Search

03-01-20 - نون لیگ کو ٓارمی ایکٹ کی حمایت کتنی مہنگی پڑےگی؟ کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد

جنرل باجوہ کی کٹھ پتلی نے اپنے پپٹ ماسٹر کی نوکری والے تنازعے کو حل کرنے کے لئے ٓارمی ایکٹ میں ترامیم کے لئے قانون سازی کا عمل شروع کر دیا ہے۔۔وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں پی ٹی ٓائی کے وفد نے ن لیگ کے رہنماوں سے ملاقات بھی کی ہے اور ان سے جنرل باجوہ کی مدت ملازمت سے متعلق قانون سازی پر حمایت کی درخواست بھی کی ہے۔۔۔یہ ملاقات ایک رسمی سی ملاقات تھی بالکل اس طرح جس میں لڑکی اور لڑکے کے والدین ایک دوسرے سے رشتہ داری کے لئے مذاکرات کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہوتی ہے کہ لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو پسند بھی کر چکے ہوتے ہیں اور زندگی بھر ساتھ رہنے کی قسمیں بھی کھا چکے ہوتے ہیں۔

اسی طرح جنرل باجوہ کے فوجی نمائندوں اور ن لیگ کی لندن والی قیادت جو کہ بظاہر نواز شریف کی تیمارداری کے لئے لندن میں ہے ،اس کے درمیان سارے قول و قرار ہو چکے ہیں۔۔۔اس سارے معاملے سے عمران نیازی بھی باہر ہے اور ن لیگ کی مقامی قیادت بھی۔۔۔یہاں میں تھوڑی سی یہ بھی وضاحت کر دوں کہ عمران نیازی تو ن لیگ کی اس نئی فوجی رشتہ داری کے بہت خلاف ہے۔۔۔اس نے تو اپنے طور پر پوری کوشش کی تھی کہ جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن والے معاملے میں اپوزیشن کو جنرل باجوہ کے قریب نہ ٓانے دے اور اکیلا ہی جنرل باجوہ کے ساتھ فوجی پیج پر موج میلہ کرتا رہے لیکن جنرل باجوہ چونکہ عمران نیازی سے بہت زیادہ باخبر ہیں اور انہیں پتہ ہے کہ جی ایچ کیو میں ان کے حریف جرنیل کیا کھچڑی پکا رہے ہیں۔۔۔اس لئے انہوں نے یہ فیصلہ عمران نیازی کو اعتماد میں لئے بغیر ہی کیا ہے کہ اب ن لیگ اور پی پی کے ساتھ کُٹی ختم کرنے کا وقت ٓا گیا ہے۔ اس لیئے انہوں نے اپنے وچولوں کی مدد سے ان دونوں جماعتوں کا اپنے قریب ٓانے کی موقع دے دیا ہے۔

یہ بل اب قومی اسمبلی میں پیش ہو چکا ہے اور اس کی منظوری میں بظاہر تو کوئی سیاسی رکاوٹ نظر نہیں ٓاتی۔۔۔میاں نواز شریف نے ایک بیان جاری کیا ہے جو کہ بس بیان کی حد تک ہے اور ن لیگ جو کہ اس وقت عملا شین لیگ بن چکی ہے۔۔۔یا یوں کہہ لیں کہ یہ ایک ایسا کیپسول ہے جس پر لکھا ہوا تو ن لیگ ہی ہے لیکن اس کے اندر دوائی وہ ہے جو کہ شہباز شریف کے سیاسی فارمولے کے مطابق بنائی گئی ہے۔

میں نے کل والے کالم میں بھی یہی بات کی تھی کہ اس وقت سوائے مولانا فضل الرحمان کے ساری بڑی جماعتیں بلو کے گھر والی لائین میں لگی ہوئی ہیں اور سب کی خواہش ہے کہ بلو ایکسٹینشن والا تحفہ اس کے ہاتھ سے قبول کرے۔۔۔

