Search

کیا یو ٹرن نیازی کشمیریوں کی کوئی مدد کر سکتا ہے؟ کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد 05/02/2020


ٓاج پاکستان کی وہ فوجی حکومت بھی کشمیریوں کے ساتھ یک جہتی کا دن منا رہی ہے جس کے سیاسی نمائندے نے امریکہ میں کشمیر کا سودا کرنے کے بعد پاکستان واپس ٓاکر بھنگڑے ڈالے تھے اور کہا تھا کہ اس نے ایک اور ورلڈ کپ جیت لیا ہے۔۔۔اخباری خبر کے مطابق پاکستان میں کشمیریوں کے ساتھ یک جہتی کے لئے صبح سائرن بھی بجائے گئے اور ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی۔۔۔اس موقع پر کشمیری ورلڈ کپ جیتنے والے نے برائے نام ٓازاد کشمیر کی اسمبلی میں جانے کی زحمت بھی کی اور اس کا مقصد کوئی کشمیریوں کے ساتھ کسی ہمدردی کا اظہار نہیں تھا بلکہ وہ صرف اس لئے گیا تھا کہ یہ اس کے لئے ایک تقریری موقعہ تھا اور یہ تو اب ساری دنیا جان چکی ہے کہ اسے تقریریں کرنے کا اتنا شوق ہے کہ جب اقوام متحدہ میں ہال خالی تھا اور صرف اس کے نو رتن ہی وہاں پر تالیاں بجانے کے لئے موجود تھے تو یہ وہاں بھی خالی کرسیوں سے خطاب کرتا رہا تھا۔

ٓازاد کشمیراسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدرنے پاکستانی فوجی نمائندے کی توجہ اس طرف دلوائی کہ پاکستان کو اس وقت جارحانہ خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ ملک کے اندر بھی سیاسی اتحاد ہو تا کہ پوری دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ پاکستان کشمیر کی ٓازادی کے لئے متحد ہے۔

وزیر اعظم ٓازاد کشمیر کی تقریر کے جواب میں انہیں کوئی تسلی دینے کی بجائے عمران نیازی نے وہاں بھی اپنا راگ کرپشن شروع کر دیا جس کا مطلب یہ تھا کہ کشمیر جائے بھاڑ میں۔۔۔میں نے مخالف سیاسی جماعتوں کو نیب اور ایف ٓائی کی مدد سے جیلوں میں بند رکھنے والا وہ مشن جاری رکھنا ہے جس کے لئے مجھے جنرل باجوہ نے وزیر اعظم والی نوکری دی ہے۔۔۔مزے کی بات یہ ہے کہ جنرل باجوہ جس نے عمران نیازی کو یہ ٹھیکہ دیا تھا وہ خود تو اس معاملے میں پیچھے ہٹ گئے ہیں اور ان دنوں اپوزیشن کی جماعتوں کے ساتھ اس معاہدے کی تفصیلات طے کر رہے ہیں جس کے مطابق جب عمران نیازی کی کرسی پر انہیں بٹھایا جائے گا تو یہ لوگ جرنیلی ایجنڈے کے لئے کیا کچھ کریں گے۔

بہرحال یہ پہلا پانچ فروری ہے جس دن کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے قبضہ گروپ کی پالیسی مکمل طور پر بے نقاب ہو چکی ہے اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے لگنے والے کشمیریوں کو بھی اچھی طرح پتہ چل گیا ہے کہ پاکستان کی موجودہ فوجی حکومت کشمیر کے ساتھ کتنی مخلص ہے اور وہ اسے کس حد اپنی شہ رگ کا درجہ دیتی ہیں۔۔۔ٓاج ہی قبضہ گروپ کے فن کار سیل نے کشمیر کے لئے نیا گانا بھی ریلیز کر دیا ہے۔۔۔اس گانے سے کشمیر کو تو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا البتہ اس گانے کو لکھنے والے اور گانے والوں کو ہو سکتا ہے کہ شہرت کے علاوہ کافی دولت بھی مل جائے اور ایک ٓادھ تمغہ بھی دے دیا جائے۔

موجودہ صورتحال میں کشمیریوں کو اپنی مدد ٓاپ کے تحت ہی کچھ کرنا ہوگا ۔۔۔ان کی ایک بڑی تعداد کشمیر سے باہر موجود ہے اور بالخصوص انگلینڈ میں تو ان کی ٓابادی بھی کافی ہے اور ان کی یہاں کے سیاسی نظام میں نمائندگی بھی ہے۔۔۔یہ کشمیری پاکستان کی حکومت کے ٓادھے گھنٹے والے ہفتہ واری احتجاجی پروگرام پر انحصار کرنے کی بجائے اپنی اس جدوجہد کو جو وہ کافی عرصے سے کر بھی رہے ہیں۔۔۔اسے اور تیز کرٰیں اور اس وقت ہندوستان میں اندرونی صورتحال کی وجہ سے مودی سرکار پر جو دباو ہے اس کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔

جہاں تک عمران نیازی کی بات ہے تو وہ اس قابل ہی نہیں ہے کہ وہ اتنے بڑے مسائل حل کر سکے۔۔۔اس نے تو اچھے خاصے چلتے ہوئے پاکستان کا بیڑہ غرق کر کر کے اسے کنجر خانوں اور لنگر خانوں میں تبدیل کر دیا ہے۔

