Search
  • RMTV London

کیا امریکہ میں بھی مارشل لا لگنے والا ہے؟۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد 27/03/2020



ٓاج دو بہت ہی اہم امریکی خبروں کے حوالے سے بات کرنی ہے۔۔۔ان دونوں خبروں کو تعلق بھی اسی وبا سے ہے جو کہ اس وقت پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی پھیل رہی ہے۔


ٓاج کی پہلی امریکی خبر جو کہ برطانوی اخبار میل ٓان لائین نے امریکی جریدے نیوزویک کے حوالے سے دی ہے۔۔۔اس خبر کے مطابق امریکی فوجی منصوبہ بندی کرنے والوں نے اس بات پر غور کیا ہے کہ اگر سیاسی قیادت اس وائرس کا شکار ہو گئی اور ملک کا انتظام چلانا مشکل ہو گیا تو ملک میں مارشل لگایا جا سکتا ہے۔۔۔مارشل لا کی صورت میں فوج کے فور اسٹار جنرل ٹیرنس شاناسی جو کہ کومبیٹنٹ کمانڈر ہیں وہ ملک کی قیادت کریں گے۔


اس خبر کے حوالے سے یہ بھی کہا جا رہا ہےکہ صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے اس فور اسٹار جنرل کے حق میں سیاسی وصیت کی ہے اور انہیں یہ اختیار دیا ہے کہ اگر ملک میں ایسی ہنگامی صورت حال ہو جائے اور موجودہ سیاسی قیادت اور انتظامی قیادت اس وائرس کی وجہ سے کام نہ کر سکے تو وہ ہنگامی صورت حال میں ملک کی قیادت کریں۔۔۔۔بہرحال اب یہ منصوبہ بندی امریکی فوج کی اپنی ہے یا ڈانلڈ ٹرمپ کی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور ایسا لگتا ہے کہ امریکہ بھی مستقبل میں اسی وائرس کا شکار ہو سکتا ہے جو ایک عرصے سے اس نے ہمارے فوجی جرنیلوں میں منتقل کر رکھا ہے۔


پاکستان میں البتہ ابھی تک اس قسم کی کوئی فوجی وصیت حکومت کی طرف سے تیار نہیں ہوئی لیکن ہم چونکہ اس معاملے میں امریکہ سے بہت ٓاگے ہیں اور ہمارے سیاسی سربراہوں کو ہنگامی حالت میں کبھی اس قسم کی وصیت تیار نہیں کرنی پڑتی۔۔۔ ہمارے پاس ہر دور میں ایسے جرنیل ہر گھڑی تیار کامران رہتے ہیں کہ وہ ٓاگے بڑھ کر فوجی مفاد میں حکومت سنبھال لیں۔۔۔اس لئے عمران نیازی کو نہ فکر کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی اپنے اس امریکی باس کے نقش قدم پر چلنے کی کوئی ضرورت ہے کیوں کہ یہاں پر اس کام کے لئے اس وقت مارکیٹ میں ویسے تو دو فور اسٹار جرنیل موجود ہیں لیکن ایک بیچارے کے اسٹارز صرف ڈیکوریشن کے لئے ہیں اور عملی طور پر اس کے پاس وہ وسائل نہیں جن کی مدد سے وہ ٓاگے بڑھ کر پاکستان کی حکومت سنبھال لے۔۔۔اس لئے دوسرا فور اسٹار جرنیل جو کہ اس وقت ایکسٹینشن والے وینٹی لیٹر پر ہے لیکن اس کے باوجود بھی یہ کام وہ کر سکتا ہے اور اس کام کا جذبہ اس کے دل میں بہت عرصے سے ہے لیکن بیچارے کی بد قسمتی ہے کہ بین القوامی حالات اسے اس بات کی اجازت نہیں دے رہے۔۔۔ویسے تو اب اس کے مقامی فوجی حالات بھی اس کے حق میں نہیں لیکن اگر پاکستان کی سیاسی قیادت پر اس وائرس کا حملہ ہو گیا تو پھر یقیننا اس مجاہد کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہو گا کہ وہ میدان میں ٓائے اور جان ہتھیلی پر رکھ کر ملک کا کاروبار اپنے ہاتھ میں لے لے۔


