Search

کیا جرنیلی کرتار پور خطرے میں ہے؟۔ کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد

Updated: Jul 20


آج کھریاں کھریاں میں بات کرنی ہے کرتار پور کی جو کہ خطرے میں ہے ۔۔۔لیکن یہ زہن میں رکھئے گا کہ جس کرتار پور کی طرف میرا اشارہ ہے اس کا اربوں روپے کی عوامی سرمایہ کاری سے بننے والےاس اصلی کرتار پور سے کوئی تعلق نہیں ہے جس کے گنبد کچھ ہفتے پہلے تیز ہوا چلنے سے گر گئے تھے ۔

میرے ایک پاکستانی خیر خواہ کے خبرنامے کے مطابق کرتار پور بہت خطرے میں ہے۔۔۔میرے پاس ایسے وسائل تو نہیں ہے کہ میں اس خبر کی تصدیق کر سکوں اور نہ ہی میرے پاس ایسے موکل ہیں جو کہ پنڈی یا ٓاب پارہ جا کر ان خبروں کی تصدیق کر سکیں اور نہ ہی ایسا جاسوسی نیٹ ورک ہے جو کہ جرنیلی کمیونیکیشن سسٹم کو hack کر کے اصل بات کی کھوج لگا سکے۔۔۔بہربات اہم ہے اس لئے میں ٓاپ سے شئیر کر دیتا ہوں۔۔۔ باجوائی پاکستان کی سیاسی اور جرنیلی صورتِ حال ٓاپ سب کے سامنے ہے۔۔۔اس کی مدد ٓاپ اس خبر کا ٓاپریشن خود کر سکتے ہیں

۔


کرتار پور کو لاحق خطرات کی بات کرنے سے پہلے اس جرنیلی کمیونیکشن سسٹم کے متعلق ایک اور وضاحت کر دوں جس کا تعلق ان دھمکیوں سے ہے جن کی اطلاع مجھے برطانیہ کے قانون نافذ کرنے والے ادارے نے دی ہے۔۔۔ٓاپ سب نے بہت سارے پیغامات بھیجے ہیں اور احتیاط کرنے کے نسخے بھی بتائے ہیں لیکن شاید ٓاپ سب نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ یہ دھمکیاں مجھے براہ راست نہیں دی گئیں۔

مجھے نقصان پہنچانے کا منصوبہ جرنیلی جاسوس ادارے نے خفیہ رکھا ہوا تھا لیکن اس پلان کو ان سے بہتر جاسوس ادارے نے وقت سے پہلے بے نقاب کر دیا ہے۔۔۔ میرے خلاف منصوبہ بندی کرنے والا جرنیلی جاسوس ادارہ خود کو دنیا کا نمبر ون ادارہ کہتا ہے لیکن اس نمبر ون کی دونمبری ایک نہیں دو ملکوں کے اداروں نے پکڑی ہے۔۔۔اب ٓاپ ان کی اس تھرڈ کلاس کارکردگی سے اندازہ لگا لیں کہ ان کی اصلی رینکنگ کیا ہو گی۔

میں چونکہ برطانوی شہری ہوں اس لئے یہاں کے اداروں نے اس خفیہ پلان کو intercept کرنے کے بعد خود ہی مجھ سے رابطہ کیا اور میرے لئے انتظامات کئے ہیں اور مجھ سے ان لوگوں کے بارے میں بھی پوچھا ہے جو کہ مجھے نقصان پہنچانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

میں نے اپنی ویڈیو میں سائبر ایف ٓائی ٓار کی صورت میں اس بات کی وضاحت بھی کر دی ہے کہ مجھے باجوائی پاکستان کے کونسے سیاسی جرنیلوں سے خطرہ ہے ۔۔۔انہی سیاسی جرنیلوں میں ہی وہ سیاسی جرنیل بھی شامل ہے جس کے بارے میں میرے ایک پاکستانی خیر خواہ کا کہنا ہے کہ کرتار پور خطرے میں ہے۔

