Search

24-12-19 - جنرل باجوہ کے پلیٹ لٹس ،احسن اقبال اور لکھنو کا بٹیر باز نواب؟

Updated: Dec 28, 2019

عمران نیازی کی فوجی حکومت نے رانا ثنا اللہ کی ضمانت کی بو سونگھتے ہی اپنی انتقامی سیاست کو جاری رکھنے کے لئے ن لیگ کے رہنما احسن اقبال کو نیب کی مدد سے گرفتار کر لیا ہے۔۔۔عمران نیازی کی حکومت اپنے دوسرے شکار کے لئے بھی منصوبے بنا رہی ہے کیوں کہ ن لیگ کے مفتاح اسماعیل کو بھی عدالت سے ضمانت مل گئی ہے۔۔۔اب یہ والا پھندا کس کے گلے میں فٹ ہوگا اور کب ہو گا اس کے لئے ایک دو روز انتظار کر لیں۔۔۔عمران نیازی کے انتقام سیل کے نگران ن لیگ کے رہنماوں کے ان دنوں کے بیانات کو غور سے پڑھ رہے ہیں اور اندازہ لگا رہے ہیں کہ ان میں سے کس کی گرفتاری سب سے پہلے عمل میں لائی جائے۔


موری دار شیروانی والے عمران نیازی کی تسبیح والی اداکاریوں اور اپوزیشن کی گرفتاریوں میں مجھے لکھنو کے اُس بیٹر باز نواب کی جھلک نظر ٓا رہی ہے جو ضروری حاجات سے فارغ ہونے کے بعد سب سے پہلا کام یہ کرتا تھا کہ بٹیر کو مٹھی میں دبا کر اس کی مالش شروع کر دیتا تھا۔۔۔ کبھی کبھار اگر مالش کے دوران بٹیر زیادہ زور سے دبنے پر اللہ میاں کو پیارا ہو جاتا تھا تو نواب صاحب اس کی ٓاخری رسومات ہونے سے پہلے ہی اپنے ملازموں سے کہہ کر ایک نیا بٹیر منگوا لیتے تھے تا کہ اپنا بٹیر بازی کا ٹھرک جاری رکھ سکیں ۔


عمران نیازی بھی جب سے جنرل باجوہ کی مدد سے نوابی عہدے پر فائز ہوا ہے ۔۔۔یہی کام کر رہا ہے۔۔۔نواز شریف کی گرفتاری سے شروع ہونے والا سیاسی بٹیرے پکڑنے والا یہ سلسلہ اب احسن اقبال تک پہنچ گیا ہے۔۔۔لکھنو والے نواب میں اور اس فوجی نواب میں یہ فرق ہے کہ لکھنوی نواب کے پاس اس کام کے لئے ملازمین تھے جو کہ نواب کی دی ہوئی اشرفیوں سے بازار میں جا کر نیا بٹیرا خرید لاتے تھے لیکن اس فوجی نواب کے پاس بٹیرا سپلائی کرنے والے اس کے ملازم نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسے معقول تنخواہ پر نواب رکھا ہوا ہے۔۔۔اس کا کام بس فراہم کئے ہوئے بٹیروں کی مالش تک محدود ہے۔


بٹیر کی مالش کب تک کرنی ہے اور کب پرانے بٹیرے کی بجائے نئے بٹیرے کی مالش شروع کرنی ہے یہ سب اس فوجی نواب کے اختیار میں نہیں ہے ۔۔۔یہ سارا اختیار اس کے فوجی باس کا ہے جسے پاکستان کی عوام اب سلیکٹر کے نام سے جانتی ہے۔۔۔اس سلیکٹر کے پاس جدید قسم کے جال بھی ہیں اور بٹیرے پکڑنے والے لوگوں کا پورا لشکر ہے اور اس لشکر کے پاس ہر طرح کا جدید ہتھیار ہے۔


نواب عمران نیازی کو زیادہ تر بٹیرے تو اس کا سلیکٹر ہی مہیا کرتا ہے لیکن ایک آدھ بٹیرا اس کی یا اس کے مالشیوں کی فرمائش پر بھی دے دیا جاتا ہے تا کہ اس کا کام میں دل لگا رہے۔۔۔اب اگر ٓاپ مجھ سے پوچھیں گے کہ کون سے سیاسی بٹیرے اس کو سلیکٹر نے فراہم کئے ہیں اور کون سے اس کی فرمائش پر مہیا کئے گئے ہیں تو یہ بڑی لمبی لسٹ ہو جائے گی۔۔۔بہتر یہی ہو گا کہ سیاسی بٹیروں کی گرفتاری کی یہ لسٹ ٓاپ لوگ خود ہی بنا لیں۔


