Search

20-12-19 - پرویز مشرف کی سزا پر جنرل باجوہ نعرےبازی کیوں کروا رہا ہے؟۔

Updated: Dec 28, 2019

پرویز مشرف کے خلاف تفصیلی فیصلہ ٓانے کے بعد پاکستان کا فوجی میڈیا اس طرح ٓاہ و زاری کر رہا ہے جیسے یہ عدالتی بم جی ایچ کیو کی بجائے ان گھروں پر گرا ہے جو کہ ان میں سے زیادہ تر صحافیوں کو کسی نہ کسی ملک ریاض نے بنانے میں مدد کی ہے۔۔۔فوجی ترجمان المعروف ٹوئٹر جرنیل نے تفصیلی فیصلہ ٓانے کے بعد بھی اسی طرح کی گولہ باری کی جس طرح کی وہ مختصر فیصلے پر کر چکا ہے۔۔۔اور اس نے فوجی میڈیا کی کلاس لیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فوج ایک ادارہ نہیں بلکہ خاندان ہے، ہم عوام کی افواج ہیں اور ہم جذبہ ایمانی کے بعد عوام کی حمایت کے ساتھ مضبوط ہیں، ہم ملک کا دفاع بھی جانتے ہیں اور ادارے کی عزت و وقار کا دفاع بھی بہت اچھی طرح جانتے ہیں، تاہم ہمارے لیے ملک پہلے اور ادارہ بعد میں ہے۔


ٹوئٹر جرنیل نے اور بھی بہت ساری باتیں کی لیکن پہلے ان چند باتوں کا جائزہ لے لیتے ہیں۔۔۔خاندان والی بات سے میں اس حد تک اتفاق کرتا ہوں کہ یہ اس ظالم جاگیردار کا ٹبر ہے جس کی سرکش اور اکھڑ اولاد کے دل میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی اور یہ جوان اپنی جوانی اور طاقت کے نشے میں ہر بری لت میں گرفتار ہو جاتے ہیں لیکن ان کا ابا ان کے جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے اور ہر موقع پر مظلوم کو اپنی طاقت سے دبانے کی کوشش کرتا ہے اور اگر طاقت کام نہ ٓائے تو ان کے پاس اور بہت سارے ہتھکنڈے ہوتے ہیں جس سے یہ ٹبر قانون کی گرفت سے ہر بار بچ جاتا ہے۔


اس کی ایک مثال پھانسی کی سزا پانے والے پرویز مشرف کا دور ہے جس میں فوج کے افسروں کو لوٹ مار کی کھلی اجازت تھی۔۔۔اسی دور میں سوئی بلوچستان میں پی پی ایل کے ہاسپٹل میں کام کرنے والی ایک لیڈی ڈاکٹر جس کا نام شازیہ خالد تھا اس کا اس فوجی خاندان کے ایک برخوردار کیپٹن حمادنے ریپ کیا۔۔جب اس واقعے پر ڈیرہ بگتی میں شور مچا اور لوگوں نے اس فوجی افسر کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا تو پرویز مشرف نے اس افسر کے حق میں اپنے سارے فوجی وسائل استعمال کئے اور اس کے لئے نیشنل ٹی وی پر ایک بیان بھی جاری کیا اور کہا کہ کیپٹن حماد نے جرم نہیں کیا اور وہ بے قصور ہے۔۔۔پوری دنیا کی فوجی تاریخ میں اس طرح کی مثال شاید ہی ملے کہ ایک فوج کے سربراہ نے جو کہ ملک کا صدر بھی ہو اس نے ایک ام شہری کے مقابلے میں اپنے فوجی افسر کی اس طرح کھل کر حمایت کی ہو جو کہ ریپ جیسے جرم کا مرتکب ہو ا ہو۔


اس لیڈی ڈاکٹر کا تعلق بلوچستان سے نہیں تھا لیکن غیرت مند بلوچوں نے اس ظلم کے خلاف بھرپور احتجاج جاری رکھا اور سردار اکبر بگٹی نے اس سارے احتجاج کی قیادت کی اور فوجی دباو کو نظر انداز کرتے ہوئے اس فوجی افسر کو کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا لیکن اس فوجی خاندان کے بڑے فوجی پرویز مشرف نے اپنے چھوٹے فوجی افسر کا کھل کر ساتھ دیا اور اس کے خلاف تو کوئی کاروائی نہیں کی البتہ سردار اکبر بگٹی کو قتل کروا دیا اور اس کے علاوہ اس لیڈی ڈاکٹر کو اتنا ہراساں کیا گیا کہ وہ بیچاری ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئی۔


