Search

کیا شہباز شریف کی نوکری والی درخواست منظور ہو گئی ہے؟ کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد 12/01/2020



جنرل باجوہ فوجی چھڑی اور گاجروں کے استعمال سے عدلیہ اور پارلیمنٹ کو جی ایچ کیو کی طرف منہ کر کے لبیک لبیک کروانے میں کافی حد تک کامیاب ہو گئے ہیں اور اب وقت ٓا گیا ہے کہ جس جس نے ان کی چھڑی سے ڈر کر ان کے لئے سیاسی پانڈی کا کردار ادا کیا ہے اسے اس جبری مشقت کا معقول معاوضہ گاجروں کی شکل میں دیا جائے۔۔۔ جنرل باجوہ کی یہ گاجریں فوجی وٹامنز سے بھرپور ہوں گی اور انہیں کھانے والا فوری طور پر اتنا طاقتور ہو جائے گا کہ وہ موجودہ پارلیمنٹ میں ہی داو پیچ لگا کر عمران نیازی کو ناک ٓاوٹ کر دے گا لیکن ان گاجروں کی خاصیت یہ ہے کہ یہ محاورے والی گاجروں سے مختلف ہیں۔۔۔پنجابی محاورے کے مطابق تو بات یوں ہے کہ

جنہاں کھادیاں گاجراں ڈھڈ اہناں دے پیڑھ

لیکن جنرل باجوہ کے فوجی کھیتوں کی یہ گاجریں ایسی ہیں کہ انہیں کھانے کی نیت کرنے والوں کے پیٹ میں کھانے سے پہلے ہی درد شروع ہو چکی ہے۔۔۔پیپلز پارٹی کے پیٹ میں بھی درد ہے لیکن زرداری کا معدہ کافی سخت ہے اور یہ ایک عرصے سے ان گاجروں کا کھانے کا عادی ہے اس لئے اسے یہ درد برداشت کرنے کی عادت ہو چکی ہے ۔۔۔جنرل باجوہ کی گاجریں باپ بیٹے کے پیٹ میں درد تو کر رہی ہیں لیکن یہ ہائے ہائے نہیں کریں گے کیوں کہ ان کو سندھ کھپے والی بھنگ کا ایسا چسکا لگ گیا ہے کہ اس کے بغیر ان کا گزارا نہیں ہو سکتا۔

جنرل باجوہ کی گاجروں سے سب سے زیادہ تکلیف شریف برادران کو ہوئی ہے لیکن چھوٹے میاں کی نسبت بڑے میاں کے معدے کو ان گاجروں نے زیادہ اپ سیٹ کیا ہے۔۔۔اس کی وجہ ایک تو ان کی وہ خوراک ہے جو انہوں نے ووٹ کو عزت دو کے نام سے کھانی شروع کی ہوئی تھی اور اس نے ان کے معدے کو ان گاجروں کا زائقہ تک بھلا دیا تھا اور اسے کئی سالوں سے ان فوجی گاجروں کو کھانے کی عادت بھی نہیں رہی تھی۔۔۔میاں نواز شریف جب جنرل جیلانی کے دور میں فوجی فارم میں پہنچے تھے تو اس وقت وہ جوان بھی تھے اور ان کا ہاضمہ بھی اتنا سیاسی نہیں تھا اس لئے وہ ان گاجروں کو نہ صرف مزے لے لے کر کھایا کرتے تھے بلکہ وہ جو پنجابی میں کہتے ہیں ۔۔۔پچا بھی لیا کرتے تھے۔