پی پی کی قیادت بھی اس قانون سازی کی حمایت کرے گی کیونکہ بلاول کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ اس کے بابا جان کو دوبارہ سرکاری مہمان خانے میں رکھا جائے۔۔۔اس حمایت کا پی پی کو سیاسی نقصان ہو گا لیکن یہ نقصان ن لیگ کے مقابلے میں بہت کم ہے۔۔۔پی پی اس وقت سندھ کی پارٹی ہے۔۔۔دوسرے صوبوں میں ان کے پاس اب بس اتنا بڑا ووٹ بنک نہیں رہا کہ اس فوجی حمایت کی وجہ سے اس میں کوئی زیادہ کمی واقع ہو گی۔۔محاورے کی زبان میں یوں کہہ لیں کہ ان کا حال اس گنجی والی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا۔۔۔رہی بات سندھ کی تو وہاں پر ان کا ووٹ بنک بھٹو خاندان کی قربانیوں کی وجہ سے پکا ہے۔۔۔تھوڑا بہت شہری علاقوں میں ایم کیو ایم کی وجہ سے پرابلم ٓاتی ہے جسے رینجرز والے حل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

مسلم لیگ ن کو البتہ اس سیاسی یوٹرن سے زیادہ نقصان پہنچے گا ۔۔۔اب یہ صرف الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن کی حد تک نون لیگ رہ جائے گی باقی عملی طور پر یہ شین لیگ ہو گی ۔۔۔ شہباز شریف نے اندازہ کر لیا ہے کہ اب اگر پاکستان میں سیاست کرنی ہے اور فوجی بوری میں بند ہونے سے بچنا ہے تو الطاف حسین کے جئیے مہاجر والے نعرے کو جیئے جرنیل میں تبدیل کر کے سیاست کرنی ہو گی۔۔۔ویسے بھی ن لیگ کے پاس پنجاب میں اتنا بڑا ووٹ بنک ہے اگر جرنیلی حمایت کی وجہ سے اگر اس میں سے دو چار پرسنٹ کم بھی ہو جائے تو اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔جنرل باجوہ کا لشکر اگر عمران نیازی کی جماعت کو جھرلو پھیر کر الیکشن جتوا سکتا ہے تو پھر ن لیگ کے لئے الیکشن جیتا کونسا مشکل کام ہو گا۔

شہباز شریف کا یہ فیصلہ پاکستان کی سیاست کے لئے تو بہت ہی نقصان دہ ہے۔۔۔ووٹ کو عزت دو والی ساری لڑائی اپنے منطقی انجام تک نہ پہنچ سکی۔۔۔اس ادھوری لڑائی سے نہ صرف اپنا نقصان ہوا بلکہ پاکستان کو بھی بہت نقصان ہوا اور اسی لڑائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عمران نیازی کو اسلام ٓاباد والی یونیورسٹی میں پہنچنے کا موقع ملا۔

ن لیگ کے سوشل میڈیا والے مجاہدین اپنی جماعت کے اس یوٹرن پر کافی برہم ہیں ۔۔۔ان لوگوں کا غصہ بجا ہے لیکن مسلم لیگ شین اس وقت عمران نیازی والی لڑائی پر زیادہ توجہ دے رہی ہے ۔۔۔ ان کا خیال ہے کہ پہلے عمران نیازی کو اسی فوجی ہتھیار سے زخمی کیا جائے جس کی مدد سے اس نے ن لیگ کے شیر کو زخمی کیا تھا۔۔۔جب شین لیگ والے عمران نیازی سے نمٹ لیں گے تو پھر وہ اپنے اس سوشل میڈیا والے ناراض لوگوں کو بھی راضی کر لیں گے۔

