Search

02-01-20 - جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کے لئے ن لیگ اور پی پی کیوں بے چین ہیں؟کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد

نیا سال شروع ہو چکا ہے۔۔۔کہنے کو یہ نیا سال ہے لیکن پاکستان کے عوام کے لئے یہ اُسی سال کی ایکسٹینشن ہے جس میں قبضہ گروپ نے چار لاکھ فوجیوں والے لشکر کی مدد سے نہتے عوام سے ان کا الیکشن چھینا تھا۔۔۔ نئے سال کے تحفے کے طور پر پٹرول اور بجلی کی قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں ۔۔۔اس تحفے پر عوام کا احتجاج تو خیر کوئی معنی ہی نہیں رکھتا لیکن اپوزیشن کی جماعتیں بھی اس پر شور شرابا نہیں کریں گی کیوں کے وہ سارے اس وقت بلو کے گھر والی لائین میں کھڑے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ بلو ایکسٹینشن کا تحفہ ان کے ہاتھ سے لے لے تا کہ انہیں بھی اسی پیج پر بھنگرا ڈالنے کا موقع مل جائے جہاں پر عمران نیازی اکیلا ہی موجیں کر رہا تھا۔

ایک اچھی خبر یہ ہے کہ گمشدہ وکیل انعام الرحیم کا پتہ چل گیا ہے۔۔۔ میں نے گزشتہ کالم میں ٓاپ سے زکر بھی کیاتھا کہ وہ اس وقت قبضہ گروپ کے شیلٹر ہوم میں ہے۔۔۔اور اب چونکہ ان کی ایک دائر کردہ درخواست جو کہ قبضہ گروپ کے ایجنڈے کے خلاف تھی اسے ہتھوڑا گروپ کے نئے سربراہ نے یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ اس درخواست دہندہ اس وقت اغوا ہے اور وہ اپنی درخواست کی پیروی کے لئے نہیں ٓا سکتا لیکن اس درخواست کو خارج کر دیا گیا تھا۔۔۔اور اسی فیصلے کی بنیاد میں نے یہ بات کی تھی کہ اب چونکہ قبضہ گروپ کا مقصد پورا ہو گیا ہے اس لئے انہیں جلد ہی گھر واپس بھیج دیا جائے گا۔

ٓاج ایسا ہی ہوا اور لاہور ہائی کورٹ کے پنڈی بنچ کے سامنے قبضہ گروپ کے وکیل نے اس بات کا اعتراف کر لیا ہے کہ گمشدہ وکیل انعام الرحیم ان کے پاس موجود ہے اور قبضہ گروپ ان سے تفتیش کر رہا ہے۔۔۔یہاں میں یہ وضاحت کر دوں کہ میڈیا نے اس خبر کی رپورٹ میں بھی ڈنڈی ماری ہے اور رپورٹ یہ کیا گیا ہے کہ گمشدہ وکیل وزارت دفاع کے پاس ہے۔۔۔ وزارت ِ دفاع کا نام لینے کا مقصد لوگوں کو گمراہ کرنا ہے۔

ٓاج سرکاری وکیل کی بات سے یہ بھی ثابت ہو گیا ہے کہ پاکستان میں اتنے طاقتور خفیہ گینگ بھی قبضہ گروپ کی سرپرستی میں کام کر رہے ہیں کہ وہ ایک فوجی کالونی میں دن کے وقت جا کر کسی ملزم کو پکڑنے کو باضابطہ گرفتار کرنے کی بجائے اس بات کو ترجیع دیتے ہیں کہ رات کے اندھیرے میں بندوق کے زور پر واردات کی جائے۔

ہائی کورٹ کے بنچ نے سرکاری وکیل کو ایک موقع اور دیا ہے اور کہا ہے کہ انعام الرحیم کے خلاف جو الزامات ہیں ان کی پوری تفصیل سے عدالت کو ٓاگاہ کیا جائے۔۔۔ بہتر تو یہ ہوگا کہ عدالت انعام الرحیم کو اس قبضہ گروپ سے چھڑوانے کے ساتھ ساتھ ان کے کارندوں کو اس جرم پر سزا بھی دے کہ انہوں نے ریٹائڑڈ کرنل انعام الرحیم کو چھاپہ مار انداز میں کیوں گرفتار کیا اور ان کی گرفتاری کو دو ہفتے تک پوشیدہ کیوں رکھا گیا۔

اس وقت جنرل باجوہ جس بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اس سے تو ایسا لگتا ہے کہ ان کی سانس اتنی پھول رہی ہے کہ انہیں اپنا فنش لائن تک پہنچنا دشوار لگ رہا ہے۔۔۔ انہوں نے سپریم کورٹ میں بھی ریویو پٹیشن فائل کی ہوئی ہے اور ٓاج اس پٹیشن کے حوالے سے اسٹے ٓارڈر اور لارجر بنچ کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔۔۔یہ دونوں مطالبے انہیں اپنی درخواست میں پہلے ہی شامل کر دینے چاہئے تھے لیکن ان کے قانونی مشیر اس بار بھی ان کے ساتھ وہی ڈرامہ کر رہے ہیں جو اکژ پاکستان کی سڑکوں پر نظر ٓاتا ہےکہ کار خراب ہونے پر جب کار کا مالک مکینک کو بلواتا ہے تو مکینک خود تو مزے سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ جاتا ہےاور کار والے کو بیوی بچوں سمیت کار کودھکا لگانے میں مصروف کر دیتا ہے۔۔۔جنرل باجوہ کے ساتھ بھی ان دنوں یہی ہو رہا ہے۔۔۔ نالائق مکینک ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر تسبیح گھما رہا ہے اور جنرل باجوہ بیچارہ اپنی ایکسٹینشن والی خراب کار کو نان اسٹاپ دھکا لگا رہا ہے لیکن گاڑی نہ تو اسٹارٹ ہونے کا نام لے رہی ہے اور نہ ہی ٓاگے جا رہی ہے۔