ان صاحب کا کہنا ہے کہ کرتار پور وہ کوڈ ہے جو کہ فوج میں باجوہ سرکار کے لئے استعمال ہو رہا ہے۔۔۔ان صاحب کا کہنا ہے کہ جرنیلی حلقوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے کیونکہ ایکسٹینشن والی ڈائن سرونگ اور ریٹائرڈ جرنیلوں کو ہڑپ کرتی جا رہی ہے۔



ایک تھری اسٹار جنرل سرفراز ستار کے بارے میں تو میں نے بھی ٓاپ کے ساتھ کئی بار بات کی ہے ۔۔۔ یہ جنرل جب سے جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن والی جنگ شروع ہوئی ہے ۔۔۔اس وقت سے منظر سے غائب ہے۔۔۔اگر جنرل باجوہ ایکسٹینشن کی ہوس میں مبتلا نہ ہوتا تو سرفراز ستار سب سے سینئیر جرنیل تھا اور اس بات کا بہت زیادہ امکان تھا کہ جرنیلی چھڑی اس کے ہاتھ میں ہوتی۔۔۔اس بیچارے جرنیل کو تو فوج سے باضابطہ طور پر رخصت بھی نہیں کیا گیا۔۔۔اگر ٓاپ کو یاد ہو کہ سرفراز ستار کی گمشدگی سے کچھ پہلے ایک فور اسٹار جنرل تھا جنرل زبیر حیات۔۔۔یہ جنرل صاحب چئرمین جوائنٹ چیفس ٓاف اسٹاف کمیٹی ہوا کرتے تھے۔

جب فور اسٹار جنرل زبیر حیات کو فور اسٹار جنرل باجوہ کی طرح ایکسٹینشن سے فیض یاب ہونے کا موقعہ دینے کی بجائے ریٹائر کر دیا گیا تو جنرل زبیر حیات کو پورے فوجی بینڈ باجے کے ساتھ رخصت کیا گیا تھا لیکن اس کے بر عکس تھری اسٹار جنرل سرفراز ستار کو جس کی فور اسٹار جنرل بننے کی باری تھی،اسے اس طرح منظر سے غائب کیا گیا جس طرح عام پاکستانیوں کو لاپتہ کر دیا جاتا ہے۔۔۔ٓاپ چاہیں تو گدھے کے سر سے سینگ کے غائب ہونے والا محاورہ بھی استعمال کر سکتے ہیں لیکن احتیاط کریں تو بہتر ہے کیوں ان جرنیلی دماغوں کے لئے محاورے کی باریکی کو سمجھنا ممکن نہیں ہوتا۔۔۔کہیں یہ نہ ہو کہ ٓاپ کو اس جرم میں دھر لیا جائے کہ ٓاپ نے انہیں بھی دولتیاں مارنے والا جانور کہہ کر ان کی صاف ستھری وردی پر داغ لگا دیا ہے۔


میرے اس پاکستانی خیر خواہ کا نے بتایا ہے کہ فوج سے مستعفی ہونے والے سرونگ جنرل کا نام ہے لیفٹیننٹ جنرل عبداللہ ڈوگر اور یہ کچھ عرصہ پہلے ملتان میں کور کمانڈر تھے ۔۔۔ ان صاحب کا کہنا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل عبداللہ ڈوگر ایک پروفیشنل سولجر تھے ان کی شہرت بہت اچھی تھی اور وہ ہر طرح کی سیاسی مداخلت کے خلاف تھے۔۔۔عام طور پر کور کمانڈر کے عہدے کی مدت چار سال ہوتی ہے لیکن لیفٹیننٹ جرن عبداللہ ڈوگر کو ان کا tenure پورا ہونے سے پہلے ہی ملتان والی کور کی کمانڈ سے ہٹا کر ٹیکسیلا والی فوجی فیکٹری میں پوسٹ کر دیا گیا تھا لیکن اپنی اس بے توقیری اور باجوائی سلوک کو دیکھتے ہوئے اس سرونگ جرنیل نے فوج سے استعفی دے دیا ہے۔۔۔اس کے علاوہ جنرل اعجاز چوہدری جو کہ کراچی کے کور کمانڈر تھے ۔۔۔انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد ڈائرکٹر جنرل ڈیفینس پروکیورمنٹ لگایا گیا۔۔۔یہ جنرل بھی استعفی دے کر گھر جا رہے ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ کرتار پور والے جرنیل کی فرمائش کے مطابق ٹھیکے دے کر ملک کو اور نقصان پہنچائیں۔



