Search

ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت اور جنرل باجوہ کو امریکی فون۔ کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد 04-01-2020

میں نے بہت دن پہلے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ جنرل باجوہ نے کسی غیر ملکی طاقت سے کوئی ایسا وعدہ کر لیا ہے جسے پورا کرنا اس کے لئے بہت ضروری ہے۔۔۔لیکن اس سارے کھیل میں دشواری یہ ہے کہ جنرل باجوہ نے یہ سپاری پکڑتے وقت اپنے سارے جرنیلوں کو اعتماد میں نہیں لیا اور انہیں اس اس ڈیل کے فوائد ڈالرز میں نہیں بتائے۔۔۔اب جنرل باجوہ کی رخصتی کا وقت ہے لیکن وہ اس ڈیل کو پورا کرنے کے لئے چھڑی ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں لیکن ان کے فوجی ساتھی اس بات پر خوش نہیں ہیں کیوں کہ وہ بھی چاہتے ہیں کہ انہیں بھی پاکستان پر حکومت کرنے کا موقع ملے۔


جنرل باجوہ نے اپنی کٹھ پتلی سے تو ایکسٹینشن کا فرمان کئی ماہ پہلے ہی جاری کروا لیا تھا اور اس پر کسی بھی بڑی اپوزیشن کی جماعت کو کوئی اعتراض بھی نہیں تھا لیکن جنرل باجوہ کی مشکلات میں اضافہ اس وقت ہوا جب ان کے حریف جرنیلوں نے خاموش رہنے کی بجائے جنرل باجوہ کے راستے میں روڑے اٹکانے شروع کر دئیے۔۔۔کور کمانڈر کانفرنس میں بھی جنرل باجوہ کو یہ سگنل دے دیا گیا کہ انہیں دو چار الوداعی دعوتیں کھا کر اور تحفے تحائف لے کر گکھڑ منڈی روانہ ہوجانا چاہئے۔

جنرل باجوہ اور ان کے گروپ کے جرنیلوں کو اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ اس ایکسٹینشن کے خلاف مولانا فضل الرحمن اتنا بڑا عوامی سیلاب لے کر اسلام ٓاباد پہنچ جائیں گے۔۔۔ان کا خیال تھا کہ عمران نیازی کوئی کام دکھائے گا لیکن وہ اس معاملے میں بھی اسی طرح نا اہل اور نالائق ثابت ہوا جس طرح وہ فوج کے لئے امریکی ڈالروں کی برسات کروانے میں ناکام ہوا تھا۔

پھر یہی ایکسٹینشن والا معاملہ جنرل باجوہ کے حریف جرنیلوں نے عدالت والے اسٹیڈیم میں دھکیل دیا اور وہاں بھی عمران نیازی کی قانونی ٹیم جنرل باجوہ کے کسی کام نہ ٓا سکی بلکہ الٹا جسٹس کھوسہ کو اتنا ناراض کر دیا کہ انہوں نے جاتے جاتے جنرل باجوہ کے لئے نئی مشکلات کھڑی کر دیں اور انہیں پارلیمنٹ کی طرف دھکا مار دیا۔

اب بظاہر تو ایسا لگ رہا ہے کہ جنرل باجوہ نے بڑی سیاسی جماعتوں کو مناسب چارہ ڈال دیا ہے اور انہیں اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہے کہ جنرل باجوہ اس ملک کےاس وقت تک سپہ سالار رہیں جب تک کہ ان کے لئے لنگڑے ٓاموں کا بندوبست نہیں ہو جاتا۔

جنرل باجوہ کی یہ امریکی اسپانسرڈ خواہش پوری ہو گی یا نہیں اس سے قطع نظر۔۔۔بات ٓاپ سے یہ کرنی ہے کہ جنرل باجوہ نے ایسی کونسی سپاری پکڑ لی ہے جس کی وجہ سے وہ باعزت طور پر گھر جانے کی بجائے ابھی جی ایچ کیو ہی میں قیام کرنا چاہتے ہیں۔

میرے کوئی ایسے وسائل نہیں ہیں کہ میں جنرل باجوہ کی ان سرگرمیوں پر نظر رکھ سکوں جب وہ غیر ملکی دورے کرتے ہیں اور نہ ہی میرے پاس عمران نیازی کی زوجہ نمبر تین کی طرح ایسے موکل ہیں جو غیب کی خبریں بھی بتا دیتے ہیں۔۔۔اس لئے میں کافی دنوں سے اسی پریشانی میں تھا کہ جنرل باجوہ اتنی زیادہ جرنیلی مخالفت کے باوجود ایکسٹینشن والی خیرات لینے کے لئے در در کیوں مارے پھر رہے ہیں لیکن کل ایک ایسا ڈرون حملہ ہوا ہے جس نے کافی حد تک میری اس الجھن کو سلجھا دیا ہے۔

