Search

19-12-19 - عدالت نے پرویزمشرف کو ڈی چوک میں لٹکانے کا کیوں کہا ہے؟

Updated: Dec 28, 2019

ٹویٹر والے جرنیل کی فوجی غم و غصے والی دھمکی کو نظر انداز کرتے ہوئے ٓاج خصوصی عدالت نے عدالتی سرٹیفائڈ غدار پرویز مشرف کے خلاف تفصیلی فیصلہ بھی جاری کردیا ہے۔۔۔اس فیصلے کی بنیادی بات تو وہی ہے کہ ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے خلاف ٓائین سے سنگین غداری کا جرم ثابت ہو گیا ہے اس لئے اسے موت کی سزا دی جائے لیکن اس فیصلے میں اس سزائے موت کے بارے میں ایسی تفصیلات دی گئی ہیں جنہیں پڑھ کر ہر پاکستانی جو کہ ٓائین کی بالا دستی پر یقین رکھتا ہے وہ تو غیر فوجی علاقوں میں مٹھائی تقسیم کرے گا لیکن جن لوگوں کو ابھی تک فوجی بوٹ پالش کرنے کا چسکا لگا ہوا ہے یا جن کی روزی روٹی جی ایچ کیو کے ترانے گانے سے وابستہ ہے وہ سارے لوگ اس فیصلے کو پڑھ کر صفِ ماتم بچھا کر بیٹھ گئے ہوں گے ۔


مختصر فیصلے کے خلاف فوجی غم وغصے کی خبر دینے والے جرنیل کی حالت کیا ہو گی اس کا اندازہ ٓاپ اس بات سے لگا لیں کہ جس بندے نے عدالت کے زبانی حکم پر منہ سے ٓاگ کے گولے برسانے شروع کر دیئے تھے وہ جب یہ پڑھے گا کہ عدالت کے سربراہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ وقار سیٹھ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی لکھاہے جس کا عوامی زبان میں مطلب یہ ہے کہ غدار پرویز مشرف کو اس وقت تک پھانسی پر لٹکایا جائے جب تک اس کی روح وہاں تک نہیں پہنچ جاتی جہاں پر ان دنوں جنرل ایوب، جنرل یحیی اور جنرل ضیا گالف کھیل کر ٹائم پاس کر رہے ہیں ۔


جنرل باجوہ اور ان کے ساتھیوں کو وارننگ کے طور پر اس فیصلے میں ایک یہ خطرناک بات بھی لکھی گئی ہے کہ اس مفرور مجرم کو فوری طور پر گرفتار کر کے پاکستان لایا جائے تا کہ اسے اس کے جرائم کی قرار واقعی سزا دی جا سکے لیکن اگر غدار پرویز مشرف پھانسی پر لٹکائے جانے سے پہلے ہی اس دنیا سے فرار ہو جائے تو پھر اس کی لاش کو پاکستان لا کر تین دن کے لئے ڈی چوک میں لٹکایا جایا۔


مجھے عدالت کا بے حد احترام ہونے کے باجود اس بات سے اختلاف ہے کہ اسے مردہ حالت میں ڈی چوک تین دن کے لئے لٹکایا جائے۔۔۔اب چونکہ عدالت نے فیصلہ تحریری طور پر جاری کر دیا ہے اس لئے اس میں ترمیم کی کوئی گنجائش نہیں ورنہ میں تو یہ چاہوں گا کہ لاش کو لٹکانے کے لئے راولپنڈی یا ایبٹ ٓاباد میں سے کوئی مقام تجویز کیا جائے کیونکہ پرویز مشرف جیسے لوگوں کی تربیت ایبٹ ٓاباد والی اکیڈمی میں ہوتی ہے اور غالبا وہاں کے نصاب میں کوئی ایسی کتاب پڑھائی جاتی ہے جو انہیں ایسا سبق پڑھاتی ہے اور ایسے داو پیچ سکھاتی ہے جن کی مدد سےجنرل بننے کے بعد انہیں پاکستان کے ٓائین اور سیاسی حکومتوں کو اپنے بوٹوں تلے روندنے کا فن ٓا جاتا ہے۔پرویز مشرف کی ایک ایسی ویڈیو جو کہ اس نے ملک سے فرار کے بعد ریکارڈ کروائی ہے اس میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ اس مجرم نے ابھی تک اپنے جرم پر شرمندگی محسوس نہیں کی اور اس کے دل میں پاکستان کے ٓائین کی جگہ ردی کی ٹوکری ہے۔۔۔یہ ویڈیو ہم اپنی ویب سائٹ پر اپلوڈ کر رہے ہیں تا کہ ٓاپ لوگ خود بھی دیکھ لیں کہ یہ جرنیل پاکستان کے ٓائین کا کتنا احترام کرتا ہے۔