جنرل بلال اکبر کا زکر کرتے ہوئے ان صاحب نے بتایا ہے کہ جب وہ کراچی میں ڈی جی رینجر تھا تو اسی نے ایم کیو ایم کے خلاف سرجیکل اسٹرائکس کیں اور ایک نئی جماعت پاک سرزمین پارٹی کی پیدائش میں خصوصی دلچسپی لی اور اپنی نگرانی میں اس سیاسی بچے کی ولادت کروائی۔۔۔انہی خدمات کی وجہ سے ترقی بھی ملی اور چیف آف جنرل اسٹاف بھی بنا دئیے گئے۔۔۔اس کے بعد جنرل بلال اکبر کر پاکستان میں مارشل لا کی افزائش کرنے والی نرسری یعنی پنڈی کی ٹین کور کا کور کمانڈر لگا دیا گیا۔۔۔یہ جرنیل بھی چونکہ باجوائی ایکسٹینشن کے خلاف تھا اس لئے اسے ٹین کور سے ہٹا کر واہ والی فوجی فیکٹری میں ٹرانسفر کر دیا گیا ہے اور اب مسلسل فرشتوں کی نگرانی میں ہے۔


میرے اس پاکستانی خیر خواہ کا یہ بھی بتانا ہے کہ ساٹھ سے زیادہ جونئیر افسرون کو بھی ٹیلی فون کے غیر زمہ دارانہ استعمال اور انٹیلیجنس رپورٹوں پر برطرف کر دیا گیا ہے۔

اب ریٹائرڈ افسران جو ڈی ایچ اے اور فوج کے دیگر اداروں میں کام کرتے ہیں ان پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے کہ وہ کسی بھی واٹس ایپ گروپ میں شامل نہیں ہو سکتے۔


اپنے اس جرنیلی خبر نامے کا دی اینڈ کرتے ہوئے ان صاحب کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ کرتار پور خطرے میں ہے۔۔۔ان صاحب کی بات کہاں تک درست ہے اس کا فی الحال مجھے بھی اندازہ نہیں۔۔۔اس سارے خبرنامے پر میں بھی غور کروں گا اور یہی چاہوں گا کہ ٓاپ بھی سوچ بچار سے کام لیں۔۔۔چاہیں تو اپنے ہم خیال دوستوں سے مشورہ بھی کر لیں۔۔۔اور پھر کمنٹس کرتے ہوئے بتائیں کہ کرتار پور خطرے میں ہے یا نہیں۔۔۔لیکن ایک بات کا دھیان رکھیں کہ مشورہ کرتے ہوئے ان جرنیلی ایجنٹوں سے دور رہیں جو کہ سادہ کپڑوں میں اس لشکر کے لئے جاسوسی کا کام کرتے ہیں۔۔۔ان جرنیلی ایجنٹوں سے ٓاپ کو مشورہ بھی غلط ملے گا اور اس بات کا بھی امکان ہے کہ ٓاپ بھی جنرل سرفراز ستار کی طرح غائب کر دئے جائیں۔۔۔وہ تو تھری اسٹار جرنیل تھا اس لئے کسی خفیہ حراستی مرکز میں زندہ ہے اوراللہ اللہ کر کے اپنے ان جرنیلی گناہوں کی معافی تلافی کروا رہا ہے جو اس نے جنرل باجوہ کے ساتھ مل کر کر رکھے ہیں۔۔۔ٓاپ چونکہ بلڈی سویلین ہیں۔۔۔ٓاپ کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہوگی۔۔۔جرنیلی مطالعہ پاکستان بھی اچھی طرح حفظ کروایا جائے گا اور ایسی ویڈیو بھی بنا لی جائے گی جس کی مدد سے ٓاپ ساری عمر اسی طرح بلیک میل ہوتے رہیں گے جس طرح نواز شریف کو سزا دینے والا جج ارشد ملک ہوا تھا یا نیب کا چمی چئیرمین ان دنوں ہو رہا ہے۔

1,172 views