Search

25-12-19 - قائد اعظم کے پاکستان کو قبضہ گروپ سے رہائی کیسے ملے گی؟

Updated: Dec 31, 2019

آج پچیس دسمبر کا بہت ہی اہم دن ہے۔۔۔ یہ حضرت عیسی کا یوم ِ ولادت بھی ہے۔۔۔دنیا بھر میں حضرت عیسی کی پیدائش پر خوشیاں منانے والوں کو بہت بہت مبارک ۔۔۔ قائد اعظم محمد علی جناح بھی اسی روز پیدا ہوئے۔۔۔ان کے یوم ولادت کی ہم سب کوڈھیروں مبارکیں ۔۔۔مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف کا بھی ٓاج جنم دن ہے۔۔۔ان کو اور ان کے تمام سپورٹرز کو بھی یہ دن مبارک۔۔۔اللہ تعالی سےدعا ہے کہ وہ انہیں جلد صحت مند کرے تاکہ انہوں نے ووٹ کو عزت دو والا جو پراجیکٹ شروع کیا تھا اسے اپنی نگرانی میں مکمل کروا سکیں۔۔۔اس منصوبے کی تکمیل اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ اس منصوبے کے موجودہ چیف انجئنیر کو وقتی طور پر مکمل ٓارام دیا جائے اور جب ملک میں دوبارہ میٹرو اور اورنج ٹرین اور نئے پلوں کی تعمیر کی ضرورت ہو تو انہیں ان سب کو نگران بنا دیا جائے تا کہ وہ پہلے کی طرح اپنی صلاحیتیں دکھا کر پاکستان کے لوگوں کے لئے ٓاسانیاں پیدا کر سکیں۔


قائد اعظم کے پاکستان کی جو موجودہ صورتحال ہے اس میں پاکستان کی کسی بڑی جماعت کی موجودہ فنکشنل قیادتوں کے بس میں نہیں کہ وہ اس کا قبضہ اس گروپ سے چھڑوا سکیں جس نے ملک ریاض کے بحریہ ٹاون کی طرح ہر جگہ ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔


قائد اعظم کے حوالے سے میں ایک مضمون پڑھ رہا تھا جو کہ بہت ہی معلوماتی بھی ہے اور بہت اہم اس لئے بھی ہے کہ اس میں قبضہ گروپ کے پہلے اہم رکن فیلڈ مارشل ایوب خان کے بارے میں قائد اعظم کی وہ رائے ہے جو انہوں نے اس وقت دی تھی جب وہ پاکستان کے گورنر جنرل تھے۔ اس مضمون کے اقتباسات ٓاپ سب سے شئیر بھی کر رہا ہوں۔۔۔ٹوئٹرکی زبان میں یوں کہہ لیں کہ میں بھی اسے عمر چیمہ کی طرح ری ٹوئٹ کر رہا ہوں۔


یہ مضمون فوجی مداخلت اور قائداعظم۔۔۔۔۔داؤد ظفر ندیم کی تحریر ہے ۔


” قائد اعظم فوج کی سیاست میں مداخلت کے اس درجہ مخالف تھے کہ جب سبھاش چندر بوس نے جاپان کی مدد سے انڈین نیشنل آرمی قائم کی تو قائداعظم نے یہ کہہ کر اس کی مذمت کی کہ فوج کو سویلین اتھارٹی کی حکم عدولی کا اختیار حاصل نہیں ہے۔


قائد اعظم گہری سیاسی بصیرت رکھتے تھے، قائد اعظم قیام پاکستان کے بعد جان گئے تھے کہ بعض فوجی افسران سیاست کے معاملات میں بہت دلچسپی لیتے ہیں۔سردار عبدالرب نشتر نے ایوب خان کے بارے میں ایک فائل قائد اعظم کو بھجوائی تو ساتھ نوٹ میں لکھا کہ ایوب خان مہاجرین کی بحالی اور ریلیف کے بجائے سیاست میں دلچسپی لیتا ہے۔ اس پر قائد اعظم نے فائل پر یہ آرڈر لکھا: ’’ میں اس آرمی افسر (ایوب خان) کو جانتاہوں۔ وہ فوجی معاملات سے زیادہ سیاست میں دلچسپی لیتا ہے ۔


کچھ محققین کے مطابق قائداعظم نے محمد ایوب خان کو ملازمت سے برخواست کرنے کا بھی کہا تھا مگر پہلے اس موقع پر ان کے دوست اور سیکرٹری دفاع جناب سکندر مرزا کام آئے۔ اُن کا وزیرستان تبادلہ کر دیا گیا پھر انہیں مشرقی پاکستان جنرل آفیسر کمانڈنگ بناکر بھیجا گیا۔ جب قائداعظم مشرقی پاکستان کے دورے پر ڈھاکہ گئے تو محمد ایوب خان جی او سی کی حیثیت سے ڈھاکہ ایئرپورٹ پر موجود تھے۔ قائداعظم انہیں دیکھ کر حیران ہوئے اور پوچھنے لگے کہ “کیا یہ ابھی تک فوج میں ہیں؟”


قائد اعظم کو اندازہ ہوگیا تھا کہ بعض فوجی افسران سمجھتے ہیں کہ ملک چلانا سیاست دانوں کا کام نہیں بلکہ موثر اور مضبوط قیادت کا کام ہے اس لئے قائد اعظم نے اس سلسلے میں ضروری اقدام لینے کی کوشش کی اور فوجی افسران کو براہ راست سمجھانے کی بھی کوشش کی