سلیکٹر نے تازہ ترین شکار جو اس فوجی نواب کے حوالے کیا ہے وہ احسن اقبال ہے۔۔۔احسن اقبال کو بھی سلیکٹر کی کچھ پریشانیوں کو حل کرنے کے لئے گرفتار کیا گیا ہے۔۔۔موجودہ پارلیمنٹ میں ن لیگ کے اہم لوگوں میں سے زیادہ تر تو پہلے ہی فوجی جیل کی ہوا کھا چکے ہیں۔۔۔اب ان لوگوں کی باری ہے جو کہ پہلے مرحلے میں گرفتار ہونے سے رہ گئے تھے۔۔۔اب ایک ایک کر کے ان سب کو فوجی صراطِ مستقیم پر چلنے کے فوائد بتائے جائیں گے اور ساتھ ہی وہ مناظر بھی دکھا دیئے جائیں گے جنہیں دیکھ کر ان سب کو اندازہ ہو جائے گا کہ کہ اگر جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینے کی بجائے مزید ٹینشن دی تواس کا نتیجہ کیا ہوگا۔


ن لیگ کی مرکزی قیادت اس وقت بلا شرکتِ غیرے اس وقت شہباز شریف کے ہاتھ میں ہے۔۔۔میاں نواز شریف اپنی صحت کے مسائل سے دوچار ہیں اور مریم اپنے والد کی زندگی کے لئے دعاوں میں مصروف ہے۔۔۔اس لئے پاکستان میں ان ن لیگ والوں کو جنرل باجوہ اور ان کے فوجی نواب کی بٹیر بازی والی لت سے بچانا اسی صورت میں ممکن ہے کہ جنرل باجوہ کے ٓاگے مکمل طور پر سرنڈر کیا جائے۔۔۔ان لوگوں نے ابھی تک مولانا فضل الرحمان کی چھتری سے دوری قائم رکھی ہوئی ہے جس کی وجہ سے ان کی جماعت پر جرنیلی انتقام کا بادل مسلسل برس رہا ہے۔۔۔میری زاتی رائے میں تو انہیں اس فاصلے کو بہت پہلے کم کر دینا چاہئے تھا اور اس صورت میں جو لوگ مولانا فضل الرحمن کے ٓازادی مارچ کے راستے میں سے روڑے ہٹا رہے تھے وہ ان کے سیاسی بٹیروں کو جنرل باجوہ کے فوجی نواب کی مالش سے بچا سکتے تھے۔


بہرحال اب احسن اقبال کوبھی اسی طرح نیب کے ہتھکنڈوں کا سامنا کرنا پڑے گا جس سے شاہد خاقان عباسی ،خواجہ سعد رفیق اور دیگر گزر رہے ہیں ۔۔۔مریم نواز کو اسکی خاموشی کے باوجود بھی اسی طرح فوجی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اس کی ای سی ایل سے نام ہٹائے جانے والی درخواست بھی تاخیری حربوں کا شکار ہے۔۔۔۔ احسن اقبال پر بھی اسی طرح کا مقدمہ بنایا گیا جس کا مقصد سیاسی حریف کو صرف اور صرف جیل میں ڈالنا ہوتا ہے۔۔۔ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ ڈھائی ارب روپے کے منصوبے میں چھ ارب روپے کی کرپشن کا الزام لگایا گیا ہے۔۔۔اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر مجھے پرویز مشرف کی سزا کی حمایت کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے تو مجھے یہ سزا قبول ہے۔۔۔میری زاتی رائے میں تو اس گرفتاری کا تعلق پرویز مشرف کی سزا سے نہیں بلکہ جنرل باجوہ کی ایکسٹیشن سے جڑے ہوئے معاملات سے ہے۔۔۔فوجی حکومت پرویز مشرف کی سزا پر واویلا کوئی سنجیدگی سے نہیں مچا رہی۔۔۔یہ سب مگر مچھ والے ٓانسو ہیں۔۔۔۔اگر فوجی حکومت کو پرویز مشرف کی سزا کی حمایت پر اگر کسی ن لیگی کو پکڑنا ہوتا تو مشاہد اللہ خان کب کا فوجی مہمان خانے میں پہنچ چکا ہوتا کیونکہ اس مسئلے پر سب سے زیادہ گستاخانہ بیان اسی نے دیا ہے۔


