Search

23-12-19 - پرویز مشرف غداری کیس سے قبضہ گروپ کو کیا نقصان ہوا ہے؟

Updated: Dec 28, 2019

ان دنوں چونکہ ملک کے جرنیلی موسم میں اتنی تبدیلی ٓائی ہے کہ ہر طرف جنرل باجوہ کی بجائے پرویز مشرف والی ہوائیں چل رہی ہیں اس لئے ٓاج بھی اسی غدار کی پھانسی اور ڈی چوک میں لٹکائے جانے والے پیراگراف پر ہی بات کریں گے۔


عدالتی سرٹیفائیڈ غدار پرویز مشرف کے بارے میں جسٹس وقار سیٹھ کے تحریر کردہ پیراگراف چھیاسٹھ والی چنگاری کو فوجی فیکٹری کے بنے ہوئے فین کی مدد سے ہوا دے کر پورے ملک میں ٓاگ لگانے کی جنگی مشقیں جاری ہیں ۔۔۔کل سیالکوٹ میں لوگوں نے رنگے ہاتھوں دو نقاب پوشوں کو پکڑا جو کہ غدار پرویز مشرف کے حق میں بینرز لگا رہے تھے۔۔۔ان کے پاس ایسے بینرز بھی تھے جن پر عدلیہ کے خلاف نعرے بھی لکھے ہوئے تھے۔


ان نقاب پوش نوجوانوں سے جب پوچھا گیا کہ وہ یہ بینرز کیوں لگا رہے ہیں اورکس کے کہنے پر لگا رہے ہیں تو ان کے پاس کسی سوال کا جواب نہیں تھا اور انہیں اس کمپنی کا نام اور پتہ بھی نہیں معلوم تھا جو اتنے قیمتی پینافلیکس والے اشتہار لگوا رہی تھی۔۔۔ان نقاب پوشوں کی طرح ان کو سواری کی شناخت بھی پوشیدہ تھی اور اس پر کوئی نمبر پلیٹ بھی نہیں تھی جس سے پتہ چل سکے کہ یہ سواری کس کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔


سیالکوٹ ویسے تو ن لیگ کا عوامی گڑھ ہے لیکن یہاں کے کچھ سرمایہ دار عمران نیازی کے بھی مرید ہیں جن میں عثمان ڈار نام کا ایک بندہ بھی ہے جو الیکشن تو مسلسل ہار رہا ہے لیکن اس نے بھی مراد سعید کی طرح عمران نیازی کا دل جیت رکھا ہے اس لئے اسے ہارنے کے باوجود عمران نیازی نے حکومتی عہدہ دے رکھا ہے۔۔۔اس ڈار نے بھی عمران نیازی اور مراد سعید کی طرح تعلیمی ریکارڈ قائم کر رکھے ہیں۔۔۔یہ شاید پاکستان کا واحد امیدوار ہے جس کی تعلیمی قابلیت کسی زمانے میں ایم بی اے تھی لیکن الیکشن کمیشن کی مہربانیوں سے کم ہو کر بی اے رہ گئی ہے۔۔۔۔پرویز مشرف کی اس اشتہاری مہم کے پیچھے اس کا سرمایہ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے پاس سرمایہ اور افرادی قوت دونوں کی فراوانی ہے اور ان نقاب پوش لڑکوں کی زبان اور لہجہ بھی یہی بتا رہا ہے کہ یہ مقامی لوگ ہیں۔


اس سے پہلے اسلام ٓاباد میں بھی پرویز مشرف کے لئے بینرز لگ چکے ہیں لیکن ان نامعلوم افراد کا تعلق ٓابپارہ کی اسی فیکٹری سے ہے جس کے مزدور سارا سال فوجی ایجنڈے کی پبلسٹی کمپئین پر کام کرتے رہتے ہیں۔۔۔پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی یقیننا یہی صورت حال ہو گی کیوں کہ جس طرح بنکوں میں کسی زمانے میں حبیب بنک کی برانچیں پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہر اور قصبے میں ہوتی تھیں اسی طرح اس ٓابپارہ والی کمپنی کی بھی پاکستان کے چپے چپے میں برانچیں ہیں ۔۔۔فرق صرف اتنا ہے کہ غیر فوجی کمپنیاں اپنے ہیڈ ٓافس کی طرح ہر برانچ پراپنا بورڈ ضرور لگاتی ہیں جب کہ یہ ٓابپارہ والی کمپنی موجود تو ہر جگہ ہوتی ہے لیکن اپنی کسی بھی برانچ کی شو شا پر کوئی خرچا نہیں کرتی اور کسی قسم کا بورڈ نہیں لگاتی۔


