Search

کیا جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کا امریکی پراجیکٹ مکمل ہو گیا ہے؟ کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد 07/01/2020



ابھی ابھی میں نے ایک خبر دیکھی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ قومی اسمبلی نے ٓارمی ایکٹ میں ترمیم کے بل کی منظوری دے دی ہے اور وہ بھی متفقہ طور پر ۔۔۔اسی خبر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی اور پشتون تحفظ موومنٹ نے اس کی مخالفت بھی کی اور اجلاس سے واک ٓاوٹ بھی کیا۔۔۔پی ٹی ایم والوں کے بارے میں یہ اطلاع بھی ہے کہ انہوں نے اس بل کی کاپیاں بھی پھاڑ دی تھیں۔

اس ساری خبر میں بظاہر تو کوئی ایسی بات نہیں ہے جس پر حیرت کا اظہار کیا جائے کیوںکہ تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے پہلے سے ہی جنرل باجوہ کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا رکھا تھا اور سارے اس انتظار میں تھے کہ جنرل باجوہ کس کو پہلے ہینڈ شیک کا اعزاز دیتے ہیں۔۔۔بلاول بھٹو نے بھی اس بل کی حمایت کا اعلان کر رکھا تھا لیکن اس نے فیس سیونگ کے لئے کچھ ترامیم تجویز کر رکھی تھیں جو کہ بہت اچھی تھیں اور تمام سیاسی جماعتوں کو ان پر اصرار کرنا چاہئے تھا لیکن اخباری خبر کے مطابق پی پی کے پرانے جیالے اور پی ٹی ٓائی کے وزیر دفاع نے پیپلز پارٹی کو اس بات پر راضی کر لیا کہ وہ اپنی ترامیم واپس لے لیں اور بل کو اسی صورت میں منظور کردیں جس حالت میں وہ ٓاپپارہ والے بیوٹی پارلر سے سج دھج کر ٓا یا ہے۔

بلاول بھٹو نے یہ تجویز کیا تھا کہ اس قانون سازی میں یہ جو شق ڈالی گئی ہے کہ اسے کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا ۔۔۔اس شق کو نکال دیا جائے۔۔۔یہ شق جنرل باجوہ کی قانونی ٹیم نے بڑی سوچ سمجھ کر رکھوائی تھی۔۔۔انہیں مولانا فضل الرحمان کی وہ دھمکی یاد تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ جعلی اسمبلی ہے۔۔۔اسے اتنی اہم قانون سازی کا اختیار نہیں ہے۔۔۔اگر یہ ایسی قانون سازی کرے گی تو اسے قانونی چیلنج بھی کیا جائے گا۔۔۔اس سے پہلے جنرل باجوہ سپریم کورٹ میں ہونے والی ساری کھجل خواری سے گزر بھی چکے ہیں۔۔۔ ان کو پاکستانی عدلیہ پر اس وقت پورا یقین بھی نہیں ہے۔۔۔حال ہی میں انہوں نے جسٹس وقار سیٹھ کے ہاتھوں ایک سابقہ ٓارمی چیف کی درگت بنتے ہوئے دیکھی ہے۔۔۔اس لئے انہیں خدشہ تھا کہ ایسا نہ ہو کہ پالیمنٹ سے منظوری کے بعد ایک نیا میچ سپریم کورٹ میں شروع ہو جائے اور اس کے بنچ میں سے کوئی نیا وقار سیٹھ پیدا ہو کر ان کے رنگ میں بھنگ ڈال دے۔

اسی لئے جب یہ ٓارمی ایکٹ میں ترمیم والا بل ڈرافٹ کیا گیا تو اس میں نئے قانونی چیلنج کا دروازہ بند کرنے کی شق رکھ دی گئی ہے۔

رہی بات کہ اس شق کے بعد کیا یہ قانون سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں ہو سکے گا تو یہ کوئی یقینی بات نہیں ہے۔

