Search

کیا سپریم کورٹ کا ہتھوڑا گروپ بوٹ پالشیئے شیخ رشید کو ٓاوٹ کر سکتا ہے؟ کھریاں کھریاں۔۔۔ر 30/01/2020


پاکستان کے فوجی سیاسی ڈرامے میں شیخ رشید کا کردار میر صادق سے کسی بھی طور پر کم نہیں ہے۔۔۔ میری زاتی رائے میں تو یہ میر صادق سے کہیں زیادہ خطرناک ہے کیوںکہ میرصادق نے تو شاید ایک دفعہ ایسی حرکت کی تھی جس سے طاقت کا توازن مظلوم کی بجائے ظالم کے حق میں بدل گیا تھا۔۔۔میں نے شاید کا لفظ اس لئے استعمال کیا ہے کہ مجھے تاریخ کی کتابوں پر زیادہ یقین نہیں کیوں کہ ان میں سے بہت ساری ایسی کتابیں ہیں جو کہ حکمرانوں نے بزور شمشیر لکھوائی ہیں ۔

ان دنوں بھی یہی کام فوجی بندوق کے زور پر ہو رہا ہے۔۔۔فوجی مطالعہ پاکستان کے نصاب میں شامل زیادہ تر کتابیں اسی طرح کی ہیں ۔۔۔جنگیں ہارنے والے اور ہتھیار ڈالنے والے ، ٓائین پر شب خون مارنے والے،امریکی جنگیں لڑنے والے جرنیلوں کی تصویریں پورے میک اپ کے ساتھ وردی پر سجے ہوئے تمغوں سمیت ایسے شائع کی جاتی ہیں کہ جنہیں دیکھ کر پاکستانی بچے بچپن سے ہی ان جعلی پہلوانوں کے سحر میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

شیخ رشید کو موجودہ دور کا میر صادق میں نے اس لئے کہا ہے کہ یہ بھی اسی کام کا ایکسپرٹ ہے جس کا الزام میر صادق پر ہے۔۔۔فرق صرف اتنا ہے کہ میر صادق نے ایک بار قبضہ گروپ کا ساتھ دیا تھا جب کہ اس نے یہ جرم کئی بار کیا ہے ۔۔۔۔پاکستانی قوم کی بد قسمتی ہے کہ تاریخ والا میر صادق تو فورا ہی اپنے انجام کو پہنچ گیا تھا لیکن یہ ابھی اپنے انجام کا منتظر ہے۔

مجھے پورا یقین ہے کہ جب بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ قبضہ گروپ کی مداخلت کے بغیر لکھی جائے گی تو میر جعفر کی جگہ شیخ رشید کو مل جائے گی اور ہماری ٓانے والی نسلیں قومی غداروں کی بات کرتے ہوئے میر جعفر اور میر صادق کے زمانے میں جانے کی کھیچل کرنے کی بجائے راولپنڈی کی لال حویلی میں فوجی ٓاٹا کھا کر پلنے والے شیخ رشید کی مثال دیا کریں گی۔

ان دنوں شیخ رشید پر بھی بظاہر کڑا وقت ٓایا ہوا ہے اور سپریم کورٹ کے موجودہ ثاقب نثار نے اس کی کافی چھترول بھی کی ہے۔۔۔ریلوے میں کرپشن کے بارے میں بھی چیف جسٹس نے کافی سخت ریمارکس دئیے اور ایک ٹرین حادثے کی بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ شیخ رشید کو استعفی دے دینا چاہئے تھا۔

چیف جسٹس کی اس بات پر شیخ رشید نے ابھی تک استعفی تو نہیں دیا البتہ اپنے پارٹنر ان کرائم عمران نیازی کے سامنے بہت احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں اس کی بہت بے عزتی ہوئی ہے۔۔۔دروغ بر گردن ِ راوی عمران نیازی نے اسے کافی تسلی دی ہے اور کہا ہے کہ اس وقت دھندے کا مندہ چل رہا ہے۔۔۔میں بھی برداشت کر رہا ہوں۔۔۔دیکھو میں کس طرح کراچی اور لاہور کے پھیرے لگا رہا ہوں۔۔۔کبھی کراچی کے بوری مافیا کی فرمائشیں پوری کرنے جا رہا ہوں تو کبھی پنجاب کے نامی گرامی ڈاکووں کی منت سماجت کے لئے لاہور میں دھکے کھاتا ہوں۔۔۔اور تو اور میرے سیاسی قلعے کے پی میں بھی توڑ پھوڑ ہو رہی ہے۔۔۔ابھی کل میں نے جلال میں ٓا کر دو وزیروں کو برطرف کر دیا تھا لیکن اب مجھے اپنی تھوک چاٹ سیاست کے تحت انہیں پھر واپس لینا پڑھ رہا ہے ۔۔۔مجھ مسلم امہ کی کپتانی والے خواب کی تعبیر کے لئے مجھے اس وقت ایران اور امریکہ کی ثالثی کروانی تھی۔۔۔مجھے سعودی عرب کے خارجی اور اندرونی مسائل کے حل کے لئے اپنے سعودی برادر کو قیمتی مشورے دینے تھے۔۔۔لیکن جنرل باجوہ نے اپنی ایکسٹینشن والے معاملے میں اپوزیشن کو ساتھ ملا کر میرا سارا پلان چوپٹ کر دیا ہے اور مجھے ایک بین القوامی لیڈر سے بلدیاتی سطح کا لیڈر بنا دیا ہے۔