پچھلے دنوں اس کے کارندوں نے لاہور میں وکیلوں اور ڈاکٹروں کے درمیان جنگ کو تیز کرنے میں کافی اہم کردار ادا کیا اور اس جنگ میں لڑنے والے دونوں فریق وکلا اور ڈاکٹر ہار گئے لیکن اس کمپنی کو بہت بڑی کامیابی ملی اور ان کا لاہور پر باضابطہ قبضہ ہو گیا۔


خیر بات ہو رہی تھی پرویز مشرف کی سزا پر فوجی رد عمل کی جو کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔۔۔فوجی میڈیا بھی یہی تاثر دے رہا ہے کہ اب قبضہ گروپ ایک بار پھر اس پوزیشن میں ٓا گیا ہے کہ سیاست والی شطرنج کی بازی کو لپیٹ کو باقاعدہ طور پر سیاسی مہروں کی بجائے خود میدان میں آ سکتی ہے لیکن حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔۔۔قبضہ گروپ کی حالت اس لکھنوی نواب سے مختلف نہیں ہے جو کہ ہر تھپڑ کے بعد اب کے مار کی گردان کرتا ہے۔۔۔اگر ٓاپ لوگوں کو ٹوئٹر والے جرنیل کی پریس کانفرنس کا وہ جملہ یاد ہو جس میں اس نے کہا تھا کہ دشمن ہمیں ٓاپس میں لڑوانے کی سازش کر رہا ہے لیکن ہم ٓاپس میں نہیں لڑیں گے۔۔۔اس جملے سے جنرل باجوہ اینڈ کو کی جرنیلی کمزوری صاف جھلک کرہی ہے۔۔۔اور یہ جتنی بھی گولہ باری کر رہے ہیں اور میڈیا پر جرنیلی سرکس چلا رہے ہیں اس کا مطلب صرف اور صرف یہ ہے کہ اپنی جرنیلی کمزوری کو پاکستان کے عوام پر ظاہر نہ ہونے دیا جائے۔


جنرل غفور کی اس بات سے جہاں تک میری سمجھ کا تعلق ہے تو مجھے تو یہی لگ رہا ہے کہ ٓاپس کی لڑائی سے مراد جرنیلوں کی ٓاپس میں لڑائی ہے۔۔۔جنرل باجوہ کی ایکسٹیشن والی ہٹ دھرمی نے ان کو دو گروہوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔۔۔جن جرنیلوں کو اس ایکسٹینشن میں اپنا زاتی مفاد نظر ٓا رہا ہے وہ تو اس جنرل غفور کی طرح ہر وقت ایکسٹینشن کا ورد کرتے رہتے ہیں لیکن دوسرا گروہ جنہیں اس ایکسٹینشن سے اتفاق نہیں ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ فوج کا سربراہ عہدے کی مدت پوری ہونے کے بعد ضدی بچوں کی طرح گھیسیاں کرنے کی بجائے گھر جائے اور دوسرے جرنیلوں کی بھی اپنے جوہر دکھانے کا موقع دے۔۔۔میرا چونکہ ان میں سے کسی سے زاتی رابطہ نہیں ہے اس لئے میں یہ تو نہیں بتا سکتا کہ یہ جرنیل بھی اب تک کے ٓارمی چیفس کی طرح سیاسی جرنیل ہیں یا ان کا مائینڈ سیٹ مختلف ہے۔۔۔اس لئے یہ تو ٓانےوالا وقت ہی بتائے گا کہ ہم ٓاسمان سے گر کر کھجور میں لٹکیں گے یا صورتِ حال مختلف ہو گی۔۔۔بہر حال اس وقت ان جرنیلوں کی مزاحمت نے یہ اچھا کام کیا ہے کہ اس نے جنرل باجوہ کے گینگ کوکمزور کر دیا ہے۔


مرحوم جوگی جہلمی جو کہ پنجابی کے استاد شاعر تھے اور اپنے اچھوتے کلام اور منفرد انداز بیان کی وجہ سے ہر مشاعرے کی جان ہوا کرتے تھے ان کی ایک چھوٹی سی نظم تھی جس میں ایک ادھیڑ عمر عورت سولہ سنگھار کرتی ہے اور ساتھ ہی اپنے اس سولہ سنگھار کی وضاحت بھی کر دیتی ہے۔۔۔یہ نظم میں ٓاپ سے شئیر کرتا ہوں۔۔۔تقیریبا چالیس سال قبل یہ نظم ان سے سنی تھی اس لئے ایک دو لائینیں شاید ادھر ادھر ہو جائیں لیکن اس سے نظم کا مفہوم تبدیل نہیں ہو گا۔۔۔ لیکن اس بات کی گارنٹی ہے کہ اس نظم سے ٓاپ کو ٹوئٹر والے جرنیل کی ساری دھواں دھار جنگی مشقوں کا پس منظر اچھی طرح سمجھ ٓا جائے گا