دوسری بات اس ٹوئٹر والے جرنیل نے یہ کی ہے کہ ہمارے پاس ایمان کا جذبہ ہے ۔۔۔ہم عوام کی حمایت کے ساتھ مضبوط ہیں اور ہم ملک کا دفاع کرنا جانتے ہیں۔۔۔یہ بھی ایک روایتی سا جملہ ہے۔۔۔اسی فوج نے مشرقی پاکستان میں ہتھیار ڈالے۔۔۔اسی نے سیاچین پر مار کھائی۔۔۔کارگل میں ناکام ایڈوینچر کیا جو کہ اسی پرویز مشرف کی حماقت تھی جسے اس وقت فوجی خاندان عدالتی شکنجے سے بچانے میں مصروف ہے۔۔۔ان لوگوں نے چالیس پچاس سال سےکشمیر کو ٓازاد کروانے کے نام پر مجاہدین کے لشکر بنانے کی فیکٹریاں لگا رکھی تھیں لیکن جب ہندوستان نے کشمیر کو اپنے اندر ضم کر لیا تو ایمان کی طاقت دکھاتے ہوئے سرحدوں پر جانے کی بجائے ان لوگوں کو بھی روک دیا جو کہ کنٹرول لائن پر جا کر پر امن احتجاج کرنا چاہتے تھے۔


اسی فوج کے فوجی وزیر اعظم نے پاکستان کی اسمبلی میں اور امریکہ جا کر اس بات کا اعتراف کیا کہ ہم بھارت سے جنگ نہیں کر سکتے۔۔۔اس وقت بھی کنٹرول لائن پر ہندوستان کی فوج بچے کھچے کشمیر پر قبضہ کرنے کے لئے تیار بیٹھی ہے اور یہ لوگ اس کا منہ توڑ جواب دینے کی بجائے اسلام ٓاباد، لاہور، کوئٹہ ،کراچی اور قبائلی علاقوں میں اپنے ہی لوگوں کی پٹائی کرنے میں مصروف ہیں۔۔۔ہر اس شخص کو غائب کیا جا رہا ہے جو اس فوجی خاندان پر تنقید کرتا ہے۔۔۔پچھلے دنوں ایڈوکیٹ شفیق کو نامعلوم لوگوں نے دوسری بار اغوا کیا اور اوہ ابھی تک لاپتہ ہے۔۔۔ پی ٹی ایم والوں کے پاس تو لاپتہ افراد کی ایک لمبی لسٹ ہے ۔


بلوچستان میں تو شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جہاں سے کوئی لاپتہ نہ ہو۔۔۔مجھے پچھلے دنوں ایک صاحب نے اپنے بچے کے اغوا کی دکھ بھری داستان سنائی اور کہا کہ میرے بیٹے کو نہ کسی عدالت میں پیش کیا جاتا ہے اور نہ ہی ہمیں بتایا جاتا ہے کہ وہ کہاں پر ہے۔۔اس مظلوم باپ کو یہ دھمکی بھی دی گئی ہے کہ اگر اس نے زیادہ زبان کھولی تو اس کے دوسرے بیٹے کو بھی لاپتہ کر دیا جائے گا۔۔۔اب یہ باپ صرف اس لئے اپنے گھر کے اندر ہی دیواروں سے باتیں کرتا ہے تا کہ اس کا دوسرا بیٹا سلامت رہے۔


انہی دنوں لاپتہ افراد کے وکیل انعام الرحیم کو بھی اغوا کر لیا گیا ہے۔۔۔انعام صاحب ایک سابقہ کرنل بھی ہیں لیکن شاید فوجی خاندان میں صرف سابقہ جرنیلوں کی اہمیت ہے اس لئے یہ سابقہ کرنل اپنی فوجی خدمات کے باوجود ابھی تک اس خفیہ لشکر کے ٹارچر سیل میں ہے۔۔۔انعام الرحیم نے جنرل باجوہ کی برادری کے ایک جرنیل عاصم باجوہ کی بطور چیئرمین سی پیک تقرری کو سپریم کورٹ میں چیلینج کر رکھا ہے اور شاید ان کو اسی لئے سرکاری مہمان خانے میں رکھا ہوا ہے کہ وہ اپنی درخواست واپس لے لیں۔


