Search

18-12-19 - پرویز مشرف کی سزا پر ٓاصف غفور چیخیں کیوں مار رہا ہے؟

Updated: Dec 28, 2019

پاکستان کی فوجی تاریخ میں بہت سارے فن کار جرنیل ٓائے ہیں اور ان کی غیر فوجی سرگرمیوں کی وجہ سے انہوں نے بہت شہرت بھی پائی ہے اور بہت سارے فلمی ستاروں نے دولت پائی ہے۔۔۔جنرل یحیی اس جرنیلی فنکار قبیلے کے سب سے بڑے جرنیل بلکہ یوں کہہ لیں کہ فیلڈ مارشل تھے۔۔۔انہوں نے پرانے پاکستان کی مہ وش حیات اور وینا ملک جیسی خواتین پر خصوصی دستِ شفقت پھیرا۔۔۔جن لوگوں کو دستِ شفقت زرا اوکھا لفظ لگتا ہے وہ اس بات کو موجودہ چیرمین نیب کی زبان میں یوں سمجھ لیں کہ سر سے لے کر پیر تک چوما۔۔۔اداکارہ ترانہ کو قومی ترانہ ہونے کا اعزاز بھی اسی جنرل یحیی کی بدولت ملا تھا۔۔۔اسی فلمی جرنیلی دور میں ایک خاتون کو پہلی خاتون اعزازی جرنیل بنایا گیا اور جنرل یحیی کی نظرِ کرم سے یہ خاتون جنرل رانی کے طور پر مشہور ہوئی۔


جنرل پرویز مشرف بھی اسی فن کار جرنیلی قبیلے کا جرنیل ہے۔۔۔یقیننا ٓاپ میں سے بہت سارے لوگوں نے اس کی کلاسیکل گائیکی اور ٓائٹم ڈانس والی ویڈیوز دیکھی ہوں گی۔۔۔اسے فوج میں لٹل یحیی بھی کہا جاتا تھا۔۔۔لٹل اس لئے نہیں کہا جاتا تھا کہ یہ جنرل یحیی سے کم رنگین مزاج تھا یا اس کا قد چھوٹا تھا ۔۔۔اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ روح افزا پینے کے بعد جنرل یحیی کی طرح اپنی پینٹ گیلی نہیں کرتا تھا بلکہ واش روم تک جسے بعض لوگ خلائی کمرہ بھی کہتے ہیں اس تک اپنے پیروں پر چل کر چلا جاتا تھا۔۔۔تھوڑی سی وضاحت کر دوں کہ یہ کوئی میرا گھڑا ہو قصہ نہیں ہے۔۔۔یہ مجھے کراچی کریک کلب میں ایک میجر صاحب نے سنایا تھا جو کہ فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد وہ دھندہ کر رہے تھے جو ان دنوں بہت سارے وردی والے بحریہ ٹاون کی ٓاڑ میں کر رہے ہیں۔


موجودہ ٹویٹر والا جرنیل بھی اسی قبیلے کا ہی لگتا ہے اور اگر نہیں بھی ہے تو اس کی فن کاروں کے ساتھ سیلفیاں دیکھ کر تو یہی اندازہ ہوتا ہے۔۔۔اور اب اس نے جنرل مشرف کی وکالت میں جو فنکارانہ تڑکا۔ لگا کر فوج کے رد عمل کو پیش کیا ہے تو مجھے اس بات پر کافی حد تک یقین ہو گیا ہے کہ یہ جرنیل بھی اسی قبیلے کا ہے۔۔۔البتہ یہ کس لیول کا یحیی ہے ۔۔۔لٹل ہے یا بڑے والے سے بھی بڑا ہے ۔۔۔یہ ابھی اندازہ نہیں۔۔۔ لیکن یہ ایک معاملے میں ان دونوں سے ٓاگے نکل گیا ہے اور اس نے فنکاروں کے ساتھ دوستی کا ایک اچھا استعمال یہ کیا ہے کہ اس نے پاکستان کے بہت سارے فنکاروں کو جرنیلی ایجنڈے کے لئے ایک کارآمد ہتھیار میں بدل دیا ہے۔۔۔مہ وش حیات اور وینا ملک کی ٹوئٹر والی ٹائم لائن دیکھ لیں تو ٓاپ کو بھی اندازہ ہو جائے گا کہ کہ یہ ٓائیٹم ڈانس کرنے والی خواتین کتنی محنت سے جرنیلی مخالفین پر حملے کرتی ہیں۔