جنرل باجوہ کی ان گاجروں سے مولانا فضل الرحمان،محمود اچکزئی اور حاصل بزنجو محروم رہیں گے لیکن یہ درویش صفت لوگ ہیں۔۔۔انہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ قبضہ گروپ کے خلاف بولنے سے کیا کیا نقصانات ہو سکتے ہیں اور یہ لوگ ان نقصانات کے لئے بھی تیار ہیں اور ان گاجروں کو کھانے کی بجائے فاقہ کشی پر بھی راضی ہیں۔۔۔ان کی فاقہ کشی وقتی طور پر تو ان کی جماعتوں اور ان کے ورکرز کے لئے بہتر نہیں ہو گی لیکن مستقبل میں پاکستان کی سیاسی صحت کے لئے یہ بہتر ثابت ہوگی۔۔۔میری تو دعا ہے کہ پاکستان مین ایسے فاقہ کشوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو تا کہ قبضہ گروپ کی ان گاجروں کی ڈیمانڈ پاکستان کی سیاست میں بالکل ختم ہو جائے اور یہ گاجریں کاشت کرنے والے یہ دھندہ چھوڑ کو اپنے اصلی کام میں لگ جائیں۔

اب ٓاپ یقییننا یہ پوچھنا چاہیں گے کہ مجھے انگلینڈ میں بیٹھ کر یہ کیسے پتہ چل گیا ہے کہ گاجروں والی فوجی نیاز بٹنے کا وقت ٓا گیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ فوجی گاجروں والے دھندے سے نشو نما پانے والی جماعت ایم کیو ایم نے حکومت سے خلع لینے کا اعلان کر دیا ہے۔۔۔پہلے مرحلے پر ایم کیو ایم کا وہ گروہ جس نے الطاف حسین سے علیحدگی اختیار کر کے اپنے ٓاپ کو ایم کیو ایم پاکستان میں تبدیل کر لیا تھا ۔۔۔

اس ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے عمران نیازی کی سرکارسے الگ ہونےکا باقاعدہ کھڑاک کر دیا ہے۔

اس علیحدگی کی باتیں تو کافی دنوں سے ہو رہی تھیں اور انہیں باتوں کو دیکھتے ہوئے اورموقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے ایم کیو ایم کو سندھ میں وزارتوں کی پیشکش بھی کر دی تھی اور اس پیشکش پر ایم کیو ایم کی طرف سے رالیں ٹپکنا بھی شروع ہو گئی تھیں۔۔۔ایم کیو ایم چونکہ ایک مقامی سطح کی جماعت ہے اور اس کی جڑیں صرف سندھ کے بڑے شہروں میں ہیں اس لئے انہیں وفاقی وزارتوں سے زیادہ صوبائی وزارتوں میں دلچسپی رہتی ہے۔۔۔سندھ کی ہر صوبائی حکومت میں یہ اپنے جثے سے زیادہ حصہ لیتے رہے ہیں لیکن اس بار پیپلز پارٹی نے انہیں صوبائی معاملات میں لفٹ نہیں کروائی جس کہ وجہ سے انہیں سندھ میں اپنے کارکنوں کے لئے سہولتیں حاصل کرنے میں دشواریاں پیش ٓا رہی تھیں۔۔۔ کراچی کا بلدیاتی کنڑول ہونے کے باوجود انہیں کراچی میں کام کرنے کا موقع نہیں مل رہا تھا کیوں کہ صوبائی حکومت ان کی فرمائشیں پوری نہیں کر رہی تھی۔۔۔موجودہ صورتحال میں بلاول بھٹو کی طرف سے یہ پیشکش ان کے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہو گی۔۔۔انہیں اس بات کا اندازہ ہو گیا ہے کہ پیپلز پارٹی نے جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کی حمایت کر کے صوبے کے علاوہ مرکز میں بھی ایسی پوزیشن حاصل کر لی ہے کہ وہ انہیں نہ صرف صوبے میں موج میلہ کروائے گی بلکہ مرکز میں بھی ان کے لئے حلیم اور نہاری نہیں تو کم ازکم دال روٹی کا بندوبست ضرور کرے گی۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے پہلے مرحلے میں حکومت سے تعاون جاری رکھتے ہوئے وفاقی کابینہ سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے اور اس کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ عمران نیازی نے ان کے ساتھ بے وفائی کی ہے۔۔۔مجھے ان کی اس بات سے اتفاق تو نہیں ہے کیوں کہ عمران نیازی کے پاس فوجی دواخانے سے جتنی وفا کی پڑیاں ایم کیو ایم کے حصے کی اسے ملی تھیں وہ تو اس نے بڑی ایمانداری سے ان کے حوالے کر دی تھیں بلکہ ایک سب سے اہم وزارت قانون و انصاف والی ۔۔۔وہ بھی انہیں کے نمائندے نسیم فروغ کو دے دی تھی۔۔۔اس وزات کے بارے میں خالد مقبول صدیقی نے یہ انکشاف کیا ہے کہ ہم نے تو قانون اور انصاف والی وزارت مانگی ہی نہیں تھی۔۔۔خالد مقبول کی اس بات سے تو ایسا لگتا ہے کہ اب نسیم فروغ اب ایم کیو ایم سے زیادہ قبضہ گروپ کو پیارا ہو گیا ہے اور اس نے اندازہ کر لیا ہے کہ اس کی قانونی اہمیت اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ اسے کراچی کی اس مقامی جماعت کی حمایت کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔۔۔شاید یہی وجہ ہے کہ اپنی جماعت کے سربراہ کی وزات سے علیحدگی کے باوجود اس نے اپنی وزارت چھوڑنے کا اعلان نہیں کیا۔