بات کو ٓاگے بڑھانے سے پہلے میں جنرل کرامت کا ایک واقعہ ٓاپ سے شئیر کر دیتا ہوں تا کہ ٓاپ کو بین القوامی حالات والی بات کی زیادہ سمجھ ٓا جائے کہ جنرل باجوہ نے نواز شریف سے مسلسل جنگ کرنے کے باوجود پرویز مشرف ٹو بننے کی کوشش کیوں نہیں کی۔۔۔جنرل کرامت سے سے ایک بار امریکہ میں پاکستانی صحافی نے یہ سوال کیا کہ جب وہ ٓارمی چیف تھے تو انہوں نے حکومت کے ساتھ محاذ ٓارائی کے باوجود مارشل لا کیوں نہیں لگایا۔۔۔ویسے تو یہ سوال بہت بار پہلے بھی جنرل کرامت سے ہو چکا تھا اور وہ ہر بار اس پر غصے کا اظہار کر کے بات ختم کر دیتے تھے لیکن اس صحافی کے سوال کے جواب میں انہوں نے غصے کا اظہار بھی کیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ مارشل لگانا ٓاسان کام نہیں ہے اس کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ عوام میں بے چینی ہو،فوج میں بے چینی ہو اور بین القوامی حالات اس کی اجازت دیتے ہوں۔


جنرل کرامت نے تو مارشل لا کے لئے تین باتوں کی طرف اشارہ کیا لیکن میرے خیال میں ان تینوں میں سے صرف ایک ہی زیادہ اہمیت کی حامل ہے ۔۔۔باقی دو تو بس خانہ پری کے لئے ہیں ۔۔۔ جیسے کہ عوامی بے چینی تو یہ تو کوئی بڑی بات نہیں ہے ا سکے لئے اس قبضہ گروپ کے پاس ایسے وسائل موجود ہیں کہ یہ جب چاہیں کوئی تنازع کھڑا کرکے عوامی بے چینی پیدا کر سکتے ہیں۔۔۔کچھ نہ ہو تو یہ اس کام کے لئے مذہب والا کارڈ تو کسی بھی وقت استعمال کر سکتے ہیں۔۔۔زوالفقار علی بھٹو کے دور میں نظامِ مصطفے کی تحریک اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔۔۔حالیہ دور میں مولانا خادم رضوی کا دھرنا دیکھ لیں کہ کس طرح انہوں نے اسلام ٓاباد کو بند کر دیا تھا اور پھر جب جرنیلوں کے نمائندے ان کے پاس لفافے لے کر گئے تو وہ دھرنا ٓاسانی دے منتشر ہو گیا تھا۔


رہی بات فوج کی بے چینی تو وہ ایک کور کمانڈر کانفرنس کے اعلامیہ کی مار ہے۔۔۔یہ لوگ جب چاہیں اس حوالے سے فوجی بے چینی کا اظہار کر سکتے ہیں۔۔۔اس کے علاوہ پچھلے دنوں تو انہوں نے ٹوئٹر کےزریعے بھی اس فوجی بے چینی کا کئی بار اظہار کیا تھا۔


اب ٓائیں تیسری اور سب سے اہم بات کی طرف جس کی طرف جنرل کرامت نے اشارہ کیا تھا۔۔بین القوامی حالات اور یہی سب سے اہم شرط ہوتی ہے پاکستان میں مارشل لا لگانے کے لئے۔۔۔۔بد قسمتی سے ابھی تک جنرل باجوہ کو یہ سہولت نہیں ملی ورنہ وہ ایکسٹینشن والی خواری بھگتنے کی بجائے عزیز ہم وطنو والا ٓاسان راستہ اختیار کرتے اور جنرل ضیا کی طرح خود ہی اپنی ایکسٹینشن کے نوٹیفیکشین جاری کرتے رہتے۔