ٹوئٹر والے جرنیل کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں چند لوگ اندرونی اور بیرونی حملوں سے ہمیں اشتعال دلاتے ہوئے آپس میں لڑوانا چاہتے ہیں اور اس طریقے سے پاکستان کو شکست دینے کے خواب بھی دیکھ رہے ہیں، تاہم ایسا کبھی نہیں ہوگا۔۔۔ جنرل غفور نے ان لوگوں کے نام نہیں بتائے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں کا تعلق ان کے اپنے ادارے سے ہے۔۔ورنہ یہ حرکت اگر کسی سویلین کی ہوتی تو اس پریس کانفرنس میں سلائیڈ کی مدد سے ان لوگوں کے پورے خاندان کا کچا چٹھا میڈیا کے سامنے پیش کر دیا جاتا۔۔۔میں نے تو اس سے پہلے بھی کئی بار اسی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان کو عوام اور سیاستدانوں سے زیادہ اپنے ہی لوگوں کی طرف سے مزاحمت کا سامنا ہے۔


جنرل باجوہ اس وقت فوج کے بہت سارے اہم جرنیلوں کی نظروں میں وہ والا وقار کھو چکے ہیں جس کے دفاع کی بات ٹوئٹر والا جرنیل کر رہا ہے۔۔۔پچھلی کور کمانڈر کانفرنس میں بھی جنرل باجوہ کو فوج کے پروفیشنل امیج اور وقار کو ان عدالتی کاروائیوں سے پہنچنے والے نقصانات کا بتایا گیا جو کہ ایک طرح سے اشارہ تھا کہ فوج کی خاطر ایکسٹینشن والی ضد کی قربانی کا وقت ہے لیکن جنرل باجوہ نے اتنا واضح پیغام ملنے کے باوجود ابھی اس پر عمل نہیں کیا اور ابھی اپنی نوکری بچانے میں مصروف ہیں۔۔۔پچھلے دنوں فوجیوں سے اللہ اکبر کے نعرے بھی اپنی ایکسٹینشن کو مضبوط کرنے کے لئے لگوائے لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا کیونکہ جن لوگوں نے یہ نعرے لگائے ان سب کی کمان بھی ایسے جرنیل کے پاس ہے جو خود بھی ٓارمی چیف بننے کا اہل ہے اس لئے وہ یہ کیسے چاہے گا کہ ایک ایسے جرنیل کے ہاتھ مضبوط کرے جو اس کی ترقی کے راستے میں روڑہ بنا ہوا ہے۔


جنرل باجوہ کی اس جرنیلی مخالفت کے باوجود اپنی ایکسٹینشن کے لئے جدوجہد سے ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے انفرادی حیثیت میں انٹرنیشنل ایسٹبلشمنٹ کے ساتھ کچھ ایسے وعدے کر لئے ہیں جنہیں وہ ہر صورت پورا کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے انہیں کسی بھی قیمت پر ایکسٹینشن چاہئے۔۔۔لیکن چونکہ انہوں نے ان انٹرنیشنل کمٹمنٹس کے حوالے سے سارے اہم جرنیلوں کو اعتماد میں نہیں لیا اس لئے اب وہ سخت مشکل میں پھنس گئے ہیں۔۔۔اب وہ یہ خفیہ کمٹمنٹس اپنے حریف جرنیلوں کے ساتھ شئیر بھی نہیں کر رہے لیکن ان سے چاہتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ پورا تعاون کریں اور اپنی اپنی ترقیوں کی قربانیاں بھی دے دیں تا کہ جنرل باجوہ بطور ٓارمی چیف اپنے انٹرنیشنل سپورٹرز کے اعتماد پر پورا اتر سکیں۔۔۔۔لیکن ایسا ہونا اب ممکن نہیں اور جنرل باجوہ کے لئے سب سےبڑی پریشانی یہ ہے کہ ان کے بین القوامی رشتے داریاں بھی اس جنگ میں ان کی مدد نہیں کر سکتیں کیوں کہ ان کی لڑائی سیاستدانوں یا کمزور عوام کی بجائےاپنے جیسے طاقتور جرنیلوں سے ہے اور اس میں کوئی بیرونی طاقت اس موقعے پر مداخلت کرنے کی بجائے انتظار کرنا پسند کرے گی تا کہ وہ جیتنے والے پہلوان کے سر پر اپنی حمایت کا تاج رکھ کر اپنا دھندہ جاری رکھ سکیں۔


