Search

کیا ایک اور تھری اسٹار پاکستانی جرنیل لاپتہ ہو چکا ہے؟ کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔03/09/2020


آج میں نے ایک پاکستانی اخبار کا آن لائن ورژن کھولا۔۔۔سوچا آج کا کھریاں کھریاں لکھنے سے پہلے کچھ تازہ ترین خبریں بھی دیکھ لوں۔۔۔دو چار خبریں تو مقامی سیاست کے حوالے سے تھیں لیکن ایک خبر جس کاتعلق ہندوستان کے اداکاروں سے تھا اس کی سرخی نے مجھے چونکا دیا۔۔۔یہ خبر تھی اجے دیوگن اور کاجول کی علیحدگی کی۔۔۔میں چونکہ ہندوستانی کامیڈین کپیل شرما کا شو باقاعدگی سے دیکھتا ہوں اور اس میں کئی بار اس جوڑے کو ہنستے مسکراتے اور قہقے لگاتے ہوئے دیکھ چکا ہوں اس لیئے مجھے اس علیحدگی والی سرخی نے چونکا دیا۔


لیکن جب میں نے اس ہارٹ بریکنگ نیوز کو مکمل طور پر پڑا تو اندازہ ہوا کہ ان کی علیحدگی ویسی علیحدگی نہیں ہے جسے ہمارے ہاں طلاق طلاق طلاق کہہ کر اختیار کیا جاتا ہے۔۔۔خبر کی تفصیل کے مطابق دونوں نے اپنے بچوں کے بہتر مسقبل کے لئے یہ فیصلہ کیا ہے کہ کاجول اپنی بیٹی کے ساتھ سنگاپور رہے گی تا کہ وہ اپنی پڑھائی جاری رکھ سکے اور اجے دیوگن ہندوستان میں اپنے بیٹے کے ساتھ ہندوستان ہی میں رہے گا۔

خبر پڑھنے کے بعد مجھے اس صحافی اور اس کے ایڈیٹر انچارج پر غصہ بھی آیا اور ہنسی بھی آئی لیکن پھر یہ سوچ کر میں نے انہیں دل ہی دل میں معاف کر دیا کہ یہ بیچارے کیا کریں۔۔۔عاصم سلیم باجوہ کی ارپ پتی پتنی کے بارے میں تو خبر دے نہیں سکتے۔۔۔اس لئے ایسے میں ہندوستانی اداکاروں کے بارے میں ہی خبروں کو ٹوئسٹ کر کے اپنا اخبار نہ چلائیں تو اور کیا کریں۔۔۔مطیع اللہ جان ، طلعت حسین اور ان جیسے جبری بے روزگار صحافیوں کی صورت ِ حال دیکھ کر کون اپنے مستقبل کو خطرے میں ڈالے گا اور اب تو مطیع اللہ جان کے اغوا کے بعد یہ پیغام بھی دے دیا گیا ہے کہ دن دہاڑے بیوی بچوں سے جبری علیحدگی کروا دی جائے گی ۔



کل سے ایک اور جرنیلی خبر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔۔۔جرنیلی میڈیا تو اس خبر کے حوالے سے مکمل طور پر خاموش ہے۔۔۔ظاہر ہے اس جرنیلی میڈیا کے مالکان اور ان کے اینکر نما زبان فروش، ضمیر فروش مزدوروں کو اچھی طرح پتہ ہے کہ میر شکیل الرحمان کس طرح بلا جواز نیب کے مہمان خانے میں ہے بلکہ یوں کہہ لیں کہ کس طرح ایک جرنیلی محکمے نے اس کے اور اس کے اہل خانہ کے درمیان جبری علیحدگی کروا رکھی ہے۔۔۔نہ تو اس پر کوئی مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔۔۔بس تفتیش کے نام پر بیوی بچوں سے دور رکھا ہوا ہے اور اس بات کی کوششیں جاری ہیں کہ میر صاحب بھی میمن بچے کی طرح اپنے ٹی وی اور اخبار کو فوجی بھائیوں کا وہ پروگرام بنا دیں جو کہ کسی دور میں صرف ریڈیو پر ہوا کرتا تھا۔

سوشل میڈیا والی اس خبر کے مطابق جرنیلی ڈائن نے ایک اور تھری اسٹار لیفٹیننٹ جنرل کو ہڑپ کر لیا ہے۔۔۔اس نئے شکار کا نام بلال اکبر بتایا جا رہا ہے۔۔۔یہ صاحب بھی ان جرنیلوں میں سے ہیں جنہیں اس ایکسٹینن والی ڈائن سے اختلاف تھا۔۔۔ایکسٹینشن سے پہلے پہلے تو یہ بھی بگ باس کے بہت قریب تھے۔۔۔ایک اہم کور کا کمانڈر تھا اور اس سے پہلے کراچی میں الطاف حسین اینڈ کمپنی کے خلاف ایک بہت بڑا آپریشن بھی کر چکا ہے۔۔۔اسی آپریشن کے نتیجے میں الطاف حسین کی ایم کیو ایم میں سے ان نیم سیاسی بچہ پارٹیوں نے بھی جنم لیا جو کہ اس وقت مہاجروں کی نمائندگی کرنے کی دعوے دار ہیں۔