جون1948 کو سٹاف کالج کوئٹہ میں فوجی افسران سے اپنے خطاب میں آئین اور آئین کے تحت حلف اٹھانے سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا

’’میں یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ایک دو انتہائی اعلیٰ فوجی افسران سے گفتگو کے دوران مجھے اندازہ ہوا کہ وہ فوجیوں کے حلف وفاداری کی مقصدیت اور مفہوم سے نا آشنا ہیں میں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حلف نامہ پڑھ کر آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں آپ حلف لیتے ہیں کہ میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ عہد کرتا ہوں کہ میں آئین پاکستان اور مقتدر اعلیٰ پاکستان کا وفادار رہوں گا میں مکمل ایمان داری اور وفادار ی سے اپنے فرائض سر انجام دوں گااور یہ کہ مجھے افسران بالا بری،بحری اور فضائی راستوں سے جہاں فرائض کی انجام دہی کے لئے بھیجیں گے میں جاؤں گا۔قائد اعظم ؒ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہامیں چاہوں گا کہ آپ نافذالعمل آئین کا مطالعہ کریں جب آپ آئین اور مقتدر اعلیٰ سے وفاداری کا عہد کرتے ہیں۔اسکی آئینی اور قانونی حیثیت کو سمجھیں۔۔۔

بدقسمتی سے قائد اعظم کے خدشات درست ثابت ہوئے اور ملک میں آئین کو وہ مقام نہیں مل سکا جو ایک جمہوری ملک میں ملنا چاہیے تھا۔“


اب ٓاپ موجودہ پاکستان کی صورت حال کی دیکھیں تو ٓاپ بھی میری اس بات سے اتفاق کریں گے کہ یہ اب وہ والا پاکستان نہیں رہا جو ایک سیاستدان نے بنایا تھا جو کہ کالا کوٹ بھی پہنتا تھا۔۔۔اب یہ پاکستان وردی والوں کا پاکستان بن چکا ہے اور جنرل ایوب کا لگایا ہو پودا اتنا گھنا درخت بن گیا ہے کہ اس کی چھاوں نے چھاونیوں سے نکل کر سارے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔۔۔جنرل باجوہ اور اس کا گروہ بھی اسی ایوبی تسلسل کا نام ہے۔۔۔جنرل ایوب کے بعد والے سارے جرنیلوں میں وہی روح چلی ٓا رہی ہے۔۔۔صرف ان کے نام اور چہرے بدلتے رہتے ہیں۔۔۔کبھی یہ جنرل یحیی کی شکل میں قائد اعظم کا پاکستان فتح کر لیتے ہیں۔۔۔کبھی ضیا الحق اسلامی جہاد کا ڈرامہ رچا کر امیر المومنین بن جاتا ہے۔۔۔غدار پرویز مشرف بھی اسی خانوادے کا چشم و چراغ ہے اور ان دنوں جنرل باجوہ نے اس جرنیلی قبیلے کی قیادت سنبھال رکھی ہے اور قائد اعظم کے پاکستان کو جرنیلستان میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔


اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قائد اعظم کے پاکستان کو اس قبضہ گروپ سے ٓازاد کیسے کروایا جائے۔۔۔یہ ایک بہت ہی مشکل کام ہے کیونکہ پاکستان کے لوگوں نے ایسے لوگوں کو اور ایسی جماعتوں کو اپنی جنگ لڑنے کے لئے منتخب کیا ہے جنہیں اس جنگ سے خوف ٓاتا ہے اور ان کی کوشش ہے کہ قبضہ گروپ کے ساتھ پارٹنر شپ میں کام کیا جائے۔۔۔مرحوم ولی خان نے اس حوالے سے بہت عرصہ پہلے ایک بات کی تھی جس کا مفہوم یہ تھا کہ پاکستان کو قبضہ گروپ سے نجات اسی وقت ملے گی جب کوئی تحریک پنجاب سے اس کے خلاف اٹھے گی۔


ٓازادی مارچ کے موقع مولانا فضل الرحمان کے ٓازادی مارچ نے ایک سنہری موقع فراہم کیا تھا لیکن پنجاب والوں سے بہت بڑی کوتاہی ہو گئی ہے لیکن پنجابی میں ہی کہتے ہیں۔۔۔۔اجے وی ڈھلیاں بیراں دا کجھ نئیں گیا


پنجاب کے بڑے شہروں کے لوگ اپنے اندر سے نئی قیادت تلاش کریں اور اپنے حقوق کی جدوجہد کریں تو یہ جنگ دنوں میں جیتی جا سکتی ہے لیکن موجودہ بڑی سیاسی جماعتوں کے پیچھے لگ کر وقتی طور پر سہولتیں تو لی جا سکتی ہیں۔۔۔کچھ لوگوں کی ضمانتیں کروائی جا سکتی ہیں لیکن قائد اعظم کے پاکستان کو مکمل رہائی نہیں مل سکتی۔


پنجاب کے لوگوں سے جنہیں حبیب جالب یہ کہتا ہوا اس دنیا سے چلا گیا کہ جاگ مرے پنجاب کہ پاکستان چلا، ان پنجابیوں سے گزارش ہے کہ وہ مرحوم ولی خان کی بات پر غور کریں اور یہ بات بھی زہین میں رکھیں کہ نیازی کے چلے جانےسے اور قبضہ گروپ کی قیادت ایک جرنیل سے دوسرے جرنیل کو منتقل ہو جانے سے قائد اعظم کا پاکستان رہا نہیں ہو گا۔





50 views