پچھلے کئی روز سے میں عمران نیازی کے بین القوامی یوٹرن پر بات کرنے کی سوچ رہا تھا لیکن پرویز مشرف کی پھانسی کی سزا نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا اس لئے اس پر بات کرنے کا وقت نہیں ملا۔۔۔بہت سارے لوگوں نے اس پر سولات بھی بھیجے ہیں کہ اس سے پاکستان کی بین القوامی ساکھ کو کیا نقصان پہنچے گا اور اس سے عمران نیازی کے سیاسی مستقبل پر کیا اثر ہوگا۔


میری رائے میں تو پاکستان کی ایسی کوئی بین القوامی ساکھ باقی ہی نہیں ہے۔۔۔پچھلے دورِ حکومت میں جو صورت حال بہتر ہوئی تھی اسے عمران نیازی نے اپنے امریکی دورے اور ایرانی دورے میں پاکستانی فوج کی دہشت گردی کی سرپرستی والے بیانات اور کشکولی دوروں سے زیرو کر دیا تھا ۔۔۔ اسی طرح اس نے پاکستان کی معشیت جو کہ پچھلے دور میں فاسٹ ٹریک پر تھی اسے بھی اپنی نااہل ٹیم کی مدد سے ریورس گئیر میں ڈالا دیا ہے۔۔۔ٓائی ایم ایف سے قرضہ لینے کے چکر میں سی پیک کی بھی قربانی کر دی ہے۔


بہر حال اس بین القوامی یوٹرن سے جنرل باجوہ اور عمران نیازی کے اس گٹھ جوڑ کے بارے میں دنیا بھر کو یہ پتہ چل گیا ہے کہ پاکستان کی حکومت اب ایک ایسی گاڑی ہے جس میں پچھلی نشست پر سعودی شہزادہ بیٹھا ہوا ہے اور اسے جنرل باجوہ کا نکا بطور ڈرائیور چلا رہا ہے۔


رہی بات اس ملائیشئن یوٹرن سے عمران نیازی کی سیاست کو نقصان پہنچنے کی تو اس حوالے سے اس کی سیاست کو رتی بھر بھی فرق نہیں پڑے گا۔۔۔اسے اچھی طرح پتہ ہے کہ اس نے بنی گالہ سے وزیر اعظم ہاوس والی یونیورسٹی تک کا سفر کس کے کندھے پر چڑھ کر کیا ہے۔۔۔اس لئے وہ انہی کندھوں کی مالش جاری رکھے گا اور اپوزیشن کی طرف سے ٓانے والی تنقید یا دنیا کے رد عمل کی اسے کوئی پرواہ نہیں۔۔۔ فوجی کندھوں پر ہی سوار ہو کر یہ سعودی شہزادے کے دربار تک گیا ہے اور پھر اس نے صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کا چانس بھی سعودی شہزادے کی مہربانی سے حاصل کیا تھا اس لئے اب اس کی کوشش ہے کہ مقامی فوجی امداد کے علاوہ سعودی امداد پر ہی تکیہ رکھے باقی اگر کوئی ناراض بھی ہو جائے تو اس سے پاکستان اور اس کے عوام کو نقصان ہو سکتا ہے لیکن اس کی صحت اس سے متاثر نہیں ہوتی۔


جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کے حوالے سے بھی اس نےمعاملات کو اس طرح الجھا دیا ہے کہ جنرل باجوہ اور ان کے گینگ سے حالات کنٹرول نہیں ہو رہے۔۔۔یہ لوگ اپنے ایجنڈے پر عمل کرنے کے لئے سیاسی بٹیرے پکڑنے میں مصروف ہیں لیکن اس کے باوجود مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ جنرل باجوہ کے لئے اب رکنا محال ہو گیا ہے۔۔۔ابھی ان کے پاس چند مہینے ہیں ۔۔۔اس دوران یہ ن لیگ اور پی پی کی گردن جس طرح چاہے مروڑ لیں لیکن یہ دونوں جنرل باجوہ کو وہ معجون فراہم نہیں کر سکتیں جس کی مددسے وہ ایک بار پھر پہلے کی طرح طاقتور ہو جائیں۔۔۔جنرل باجوہ کے فوجی پلیٹ لٹس جن لوگوں نے کم کئے ہیں وہ ان کو تھوڑی سی ڈھیل دے رہے ہیں لیکن ڈیل نہیں

253 views