موجودہ قانون بھی اسی طرح person specific ہے جس طرح کے قانون کو ثاقب نثار نے قبضہ گروپ کے ٓاشیر باد سے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا تھا۔۔۔ثاقب نثار کے اس ایکشن کا ری پلے جنرل باجوہ اور ان کے امریکن خواب دونوں کو چکنا چور کر سکتا ہے۔۔۔جنرل باجوہ نے اپنی ایکسٹینشن کے لئے ہر طرح کی حفاظتی تدابیر کر لی ہیں لیکن ان سب کے باوجود بھی یہ معاملہ پھر بھی سپریم کورٹ کے سامنے جا سکتا ہے اور اسے لے کر بھی وہی غیر سیاسی لوگ جائیں گے جو کہ پہلے بھی یہ کاروائی کر چکے ہیں۔۔۔اب یہ ان خفیہ طاقتوں پر منحصر ہے کہ وہ اس میچ کا اگلا راونڈ سپریم کورٹ میں کھلنا پسند کریں گے یا اس کے لئے جی ٹی روڈ پر نئے سرے سے جھنڈیاں لگوائیں گے۔

ن لیگ اور پی پی نے جنرل باجوہ کے راستے میں نہ پہلے روڑے اٹکائے ہیں اور نہ ہی ٓانے والے دنوں میں کوئی مزاحمت کریں گے۔۔۔میں اس سے پہلے بھی کئی بار کہہ چکا ہوں کہ یہ جرنیلی جنگ ہے جس میں تباہی سارے پاکستان کی ہو رہی ہے۔۔۔فرق صرف اتنا ہے کہ فوجی چھاونئیوں سے باہر ہونے والی تباہی ہم سب کو نظر ٓا رہی ہے لیکن ان چھاونئیوں کے اندر کی کاروائی ہماری ٓانکھوں سے اوجھل رکھی جا رہی ہے۔

ن لیگ کی قیادت نے بہت مقابلہ کیا لیکن اب ان کی سانس پھول گئی ہے۔۔۔شاید ان کا یہ خیال تھا کہ جب یہ نالائق حکومت پاکستان کا معاشی طور پر بیڑہ غرق کرے گی تو قبضہ گروپ اپنی غلطی کا احساس کرے گا اور نہ صرف اس کٹھ پتلی کو گھر بھیجے گا بلکہ اپنے سیاسی کردار پر بھی نظر ثانی کرے گا لیکن ایسا نہیں ہوا اور قبضہ گروپ اسی طرح ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ پاکستان میں عوام کے ساتھ کیا زیادتی ہو رہی ہے اور ملک کی معیشت ترقی کرنے کی بجائے ریورس گئیر میں چلی گئی ہے۔

قبضہ گروپ کی موجودہ نااہل اور کرپٹ حکومت کی سرپرستی اور عمران نیازی کی انتقامی سیاست کی سپورٹ نے پیپلز پارٹی اور ن لیگ دونوں کو اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں قبضہ گروپ سے متھا لگانے کی بجائے بہتر یہی ہے کہ ان کی تابعداری کی جائے اور عمران نیازی کو راستے سے ہٹایا جائے۔۔۔یہ دونوں اس مشن پر اپنے اپنے طور پر کام کر رہی ہیں اور ان کی اس فوجی سیاست نے قبضہ گروپ کے لئے بہت ٓاسانیاں پیدا کر دی ہیں۔۔۔پارلیمنٹ میں ایکسٹینشن کے حوالے سے فاسٹ ٹریک پر ہونے والی قانون سازی اس بات کا ثبوت ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے اس ساری فوجی سیاسی جنگ میں سب سے بہتر کردار ادا کیا ہے ۔۔۔وہ اپنا مشن ابھی تک مکمل تو نہیں کر سکے لیکن اب تک کی ان کی سیاسی جدوجہد سراہے جانے کے قابل ہے اور یقیننا اس جدوجہد کی وجہ سے ان کی جماعت کے ووٹ بنک اور سیاسی قد میں اضافہ ہوگا جو اگلے انتخابات میں نظر بھی ٓائے گا۔

اب جنرل باجوہ کو صرف اندرونی فوجی مخالفت کا سامنا ہے۔۔۔ایران امریکہ کی کشیدگی نےپاکستان کے لئے تو مشکلات بڑھا دی ہیں لیکن اس میں جنرل باجوہ اور ان کے ساتھیوں کے لئے موجیں ہی موجیں ہیں۔۔۔اگلی کور کمانڈر کانفرنس میں یہ جنرل باجوہ کے لئے ٹرمپ کارڈ ہوگا جو کہ ان کے پچھلے امریکی دورے میں ڈانلڈ ٹرمپ نے خاص طور پر ان کے لئے تیار کیا تھا۔۔۔اب اس کارڈ کی مدد سے جنرل باجوہ اپنے حریف کور کمانڈروں سے بھی اسی طرح اپنی ایکسٹینشن کی منظوری لینے کی ٹرائی کریں گے جس طرح انہوں نے ن لیگ اور پی پی سے لی ہے۔۔۔جنرل باجوہ کی یہ کوشش کامیاب ہو گی یا نہیں ۔۔۔ یہ جاننے کے لئے ابھی کچھ دن انتظار کرنا ہوگا۔

