے ٓاس پڑوس والوں کو بلانے کے لئے شور مچا دیا ۔۔جس پر بریانی تقسیم کرنے والا گینگ موٹر سائکلوں پر بیٹھ کر فرار ہو گیا۔۔۔اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔۔ اس کل لنک ہماری ویڈیو کی ڈیسکرپشن میں بھی موجود ہے جسے کلک کر کے ٓاپ بھی بریانی والے ڈاکے کی ویڈیو دیکھ سکتے ہیں اور اللہ کو جان دینے والا عمران نیازی کا وہ کنفیوزڈ چیلا بھی اسے دیکھ لے تو اچھا ہے جس نے رانا ثنا اللہ کے خلاف ویڈیو ثبوت دینے کا دعوی کیا تھا اور بعد میں ویڈیو اور فو ٹیج کا فرق سمجھا کر بنی گالہ فرار ہو گیا تھا۔


اس کہانی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جس گھر میں مارشل لا نما ڈکیتی ہونے لگی تھی اس گھر کے مالک نے ابھی تک ڈاکوں کے خلاف مقدمہ درج نہیں کروایا۔۔۔متعلقہ تھانے کے انچارج کا کہنا ہے کہ اس نے بھی یہ فوٹیج دیکھ لی ہے لیکن ابھی تک اس ناکام ڈکیتی کے بارے میں ایف ٓائی ٓار درج کرنے کی درخواست موصول نہیں ہوئی۔


اب میں اس پر مزید بات کرنے سے پہلے اس مارشل لا نما ڈکیتی کی وضاحت کر دوں کہ میں یہ لفظ کیوں استعمال کیا ہے۔۔۔میری دانست میں پاکستان میں بھی اکثر مارشل لا لگانے اور فوجی تبدیلی لانے کے لئے پاکستان کے گھر میں رہنے والوں کو اسی طرح چکمہ دیا جاتا ہے۔۔۔کبھی پاکستان پر قبضہ کرنے والا یہ کہتا ہے کہ وہ اسلامی نظام کا پلاو تقسیم کرنے ٓایا ہے اور کبھی یہ کہتا ہے وہ احتساب کی ایسی کھیر دینے ٓایا ہے جس کو کھا کر گھر کے سارے لوگ خوشحال ہو جائیں گے لیکن ہر بار یہ فوجی ڈکٹیٹر گھر میں گھسنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور پھر گھر سے اس وقت تک نہیں نکلتا جب تک اس کے اپنے گینگ کے لوگ اسے زبردستی نہیں نکال دیتے تا کہ گھر ایک بار پھر خالی ہو اور ان کو بریانی کی پلیٹ دکھا کر اس گھر پر قبضہ کرنے کا موقع ملے۔


اس بریانی کی ڈکیتی صرف ایک ڈکیتی نہیں اس میں ہمارا موجودہ معاشرے کی پوری صورت حال جھلک رہی ہے۔۔۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے کا افسر کی بے حسی دیکھیں کہ وہ اپنے علاقے میں ہونے والی اس واردات کا ثبوت اس فوٹیج کی صورت میں دیکھ چکا ہے لیکن ڈاکوں کو پکڑنے کی بجائے اور اہل خانہ کے پاس جا کر اس معاملے کی تحقیقات کرنے کی بجائے ابھی تک اس انتظار میں ہے کہ گھر کا مالک تھانے ٓا کر درخواست دے۔


اسی طرح جن صاحب کے گھر یہ بریانی والا ڈاکہ پڑنے والا تھا انہوں نے بھی اسی بات پر صبر شکر کر لیا ہے کہ ان کے گھر پر واردات ناکام ہو گئی ہے۔۔ان صاحب کو چاہئے کہ وہ ان بریانی والے ڈاکووں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی بھی کوشش کریں۔۔۔جس طرح انہوں نے اپنے ہوش حواس سے کام لیتے ہوئے اپنے گھر کو ڈاکے سے بچایا ہے اسی طرح تھوڑی سی تکلیف اور کر یں تا کہ یہ بریانی والے ڈاکو بچی ہوئی بریانی کی مدد سے کسی اور کا گھر نہ لوٹ لیں۔۔۔اب اگر یہ لوگ ٓازاد پھرتے رہے اور انہیں سزا نہ ملی تو یہ اگلی بار جس کے گھر بریانی دینے جائیں گے اسے بریانی دے کر اتنا موقع نہیں دیں گے کہ وہ گھر کے دروازہ بند کر سکے۔


میرا اندازہ ہے کہ گھر کا مالک سیاسی طور پر بہت سمجھدار ہے اور وہ ان دنوں پرویز مشرف والے مقدمے کی کاروائی کو بڑے غور سے دیکھ رہا ہے ۔۔۔اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ اس ملک میں فوجی قانون ہے جس میں سزا طاقتور کو نہیں بلکہ کمزور کو دی جاتی ہے۔۔۔پاکستان اور اس کے ٓائین پر ڈاکہ ڈالنے والے غدار پرویز مشرف کی سزا پر اس نے فوجی خاندان کے واویلے کو بڑے غور سے سنا ہے اور اس سے یہی سبق سیکھا ہے کہ اگر اس نے ان ڈاکوں کے خلاف اگر پولیس میں پرچہ کروایا تو اس کو اور مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔۔۔اس بار تو اس کا گھر لٹنے سےبچ گیا ہے لیکن ان ڈاکووں کے خاندان نے اگر اس کا برا منا لیا تو پھر جس پرویز مشرف کی سزا پر انصاف کرنے والے اور انصاف مانگنے والا دونوں کے خلاف فوجی خاندان حرکت میں ٓایا ہوا ہے اسی طرح ڈاکووں کا خاندان اس کے خلاف بھی ڈاکووں کا لشکر لے کر ٓا جائے گا اور اس بار ان کے پاس گھر کا دروازہ کھلوانے کے لئے بریانی کی پلیٹ نہیں ہو گی بلکہ اس طرح کے سپاہی ہوں گے جو دیواریں اور گیٹ پھلانگ کر گھر میں داخل ہو جاتے ہیں۔