پرویز مشرف کے کیس کو بھی فوجی ترجمان اسی لئے اچھال جا رہا ہے کہ ادارے کے وقار اور عزت کے نام پر سب جرنیلوں کو جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن والی چھتری کے نیچے اکٹھا کیا جائے۔


پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی بات کر کے عمران نیازی نے ایک بار پھر جنرل باجوہ والے پیج پر جگہ بنانے کی کوشش کی ہے۔۔۔اس وقت سوشل میڈیا پر عمران نیازی کے وہ سارے ویڈیو کلپ وائرل ہیں جن میں اس نے پرویز مشرف پر غداری کے مقدمے کا مطالبہ کیا تھا اور اسے سخت سزا دینے کی بات کی تھی لیکن اب کرسی کی خاطر عمران نیازی نے اپنا پسندیدہ ہتھیار یوٹرن کا ایک بار پھر استعمال کرکے پرویز مشرف کو بچانے کےلئے عدلیہ کے ساتھ باقاعدہ جنگ شروع کردی ہے۔۔۔جسٹس کھوسہ جس نے عمران نیازی کو ہر طرح کی غیر قانونی مدد دی تھی اب وہی اس وقت سب سے زیادہ حکومت کے نشانے پر ہے۔۔۔جنرل باجوہ بھی جسٹس کھوسہ سے چونکہ ناراض ہے اس لئے عمران نیازی بڑھ چڑھ کر جسٹس کھوسہ پر حملے کر رہا ہے تاکہ کسی طرح اس کے اور جنرل باجوہ کے درمیان فاصلے کم ہو سکیں لیکن اب تو جنرل باجوہ اپنی نوکری بچانے کی پوزیشن میں نہیں رہا تو وہ عمران نیازی کو کیا ریلیف دے گا۔


پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار سیٹھ نے پاکستان کا غیرت مند بیٹا ہونے کا حق اداکر دیا ہے۔۔۔اب یہ عوامی خاندان کی زمہ داری ہےکہ وہ فوجی خاندان کے اس بگڑے جرنیل کو بچانے کی کوششیں کرنے والوں کی باتوں پر کان نہ دھریں اور اس فوجی پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں۔۔۔ جسٹس وقار سے قبضہ گروپ کو پہلے سے بہت ساری شکایتیں ہیں کیوں کہ اس نے کچھ ایسے فیصلے کئے ہیں جن سے ان کو اپنے خفیہ حراستی مراکز چلانے میں دشواری ہو رہی تھی اور اپنے ہی لوگوں کے خلاف ان کی دہشت گردی کی جنگ کے مطلوبہ نتائج نہیں نکل رہے تھے اور اسی طرح عمران نیازی کے سب سے بڑے کرپشن اسکینڈل بی ٓار ٹی کو بھی اسی جسٹس وقار نے قانونی شکنجے میں لیا ہوا ہے اور ایف ٓائی اے کو حکم دے رکھا ہے کہ اس منصوبے میں کرپشن کی تحقیقات کو مکمل کیا جائے اور اس عدالتی حکم کے خلاف عمران نیازی نے ایک بار پھر اسٹے کے پیچھے چھپنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔


جسٹس وقار نے ایک درست فیصلہ کیا ہے اور اس میں پرویز مشرف کی لاش کو لٹکانے والا جملہ صرف اس لئے ہے کہ جرم کی سنگینی کو نمایاں کیا جائے۔۔۔رہی بات پھانسی کی تو ابھی پاکستان کا سیاسی اور عدالتی نظام اتنا طاقتور نہیں ہو ا کہ کسی جرنیل کو پھانسی تو کجا ہتھکڑی لگا سکے۔۔۔ابھی تک کسی بڑی سیاسی جماعت نے اس فیصلے پر اپنی زبان نہیں کھولی ۔۔۔کوئی اپنا علاج کروانے میں مصروف ہے اور کوئی کسی کی تیمارداری میں لگا ہوا ہے۔۔۔ان لوگوں کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ عدلیہ نے اتنا بڑا کام کیا ہے جو کہ ستر سال میں کوئی نہیں کر سکا لیکن یہ سیاسی جماعتیں اس سے فائدہ اٹھا کر اپنی عوامی طاقت کا اظہار کرنے کی بجائے جرنیلوں سے جوڑ توڑ میں مصروف ہیں۔

5 views