اس وقت بظاہر تو یہی لگ رہا ہے کہ جنرل باجوہ ن لیگ اور پی پی کی حمایت سے اپنا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن ابھی مولانا فضل الرحمن نے اس قانون سازی کی حمایت نہیں کی اس لئے کوئی بھی بات حتمی طور پر نہیں کی جاسکتی۔۔۔یہ لڑائی پہلے دن سے سیاسی لڑائی نہیں تھی۔۔۔عمران نیازی نے جب جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کے لئے اپنا پہلا شاہی فرمان جاری کیا تھا تو کسی بڑی جماعت نے اس پر اعتراض نہیں کیا تھا۔۔۔یہ تو عمران نیازی کی اپنی نالائقی سے معاملہ اتنا الجھ گیا اور طول پکڑ گیا کہ جنرل باجوہ کو ن لیگ اور پی پی سے رجوع بھی کرنا پڑا اور انہیں کچھ رعایتیں بھی دینی پڑیں۔

ن لیگ اور پی پی نے تو اس ایکسٹینشن ڈرامے سے بہت سارے ایسے فائدے حاصل کر لئے ہیں جو کہ عمران نیازی کسی بھی طور پر انہیں دینے کے حق میں نہیں تھا۔

اس قانون سازی میں ایک اہم بات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی ایکسٹینشن کی ہے۔۔۔اس اس عہدے پر فائز جرنیل کو بھی تین سال مزید موج میلہ کرنے کا موقع ملے گا۔۔۔اس عہدے پر عام طور پر ٓارمی کا ایک سینئیر جرنیل ہی ہوتا ہے تو یہ ایک لحاظ سے فوجی رشوت ہے جو کہ موجودہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا کو دی جا رہی ہے کہ وہ اس بل کے حوالے سے جنرل باجوہ کی فوجی امداد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور ان کے جرنیلی مخالفین کو کنٹرول کرنے میں مدد دیں۔

اب یہ فوجی رشوت کس حد تک کام کرتی ہے۔۔۔اس کا پتہ چند دنوں میں لگ جائے گا۔۔۔ابھی تک جنرل باجوہ کو اپنے ساتھی جرنیلوں کا مکمل تعاون حاصل نہیں ہے۔۔۔آرمی ایکٹ کی یہ ترمیم ایسے کسی جرنیل کو پسند نہیں ٓائے گی جو چھ ماہ بعد ٓارمی چیف بننے کا خواب دیکھ رہا تھا۔۔۔اب یہ جرنیل اس حوالے سے کیا رد عمل دیتے ہیں اس کے بارے میں میں اور ٓاپ کچھ نہیں کہہ سکتے کیوں کہ یہ جو کچھ بھی کرتے ہیں اپنے فوجی ڈسپلن کے اندر رہ کر کرتے ہیں۔۔۔اپنی لڑائی کے لئے سیاسی اور عدالتی مہروں کو استعمال کرتے ہیں۔۔۔دیکھنا یہ ہے کہ جسٹس کھوسہ کے جانے کے بعد اب یہ گروپ سیاسی جماعتوں کی طرح جنرل باجوہ کے ہاتھ پر بیعت کر لے گا یا اپنی پٹاری میں سے کوئی اور سانپ چھوڑے گا۔

پاکستان کے عوام کو یہ ساری سیاسی لڑائی اور فوجی لڑائی تماشائی کے طور پر ہی دیکھنی ہے کیونکہ انہوں نے اپنا سیاسی مسقبل جن جماعتوں کے حوالے کر رکھا ہے ان میں زیادہ تر جنرل باجوہ کے سیاسی لشکر میں شامل ہو گئی ہیں۔۔۔ اگر انہیں اپنے شریفوں اور زرداریوں کے اس سیاسی چلن سے شکایت ہے تو پھر ان جماعتوں سے رشتہ توڑیں اور اپنی مدد ٓاپ کے تحت پاکستان کو اس سیاسی اور فوجی قبضہ گروپ سے ٓازاد کروانے کی منصوبہ بندی کریں۔۔۔اگر انہیں جماعتوں کے پیچھے لگے رہیں گےتو اگلے انتخاب میں ووٹ چاہے شیر کو ڈالیں یا تیر کو یا بلے کو وہ نکلے گا جنرل باجوہ کے بکسے میں سے۔

423 views