جنرل ضیا الحق نے بھی نیشنل ٹی وی پر تقریری مسودے کو تھوک لگاتے ہوئے یہ کہا تھا کہ یہ ٓائین کیا چیز ہے۔۔۔بارہ صفحے کی کتاب ہے میں جب چاہوں اسے پھاڑ دوں۔۔۔جنرل ضیا اور پرویز مشرف دونوں کی باتیں یہی ثابت کر رہی ہیں کہ انہیں اکیڈمی میں ٹریننگ کے دوران یہی سکھایا جاتا ہے کہ پاکستان میں ٓائین سے زیادہ طاقتور فوجی قانون ہے اور یہ وہی قانون ہے جس کی تشریح کرتے ہوئے ایک فوجی پروفیسر جسے لوگ ٹویٹر والا جرنیل بھی کہتے ہیں ، اس نے کہا تھا کہ جنگ اور محبت میں سب جائز ہے۔۔۔۔اس لئے اگر پرویز مشرف کی لاش کو لٹکانے کی نوبت ٓا جائے تو اسے اس اکیڈمی کے سامنے لٹکا دیا جائے تا کہ مستقبل کے جنرل ایوب، جنرل یحیی، جنرل ضیا اور پرویز مشرف اس سے عبرت حاصل کریں اور پوری نوکری اس حلف کے تحت کریں جس میں یہ سیاست سے دور رہنے کی قسم کھاتے ہیں۔


پرویز مشرف کی لاش کو لٹکانے کےلئے دوسری موزوں جگہ راولپنڈی کی وہ عمارت ہے جہاں پر ملکی دفاع کو مضبوط کرنے سے زیادہ ٓائین شکنی کے منصوبے بنائے جاتے ہیں۔۔۔اس وقت بھی اس عمارت میں جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن والا پلان فیل ہو جانے کی وجہ سے اسی طرح کی کھچڑی کافی دنوں سے پک رہی ہے لیکن ان کے ٓاپس میں اختلاف کی وجہ سے یہ ڈش مکمل نہیں ہور ہی۔۔۔۔اگر اس عمارت کے سامنے پرویز مشرف کی لاش کو لٹکانے کی اجازت مل جائے جو کہ ناممکن ہے کیونکہ جو لوگ اپنے سابقہ چیف جسے ملک کی خصوصی عدالت نے مجرم قرار دے دیا ہے ،اس کی سزا کا سن کر ہی ضربِ غضب کا اعلان کر چکے ہیں وہ کیسے یہ برداشت کریں گے کہ ان کے سابقہ چیف کو اس ٓائین شکن جرنیل بنانے والی فیکٹری کے سامنے لٹکایا جائے۔


اس فیصلے میں جسٹس وقار سیٹھ اور جسٹس شاہد دونوں نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ پرویز مشرف نے سنگین غداری کا ارتکاب کیا ہے اور ان کے فیصلےسے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ انہوں نے فوج کے کور کمانڈرز کو بھی اس میں ملوث قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر وہ اس جرم میں ملوث نہیں تھے تو انہوں نے اس مجرم کو غیر ٓائینی اقدام سے روکا کیوں نہیں۔۔۔ان کا فوجی حلف انہیں اس بات سے روکتا ہے کہ وہ سیاسی سرگرمیوں سے باز رہیں اور اس حلف کے تحت انہیں چاہیے تھا کہ وہ پرویز مشرف کا روکنے کا بھی بندو بست کرتے۔