ویسے بھی اب اس کا چل چلاو ہے اور جلد ہی نئے فوجی ٹھیکیدار پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر ابھرنے والے ہیں لیکن چونکہ یہ نئے فن کار بھی قبضہ گروپ کے ٓاشیر باد سے ہی اپنی نئی اننگ کا ٓاغاز کریں گے تو اس لئے کشمیر کے حوالے سے انہیں بھی ڈراموں اور گانوں سے ٓاگے جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔

پاکستان کا قبضہ گروپ بھی ان دنوں اپنے اندرونی مسائل کا شکار ہے اور ان کی ساری توجہ جرنیلی اتحاد کو قائم رکھنے پر ہے اس لئے ان کے پاس اس بات کے لئے ٹائم نہیں ہے کہ وہ عملی طور پر کشمیریوں کی مدد کے لئے میدان میں آئیں۔۔۔ویسے تو وہ ان دنوں بھی نئے نئے اسلامی میزائل بنانے میں مصروف ہیں لیکن پاکستان کے ایٹمی اسلحے کی طرح یہ سب بھی اس طرح کے نمائشی ہتھیار ہیں جس طرح کے ہتھیار امیر جاگیرداروں نے اپنے مزارعوں کو پر رعب ڈالنے کے لئے اپنے ڈیروں کی دیواروں پر سجائے ہوئے ہوتے ہیں۔

کرونا وائرس والی ٓافت ہی دیکھ لیں۔۔۔دنیا بھر کی حکومتوں نے فوری طور پر چین میں اپنے پھنسے ہوئے شہریوں کی مدد کی لیکن پاکستان کی فوجی حکومت نے انہیں مدد دینے کی بجائے صبر شکر کرنے کا مشورہ دیا۔۔۔میں نے اپنے ایک فوجی دوست سے پوچھا بھی ہے کہ وہ والے فوجی کہاں ہیں جو سیلاب کے دوران اور قدرتی ٓافات کے دوران کشتیاں اور ہیلی کاپٹر لے کر لوگوں کی مدد کے لئے ٓاتے ہیں اور پھر اس ساری کاروائی کی میڈیا پر تشہیری مہم بھی چلاتے ہیں۔۔۔ان لوگوں کو چاہئے کہ ان کے پاس اتنے جہاز بھی ہیں۔۔۔اور انہیں پٹرول کی قلت یا مہنگائی کا بھی سامنا نہیں ہے اور ان میں شہادت کا جذبہ بھی ہر وقت جوان رہتا ہے۔۔۔تو یہ لوگ چین جائیں اور جان ہتھیلی پر رکھ کر پاکستانی طالب علموں کو ملک واپس لے کر ٓائیں اور اپنے فوجی ہسپتالوں میں ان کے علاج معالجے کا بندوبست کریں۔

میرے اس سوال پر میرے فوجی دوست نے پرانی دوستی کا لحاظ کئے بغیر مجھے شٹ اپ کہہ کر میرا فون بند کر دیا ۔

بہرحال اب اس فوجی دوست سے تو میں اس وقت نمٹوں گا جب یہ یوکے کے دورے پر ٓائے گا اور اسے میری ضرورت محسوس ہو گی لیکن بات کا مقصد یہ ہے کہ اس وقت نیم فوجی حکومت اور فوجی حکومت دونوں کو اپنی اپنی بقا کا مسئلہ ہے۔۔۔کسی کو اتحادی تنگ کر رہے ہیں تو کسی کو وہ بندہ تنگ کر رہا ہے جس کے ہاتھ میں وہ قلم ہے جس سے ایکسٹینشن کا نیا حکم نامہ جاری ہونا ہے۔۔۔پارلیمنٹ سے قانون پاس ہو چکا ہے لیکن جنرل باجوہ کے سر پر لٹکی ہوئی تلوار اسی طرح لٹک رہی ہے۔

عمران نیازی ایک سے زیادہ بار مغربی ممالک کے پریس کو بتا چکا ہے کہ وہ چین میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر ٓاواز اس لئے نہیں اٹھاتا کیوں کہ چین پاکستان کی بہت زیادہ مالی مدد کرتا ہے۔۔۔اس جملے میں عمران نیازی اور اس کے سرپرستوں کی پوری فلاسفی جھلک رہی ہے۔۔۔ کشمیری ڈریں اس وقت سے جب ہندوستان نے عمران نیازی کی صلح صفائی والی بات مان لی اور اس کی مالی امداد بھی شروع کر دی تو پھر پاکستان کی فوجی حکومت نہ صرف کشمیر کو اپنی شہ رگ کہنے والا راگ الاپنا بھی بند کر دے گی بلکہ ہندوستان کے لئے بھی وہی کام کرے گی جو قبضہ گروپ کے مجاہدین افغانستان میں امریکہ کے لئے کر کے ڈالر کماتے ہیں۔

اس لئے میرے کشمیری بھائی پاکستان کی فوجی حکومت کو جارحانہ خارجہ پالیسی یا ان پٹاخوں کے استعمال کا مشورہ نہ دیں جو انہوں نے شو پیس کے طور پر جی ایچ کیو میں سجا رکھے ہیں۔۔۔جس طرح ٓاخرت کی جنت کے لئے ہر مسلمان کو خود نیک عمل کرنے پڑتے ہیں اسی طرح کشمیر کی جنت حاصل کرنے کے لئے بھی ان کشمیریوں کو خود ہی ایسے عمل کرنے ہوں گے کہ انہیں اپنی دنیاوی جنت میں ہر طرح کی ٓازادی میسر ٓا جائے۔

596 views