Search

21-12-19 - پرویز مشرف کو سزا دینے والے جسٹس وقار سیٹھ کا زبردست مشورہ۔

Updated: Dec 28, 2019

میر تقی میر کا ایک شعر جو کہ اخلاقی اعتبار سے تو اتنا اچھا نہیں لیکن ان دنوں خلیفہ عمران نیازی اور ٹنل والے درباری مراد سعید کی پارٹنرشپ میں سب چل رہا ہے اس لئے یہ شعر شئیر کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔۔


میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب


اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں


اب میں اس شعر کے لغوی معنی جو کہ کافی لغو ہیں وہ بتا کر کر ٓاپ کا اخلاق مراد سعید جیسا نہیں کروں گا اور ویسے بھی خطرہ ہے کہ نیو مدینہ کے غیرسرکاری مفتی مولانا طارق جمیل مجھ پر کوئی فتوی نہ جاری کر دیں اس لئے میں بس اتنا کہہ دیتا ہوں کہ شعر ان لوگوں کے بارے میں ہے جو اس وقت ایک ٓائین شکن جرنیل کے حق میں نعرے لگا رہے ہیں۔


ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ عمران نیازی اور جنرل باجوہ جنہوں نے ایک سے زیادہ بار عدالت کے پیچھے کھڑے ہونے کا اعلان کیا ہے وہ اس فیصلے کے بعد بھی عدالت کے پیچھے کھڑے رہتے لیکن یہ دونوں پیچھے کھڑے رہنے کی بجائے عدالت کے پیچھے لگ گئے ہیں اور انہوں نے اپنے اپنے مجاہدین کو بھی عدالت پر گولہ باری کے مشن پر لگا دیا ہے۔۔۔ان دونوں کو تو چونکہ ان عدالتوں سے بہت ساری زاتی رنجشیں ہیں مثلا عمران کو اپنے سیاسی حریفوں کو ملنے والی ضمانتوں پر شکایت ہے اور جنرل باجوہ کو اپنی ایکسٹینشن میں روڑے اٹکانے والا شکوہ ہے لیکن مجھے حیرت ان پاکستانیوں پر ہے جو اس غدار پرویز مشرف کے لئے واویلا کر رہے ہیں اور میر تقی میر کے شعر کی زبان میں یوں کہہ لیں کہ جس قبضہ گروپ کی وجہ سے ان کا ملک اس وقت نیپال اور بھوٹان سے بھی ترقی کی رفتار میں پیچھے رہ گیا ہے اس قبضہ گروپ کے ایک مفرور جرنیل کے لئے احتجاج کر رہے ہیں۔۔۔ ٹوئٹر والے جرنیل کا پٹ سیاپا تو جائز ہے کیوں کہ یہ سارے ایک ہی ٹبر سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں اس بات کا ڈر ہے کہ مستقبل میں ان کے ساتھ بھی یہی سلوک نہ ہو ۔


پرویز مشرف کی سزا کے خلاف جو قبضہ گروپ اوران کے خفیہ لشکر نے جو کاروائیاں شروع کی ہیں اب ان کا کچھ زکر ہو جائے۔۔۔ اس احتجاجی ایجنڈے کی سب سے بڑی کاروائی اکرم شیخ جو کہ پرویز مشرف کے کیس میں پراسیکوٹر رہے ہیں ان کے گھر پر ڈکیتی کی صورت میں ہوئی ہے اور اس سے ایسا لگتا ہے کہ قبضہ گروپ کے انڈر کام کرنے والا ڈاکووں کا گروہ بھی پرویز مشرف کی سزا کے خلاف بہت غصے میں ہے۔۔۔ان لوگوں کے پاس چونکہ قلم کی بجائے بندوق کی طاقت ہے اس لئے انہوں نے ٹوئٹر والے جرنیل کی طرح پریس کانفرنس کر کے بھڑاس نکالنے کی بجائے اکرم شیخ کے گھر پر ڈکیتی نما حملہ کیا۔۔ان کے بیٹے اور نوکر کو دہشت گردی کی جنگ میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی مدد سے یرغمال بنایا اور پھر اکرم شیخ کو ہراساں کیا۔۔۔ان کے گھر سے کچھ قیمتی سامان قبضے میں لینے کے بعد ان سے کہا کہ ان کے مقدموں کی فائلیں کہاں ہیں۔