جسٹس نذر اکبر نے البتہ اس فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے پرویز مشرف کو بری کر دیا، انہوں نے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔انہوں نے اپنے فیصلے کے حق میں ایک دلیل یہ بھی دی ہے کہ پرویز مشرف تو ایک بے اختیار اور علامتی صدر تھا جب کہ سارے اختیارات اس وقت کے وزیر اعظم کے پاس تھے۔۔۔۔جسٹس نذر اکبر کی اس بات سے کہ پرویز مشرف ایک علامتی اور بے اختیار صدر تھا ۔۔۔اس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے ساتھی ججوں کے فیصلے سے کیوں اختلاف کیا ہے۔


خصوصی عدالت کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ استغاثے کی طرف سےجودستاویزات جمع کرائی گئی ہیں ان سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ ملزم نے جرم کیا ہے اور اس پر لگائے گئے سارے الزامات بغیر کسی شک و شبے کے ثابت ہو گئے ہیں اس لئے ملزم کو ہر الزام پر علیحدہ علیحدہ سزائے موت دی جاتی ہے۔۔۔ٓاسان اور عوامی زبان میں یوں کہہ لیں کہ عدالت نے یہ حکم دیا ہے کہ مجرم پرویز مشرف کو ایک سے زیادہ بار پھانسی دی جائے۔ ۔۔پہلی پھانسی کےبعد تو جتنی بار بھی پھانسی دی جائے گی وہ تو محض علامتی پھانسی ہو گی اور شاید اس علامت سے عدالت ان جرنیلوں کو وارننگ دینا چاہ رہی ہے جو اس وقت پاکستان کے ٓائین کو پرویز مشرف کی طرح ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کا سوچ رہے ہیں۔


پرویز مشرف کی اس ملٹی پل پھانسی سے جسٹس شاہد کریم نے اختلاف کیا ہے اس لئے اس پر عمل ہونا شاید ممکن نہ ہو۔۔۔ویسے تو ایک پھانسی بھی ناممکنات میں سے ہے کیوں کہ اب پاکستان پرانا پاکستان نہیں رہا۔۔۔عمران نیازی اور جنرل باجوہ کا نیو مدینہ بن چکا ہے جس میں ریاست کا کوڑا صرف فوجی اور سیاسی مخالفین کے لئے ہے اور اس کی سب سے بڑی مثال رانا ثنا اللہ کی ہے جس پر ایک جھوٹا مقدمہ صرف اس لئے بنایا گیا کہ اس نے نیو مدینہ کے دو نمبر خلیفہ کے ایک درباری مراد سعید کی چیخوں کی بات کی تھی جو اس دو نمبر خلیفہ کو پسند نہیں ٓائی ۔۔۔اب اگر میں یہ بتاوں کہ خلیفہ جی کو یہ چیخوں کا زکر پسند کیوں نہیں ٓایا تو پھر بات دوسری طرف نکل جائے گی۔۔۔یہ درباری ویسے بھی ان دنوں اپنے باپ کی ٓاسٹریلیا میں گرفتاری کی وجہ سے پریشان ہے اس لئے تفصیلات میں جا کر اسے اور پریشان کرنا مناسب نہیں۔۔۔بہرحال اس کے باپ کی گرفتاری میں اس کے لئے پیغام ہے کہ جو ظلم تم لوگوں نے رانا ثنا اللہ اور اس کی فیملی پر کیا ہے اس پر توبہ کرو اور اس انتقامی کاروائی سے باز ٓاو ۔۔۔یا تو رانا ثنا اللہ پر منشیات والا الزام ثابت کرو ورنہ اسے فوری طور پر رہا کرو۔