ایم کیو ایم کی علیحدگی کا مسئلہ کافی سنجیدہ ہے اور اس کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ ایم کیو ایم کی طرف سے علیحدگی کا اعلان ہوتے ہی عمران نیازی نے جس نے ایران امریکہ کشیدگی پر تین دن کے بعد ٹوئٹ کی تھی اس عمران نیازی نے اس کا نہ صرف فوری نوٹس لے لیا ہے اور بلکہ اپنی جماعت کے ڈیل گروپ کو متحرک بھی کر دیا ہے کہ وہ کراچی کے ان سیاسی تاجروں کو بھی اسی طرح مطمئن کرے جس طرح کچھ عرصہ پہلے ٓازادی مارچ کے دوران تاجروں کی ہڑتال ختم کرنے کے لئے دانہ دنکا ڈالا گیا تھا۔

فوجی کوٹے والی فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ خالد مقبول صدیقی نے اپنا استعفی براہ راست حکومت کو نہیں بھیجا ہے۔۔۔ میری دانست میں تو خالد مقبول صدیقی نے صیح جگہ پر اپنا استعفی بھیجا ہے۔۔۔ان سیاسی سودے بازوں کو اچھی طرح پتہ ہے کہ اقتدار کی چھڑی کس کے ہاتھ میں ہے اور مستقبل میں گاجروں کی تقسیم کس نے کرنی ہے۔۔۔اس لئے انہوں نے اپنا استعفی عمران نیازی کو بھیجنے کی بجائے انہی کے حوالے کر دیا ہے جنہوں نے اب عمران نیازی کی رخصتی کا عمل مکمل کرنا ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن نے بھی ایسا ہی ایک بیان دیا ہے جس سے مجھے ایسا لگا کہ فوجی گاجروں والی نیاز کا وقت ٓا گیا ہے۔۔۔ اعتزاز احسن نے سیاسی صورت حال کو بھانپ لیا ہے یا اسے پیپلز پارٹی کی قیادت نے جو کہ جنرل باجوہ کے ساتھ ایک پیج پر والی سرگرمیوں میں مصروف تھی اس نے بتا دیا ہے کہ شہباز شریف نے فوجی چھڑی والوں کے ساتھ ناجائز سیاسی تعلقات بنا لئے ہیں۔۔۔اپنے بیان میں اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ عمران خان کے این ٓار او نہ دینے کی تکرار کے باوجود بھی این ٓار او ہو گیا ہے۔۔۔اپنی سیاسی قیادت کے بوٹ پالش کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے ایک بہت ہی لطیفہ نما بات کی ہے کہ ہم آرمی ایکٹ میں ترمیم کیلئے ووٹ دینے کے حق میں نہیں تھے، نوازشریف نے پھرتی دکھائی، ن لیگ کے ووٹ بیچ کر باہر چلے گئے، میاں نواز شریف نے 3 ارب کی دولت پر سمجھوتہ نہیں کیا اور اپنے 80 پارلیمنٹرین فروخت کرکے این آر او لے لیا۔