اس بل سے نیوی اور فضائیہ کے سربراہوں کی بھی سنی گئی ہے اور انہیں بھی ایکسٹینشن والا پھل کھانے کا موقع مل سکتا ہے لیکن ان کے حوالے سے اس شق پر عمل درآمد ہونا بہت مشکل ہے کیونکہ ان مسکینوں کے پاس راولپنڈی میں نہ تو کوئ کور ہے اور نہ ٹرپل ون بریگیڈ کہ جس کی دہشت سے یہ وزیر اعظم کو ڈرا دھمکا کر اپنی ایکسٹینشن والا فرمان جاری کروا سکیں گے۔۔۔انہیں پہلے کی طرح وزیر اعظم کے رحم و کرم پر ہی رکھا گیا ہے کہ اگر وہ چاہے تو انہیں بھی ایکسٹینشن دے سکے گا۔۔۔میری زاتی رائے میں تو ان دونوں محکموں کو صرف خانہ پری کے لئے ڈالا گیا ہے اور اس قانون سازی کے حوالے سے یہ تاثر بنانے کی کوشش ہے کہ یہ صرف جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کا قانون نہیں ہے۔

بات ختم کرنےسے پہلے میں ایران اور امریکہ کے درمیان جو کشیدہ صورت حال ہے اس پر بھی تھوڑی سی بات کر لوں اور ٹوئٹر والے جرنیل کے اس بیان پر تبصرہ کر دوں جس میں اس نے کہا ہے کہ ہم اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہو نے دیں گے۔۔۔مجھے تو یہ ایک رسمی سا بیان لگتا ہے۔۔۔اس قبضہ گروپ کی تاریخ بتا رہی ہے کہ یہ معقول معاوضے پر سب کچھ کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔۔۔جنرل ضیا نے ایسی ہی ایک امریکی جنگ میں شمولیت کے معاوضے کی بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریٹ بڑھاو۔۔۔کام ضرور ہو جائے گا۔

ٹوئٹر والا جرنیل اپنے بیان میں جو کچھ بھی کہے لیکن اب فوجی طور پر پاکستان اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ ڈالروں والی سرکار کو ناراض کر سکے۔۔۔اور وہ بھی ایسے موقع پر جب کہ جرنل غٖفور اور اس کے ساتھیوں کا مسقتبل ایک ایسی ایکسٹینشن کے ساتھ وابستہ ہے جس کے سارے پرزے امریکہ میں تیار ہوئے ہیں۔۔۔ٹوئٹر والا جرنیل کے بیان کو ٓاپ فلمی گانے کی زبان میں یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ امریکہ اور سعودی عرب سے یہ فرمائش ہو رہی ہے۔۔۔۔مینوں نوٹ وخا میرا موڈ بنے

جنرل ضیا کے بارے میں ایک لطیفہ بہت مشہور تھا وہ ٓاپ سے شئیر کرتا ہوں اور پھر ٓاپ خود ہی اندازہ لگا لیں کہ قبضہ گروپ ایران امریکہ والے معاملے میں کیا کردار ادا کرے گا۔

جرنل ضیا امریکی ڈالر کھانے کے بعد شام کو اپنے لان میں ٹہلتا تھا۔۔۔کسی بچے نے کیلا کھا کر چھلکا لان میں ہی پھینک دیا۔۔۔جنرل ضیا اس چھلکے پر سے پھسل گیا ۔۔۔وردی پر چند داغ لگ گئے لیکن ہڈی پسل ی ٹوٹنے سے بچ گئی۔۔۔اگلے روز پھر اسی بچے نےکیلا کھا کر چھلکا لان میں پھینک دیا۔۔۔جنرل ضیا جب ٹہلنے کے لئے نکلا تو اس کی نظر پھسلنے سے پہلے ہی کیلےکے چھلکے پر پڑ گئی۔۔۔فورا بولا۔۔۔

اج فیر تلکنا پے گا

405 views