امریکہ نے جو ایک عرصے سے ایران کے ساتھ غیر اعلانیہ جھڑپوں میں مصروف تھا اس نے بغداد میں ڈرون اٹیک کر کے ایران کے ایک بہت ہی اہم اور طاقتور جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کر دیا ہے ۔۔۔اس حملے میں ایک عراقی کمانڈر بھی مارا گیا ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ بھی ایرانی فوجی سرگرمیوں کا حامی تھا۔

یہ حملہ امریکہ کے صدر کی منظوری سے ہوا ہے اور امریکہ نے ایرانی رد عمل سے نمٹنے کے لئے اپنے فوجی کویت میں فوری طور پر بھیج دیئے ہیں۔

اس حملے کے بعد پاکستان میں امریکہ کی طرف سے ایک فون کال بھی ٓا چکی ہے اور یہ بھی غالبا اسی طرح کی فون کال ہے جو کہ پرویز مشرف کے دور میں ٓائی تھی اور اسی کال کے نتیجے میں پرویز مشرف امریکہ کے سامنے اسی طرح لیٹ گیا تھا جس طرح عمران نیازی ان دنوں جنرل باجوہ کے سامنے لم لیٹ ہے۔۔۔یہ فون کال امریکہ کے سیکرٹری خارجہ نے کی ہے اور اس نے جنرل باجوہ کو اس حملے کی ساری تفصیلات بتائی ہیں۔۔۔۔اصولی طور پر یہ کال پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو ٓانی چاہئے تھی۔۔۔اور اگر پرویز مشرف کے طے کردہ سفارتی پروٹوکول کو مثال بنایا جائے تو پھر یہ کال عمران نیازی کو ہونی چاہئے تھی اور امریکی وزیر خارجہ کو اس معاملے پر پاکستانی حکومت کو اعتماد میں لینا چاہئے تھا لیکن امریکی وزیر خارجہ نے عمران نیازی اور شاہ محمود قریشی کو گھاس کیوں نہیں ڈالی۔۔۔یہ ہم سب کے لئے تو صرف سوچنے کی بات ہے لیکن عمران نیازی اور شاہ محمود قریشی کے لئے یہ ایکinternational embarrasment ہے کہ امریکیوں نے پوری دنیا کو بشمول نریندر مودی کے یہ بتا دیا ہے کہ ان کی نظروں میں پاکستان میں عمران نیازی کی کتنی وقعت ہے۔

ابھی تک اس امریکی حرکت پر عمران نیازی اور شاہ محمود قریشی نے نہ تو امریکہ سے اس بات پر احتجاج کیا ہے اور نہ ہی جنرل باجوہ کو توہینِ حکومت کا نوٹس بھیجا ہے کہ انہوں نے نیو مدینہ کے خلیفہ کو شان میں ہونے والی اس گستاخی کا دفاع کیوں نہیں ک۔۔۔میں اسے گستاخی اس لئے بھی کہہ رہا ہوں کہ امریکہ نے بہت سارے ملکوں کو اپنی اس کاروائی کے بارے میں اطلاع دی ہے۔۔۔روس کے شاہ محمود قریشی کو فون کیا گیا ہے۔۔۔افغانستان کے صدر سے بات کی گئی ہے۔۔۔اسرائیل کے وزیر اعظم کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔۔۔عراق کے عمران نیازی کو بھی فون کیا گیا ہے۔۔۔فرانس والے شاہ محمود قریشی کو بھی ساری واردات کی تفصیل بتائی گئی ہے۔۔۔۔یہ لسٹ بہت لمبی ہے اور میری معلومات کی حد تک کسی ملک کے جنرل باجوہ کو فون والی عزت نہیں دی گئی۔۔۔حتی کہ سعودی عرب فون کیا گیا ہے اور عمران نیازی کے کفیل سے بات کی گئی ہے نہ کہ وہاں کے جنرل باجوہ سے۔

