Search

کیا قبضہ گروپ آر ایم ٹی وی لندن کو بلاک کروا سکتا ہے؟۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد

Updated: Jul 20


کھریاں کھریاں کے ایک ناظر نے پوچھا ہے کہ کیا قبضہ گروپ پاکستان میں اس چینل کو بند کروا سکتا ہے ؟ اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ جہاں تک تعلق ہے ہمارے چینل کو پاکستان میں بلاک کرنے کا۔۔۔تو فی الحال یہ ممکن نہیں۔۔۔ہمارا چینل پاکستان میں لوگ یو ٹیوب اور فیسبک پر دیکھتے ہیں۔۔۔اسے بلاک کرنے کے ضروری ہے کہ۔۔۔یا تو پاکستانی قبضہ گروپ کے ہاتھ اتنے لمبے ہوں جو کہ ان سوشل میڈیا کمپنیوں کے مالکان تک پہنچ سکیں اور ان سے اپنا فرمائیشی پروگرام اسی طرح پورا کروا لیں جس طرح یہ پاکستانی میڈیا مالکان سے ان دنوں کروا رہے ہیں۔۔۔لیکن ان کے ہاتھ کافی لمبے ہونے کے باوجود ابھی اس حد تک لمبے نہیں ہوئے کہ یہ ان سوشل میڈیا سائٹس سے ہمیں لاپتہ کر سکیں۔۔۔ ان لوگوں نے اپنے میڈیا بریگیڈ کے زریعے بے شمار شکائیتیں کی ہیں لیکن اب تک ان کی یہ جرنیلی دال گلنے میں ناکام رہی ہے۔۔۔کچھ عرصہ پہلے انہوں نے ٹوئٹر پر بھی شکایات کیں۔۔۔لیکن ٹوئٹر کی انتظامیہ نے ان کی شکایات کو بے بنیاد قرار دے کر ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا تھا۔ٹوئٹر کی انتظامیہ کا جواب ٓاپ اسکرین پر دیکھ بھی سکتے ہیں۔



ہماری خوش قسمتی یہ بھی ہے کہ یو ٹیوب اور فیس بک پر نہ تو ان کے کسی تھری اسٹار جرنیل کا قبضہ ہے اور نہ ہی ان ڈالر دینے والوں کا جن کی امداد سے ان کے گلشن کا کاروبار ستر سال سے پھول پھل رہا ہے۔

ان کے پاس ہمارے چینل کو بند کرنے کے لئے صرف ایک آپشن ہے کہ یہ پاکستان میں یو ٹیوب پر ایک بار پھر پابندی لگا دیں۔۔۔لیکن ایسا کرنے میں ان کا اپنا بہت زیادہ نقصان ہوگا کیونکہ حقیقت ٹی وی جیسے سینکڑوں چینل ان کے بوٹ پالش کرنے کے لئے یو ٹیوب کا استعمال کر رہے ہیں۔۔۔پابندی کی صورت میں ان کے اپنے میڈیا والے مجاہد زیادہ شہید ہو جائیں گے۔۔۔اس لئے یہ ٓاپشن بھی ان کے لئے موزوں نہیں ہے۔۔۔ایسا کرنے سے وہ ہزاروں نوجوان بیروزگار ہو جائیں گے جو کہ ٹوئٹر والے جرنیل کے دور میں میڈیا بریگیڈ میں بھرتی ہوئے تھے

۔

رہی بات ان کے بین القوامی کنکشنز کی تو وہ اپنی جگہ موجود ہیں لیکن وہ بھی اس حوالے سے ان کی کوئی مدد نہیں کریں گے۔۔۔ویسے بھی وہ ان کے ٓاقا ہیں ۔۔۔سپریم کورٹ کے ہتھوڑا گروپ یا میڈیا والے حوالداروں کی طرح ان کے ملازم نہیں ہیں کہ ان کے احکامات پر چوں چراں کئے بغیر ان پر عمل کر دیں۔

پچھلے دنوں انہوں نے باجوہ ڈاکٹرئن کے مطابق ایک منصوبہ بنایا تھا لیکن وہ برطانیہ کے قانون نافذکرنے والے ادارے نے نہ صرف اس منصوبے کو خفیہ نہیں رہنے دیا بلکہ اس کی اطلاع بھی مجھے دی اور میرے لئے کافی سارے انتظامات بھی کر دیئے۔