بریانی والے اس ڈاکے کو اب اگر ٓاپ پورے پاکستان کی صورتحال پر پھیلا لیں تو ٓاپ کو پاکستان کے ہر فوجی قبضے کی سمجھ ٓا جائے گی اور یہ بھی پتہ چل جائے گاکہ یہ فوجی ڈاکہ ہر بار کامیاب کیوں ہو جاتا ہے۔۔۔ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں اور عوام ان فوجی ڈاکووں کا بھگانے میں کامیاب کیوں نہیں ہوتے۔۔۔میرے خیال میں تو اس کے پیچھے وہی سوچ ہے جو صادق نسیم کے شعر میں جھلک رہی ہے


ہوا ہی ایسی چلی ہے ہر ایک چاہتا ہے


تمام شہر جلے ایک میرا گھر نہ جلے


اس حوالے سے ٓاپ بھی اپنی رائے دیں اور بتائیں کہ کیا ٓاپ بھی اس گھر کے مالک کی طرح ہیں جو صرف اپنے بچوں اور اپنے گھر کے لئے حفاظی انتظامات کرتا ہے اور اسے کسی اور کی پرواہ نہیں ۔


رہی بات پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماوں کی تو وہ تو مجھے اچھی طرح پتہ ہے کہ یہ سب اپنا اپنا جماعت خانہ بچانے میں لگے رہتے ہیں۔۔۔انہی کی اس سیاسی مفاد پرستی نے اب تک جنرل ایوب خان، یحیی خان، ضیا الحق اور پرویز مشرف جیسے وردی والے ڈاکووں کو اس گھر کے اندر ٓانے اور لوٹ مار کرنے کا موقع دیا ہے۔۔۔ان جماعتوں کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ فوجی ڈنڈا ہر ایک سیاسی لیڈر پر چلے لیکن ان کی جماعت پر اس کا کوئی وار نہ ہو۔


ان دنوں بھی یہ واردات ہو رہی ہے۔۔۔ عمران نیازی نے تو اگلے پچھلے سارے ریکارڈ توڑ دئے ہیں اور اس فوجی ڈنڈے کی تابعداری میں پاکستان اور اس کی پوری ایک نسل برباد کر کے رکھ دی ہے۔۔۔مجھے تو یہ اس نشئی سے بھی گیا گزرا لگتا ہے جو اپنی نشے کی لت پوری کرنےکے لئے کبھی قرضہ لیتا ہے اور اگر قرضہ نہ ملے تو گھر کے برتن بھی سستے داموں فروخت کر دیتا ہے۔۔۔اسی کی سیاسی چلنی کی وجہ سے ہندوستان نے نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کو یرغمال بنا رکھا ہے بلکہ اب وہ کشمیر جسے ہم ٓازاد کشمیر کا نام دیتے ہیں وہ بھی اس کی ہٹ لسٹ پر ٓا گیا ہے اور اس بات کی تصدیق عمران نیازی نے خود بھی کی ہے اور کہا کہ اسے ڈر ہے کہ نریندر مودی کشمیر میں کوئی کام دکھائے گا۔۔۔پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے حوالے سے بھی مشاورت کے لئے اس نے معید یوسف جس کے بارے میں گمان ہے کہ وہ امریکی شہری ہے اسے بطور دفاعی مشیر امریکہ سے امپورٹ کر لیا ہے۔۔۔مجھے حیرت ہے کہ فوجی خاندان نے جسے اپنے وقار کا بہت خیال ہے اور اس کا دعوی ہے کہ وہ اس دفاع کرنا بھی جانتا ہے اس نے بھی اتنی پرکشش نوکری ہاتھ سے جانے پر ابھی تک احتجاج نہیں کیا۔۔۔حالانکہ ان کے پاس بہت سارے ایسے بڑھے لکھے ہر فن مولا جرنیل ہیں جو کہ بحریہ ٹاون میں نئی نوکریاں نہ ہونے پر کافی دنوں سے بیکارہیں اور ٹی وی پر دفاعی تبصرے کر کے بال بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں ۔۔۔۔تحریک انصاف سے ایک کروڑ نوکریوں کی امید لگا کر بیٹھے ہوئے پڑھے لکھے نوجوانوں نے بھی اس ناانصافی پر ابھی تک بنی گالہ کے باہر کوئی احتجاج نہیں کیا ۔


سیاسی جماعتیں تو اس وقت جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن والے مسئلے کو کیش کروانے میں مصروف ہیں۔۔۔اس لئے انہیں اتنی فرصت ہی نہیں کہ وہ فوجی حکومت کی طرف سے اس اہم اور حساس پوسٹ پر معید یوسف کی تقرری پر کوئی شور شرابا کر سکیں۔۔۔جنرل باجوہ اور کا جرنیلی گروہ بھی شاید اس ایکسٹینشن کی الجھی ہوئی ڈور کو سلجھانے میں اتنا الجھ گیا ہے کہ اسے بھی امریکہ سے امپورٹ ہونے والے اس مشیر پر انگلی اٹھانے کا موقع نہیں ملا۔۔۔ لیکن شاید یہ سارے اسی گھر والے کی طرح ہیں جسے بریانی والے ڈاکووں سے بس اپنا گھر بچانے کا فن ٓاتا ہے۔

150 views