نظم کچھ یوں ہے۔۔۔

میں سرخی لانی ٓاں

میں وال بنانی ٓاں

میں شیشہ وینی ٓاں

میں غازہ لانی ٓاں

میں کنی سوہنی ٓاں

اندازہ کرنی ٓاں

سچ پچھو تے میں وی

ایس بئی جوانی نوں

پئی تازہ کرنی ٓاں


مجھے امید ہے کہ ٓاپ کو بات اچھی طرح سمجھ ٓا گئی ہو گی کہ جنرل غفور ان دنوں وہ کچھ کر رہا ہے جسے پنجابی میں پھوکے فائر کہتے ہیں۔۔۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کے ان سیاستدانوں کو جنہوں نے اپنے اپنے قصبوں اور شہروں سے اسلام ٓاباد کا سفر فوجی کوچ میں بیٹھ کر کیا ہے انہیں اس جرنیلی کمزوری پر یقین نہیں ٓا رہا اور یہ سارے کے سارے اس سانپ کے ڈسے ہوئے کی طرح ہیں جس کا رسی دیکھ کر بھی تراہ نکل جاتا ہے۔۔۔ ان لوگوں کو عدلیہ کے ساتھ اس طرح کھڑے ہونا چاہئے تھا جس طرح کچھ دن پہلے جب ایک سیاستدان کو سزا ہوئی تھی اور فوج عدلیہ کے پیچھے نہ صرف کھڑی تھی بلکہ عزت اور زلت والے ٹوئیٹ بھی کر رہی تھی۔


مولانا فضل الرحمن کی سیاست چونکہ فوجی اکیڈمی کی بجائے دینی مدرسوں میں پروان چڑھی ہے اور ان کے پاس قبضہ گروپ کی دی ہوئی کوئی شوگر مل یا زرعی اراضی بھی نہیں ہے اس لئے ان پر قبضہ گروپ کا کوئی بھی ہتھیار کام نہیں کر رہا۔۔۔انہوں نے بہت کھل کر عدلیہ کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔۔۔اسی طرح ان کے ایک مجاہد مفتی کفایت اللہ نے ایک مجلس سے خطاب کرتے ہوئے قبضہ گروپ کو نہ صرف للکارا بلکہ یہ بھی کہا ہے وہ اس پرویز مشرف کے حوالے سے اس فوجی اشتہاری مہم سے متاثر ہونے والے نہیں۔۔۔عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخارحسین نے بھی اپنی جماعت کی طرف سے عدلیہ کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے اور پرویز مشرف کی سزا پر فوجی ردِ عمل پر سخت تنقید کی ہے۔۔۔پی ٹی ایم کے علی وزیر کے بارے میں کل ہی میں ٓاپ سے زکر کیا تھا کہ اس نے بھی ایک ٹوئٹر والے جرنیل پر اچھا ٹوئیٹ اٹیک کر کے وارننگ دے دی ہے کہ اگر ان لوگوں نے جسٹس شوکت صدیقی کی طرح جسٹس وقار سیٹھ کو ہٹانے کی کوشش کی تو یہ عمل انہیں بہت مہنگا پڑے گا۔


جنرل باجوہ اس سارے ہلے گلے میں اپنے ایکسٹینشن پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں لیکن اس ایکسٹینشن منصوبے اور پشاور کی بی ٓار ٹی میں اب کوئی خاص فرق نہیں رہ گیا ۔۔۔ دونوں کی قسمت میں مکمل ہونا نظر نہیں ٓا رہا۔


پرویز مشرف کی سزا پر شور شرابے سے جنرل باجوہ کو بس یہ فائدہ ہوا ہے کہ اس وقت ان کی ایکسٹینشن پر تبصرے ہونے کم ہو گئے ہیں اور فوجی میڈیا نے لوگوں کی توجہ جنرل باجوہ سے ہٹا کر پرویز مشرف کی طرف کر دی ہے۔۔۔لیکن سب سے زیادہ نقصان اس سے قبضہ گروپ کو ہوا ہے کہ سرکاری خرچے پر ان کے کارنامے پاکستان کے گھر گھر تک پہنچ گئے ہیں اور بہت سارے لوگ جو اب تک نورجہاں کے ترانوں اور ٹوئٹر والے جرنیل کے ٓائٹم سانگز کی وجہ سے ان قبضہ گروپ کی محبت میں گرفتار تھے انہیں پتہ چل گیا ہے کہ یہ لوگ عوام پاکستان اور اس کے ٓائین سے زیادہ اپنے جرنیلوں سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔

20 views