بہرحال یہ لوگ اپنی وارداتوں میں مصروف رہیں گے ۔۔۔اور ہمیں اپنا کام کرنا ہے۔۔۔جب تک اللہ تعالی کا فضل شاملِ حال رہے گا ۔۔۔۔روشنی کا سفر جاری رہے گا۔



ایک اور سوال میں یہ پوچھا گیا ہے کہ عوام قبضہ گروپ کے خلاف تحریک کیسے چلا سکتے ہیں۔۔۔ان کے لئے تو موجودہ حالات میں یہ کام بہت مشکل ہے۔۔۔اور ساتھ ہی ان صاحب نے یہ بھی پوچھا ہے کہ قبضہ گروپ کے پاس پاکستان کے سارے وسائل ہیں تو پھر یہ پاکستان اور اس کے سیاسی ڈھانچے کو برباد کیوں کر رہا ہے۔


جہاں تک بات اس وقت عوامی تحریک چلانے کی ہے تو میں بھی ان صاحب کی بات سے کافی حد تک متفق ہوں۔۔۔موجودہ حالات میں عوام کے لئے تحریک چلانا مشکل ہے کیونکہ ہر کوئی دوسرے کی طرف دیکھ رہا ہے کہ وہ نکلے گا تو میں نکلوں گا۔

لیکن پاکستان کے لوگوں کے لئے اس کے علاوہ اور کوئی راستہ بھی نہیں ہے۔۔۔یہ وہ پہاڑ ہے جسے عوام نے اپنی مدد ٓاپ کے تحت سر کرنا ہے۔۔۔پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں قبضہ گروپ کے ساتھ جیو اور جینے دو والی پالیسی کے تحت کام کرنا چاہتی ہیں۔۔۔ووٹ بنک کم از کم دو بڑے صوبوں میں انہی جماعتوں کے پاس ہے۔۔۔ان کی اس بوٹ پالش پالیسی سے زیادہ نقصان تو عوام کو ہو رہا ہے اس لئے اگر عوام چاہتی ہے کہ وہ چکی میں مزید نہ پسے تو پھر اسے گھروں سے باہر ٓانا ہوگا۔


ہرشخص کو اپنی زات پر اعتماد کرتے ہوئے یہ جدوجہد شروع کرنی ہوگی۔۔۔اپنے ارد گرد والے عام لوگوں کو یہ شعور دینا ہوگا کہ یہ ہماری مشترکہ جدوجہد ہے اور اس میں کامیابی کا پھل ہماری نسل کو بھی ملے گا اور ہم سے بعد میں ٓانے والے بھی اس سے فیضیاب ہوں گے۔۔۔اس جدوجہد میں انفرادی قربانیاں بھی دینی ہوں گی۔۔۔اگر پنجاب کے دو تین بڑے شہروں میں لوگ اس جذبے کے تحت باہر ٓا جائیں تو یقین مانیں اس منزل کے حصول کے لئے اس سے کہیں کم نقصان ہو گا جو ان شہروں کے لوگوں نے کورونا کی وجہ سے برداشت کیا ہے۔۔۔پورے ملک کی بات میں اس لئے نہیں کر رہا کیوں کہ چھوٹے صوبوں کے لوگ بہت پہلے سے یہ کام کر رہے ہیں ۔۔۔اب فیصلہ کن مرحلے کےلئے ضروری ہےکہ پنجاب کے بڑے شہروں کے لوگ اس کام کے لئے آگے ٓائیں۔



رہی بات قبضہ گروپ کی پاکستان اور پاکستان کے سیاسی نظام کو نقصان پہنچانے کی ۔۔۔تو یہ ان کی اپنی بقا کے لئے ضروری ہے۔۔۔اگر پاکستان کی سیاسی جماعتیں مضبوط ہو جائیں گی تو وہ ان کےلئے خطرہ بن سکتی ہیں۔۔۔اسی پالیسی کے تحت اس گروپ نے زوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو جیسے عوامی لیڈروں کو راستے سے ہٹا دیا اور پچھلے کئی سالوں سے اس مشن کے تحت نواز شریف کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔

انہیں اپنی جرنیلی ریاست کو چلانے کے لئے سب کچھ مل رہا ہے لیکن اس سرمائے کی سپلائی کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان ہر وقت حالتِ جنگ میں رہے۔۔۔سیاست میں عمران نیازی جیسے کردار متعارف کروائے جائیں جو کہ اس قبضہ گروپ کے راستے میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالیں اور انہیں روکھی سوکھی کھانے پر مجبور کرنے کی بجائے انہیں چوپڑیاں اور وہ بھی دو دو پیش کریں۔

1,184 views