پھر ان لوگوں نے فائلوں کا بڑے غور سے مطالعہ کیا جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ یہ بھی شائد اسی قسم کے لا کالج کے پڑھے ہوئے ہیں جہاں سے موجودہ اٹارنی جنرل کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور نے نے ڈگری لی ہوئی ہے۔۔۔۔اس واقعے کی مزید تفصیل ٓاپ اخباروں میں بھی پڑھ سکتے ہیں لیکن میں ٓا پ کو اتنا بتا دیتا ہوں کہ ڈاکے کی یہ واردات اکرم شیخ صاحب کو دھمکانے کے لئے تھی کہ وہ پرویز مشرف کے کیس میں اپنا قانونی تڑکا لگانے سے باز ٓا جائیں ورنہ اگلی بار جب یہ ڈاکو ٓائیں گے تو پھر قیمتی سامان کے علاوہ قیمتی جانیں بھی لے کر جا سکتے ہیں۔۔۔ان ڈاکووں کی مہارت اور طریقہ واردات بھی بہت جدید تھا اور انہوں نے دستانے بھی پہن رکھے تھے تا کہ کسی قسم کے فنگر پرنٹس نہ رہ جائیں اور اسی طرح انہوں نے اپنے جوتوں پر بھی کور چڑھا رکھے تھے تا کہ پتہ نہ چل سکے کہ کہ اس خفیہ لشکر کے قدموں کے نشانوں سے ان کے جی ایچ کیو کا پتہ نہ چل سکے۔


ڈاکووں کے علاوہ پاکستان کے اس طبقے میں بھی اس سزا کے خلاف کافی غصہ پایا جاتا ہے جنہیں کسی زمانے میں کنجر کہا جاتا تھا۔۔۔اب بھی ان لوگوں کے کام وہی کنجروں والے ہیں ۔۔۔بس فرق اتنا ہے کہ پہلے یہ ہیرا منڈی میں مجرے کیا کرتے تھے اور اب یہ ڈی ایچ اے جیسے مہذب علاقوں میں ٓائٹم ڈانس کرتے ہیں۔۔۔ایسی ہی ایک ٓائٹم گرل وینا ملک جو کہ ہندوستان میں ٓائی ایس ٓائی کا نام کافی روشن کر چکی ہے اس نے تو اپنے اس فوجی بگ باس کی حمایت میں ایسا دعوی کر دیا ہے جس کا حقیقت سے دور دور کا واسطہ نہیں۔۔۔وینا ملک نے کہا ہے کہ پرویز مشرف جب میجر تھا تو اس اس کمانڈو دستے میں شامل تھا جس نے خانہ کعبہ کو ٓازاد کروایا تھا۔۔۔فوجی ریکارڈ کے مطابق جس وقت یہ واقعہ ہوا اس وقت پرویز مشرف کرنل تھا اور کوئٹہ میں تعینات تھا۔


پرویز مشرف کے خلاف اس فیصلے پر احتجاج کرنے والوں یا یوں کہہ لیں عطار کے لونڈے سے دوا لینے والوں کی لسٹ لمبی ہوتی جارہی ہے۔۔۔مولانا طاہر اشرفی، اعتزاز احسن، شیخ رشید، حمزہ عباسی اور جاسوسی صحافت سے دولت اور شہرت کمانے والا کامران خان بھی اسی قطار میں کھڑا ہے۔۔۔کامران خان نے تو ایک ٹویٹ بھی کی ہے جس کا بوٹ پالش زبان میں یہ مطلب بھی لیا جا سکتا ہے کہ ریسلنگ کو نشر کرنے پر پابندی لگائی جائے تا کہ مسقبل میں کوئی جج جو کہ وقار سیٹھ کی طرح ریسلنگ دیکھنے کا شوقین ہو وہ بھی کہیں کسی نو مولود پرویز مشرف کو اسی قسم کی سزا نہ دے دے۔۔۔اس ریسلنگ والی بات پر مزید تبصرے سے پہلے میں ایسے تمام لوگوں کو جو اس سزا کے حق میں ہیں اور انہوں نے پرویز مشرف کے خلاف کسی بھی انداز میں اور کسی بھی پلیٹ فارم پر تبصرہ کیا ہے ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اکرم شیخ کے گھر پر ہونے والی جرنیلی ڈکیتی سے سبق سیکھیں اور اپنے جان و مال کی حفاظت کا بندوبست کر لیں کیوں کہ ٓانے والے دنوں میں پرویز مشرف کے فوجی اور سویلین جیالے اس طرح کی وارداتیں پورے پاکستان میں کر سکتے ہیں۔


سب سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ان پرویز مشرف مخالف لوگوں کو ہے جو چھاونیوں کی حدود میں رہتے ہیں اور ان کا تعلق فوجی خاندان سے نہیں ہے۔۔۔ان لوگوں کے چاہیے کہ پرویز مشرف کی تصویر کا میڈل بنا کر گلے میں ڈال کر گھروں سے نکلا کریں تا کہ بد روحوں کے حملوں سے بچے رہیں۔