ان مہاجر بچہ پارٹیوں کے نین نقش سارے کے سارے الطاف حسین والے ہیں لیکن یہ اس بات سے انکاری ہیں کہ ان کا الطاف حسین سے کوئی رشتہ ہے۔۔۔لیکن یہ سراسر جھوٹ ہے ۔۔۔اگر فوجی لیبارٹری آج بھی ان کا ڈی این اے ٹیسٹ کرے تو پتہ چل جائے گا کہ ان کی ولدیت کیا ہے۔۔۔لیکن اس وقت چونکہ یہ الطاف حسین سے جبری علیحدگی والے موڈ میں ہیں اور ایکسٹینشن والی ڈائن کے ڈرسے کام میں لگے ہوئے ہیں اس لئے ان کے خلاف قبضہ گروپ اور ہتھوڑا گروپ اور نیب جیسے ادارے کوئی کاروائی نہیں کر رہے۔



بلال اکبر والی خبر جس کی صداقت کا پتہ لگانا ناممکن ہے اور اس کی وجوہات آپ سب کو اچھی طرح پتہ ہیں۔۔۔اس خبر کی تصدیق کے لئے مجھے ایک ایسے محکمے کے پاس جانا پڑے گا جو جواب دینا تو کجا بلڈی سویلین سے سوال سننا ہی پسند نہیں کرتا ۔۔۔ بہرحال اگر جنرل بلال اکبر اپنے اس مبینہ اغوا کی تردید کرنا چاہیں یا ان کے محکمے کے کوئی صاحب اس خبر کی وضاحت کرنا چاہیں تو وہ ہمارے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں ۔

پچھلے دنوں آپ نے عاصم سلیم باجوہ کا وہ ویڈیو کلپ ضرور دیکھا ہو گا جس میں ایک صحافی نے اس جرنیلی ہاتھی سے سوال کیا لیکن اس نے جواب تو کجا اس کی طرف دیکھنا بھی پسند نہیں کیا۔۔۔کل بھی اسی طرح نیب کے ڈی جی شہزاد سلیم سے جو کہ جعلی ڈگری والے کیس میں بھی کافی نام کما چکا ہے۔۔۔اس سے صحافیوں نے پوچھا کہ کیا وہ عاصم سلیم باجوہ کے خلاف کوئی تحقیقات کرے گا تو اس نے جو جواب دیا کہ نہ تو وہ کسی باجوہ کو جانتا ہے اور نہ ہی اسے کسی ایسی خبر کا علم ہے۔

اس نیبی عہدیدار بلکہ عیبی عہدیدار کہیں تو زیادہ بہتر ہے جو کہ سابقہ فوجی ہے اور اس کا فوج میں عہدہ صرف میجر کا تھا اس لئے ظاہر ہے کہ یہ بڑے سے بڑے سیاستدان کو تو گرفتار کرنے کے لئے بغیر کسی ریفرنس کے ان کے گھروں پر چھاپے مار سکتا ہے اور تحقیقات کے نام پر میر شکیل الرحمان جیسے بلڈی سویلین کو تو اپنی قید میں رکھ سکتا ہے لیکن ایک تھری اسٹار جرنیل کو جو کہ ریٹائر ہونے کے باوجود فور اسٹار جرنیل والے اختیارات رکھتا ہے۔۔۔اسے سوال جواب کے لئے کیسے بلا سکتا ہے۔

لیفٹینٹ جنرل بلال اکبر کے لاپتہ ہونے والی خبر میں ہو سکتا ہے کہ صداقت نہ ہو لیکن جب تک اس کی تردید کسی فوجی چینل یا اس کے کسی جرنیلی کارندے کی طرف سے نہیں آتی ۔۔۔اس خبر پر یقین کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔۔۔ایکسٹینشن والی ڈائن اگر لیٖفٹیننٹ جنرل سرفراز ستار کو بغیر ڈکار لئے کھا سکتی ہے تو بلال اکبر کا بھی یہی حشر ہو سکتا ہے۔۔۔اگر اسے کور کمانڈر سے ہٹا کر نکرے لگایا جا سکتا ہے تو پھر گمشدگی والا کام بھی ممکن ہے۔




