Search

کیا عمران نیازی مریم نواز کو لندن جانے سے روک سکتا ہے؟ کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد 07/02/2020


ٓاج کھریاں کھریاں میں اس نئے میچ کی بات کریں گے جو کہ جنرل باجوہ نے بڑی مہارت سے عمران نیازی اور ن لیگ کے درمیان شروع کروا دیا ہے۔۔۔جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کی وجہ سے سپریم کورٹ کی کاروائی میں قبضہ گروپ کی جو جگ ہنسائی ہوئی۔۔۔پھر پارلیمنٹ میں ایکسٹینشن والے قانون کی جس طرح سیاسی جماعتوں سے فوجی ڈنڈے کے زور پر منظوری لی گئی اور جس طرح عدالتی فیصلے سے غداری والا سرٹیفیکیٹ پانے والے پرویز مشرف کے حق میں قبضہ گروپ نے خاندانی منصوبہ بندی والے بیان دئیے۔۔۔ جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کے لئے جس طرح ایک تھری اسٹار جنرل کی بندوق کے نوک پر قربانی کی گئی ۔

ان سب واقعات سے پاکستان کے میڈیا میں اور گلی محلوں میں قبضہ گروپ کا کردار بہت زیادہ زیر بحث ٓا رہا تھا اور دانشوروں کی طرح عام لوگوں کو بھی سمجھ ٓا رہی تھی کہ پاکستان کی معاشی بدحالی کا زمہ دار کونسے بدمعاش ہیں اور جس دودھ کےحوالے سے بھٹی نامی دو نمبر صحافی کہا کرتا تھا کہ نواز شریف اس کے بچوں کا دودھ پی گیا ہے وہ اصل میں نواز شریف نہیں تھا بلکہ وہ دودھ قبضہ گروپ نے پیا ہے اور صرف ملائی نواز شریف اور دوسرے سیاستدانوں کے منہ پر لگا کر عمران نیازی کو اس ڈیوٹی پر لگا دیا ہے کہ وہ ان کے خلاف کرپش کرپشن کی چیخ وپکار شروع کر دے۔

جنرل باجوہ نے اسی فوجی مشہوری کو کم کرنے کے لئے ملک میں سیاسی میچ شروع کروا دئیے ہیں۔۔۔سب سے پہلے فوجی کھاد سے پھلنے پھولنے والی ایم کیو ایم کو یہ ڈیوٹی دی گئی کہ وہ اپنا روائیتی رنڈی رونا شروع کر کے حکومت سے لڑائی جھگڑا شروع کریں۔۔۔ایم کیو ایم کے وزیر خالد مقبول صدیقی نے اس فوجی مشورے پر فورا عمل کیا اور وزارت چھوڑ کر اسلام ٓاباد سے ہجرت کر کے کراچی چلے گئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عمران نیازی کو اپنی توجہ اپنے کرپشن والے ڈرامے سے کم کر کے ایم کیو ایم کی طرف کرنی پڑی اور اس صلح صفائی والے ڈرامے کو بھی سیاسی حلقوں نے اور پاکستانی عوام نے بڑے شوق سے دیکھا اور ان کی توجہ جنرل باجوہ اور اور ان کے گینگ کی حالیہ کاروائیوں سے سیاسی جوڑ توڑ کی طرف چلی گئی۔

اسی طرح گجرات کے چوہدریوں نے بھی فوج کے ہراول دستے کا کردار ادا کرتے ہوئے ایسی سرگرمیاں شروع کر دیں جن سے عمران نیازی کے لئے سیاسی پریشانیوں میں اتنا زیادہ اضافہ ہو گیا کہ نیو مدینہ میں ایسی افواہیں پھیلنی شروع ہو گئی تھیں کہ عمران نیازی نے سکون کے لئے قبر والا جومشورہ عوام کو دیا تھا وہ اس پر خود بھی سنجیدگی سے غور کر رہا ہے لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ اس نے حوروں والے ٹیکے لگانے والے ڈاکٹر سے کوئی اور ڈوز لے لی ہے جس سے اسے اپنے اتحادی سیاسی حریف کی بجائے تابعدار مرید نظر ٓا رہے ہیں۔۔۔اسی ٹیکے کا نتیجہ ہے کہ اس نے جہانگیر ترین کو بھی سائیڈ لائین کر دیا ہے اور ایسے پہلوانوں کو چوہدریوں سے ہتھ جوڑی کے لئے میدان میں اتارا ہے جو کہ چوہدری بردران کا ایک دھوبی پٹرا بھی برداشت نہیں کر سکیں گے۔

