Search

کیا عمران نیازی اسمبلیاں توڑنے کی گستاخی کر سکتا ہے؟۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد 21/01/2020


جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کے لئے پارلیمنٹ سے قانون سازی ہو جانے کے بعد عمران نیازی اینڈ کمپنی کو اپنا حال اور مستقبل کافی تاریک نظر ٓا رہا ہے۔۔۔ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے جنرل باجوہ کو وہ ساری سہولیات نہ صرف دینے کا وعدہ کر لیا ہے جو کہ عمران نیازی کی طرف سے جنرل باجوہ اور ان کے قریبی جرنیلوں کو حاصل تھیں بلکہ ان دونوں جماعتوں نے اپنے وعدے پر عمل کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔۔۔جس کی ایک جھلک ایکسٹینشن والے بل پر ان دونوں جماعتوں کی غیر مشروط حمایت تھی۔

جنرل باجوہ کو لبھانے کے لئے ان دونوں جماعتوں نے اب مولانا فضل الرحمان سے باضابطہ طور پر کنارہ کشی بھی کر لی ہے۔۔۔مولانا فضل الرحمان ایک بہت ہی وضعدار سیاست دان ہیں۔۔۔انہوں نے پورے ٓازادی مارچ کے دوران جب کہ وہ اس پوزیشن میں تھے کہ سار میلہ اکیلے ہی لوٹ سکتے تھے لیکن انہوں نے خود غرضی کا مظاہرہ نہیں کیا اور ملک کے مفاد میں ان دونوں جماعتوں کو ہر قدم پر ساتھ رکھنے کی کوشش کی۔۔۔انہیں ٓازادی مارچ والے پلیٹ فارم کو استعمال بھی کرنے دیا جسے ان دونوں جماعتوں کی قیادتوں نے بہت اچھی طرح استعمال کیا بلکہ یوں کہہ لیں کہ مولانا کی اس سیاسی خیرسگالی کا ناجائز استعمال کیا اور اپنے اپنے مسائل کو اس ٓازادی مارچ کی ٓاڑ میں حل کیا اور پھر طوطا چشمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مولانا سے ٓانکھیں پھر کر انہیں سیاسی طور پر اس قدر کمزور کر دیا کہ انہیں یقین دہانیاں کروانے والے بھی یوٹرن لیتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کل ایک سیاسی مشاورت بھی کی جس میں ان دونوں جماعتوں کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔۔۔مولانا کے ساتھ اس مشاورت میں محمود اچکزئی، حاصل بزنجو، ٓافتاب شیر پاو، اویس نورانی اور ن لیگ کے ایک سینیٹر ساجد میر زاتی حیثیت میں شامل رہے۔۔۔بعد میں ایک پریس کانفرنس بھی ہوئی جس میں مولانا نے نہ صرف اس بات کا اظہار کیا کہ وہ اپنی تحریک کو دوبارہ شروع کریں گے بلکہ یہ بھی واضح طور پر بتا دیا کہ وہ ان دونوں جماعتوں کی سیاسی منافقت پر بہت برہم ہیں۔۔۔ایک سوال کے جواب میں تو مولانا نے عطار کے لونڈے والا شعر بھی پڑھ دیا جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مولانا فضل الرحمان ان دونوں جماعتوں سے کتنے زیادہ ناراض ہیں ۔

مولانا نے اعلان تو کر دیا ہے کہ وہ اگلی بار پنجاب سے اپنی تحریک کا ٓاغاز کریں گے لیکن انہوں نے اس کے لئے کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا ۔۔۔ان کی گفتگو سے مجھے تو یہ تاثر ملا کہ وہ پہلے دو چار پریکٹس میچ کھلیں گے اور اس کے بعد وہ اصل مقابلے کے لئے پنجاب میں سے تبدیلی لانے کی کوشش کریں گے۔

میری زاتی رائے میں تو مولانا کو فوری طور پر پنجاب سے اپنی تحریک کا ٓاغاز کر دینا چاہئے تھا کیونکہ اس وقت پنجاب میں ن لیگ کی بوٹ کو عزت دو والی حرکت کی وجہ سے بہت سارے ن لیگی سپورٹر بد دل ہیں اور ممکن ہے کہ وہ مولانا کی ٓاواز پر لبیک کہتے ہوئے سڑکوں پر ٓاجائیں۔۔۔لیکن اگر مولانا نے اپنی تیاری میں چند ماہ لگا دئیے تو پھر انہیں پنجاب سے وہ جو تھوڑی بہت سپورٹ ملنے کا اس وقت امکان ہے وہ بھی ختم ہو جائے گا کیونکہ ایک تو ن لیگ کا ناراض ووٹر زیادہ دیر اسی غصے والی کیفیت میں نہیں رہے گا اور صبر شکر کر کے اپنی جماعت کے ساتھ ہی وابستہ رہے گا اور اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اس وقت جو فوجی جوڑ توڑ چل رہا ہے اس سے تو یہی اندازہ ہو رہا ہے کہ پنجاب میں جلد ہی کسی ایسی لیگ کی حکومت ہو گی جس کے ساتھ نون یا قاف لگا ہوا ہو گا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نون اور قاف پرانی رنجشوں کو بھلا کر نئی رشتہ داریاں کر لیں اور اتحاد اور اتفاق کے ساتھ پنجاب سے عمران نیازی کے وسیم اکرم پلس کو فارغ کر کے اپنے کھلاڑیوں کو میدان میں اتار دیں۔