اعتزاز احسن ایک عرصے سے ٓاصف زرداری کو خوش کرنے کے لئے میاں برادران کے خلاف اسی طرح کے ب الزامات لگاتا رہتا ہے اس لئے میں تو اس کی اس بات پر سوائے ہنسنے کے اور کچھ نہیں کر سکتا کہ پیپلز پارٹی ٓارمی ایکٹ میں ترمیم پاس کرنے کے حق میں نہیں تھی۔۔۔میری زاتی رائے میں تو پچھلے ڈیڑھ دو سال سے جو فوجی مداخلت کا ڈرامہ چل رہا ہے اس کا سب سے بڑا کردار پیپلز پارٹی رہی ہے۔۔۔بلوچستان کی حکومت سے تبدیلی سے لے کر سینٹ کے چیئرمین کے انتخاب تک جو کچھ بھی ہوا اس میں اسی جماعت کی قیادت نے سب سے زیادہ حصہ ڈالا ہے۔

عمران نیازی کو بھی ساری صورتحال کا اندازہ ہے اور اسے پتہ ہے کہ اس کا کوک اسٹوڈیو بند ہونے کا وقت قریب ہے۔۔۔اسی لئے اس نے اپوزیشن کو ملنے والے این ٓار او پر احتجاج کرنا بھی بند کر دیا ہے بلکہ اب اس کی کوشش ہے کہ جاتے جاتے اپوزیشن کے ساتھ مل جل کرایسی قانون سازی کر دی جائے جس سے وہ اور اس کی جماعت کے لوگ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے لیڈروں کے خالی کئے ہوئے نیب والے مہمان خانوں میں جانے سے بچ جائیں۔

ٓازادی مارچ کے اسٹیج کو استعمال کرتے ہوئے شہباز شریف نے جنرل باجوہ کو جو وزیر اعظم والی نوکری کے لئے درخواست دی تھی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ اگر میں نے چھ مہینے میں کام کر کے نہ دکھایا تو میرا نام نیازی رکھ دینا ۔۔۔لگتا ہے کہ اس عرضی کے منظور ہونے کا اشارہ مل گیا ہے اور اسے بتا دیا گیا ہے کہ وہ بیٹنگ کے لئے تیار رہے۔۔۔چھوٹے میاں نے لندن میں ہی پیڈ باندھ لئے ہیں۔۔فوجی فیکٹری کے بنے ہوئےدستانے اور ہیلمٹ بھی پہن کر اب اس انتظار میں ہیں کہ امپائر جنرل باجوہ کی انگلی کب اٹھتی ہے اور عمران نیازی ٓاوٹ ہو کر شہباز شریف کے لئے جگہ خالی کرتا ہے۔۔۔کل جب لندن میں ایک صحافی نے میاں شہباز شریف سے نئے انتخابات اور ان کی وزارت عظمی کی بات کی تو انہوں نے کرکٹ والی زبان میں جس طرح کے جوابات دیئے اور بڑے بھائی کی جان لیوا بیماری کے باوجود ان کے چہرے سے جو خوشی اور اطمینان جھلک رہا تھا اس سے تو یہ لگ رہا ہے کہ جنرل باجوہ کی گاجروں کی بندر بانٹ میں سب سے زیادہ گاجریں شہباز شریف کی جھولی میں ڈالی جائیں گی۔



856 views