بہرحال بات میں نے شروع کی تھی ایک نئے میچ کی ۔۔۔یہ میچ مریم نواز کے لندن جانے کے حوالے سے شروع ہوا ہے۔۔۔اخباری اطلاعات کے مطابق میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ وہ اپنا علاج اس وقت تک نہیں کروائیں گے جب تک کہ مریم ان کے پاس تیمارداری کے لئے لندن نہیں ٓا جاتی۔

عمران نیازی اور اس کے چیلوں نے حسب عادت مینگنیوں والا کام شروع کر دیا ہے اور اس کا نام ای سی ایل سے ہٹانے سے انکار بھی کر دیا ہے۔

عمران نیازی اس حوالے سے ہر طرح کی مینگینیاں ڈالنے کی کوشش کرے گا لیکن ظاہر ہے یہ اس سے زیادہ مینگینیاں تو نہیں ڈال سکتا جو اس نے بیمار نواز شریف کے علاج کے لئے لندن جانے کے موقع پر ڈالی تھیں لیکن اس کے باوجود یہ میاں نواز شریف کے جہاز کو حسرت سے دیکھتا رہا اور جہاز لندن کی طرف پرواز کر گیا تھا۔

عمران نیازی اور اس کے نو رتن جتنی مرضی بڑھکیں مار لیں ۔۔۔ہونا اس بار بھی وہی ہے جو پنڈی والا قبضہ گروپ چاہے گا۔۔۔ پاکستان کے سیاسی حکمران سرکس کے جانوروں کی طرح ہوتے ہیں جو کہ اتنے ہی کرتب دکھا سکتے ہیں جن کے لئے انہیں ٹرینڈ کیا جاتا ہے۔۔۔عمران نیازی بھی انہی کا سدھایا ہوا شیرو ہے۔۔۔اس لئے یہ بھی وہی کچھ کر سکتا ہے جس کی اسے تربیت دی گئی ہے۔۔۔اگر اس نے اسکرپٹ سے ہٹنے کی کوشش کی تو پھر اس فوجی سرکس کا ٹرینر ۔۔لکی ایرانی سرکس والے ٹرینر کی طرح ہاتھ میں صرف چھڑی نہیں رکھتا بلکہ اس کے پاس اور بھی خطرناک ہتھیار ہوتے ہیں۔

بہرحال اس نئے فوجی ڈرامے کو بھی نواز شریف کی روانگی والے ڈرامے کی طرح تھوڑا لمبا کیا جائے گا تا کہ پاکستان کے سیاسی تماشائی پوری طرح اس ڈرامے کے عدالتی اور حکومتی اتار چڑھاو میں کھو جائیں اور انہیں یہ یاد بھی نہ رہے کہ جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کیسے ہوئی۔۔۔پرویز مشرف کو سزا دینے والی عدالت کا کیا حشر ہوا اور کس کے کہنے پر ہوا۔۔۔کشمیر کے حوالے سے ترانے گانے والے لشکر کی کنٹرول لائین پر کارکردگی کیسی ہے۔