ان دونوں صورتوں میں مولانا کے لئے پنجاب کے ووٹر سے حمایت لینا ناممکن ہو جائے گا کیونکہ یہ دونوں جماعتیں عوامی رشتے داریوں میں مولانا فضل الرحمان کی جمعیت اور ٓاصف زرداری کی پیپلز پارٹی دونوں سے پنجاب کی حد تک بہت ٓاگے ہیں۔

بہرحال اگر مولانا نے فوری طور پر نیا ٓازادی مارچ شروع نہیں کیا تو پھر انہیں اپنی سیاسی اہمیت منوانے کے لئے نئے انتخابات تک انتظار کرنا پڑے گا۔۔۔انہوں نے ٓازادی مارچ سے سندھ بلوچستان اور کے پی کے میں اپنی سیاسی مقبولیت میں جو اضافہ کیا ہے وہ انہیں نئی اسمبلی میں یقیننا پہلے سے زیادہ نشستیں دلوائے گا اور ایک بار پھر ن لیگ اور ٓاصف زرداری کو ان کی طرف رجوع کرنے پر مجبور کر دے گا۔

اخباری خبر کےمطابق صادق اور امین عمران نیازی نے الیکشن کمیشنر اور ممبران الیکشن کمیشن کے لئے چوروں اور لٹیروں کی پارٹی سے اتفاق کر لیا ہے اور اب جلد ہی سکندر سلطان راجا چیف الیکشن کمشنر ہوں گے اور نثار درانی اور شاہ محمد جتوئی الیکشن کمیشن کے ممبر ہوں گے۔۔۔عمران نیازی نے جو کہ شہباز شریف سے ہاتھ ملانا بھی پسند نہیں کرتا اس نے پچھلے دنوں الیکشن کمیشن کی تقرریوں کے حوالے سے شہباز شریف کو ایک مودبانہ خط بھی بھیجا تھا۔

بظاہر تو حکومت اور اپوزیشن کا یہ اتفاق رائے ملک کی سیاست کے لئے بہت اچھی بات ہے اور اگر ساری پارلیمانی جماعتیں اسی طرح مل جل کر قانون سازی کرتی رہیں تو یہ رویہ پاکستان کی نیم مردہ جمہوریت کو ٹھیک ہونے میں مدد دے سکتا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس پیار محبت کے پیچھےبھی وہی فوجی ڈنڈا ہے جس کے ڈر سے چند روز پہلے تمام بڑی جماعتوں نے جنرل باجوہ کے بوٹ پالش کرنے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کی تھی۔

الیکشن کمیشن میں نئی تقرریاں بہت پہلے ہو جانی چاہئے تھیں لیکن عمران نیازی نے اس کے راستے میں بہت رکاوٹیں ڈالیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ فارن فنڈنگ کا وہ کیس ہے جو کہ ایک طویل عرصہ سستی روی کا شکار رہنے کے بعد نئے سرے سے چل پڑا تھا اور اگر سابقہ الیکشن کمشنر کو بھی جنرل باجوہ کی طرح ایکسٹینشن مل جاتی تو اب تک عمران نیازی سمیت پوری پی ٹی ٓائی فارن فنڈنگ والے میزائل کا شکار ہو کر فارغ ہو چکی ہوتی۔

اسی کیس کو روکنےکے لئے عمران نیازی نے پوری کوشش کی کہ الیکشن کمیشن میں نئی تعیناتیاں نہ ہونے دی جائیں اور الیکشن کمیشن ممبران کی تعداد پوری نہ ہونے کی وجہ سے کام ہی نہ کر سکے۔

عمران نیازی اپنی اس تخریبی کاروائی میں مکمل طور پر کامیاب رہا کیونکہ اس وقت وہ جنرل باجوہ کے ساتھ ایک پیج پر تھا اور اکیلا ہی فوجی سپورٹ کے مزے لے رہا تھا لیکن اب صورت حال تبدیل ہو چکی ہے اور ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ اس فوجی پیج پر نون لیگ اور پی پی نے بھی ڈیرے ڈال دئیے ہیں اور ان دونوں کے ٓاجانے سے عمران نیازی کھسکتے کھسکتے فوجی پیج کے اس کونے تک ٓا گیا ہے کہ کسی بھی وقت یہ اس پیج سے کسی کھائی میں گر سکتا ہے۔