عمران نیازی کی یہ درد بھری داستان سن کر یقیننا شیخ رشید کے غم میں کچھ کمی ٓا گئی ہو گی اور اسے اگلی پیشی پر سپریم کورٹ میں چھترول والے میچ کی دوسری اننگ کھیلنے کے لئے حوصلہ ملے گا لیکن میری زاتی رائے میں شیخ رشید کو چاہئے کہ وہ اگلی پیشی پر سپریم کورٹ براستہ بنی گالہ جائے اور عمران نیازی سے وہ ٹیکہ لگوا لے جس کی وجہ سے عمران نیازی ملکی اور بین القوامی سطح پر ہونے والی بستی کو ہنس کر پی جاتا ہے اور کوئی ردِ عمل نہیں دیتا۔۔۔ اس ٹیکے کا فائدہ یہ بھی ہو گا کہ جسٹس گلزار کی باتیں سن کر وہ شرمندہ ہونے کی بجائے گل و گلزار ہو جائے گا۔

شیخ رشید کو بنی گالہ میں ٹیکہ لگواتے ہوئے اتنی احتیاط کرنی ہوگی کہ وہ لیبل پڑھ لے تا کہ کہیں اسے غلط ٹیکہ نہ لگ جائے۔۔۔ان دنوں میں بنی گالہ میں ہر طرح کے ٹیکے دستیاب ہیں۔۔۔جن میں حوروں والے ٹیکے کا تو خود عمران نیازی نے انکشاف کیا ہے۔۔۔اس کے علاوہ وہاں پر ایسے ٹیکے بھی ہیں جو مراد سعید ٹنل والے کے لئے مخصوص ہیں۔۔۔شیخ رشید کو نہ تو حوروں والے ٹیکوں کی ضرورت ہے اور نہ ہی مراد سعید والے ٹیکوں کی۔۔۔حوریں اس نے اپنی زندگی میں بہت دیکھ رکھی ہیں۔۔۔جوانی میں یہ ریلوے کی بجائے ایسی منسٹری لیتا تھا جس میں اسے حوروں کی سپلائی ہر وقت جاری رہتی تھی۔۔۔اس کی زیادہ تر حوروں کا تعلق وینا ملک اور مہ وش حیات والی انڈسٹری سے تھا۔۔۔اس کی سب سے پسندیدہ حور تو پاکستانی جنت چھوڑ کر جا چکی ہے۔۔۔ایک بار تو میں خود اسے نیویارک میں ایک فلمی حور کے لئے بے چین اور بے قرار دیکھ چکا ہوں۔

پچھلے دنوں بھی یہ ٹک ٹاک والی حوروں کے چکر میں کافی بدنام ہوا ہے۔۔۔ایسی ہی ایک حور نے تو اس کی عارضی شادی کی بھی خبر دی تھی جس کی صداقت کا مجھے تو علم نہیں لیکن اس کے جوانی کے لچھن اور بڑھاپے کے کرتوت تو یہی بتاتے ہیں کہ شیخ جی یقیننا وقتی طور پر پھسل گئے ہوں گے لیکن شیخ رشید اس معاملے میں اسلام پر پورا پورا عمل کرتا ہے اور دین کی توبہ والی سہولت سے فائدہ لینے میں دیر نہیں کرتا۔۔۔جیسے ہی اس کی ٹک ٹاک والی وارداتیں سامنے ٓائیں اس نے این ٓار او کے لیئے سعودی عرب کا رخ کیا اور جاتے ہوئے احرام کے ساتھ ساتھ ایک کیمرہ مین کا بندوبست بھی کیا تا کہ لال حویلی کے ارد گرد رہنے والوں کو دکھا سکے کہ بلے نے نو سو چوہے کھانے کے بعد حج کر لیا ہے اس لئے اگلے الیکشن میں ووٹ شیخ رشید کی ٹانگہ پارٹی کو ہی دیا جائے۔

میری زاتی رائے میں تو سپریم کورٹ کے تلوں میں اتنا تیل نہیں ہے کہ وہ شیخ رشید کی مالش کر سکے۔۔۔قبضہ گروپ والے اپنے اتنے اہم پالشئے کو اتنی جلدی جبری ریٹائر نہیں ہونے دیں گے کیوں کہ فوجی بوٹ چمکانے میں جتنا تجربہ شیخ رشید کے پاس ہے وہ شاید ہی کسی سیاستدان کے پاس ہو۔۔۔سلطان راہی ایک فلم جس میں اس کا نام مولا تھا اس فلم کا بڑا مشہور ڈائیلاگ تھا کہ مولے نوں مولا ناں مارے تے مولا نہیں مردا۔۔۔ٓاپ اس ڈائیلاگ میں مولا کی جگہ باجوہ کر لیں تو سپریم کورٹ کی اگلی کاروائی کا سارا اسکرپٹ سمجھ ٓا جائے گا۔

1,010 views