یہ خبر یقیننا آپ میں سے بہت لوگوں نے پڑھ لی ہو گی اس لئے میں اس کی ساری تفصیلات تو نہیں دہراوں گا۔۔۔خبر کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ فوج میں بغاوت کا امکان ہے اور اس میں بھی اسی طرح کی دھڑے بندی ہے جس طرح کی پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں پائی جاتی ہے۔۔۔اس دھڑے بندی والی بات پر تو مجھے بھی زیادہ شک نہیں کیوں کہ فوج ایک عرصے سے مسلح سیاسی جماعت کا کردار ادا کر رہی ہے اور جہاں سیاست داخل ہو جائے وہاں پر سیاسی جماعت کے ق م ع غ والے گروپوں کا وجود میں آنا معمول کی بات ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل سرفراز ستار کی گمشدگی بھی اسی جرنیلی تقسیم کا نتیجہ ہے۔۔۔اسی جرنیلی تقسیم ہی کا نتیجہ ہے کہ ان دنوں نواز شریف کی وطن واپسی پر زور دیا جا رہا ہے۔۔۔جرنیل آپس کی لڑائی کو ایک بار پھر عدالتوں میں لے کر جا رہے ہیں۔۔۔نواز شریف کو عدالتی دباو ڈال کر واپس لانے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ باجوہ اینڈ سنز کے لئے مشکلات پیدا کی جائیں۔۔۔اس خبر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلیجنس کے درمیان رسہ کشی بڑھتی جارہی ہے۔۔۔میں نے اپنے ایک دوست سے اس خبر کی تصدیق کے لئے رابطہ بھی کیا۔۔۔ان صاحب کا بھی گمان یہی ہے کہ یہ خبر درست ہے اور ایکسٹینشن والی ڈائن کے بارے میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ دو ہزار اٹھارہ میں اس نے چار سو کے قریب فوجی افسروں کا خون پیا۔

خون والی بات میں محاورتا کہہ رہا ہوں۔۔۔کہیں آپ اسے سچ نہ سمجھ لیں۔۔۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ان افسروں کو جنہیں چھان بین کر کے فوج میں بھرتی کیا گیا۔۔۔انہوں نے ایک لمبا عرصہ پاکستان کے ساتھ اپنی وفاداری والا حلف نبھایا لیکن اچانگ ہی ان وفاداروں کو یہ بریکنگ نیوز دی گئ کہ وہ اب فوج کے کام کے نہیں رہے۔۔۔ میرے اس فوجی دوست کا کہنا ہے کہ اس پیغام کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ اب آپ کی حب الوطنی مشکوک ہے۔۔۔اس لئے ٹنڈ پھوہڑی سمیٹیں اور گھروں کو مارچ کریں۔


ان فوجی افسروں کو نکالنے کی وجہ ان صاحب نے یہ بتائی ہے کہ یہ اُس ایجنڈے کے حق میں نہیں تھے جس پر ایکسٹینشن والی ڈائن کام کرنا چاہتی ہے۔۔۔ان صاحب کا کہنا ہے کہ دو ہزار انیس اور بیس میں بھی اس ڈائن نے ڈھائی سوکے قریب فوجی افسروں کا راتوں رات نوکری سے فارغ کر دیا ہے۔۔۔میں نے ان صاحب سے دریافت کیا کہ فوجی افسر اس زیادتی کے خلاف آواز بلند کیوں نہیں کرتے۔۔۔عدالتوں کے پاس کیوں نہیں جاتے۔۔۔ان صاحب کا کہنا تھا کہ بہت سارے افسر ہائی کورٹ سے رابطہ کر چکے ہیں لیکن ایسے افسروں کو یا تو کچھ مراعات دے دلا کر راضی کر لیا جاتا ہے یا پھر سرفراز ستار اور بلال اکبر کی طرح لاپتہ کر دیا جاتا ہے۔



بلال اکبر کی اس گمشدگی والی خبر پر آخری بات یہ کہنی ہے کہ اگر یہ خبر درست ہے تو پھر لندن میں بیٹھا ہوا الطاف حسین جو کہ اپنی حالیہ سزا کی وجہ سے پریشان ہے اس کی پریشانی میں کچھ کمی ضرور آ گئ ہو گی ۔۔۔کیوں کہ اس نے کراچی آپریشن کے حوالے سے جو بد دعا جنرل بلال اکبر کو کراچی میں ایم کیو ایم والے آپریشن کی وجہ سے دی تھی وہ پوری ہو گئی ہے۔۔ویسے تو اس نے بلال اکبرکو اور بھی بہت کچھ کہا تھا اور ایسی گالیاں دی تھیں جنہیں میں یہاں دہرانا مناسب نہیں سمجھتا۔۔۔اگر آپ کو یہ جاننے کا شوق ہے تو اسی سوشل میڈیا پر سرچ کر لیں جس پر یہ بلال اکبر کی گمشدگی والی خبر گردش کر رہی ہے۔


آخر میں میری جرنیلی حکومت کی ترجمانوں والی فوج سے گزارش ہے کہ وہ نواز شریف کی واپسی والے مشن سے کچھ وقت نکال کر اس خبر کی فوری طور پر تردید جاری کریں اور اگر ان کے لئے یہ ممکن نہیں تو کم ازکم ان صحافتی طوائفوں سے ہی تردید کروا دیں جو کہ ان دنوں عاصم سلیم باجوہ کے لئے ٹوئٹس کر رہی ہیں۔۔۔جہاں تک نیم آزاد اخبارات اور ٹی وی چینلز کا تعلق ہے تو وہ بیچارے اس حوالے سے کیا تبصرہ کریں گے کیوں کہ وہ تو اجے دیوگن اور کاجول کی علیحدگی کی خبر کو ٹوئسٹ دینے میں مصروف ہیں۔



2,532 views3 comments