ٹوئٹر والے جرنیل نے پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ ٓانے پر بغیر وقت ضائع کئے جس طرح پاکستان کی عدالتوں پر فائرنگ شروع کر دی ہے۔۔۔ اس سے تو ایسا لگتا ہے کہ یہ پاکستان پر اس حملے سے کہیں زیادہ خطرناک ہے جو کہ ایبٹ ٓاباد میں امریکی کمانڈوز نے کیا تھا کیونکہ اس حملے کا نہ تو فوج نے کوئی جواب دیا اور نہ ہی اس کے فوجی ترجمان نے اتنی برق رفتاری سے امریکہ کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کیا تھا اور ایسا کچھ بھی نہیں کہا تھا کہ اس امریکی حملے کے خلاف فوج میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔


ٹوئٹر والے جرنیل کا کہنا ہے کہ پاکستان کی فوج کا چیف غدار نہیں ہو سکتا۔۔۔مجھے تو اس کی بات پر زرا سا بھی یقین نہیں ہے کیوں کہ میں نے اسی فوج کے ایک جرنیل حمید گل سے یہ سن رکھا ہے کہ پاکستان کا ٓارمی چیف وہی بنتا ہے جسے امریکہ کا ٓاشیر باد حاصل ہو۔۔۔اب چونکہ یہ بات ایک ایسے جرنیل کے منہ سے نکلی ہوئی ہے جو کہ فوج کا یک سینئیر جرنیل تھا اور اس ٹوئٹر والے جرنیل سے رینک اور تجربے میں بھی بہت ٓاگے تھا اور وہ صرف ٹوئٹر والا مجاہد نہیں تھا بلکہ اسے امریکی اسلحے سے افغان جہاد کا زاتی تجربہ بھی تھا۔۔۔اس لئے جنرل حمید گل کی اس بات کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ جو شخص پاکستان کے اتنے اہم عہدے پر امریکی مدد سے براجمان ہوتا ہے تو وہ امریکی مفاد کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے اور یہ امریکی مفاد ضروری نہیں کہ پاکستانی مفاد سے جڑا ہوا ہو۔


نائن الیون کے بعد پرویز مشرف نے فوجی مفاد کے لئے جس طرح امریکی ایجنڈے پر کام کیا وہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ یہ جرنیل اس بسکٹ کی طرح ہے جسے پاکستان میں ففٹی ففٹی کہا جاتا ہے۔۔۔اس نے اپنی کتاب میں خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ میں نے پاکستانیوں کو معقول قیمت پر امریکہ ایکسپورٹ بھی کیا۔۔۔عافیہ صدیقی بھی اسی کی مہربانی سے اب تک امریکہ کی جیل میں قیام پذیر ہے۔


کل سے سوشل میڈیا پر غدار پرویز مشرف کا ایک ویڈیو کلپ بھی وائرل ہے جس میں یہ لٹل یحیی کہہ رہا ہے کہ یہ ٓائین کیا چیز ہے اسے کسی بھی وقت کچرے کے ڈبے میں


پھیکنا جا سکتا ہے۔۔۔پرویز مشرف کے کرتوتوں کی فہرست بڑی طویل ہے اس لئے اسے دہرانے کی ضرورت نہیں رہی کیوں کہ اب اسے پاکستان کی عدالت نے غدار اور ٓائین شکن ہونے کا سرٹیفیکیٹ جاری کر دیا ہے۔


اب ٓاخر میں اس فوجی رد عمل کی ان وجوہات پر بات کر لیتے ہیں جن کا تعلق جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن سے ہے۔۔۔میری زاتی رائے میں پرویز مشرف کے خلاف ٓانے والے فیصلے نے جنرل باجوہ کے پلان بی کا وہ حشر کیا ہے جس کے بارے میں شاعر نے کہا ہے کہ


حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے


چند روز پہلے ایک کور کمانڈر کانفرنس ہوئی تھی جس کے بارے میں یہ کہا گیا تھا کہ اس میں ملک کی اندرونی صورت حال اور مشرقی اور مغربی سرحدوں کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔۔۔اس کانفرنس میں جنرل باجوہ نے اپنے کور کمانڈروں کے ساتھ سات گھنٹے تک اس صورتحال کا جائزہ لیا لیکن کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے اور یہی وجہ ہے کہ ابھی تک اس کانفرنس کے بارے میں کوئی اعلامیہ جاری نہیں ہوا۔۔۔میری زاتی رائے میں یہ جنرل باجوہ کی طرف سے ایک بڑی کوشش تھی کہ ملکی صورتحال کی بنیاد پر کسی اپنی ایکسٹینشن کے حلال ہونےکا فوجی فتوی لے لیں لیکن انہیں اس میں کامیابی نہیں ہوئی۔


اس ناکامی کے بعد اب ان کے پاس جو پلان بی بچا تھا گو اس کے لئے ان کے پاس زیادہ جرنیلی امداد نہیں تھی لیکن پھر بھی انہیں اس بات کا یقین تھا کہ وہ اسمبلی یا عدالت سے ایکسٹینشن نہ ملنے کی صورت میں اس پلان بی کا استعمال کر لیں گے لیکن اب ان کے سارے پلان ناقابل عمل ہو ہو گئے ہیں۔۔۔پارلیمنٹ میں ان کے نکے کے پاس مطلوبہ اکثریت بھی نہیں ہے اور نہ ہی اپوزیشن کی جماعتیں اس کی شکل دیکھنا پسند کرتی ہیں۔


احسن اقبال نے توکھل کر کہہ دیا ہے کہ ان کی جماعت کسی ایسے کسی مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بنے گی جس میں عمران نیازی زاتی طور پر شامل نہیں ہو گا۔۔۔یہ ایک ایسی شرط ہے جو کہ بظاہر ٓاسان سی ہے لیکن جو لوگ عمران نیازی کو جانتے ہیں انہیں پتہ ہے کہ وہ ایسے مذاکرات کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا اس لئے وہ کبھی بھی بات چیت کرنے کے لئے فرنٹ لائین پر نہیں ٓائے گا اور نتیجے کے طور پر جنرل باجوہ کو ن لیگ کی حمایت حاصل کرنے کے لئے عمران نیازی کو گھر بھیجنا پڑے گا۔۔۔ اس کام کے لئے جنرل باجوہ تو دل و جان سے راضی ہیں لیکن ان کے راستے میں ایک بہت بڑی دیوار مولانا فضل الرحمان کی صورت میں کھڑی ہے جسے نہ تو وہ ٓازادی مارچ کے دوران گرا سکے تھے اور نہ ہی اب گرانے کی پوزیشن میں ہیں۔


موجودہ اسمبلی سے ریلیف نہ ملنے کی صورت میں جنرل باجوہ


کے پاس عدالت سے فیصلے کو ریویو کروانے کا ایک ٓاپشن تھا جس کے بارے میں فوجی کوٹے کے وزیر فواد چوہدری نے کہہ بھی رکھا ہے کہ حکومت ایکسٹینشن والے فیصلے کے بارے میں ریویو کے لیئے سپریم کورٹ جا سکتی ہے۔۔۔لیکن موجودہ فوجی رد عمل نے جنرل باجوہ کے لئے یہ ٓاپشن بھی تقریبا ختم کر دیا ہے۔۔۔ٹوئٹر والے جرنیل کی اس فوجی وارننگ کے بعد اس قبضہ گروپ کے لئے عدالتوں سے اپنی مرضی کا فیصلہ لینا اور بھی دشوار ہو گیا ہے۔


اس وقت جنرل باجوہ کے ایک ایک کر کے سارے مہرے پٹتے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ بہت غصے میں ہیں اور اسی غصے کا اظہار ٹوئٹر والے جرنیل نے پرویز مشرف والے فیصلے کی ٓاڑ میں کیا ہے۔۔۔ یعنی روندی یاراں نوں لے لے ناں بھرانوں دے

21 views