چھاونیوں کے اطراف میں رہنے والے لوگ بھی اس فوجی خاندان کے غم و غصے سے بچ نہیں پائیں گے۔۔۔اس لئے اپنی مدد ٓاپ کے تحت فوری طور پر جنرل پاشا کی پارٹی میں شامل ہو کر دوپٹہ گلے میں ڈال لیں تا کہ حملہ ٓاور کو دور سے ہی شناخت ہو جائے کہ دھرنا پارٹی کا اپنا بندہ ہے اور وہ ٓاپ کو نقصان پہچانے سے باز رہے۔


کراچی کی غیر مہاجر ٓابادی کو بھی محتاط رہنا ہوگا کیونکہ ایم کیو ایم کے تقسیم شدہ گروپ ایک بار پھر اسے مہاجر جرنیل کا مسئلہ بنا کر پیش کر رہے ہیں۔۔۔ان لوگوں کا ہیڈ مہاجر چونکہ اس وقت قبضہ گروپ کی گڈ بکس میں نہیں ہے اس لئے یہ لوگ اس طرح کی مار دھاڑ تو نہیں کر سکتے جس طرح کی انہوں نے بارہ مئی کو کی تھی اور پھر کچھ وکیلوں کو زندہ جلا دیا تھا لیکن پاکستان میں یوٹرن والا دور ہے اس لئے کوئی پتہ نہیں کہ اس جماعت کے حوالے سے جرنیلی پالیسی میں کب یو ٹرن ٓا جائے اور ایک بار پھر کراچی انہی کے حوالے کر دیا جائے اس لئے کراچی والوں کو بھی پرویز مشرف کی اس سزا پر مٹھائیاں بانٹنے سے پرہیز کرنا چاہئے بلکہ ہو سکے تو اپنے بازوں پر کالی پٹیاں باندھ کر پرویز مشرف کے حق میں سوگ منانے والے مہاجروں میں شامل ہو جائیں۔


دروغ بر گردن راوی اس طبلے والے نے بھی جو پرویز مشرف کو لندن میں گھر پر طبلہ سکھانے ٓایا کرتا تھا اس نے بھی اپنے شاگرد کی سزا پر بڑی برہمی کا اظہار کیا ہے اور ان دنوں مسلسل اونچی ٓاواز میں بے سرا طبلہ بجا کر ان پڑوسیوں کو تنگ کر رہا ہے جن کا تعلق ن لیگ سے ہے۔۔۔اس طبلہ نواز نے نواز شریف کے گھر کے باہر بھی ساز و ٓاواز سے بھر پور مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لئے اسے چند ایسے مظاہرین کی تلاش ہے جو کہ اونچے سروں میں راگ درباری گا کر نواز شریف اور اس کے بچوں کو پریشان کر سکیں۔۔۔جس گروہ نے پچھلے دنوں نواز شریف کے گھر پر مظاہرہ کیا تھا وہ ان دنوں انڈر گراونڈ ہو گئے ہیں کیونکہ انہیں اس بات کا خدشہ ہے کہ ایکشن ری پلے کی صورت میں پولیس انہیں موقع پر ہی گرفتار کر لے گی۔


اب بات کو ختم کرتے ہوئے ان تمام لوگوں سے جو اس وقت فوجی میڈیا پر پرویز مشرف کے حق میں ماتم دیکھ کر پریشان ہو رہے ہیں ان کے لئے مشورہ ہے کہ وہ پرویز مشرف کو پھانسی دینے اور ڈی چوک میں لٹکانے والے بہادر اور حق پرست جج وقار سیٹھ کے نقش قدم پر چلیں اور ان کی طرح ٹی وی سے دور رہیں اور کبھی کبھار اسپورٹس چینل پر ریسلنگ دیکھ لیا کریں ۔۔۔جن لوگوں کو ریسلنگ پسند نہیں وہ ٹرکش ڈرامے دیکھ کر وقت پاس کر لیں۔۔۔ان لوگوں کو میڈیا پر اپنا جرنیلی ماتم کرنے دیں۔


اب تو عمران نیازی کی فوجی حکومت نے اس پرویز مشرف کو جسے وہ کل تکغدار کہتی تھی اسے بچانے کے لئے جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف ریفرنس بھی دائر کر دیا گیا ہے۔۔۔اس لئے اس جرنیلی سرکس سے دور رہیں ۔۔۔ اسے دیکھنے سے پرہیز کریں اور ویسے بھی سیانوں نے کہا ہے کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔۔۔چند دن اور انتظار کر لیں جس طرح جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کا معاملہ ان کے کنٹرول میں نہیں رہا اسی طرح غدار پرویز مشرف والا کیس بھی اسی انجام سے دوچار ہو گا لیکن اگر ٓاپ اس جرنیلی میڈیا کی رپورٹنگ پر کوئی رائے قائم کریں گے تو ٓاپ کوجنرل باجوہ اور ان کا نکا مضبوط ہوتے ہوئے دکھائی دیں گے جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہو گی۔

20 views