میری زاتی رائے میں تو مریم نواز کو جانے کی اجازت مل جائے گی کیونکہ اب جنرل باجوہ نے اپنی نوکری کو عمرانی شکنجے سے ٓازاد کروا لیا ہے ۔۔۔اب انہیں عمران نیازی کے کسی نوٹیفیکیشن کی ضرورت بھی ںہیں رہی۔۔۔ملک کی دونوں بڑی جماعتیں ان کے ساتھ ایک پیج پر ٓا چکی ہیں۔۔۔اس لئے وہ مریم نواز شریف کی روانگی میں ہر طرح کی سہولت دیں گے تا کہ بیمار نواز شریف وطن واپس ٓانے کی بجائے لندن ہی میں رہے اور اس کی جگہ شہباز شریف وطن واپس ٓا کر فوجی سیاست کا بازار گرم کرے اور جنرل باجوہ اور ان کے قبضہ گروپ کے لئے جو معاشی مشکلات پیدا ہو گئیں ہیں۔۔۔انہیں بھی کم کرے اور پنجاب کے صوبے میں جہاں پر جنرل کرنل بے غیرت کے نعرے لگ رہے ہیں وہاں پر ایسی فضا پیدا کرے جس میں لوگ قبضہ گروپ سے پہلے والی محبت اگر نہ بھی کریں تو کم از کم جنرل کرنل بے غیرت اور یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے۔۔۔اس طرح کے نعرے لگانا چھوڑ دیں۔

ایک اور اہم وجہ یہ بھی ہے جس کے سبب جنرل باجوہ کو مریم نواز کو جانے کی اجازت دلوانی پڑے گی اور وہ وجہ ہے طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان کا فرار۔۔۔ احسان اللہ احسان جسے اس کی اخباری سرگرمیوں کی وجہ سے بعض لوگ طالبان کا جنرل ٓاصف غفور بھی کہتے ہیں وہ فوجی مہمان خانے سے فرار ہو کر اپنے طالبانستان پہنچ گیا ہے۔

احسان اللہ احسان نے فوجی مہمان خانے سے اپنے فرار کی تصدیق ایک ویڈیو پیغام میں بھی کر دی ہے لیکن اس کے فوجی میزبانوں نے ابھی تک اس خبر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ وہ پاکستان سے فرار ہونے میں کیسے کامیاب ہوا۔

پاکستان کی سیاسی حکومت جو کہ مریم نواز کے جانے پر تو شور شرابا کر رہی ہے اور احتساب کے عمل کو پورا کرنے کی بات کر رہی ہے وہ بھی اس قومی مجرم کے فرار پر چپ ہے اور ابھی تک عمران نیازی نے جو کہ سیاسی مخالفین کے ملک سے باہر علاج کے راستے میں روڑے اٹکانے کے لئے فورا کابینہ کی زیلی کمیٹیاں بنانے کا ماہر ہے اس نے ابھی تک کابینہ کی ایسی کوئی ایسی کمیٹی نہیں بنائی جو اس فرار کی تحقیقات کرے جس میں ایک ایسا مجرم فرار ہوا ہے جس کا ٓارمی پبلک اسکول میں والے سانحہ میں بھی ہاتھ ہے۔

میری زاتی رائے میں تو جو حکومت احسان اللہ احسان جیسے مجرموں کو سزا دینے کی بجائے انہیں سرکاری مہمان خانے میں رکھتی ہے اور پھر اسے ملک سے فرار ہونے سے بھی نہیں روک سکتی اسے اس بات کا بھی حق نہیں ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو علاج کے لئے جانے سے روکنے کے لئے ریاستی اداروں کا غیر قانونی استعمال کرے۔

جنرل باجوہ بھی اس وقت یہی چاہیں گے کہ ن لیگ کا شیر جو اس وقت ان کے ساتھ ایک ہی پنجرے میں جس پیار محبت سے رہ رہا ہے وہ اسی پیار محبت سے رہے اور انہیں پاکستان پر مزید تین سال تک سکون سے حکومت کرنے دے۔۔۔اس لئے وہ عمران نیازی کے شور شرابے کو کچھ دن تک برداشت کرنے کے بعد اپنی جادوئی چھڑی کا استعمال کریں گے اور عدالتی ہتھوڑا گروپ بنی گالہ کی پرچی کو ردی کی ٹوکری میں پھینکتے ہوئے وہی فیصلہ سنائے گا جس کا واٹس ایپ میسیج راولپنڈی سے ٓائے گا ۔

1,359 views