اس فیصلے میں پاکستان کی اعلی عدلیہ میں جسٹس منیر کے متعارف کروائے ہوئے نظریہ ضرورت پر بھی تنقید ہے اور کہا گیا ہے کہ اگر اعلی عدلیہ نے نظریہ ضرورت متعارف نہ کرایا ہوتا تو قوم کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔۔۔اسی نظریہ ضرورت والے ہتھیار کو استعمال کر کے وردی والوں نے سنگین غداری کے جرم کا ارتکاب کیا۔۔۔میری نظر میں یہ جسٹس کھوسہ کے لئے بھی ایک پیغام ہے کہ انہوں نے بھی ایکسٹینشن کے حوالے سے جو فیصلہ کیا ہے وہ بھی نظریہ ضرورت ہی کی بدلی ہوئی شکل ہے۔۔۔ اس کے اندر اب بھی وہی نظریہ ضرورت ہے جسے استعمال کر کے جنرل ایوب سے لے کر جنرل مشرف تک بار بار پاکستان کو فتح کیا ہے اور اسی کی مدد سے جنرل باجوہ جو ان دنوں پاکستان پر غیر اعلانیہ حکومت کر رہے ہیں انہیں چھ ماہ کی توسیع مل گئی ہے۔


اس فیصلے میں ٹوئٹر والے جرنیل اور اس کے سوشل میڈیا مجاہدین کے اس اعتراض کا بھی معقول جواب دے دیا گیا ہے کہ پرویز مشرف کو فئیر ٹرائل نہیں ملا اور اسے سنے بغیر جلد بازی میں سزا سنا دی گئی ہے۔۔۔اس بات کا مدلل جواب دیتے ہوئے اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف جو کہ سنگین غداری کا مرتکب ہوا ہے اسے فئیر ٹرائل کاموقع اس کے حق سے بھی زیادہ دیا گیا ہے۔۔۔یہ ایک اہم مقدمہ تھا جسے جلد از جلد نمٹایا جانا چاہئے تھا لیکن ٓائین کے تحفظ کا یہ مقدمہ سالوں چلتا رہا اور یہ مقدمہ دو ہزار تیرہ میں شروع ہو کر چھ سال بعد دو ہزار انیس میں اپنے انجام کو پہنچا۔


ے ٹوئٹر والے جرنیل اور اس کے سرپرستوں کی اس منافقت پر حیرت ہوتی ہےکہ ان لوگوں نے انہی عدالتوں میں ثاقب نثار کی مدد سے ملک کے منتخب وزیر اعظم کو ایک سال کے اندر نا اہل بھی کروایا۔۔۔پھر احتساب عدالت میں اس کے مقدمے بھیجے اور ان پر سپریم کورٹ کے جج کو نگران مقرر کیا تا کہ عدالت کہیں اس مقدمے میں نواز شریف کو بری نہ کر دے اور جنرل فیض کی دو سال کی محنت رائگاں نہ چلی جائے۔۔۔پھر اس مقدمے کے بارے میں احتساب عدالت کو ہدائت جاری کی گئی کہ چھ ماہ کے اندر اس کا فیصلہ کیا جائے تا کہ نواز شریف کو سیاسی سرگرمیوں سے روکنے کے لئے جیل کے اندر رکھا جا سکے۔۔۔اب یہ جرنیل جو نواز شریف کو جلد از جلد جیل بھیجنا چاہتے تھا ۔۔۔اپنے سابقہ ٓارمی چیف کے خلاف ٓانے والے فیصلے پر چیخ وپکار کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ چھ سال کے اندر اس مقدمے کا فیصلہ سنانے کی کیا ضرورت تھی۔


اس تحریری فیصلے ساری تفصیلات کا زکر کرنا ممکن نہیں ۔۔۔اس فیصلے کو ہم اپنی ویبسائٹ پر اپلوڈ کر دیں گے۔۔۔لیکن اس فیصلے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ خصوصی عدالت نے غدار اور ٓائین شکن جرنیل پرویز مشرف کو سزا سنا کر جنرل باجوہ اور ان کے ساتھی فوجی جرنیلوں اور فوجی سیاست دانوں بشمول نظریہ ضرورت والے ثاقب نثاروں کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ اب اس ملک میں ٓائین ہی بالادست رہے گا۔۔۔اگر کسی جرنیل نے ٓائین شکنی کی کوشش کی تو اس کے خلاف بھی پاکستان کا قانون اسی طرح حرکت میں ٓائے گا جس طرح پرویز مشرف کے خلاف ٓایا ہے اور انہیں بھی پرویز مشرف والی سزا ملے گی۔

17 views