مقصد کہنے کا یہ ہے کہ امریکہ نے ایک بار پھر عمران نیازی کو اس کی اوقات یاد دلاتے ہوئے بتایا ہے کہ ہمیں اچھی طرح پتہ ہے کہ پاکستان میں اس وقت اصلی حاکم کون ہے اس لئے ہم اس ضروری مسئلے پر تم سے بات کر کے وقت ضائع کرنے کی بجائے کیوں نہ اسی بندے سے بات کر لیں جو تمہیں امریکہ کی سیر کروانے ساتھ لایا تھا اور ہم نے اسے امریکی توپوں کی سلامی بھی دی تھی اور بال بچوں کے لئے تحفے تحائف بھی پیش کئے تھے۔

میری زاتی رائے میں تو انہی امریکی دوروں میں جنرل باجوہ نے امریکہ کے ساتھ وہ وعدے کئے تھے جنہیں اب پورا کرنے کا وقت ٓا گیا ہے۔۔۔امریکہ نے ایرانی جنرل کے خلاف کاروائی کوئی اچانک نہیں کی۔۔۔یقیننا امریکی کافی عرصے سے اس حملے کی تیاریوں میں مصروف تھے اور جیسے ہی انہیں اپنا شکار ڈرون کے ٹارگٹ پر مل گیا انہوں نے کھل کر وار کر دیا۔

اب امریکہ کو اس کشیدہ صورتِ حال میں ہماری فوجی ضرورت ہے۔۔۔ہماری فوج اس لڑائی میں عملی حصہ تو نہیں لے گی لیکن یہ امریکیوں کو ہر طرح کی سہولت مہیا کریں گے۔۔۔اور پھر اس سہولتی کاروبار کے نتیجے میں ایک بار پھر ڈالروں کو وہ برسات کھل کر شروع ہو جائے گی جو کہ اس وقت قطرہ قطرہ برس رہی ہے اور اس سے کسی ایک جرنیل کی قمیض بھی صیح طرح گیلی نہیں ہو رہی۔

سہولت کاری کی تھوڑی سی وضاحت بھی کر دیتا ہوں کہ جس طرح مری اور دیگر پہاڑی تفریحی مقامات پر غیر ملکی سیاحوں کے لئے اچھے اچھے ہوٹل بنائے جاتے ہیں اور انہیں ہر طرح کی سہولتیں دی جاتی ہیں تا کہ وہ قیمتی زرمبادلہ لے کر ٓاتے جاتے رہیں۔۔۔اسی طرح پاکستانی جرنیل دنیا بھر کے لئے فوجی سہولتیں مہیا کر کے اچھے خاصے ڈالر کماتے ہیں۔۔۔افغانستان والے جہاد میں ان جرنیلوں نے اتنے امریکی ڈالر کمائے تھے کہ انہیں پاکستانی بنکوں میں رکھنا مشکل ہو گیا تھا۔۔۔اس لئے ان میں سے زیادہ تر نے ڈالروں کا بوجھ پاکستانی بنکوں پر ڈالنے کی بجائے غیر ملکی بنکوں کو یہ زحمت دی۔۔۔جو جرنیل بہت زیادہ کاروباری تھے انہوں نے اس سرمائے سے کاروبار بھی کر لئے اور جنہیں صرف پراپرٹی ڈیلر والا کام ٓاتا تھا انہوں نے دنیا بھر میں قیمتی جائدادیں خرید لی ہیں اور دروغ بر گردن راوی ایک جرنیل نے تو پورا جزیرہ خریدا ہوا ہے۔

اب جنرل باجوہ اور ان کے ساتھیوں کی لاٹری نکل ٓائی ہے۔۔۔سی پیک بند ہونے سے اب بلوچستان کافی حد تک غیر ملکی مداخلت سے محفوظ ہو گیا ہے۔۔۔۔اب یہاں پر امریکی ڈالر والے غیر ملکی انویسٹرز کو کھلی چھٹی ہو گی کہ وہ جرنیلی امداد سے ایسے پلانٹ لگائیں جن کی چمنیوں سے نکلنے والا دھواں ایران کی ٓاب و ہوا کو خراب سے خراب تر کر سکے۔

عمران نیازی جس نے ایران اور امریکہ میں ثالثی کر کے بین القوامی لیڈر بننا تھا وہ اس امریکی ڈرون حملے پر بھی خاموش ہے اور امریکی وزیر خارجہ کی جنرل باجوہ کو فون کال پر بھی کوئی رد عمل نہیں دے رہا۔۔۔ وہ شاید اس وقت جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن والے منصوبے پر مزدوری کر رہا ہے۔۔۔اس لئے اس کی ٹویٹ کے لئے میں اور ٓاپ تھوڑا اور انتطار کر لیتے ہیں۔

949 views1 comment