عمران نیازی کو جنرل باجوہ کی ٓانکھوں میں بے وفائی کی جھلک نظر ٓا چکی ہے۔۔۔اسی لئے اس نے کافی دنوں سے یہ خبر چلوائی ہوئی ہے کہ اگر عدم اعتماد والے ہتھیار سے مجھے سیاسی طور پر ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی تو میں اسمبلیاں ہی توڑ دوں گا۔۔۔یعنی ناں کھیڈاں گے ناں کھیڈن دیاں گے

سیاسی حلقوں میں یہ خبر بھی گردش کر رہی ہے کہ عمران نیازی نے اسمبلیوں کی توڑ پھوڑ کے لئے شاہی فرمان جاری کر دیا ہے اور اپنے صدارتی نوکر سے کہہ رکھا ہے کہ جیسے ہی میرے خلاف عدم اعتماد کی کاروائی شروع ہونے والی ہو تم اس اسمبلی توڑ فرمان کو جاری کر دینا۔

عمران نیازی کی سیاسی اچھل کود کو دیکھتے ہوئے مجھے تو یہ ایک سیاسی چال ہی لگتی ہے۔۔۔عمران نیازی نے جس طرح بوٹ پالش سیاست میں نام کمایا ہے اس کو دیکھتے ہوئے اس بات کا زیادہ امکان نہیں ہے کہ عمران نیازی بہ ہوش و حواس کوئی ایسا فرمان جاری کرے گا جس میں جنرل باجوہ کی رضا شامل نہ ہو۔۔۔البتہ کوک اسٹوڈیو والی کیفیت میں اگر وہ یہ نعرہ مستانہ لگا دے تو ایسا بالکل ممکن ہے۔

میری زاتی رائے میں تو اگر عمران نیازی اسمبلیاں توڑے گا تو یہ اس کی ایک لحاظ سے باجماعت خود کشی ہوگی کیونکہ اس کی حکومتی پرفارمنس کے بعد نئے انتخاب میں اس کی جماعت کے سارے لوٹے اس کی جماعت سے ہجرت کر جائیں گے اور اس کی جماعت نئے انتخابات کے بعد قومی اسمبلی میں نشستوں کے اعتبار سے ق لیک کی شکل اختیار کر لے گی۔

نئے انتخابات سے سب سے زیادہ فائدہ مولانا فضل الرحمان کی جماعت کو ہوگا اور کے پی کے اور بلوچستان میں انہیں پہلے سے بہت زیادہ نشستیں ملیں گی۔۔۔ٓاصف زرداری کی سیاست تو ویسے بھی اب سندھ کھپے تک محدود ہے اس لئے اسے ان ہاوس چینج ہو یا نئے انتخابات اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔سندھ کا ووٹر پی پی کے ساتھ ہے۔۔۔قبضہ گروپ کے ساتھ اینٹ سے اینٹ بجانے والے جو مسائل تھے وہ سارے تقریبا حل ہو چکے ہیں۔۔۔سندھ اس وقت بھی اس کے پاس ہے جو نئے انتخابات کی صورت میں بھی اسی کے پاس رہے گا بلکہ اس بات کا بھی امکان ہے کہ ایم کیو ایم سے بندوق کے زور پر چھینی گئی سیٹیں جو کہ عمران نیازی کے حصے میں ٓائی تھیں۔۔۔ان میں سے کچھ پیپلز پارٹی کو دے دی جائیں۔

ان دنوں عمران نیازی کے سارے فوجی اتحادیوں نے ما سوائے شیخ رشید کے اس کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔۔۔اس کے یہ اتحادی پورے ملک میں بکھرے ہوئے ہیں اور اس کے پاس جہاز والا ایک ہی جہانگیر ترین ہے جو کوشش تو کر رہا ہے کہ کسی طرح بھان متی کا یہ کنبہ جڑا رہے لیکن اس کے اپنے کاروباری مسائل بھی ہیں اور اسے اپنے سیاسی جہاز کو چلانے کے لئے پٹرول کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور وہ اس پٹرول کے لئے گندم کی امپورٹ ایکسپورٹ سے چار پیسے بنانے کی کوششوں میں بھی لگا ہوا ہے۔۔۔ان کاروباری حرکتوں کی وجہ سے وہ اتحادیوں کو راضی کرنے والے کام کو صیح طرح کر نہیں پا رہا۔

الیکشن کمیشن کی ان نئی تقرریوں کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن ہو جانے کے بعد عمران نیازی مکمل طو ر پر بے بس ہو جائے گا۔۔۔پھر اس کی مرضی ہو گی کہ بنی گالہ جانے کے لئے جنرل باجوہ کے نئے سیاسی حلیفوں کے تجویز کردہ راستے پر چل کر جائے یا پھر اسمبلیاں توڑ کر باجماعت سیاسی خودکشی کرلے۔

427 views