اب ٓاپ یقیننا حیران ہوں گے کہ اتنے بڑے جرنیلی دھکے کے باوجود یہ گاڑی ٓاگے کیوں نہیں جا رہی۔۔۔تو اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کا میڈیا ٓاپ کو صرف گاڑی کا وہ پچھلا حصہ دکھا رہا ہے جہاں پر جنرل باجوہ انکے فوجی ہم نوا اور چند بڑے فوجی سیاست دان مشقت میں مصروف ہیں لیکن میڈیا کا کیمرہ ٓاپ کو یہ نہیں دکھا رہا کہ اس ایکسٹینشن والی گاڑی کو کچھ لوگ مخالف سمت میں بھی دھکا لگا رہے ہیں۔۔۔میڈیا کی اس نامکمل کوریج کی وجہ سے ٓاپ لوگوں کو اندازہ نہیں ہو رہا کہ اتنے دھکوں کے باوجود گاڑی جم کر کیوں کھڑی ہے۔

جنرل باجوہ نے اس وقت ایکسٹینشن کے لئے سر دھڑ کی بازی لگائی ہوئی ہے۔۔۔انہیں اگر اپنی کامیابی کا یقین ہوتا تو وہ عدالت کے فیصلے کے بعد ریویو والی کھیچل نہ کرتے۔۔۔اب تو انہوں نے ایک نیا محاذ کھول دیا ہے اور کابینہ سے ٓارمی ایکٹ میں ایک ترمیم بھی منظور کروا لی ہے جس کے تحت وزیر اعظم کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ وہ ٓارمی چیف کی نوکری میں توسیع کر سکے۔۔۔اب اس ایکٹ کو پارلیمنٹ سے منظور کروانے کے لئے قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس بھی ہنگامی طور پر طلب کر لیا گیا ہے۔

ن لیگ اور پی پی اس ایکٹ کی مخالفت نہیں کریں گے کیوں کہ ان کے لئے فوج کے ان جرنیلوں کی کوئی اہمیت نہیں جو کہ جنرل باجوہ کو گھر بھیجنا چاہتے ہیں۔۔۔ان سیاسی جماعتوں کا خیال ہے کہ چونکہ فوجی چھڑی اس وقت جنرل باجوہ کے ہاتھ میں ہے اس لئے سیاسی بقا کے لئے بہتر یہی ہے کہ جنرل باجوہ کی ہر جائز ناجائز فرمائش کو پورا کر کے عمران نیازی کے انتقامی شکنجے سے بچا جائے۔

جنرل باجوہ چونکہ شطرنج کے کھلاڑی ہیں اس لئے بیک وقت بہت ساری چالیں بھی چل رہے ہیں اور کسی ایک مہرے پر اعتماد نہیں کر رہے۔۔۔ان کی انہی چالوں سے یہ بات جھلک رہی ہے کہ انہیں اب بھی مات کا اندیشہ ہے۔۔۔۔اگر حالات ان کے قابو میں ہوتے تو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد انہیں فوجی سیاسی رہنماوں کے ساتھ مل کر پارلیمنٹ میں اپنے لئے قانون سازی کروانی چاہیئے تھی۔

پروین شاکر کا ایک شعر ہے

یک لخت گرا ہے تو جڑیں تک نکل ٓائیں

ٓ

ٓاندھی میں بھی جس پیڑ کو ہلتے نہیں دیکھا

میری زاتی رائے میں تو جنرل باجوہ کی فوجی جڑیں بالکل کمزور ہو چکی ہیں۔۔۔مولانا فضل الرحمن تیز ہوائیں لے کر اسلام ٓاباد تک پہنچ گئے تھے لیکن ن لیگ اور پی پی نے ان تیز ہواوں کو ٓاندھی بننے سے روک دیا ورنہ جنرل باجوہ اور ان کے نکے کا بوٹا کب کا زمین سے اکھڑ چکا ہوتا۔۔۔اب چونکہ یہ سارا کام انہیں فرشتوں کو کرنا ہے جو کہ جنرل باجوہ کی گاڑی کو پیچھے کی طرف دھکیل رہے ہیں تو ہمیں ان کی کاروائی کا نتیجہ اسی وقت پتہ چلے گا جب یہ گاڑی پنڈی سے گکھڑ منڈی پہنچ جائے گی۔۔۔ فوجی میڈیا اس دوران نہ صرف جنرل باجوہ کے حریفوں کے دھکوں کو ٓاپ کی نظروں سے اوجھل رکھے گا بلکہ سارا وقت مجھے اور ٓاپ سب کو یہی بتاتا رہے گا کہ فتح ہمارا مقدر ہے ۔۔۔ہم ٓاخری سپاہی اور ٓاخری گولی تک لڑتے رہیں گے۔


344 views1 comment