پاکستان کی موجودہ صورتحال میں اب کسی حد تک دو شرائط پوری ہو چکی ہیں۔۔۔اب تیسری شرط کے لئے بھی راستہ ہموار ہوتا ہوا نظر ٓا رہا ہے۔۔۔ ڈانلڈ ٹرمپ نے جو اپنے فور اسٹار جنرل کے حوالے سے جو وصیت کی ہے ۔۔۔اگر اس وصیت پر عمل درآمد کا وقت ٓا گیا تو پھر سمجھ لیں کہ قمرونہ وائرس تین سال سے کہیں زیادہ عرصے کے لئے پاکستان کواس وقت چمٹا رہے گا جب تک کہ فوج کے اپنے ساائنسدان اس کے لئے کوئی ویکیسن ایجاد نہیں کر لیتے۔۔۔پاکستان کی سیاسی جماعتیں تو اس وائرس سے نمٹنے کے لئے کسی طرح کی انقلابی جدو جہد کے لئے تیار نہیں ہیں۔۔۔انہیں جرنیلوں کے ساتھ پارٹنر شپ میں حکومت کرنے کی عادت ہو گئی ہے چاہے وہ اس پارٹنر شپ کے سلیپنگ پارٹنر ہی کیوں نہ ہوں۔


البتہ پاکستان کے لوگوں کے پاس یہ ٓاپشن اب بھی موجود ہے کہ وہ جب گھروں میں رہ کر کورونا سے نمٹ لیں تو پھر گلیوں اور سڑکوں پر ٓا کر قمرونا وائرس سے بھی پاکستان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پاک کر دیں۔


اب بات کر لیتے ہیں امریکہ سے ٓانے والی دوسری خبر کی اور یہ ایک اچھی خبر ہے۔۔۔اس خبر میں پوری دنیا کے لئے اور خاص کر ان لوگوں کے لئے جو اس وقت پاکستان میں کورونا کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔۔۔عمران نیازی اور اس کے درباریوں کو تو چونکہ اس وقت سیاسی جماعتوں اور اپنے جرنیلی حریفوں سے لڑنے سے ہی فرصت نہیں اس لئے انہیں اس خبر کی طرف توجہ کر کے وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔وہ جو انتقامی گنڈاسا چلا رہے ہیں۔۔چلاتے رہیں اور کوشش کریں کہ شاہد خاقان عباسی کو جلد از جلد دوبارہ نیب کے ٓائسو لیشن سنٹر میں بھیج دیں۔


خبر یہ ہے کہ امریکی ریاست میسا چوسٹس نے اپنے چار میڈیکل اسکولز سے کہا ہے کہ فورتھ ائر کے جو میڈیکل طلبا ہیں انہیں جلدی گریجویٹ کر دیں تا کہ یہ ڈاکٹر فوری طور پر میدان میں ٓا کر اس وبا سے نمٹنے کے لئے حکومت کا ہاتھ بٹا سکیں۔


پاکستان میں بھی اس وقت طبی عملے کی بہت کمی ہے اور اس امریکی قدم کے بارے میں ہمیں بھی غور کرنا چاہئے اور اگر کورونا واریرز کو مناسب لگے توپاکستانی میڈیکل کالجز اور نرسنگ کالجز میں ان سب طلبا اور طالبات کو جو کہ اپنی تعلیم کے ٓاخری مرحلے میں ہیں انہیں قبل از وقت ڈگریاں دے کر میدان میں اتار دینا چاہئے۔


اس وقت پاکستان کو ٹینکوں اور توپوں کو چلانے والے مجاہدوں کی ضرورت نہیں بلکہ ان سفید وردی والے مجاہدوں کی ضرورت ہے جو اس وقت اگلے مورچے میں جا کر یہ جنگ لڑیں اور کامیابی حاصل کریں۔


کل میں نے ایک تصویر دیکھی جس میں دو پولیس والے ایک ڈاکٹر کو سلیوٹ کر رہے تھے۔۔۔یہ دیکھ کر مجھے بہت اچھا لگا۔۔۔اس وقت اسی جذبے کی ضرورت ہے ۔۔۔پوری دنیا اپنے طبی عملے کو گھروں کی بالکنیوں میں کھڑے ہو کر تالیاں بجا کر خراج تحسین پیش کر رہی ہے۔۔۔ٓاپ بھی اس حوالے سے میدان میں ٓائیں اور ان اصلی مجاہدوں کے لئے تالیاں بھی بجائیں اور ترانے بھی گائیں۔


میں نے یہ فوٹو سوشل میڈیا پر شئیر بھی کی اور ان پولیس والوں کی تعریف کی اور ساتھ ہی ان بندوق والوں کی ناقدری پر بھی تنقید کی۔۔۔جس پر بہت سارے ٓائی ایس پی ٓار کے تنخواہ دار مجاہدین نے کہا ہے کہ فوجی کے پاس جب اسلحہ ہو تو ہو سلیوٹ نہیں کر سکتا۔


ان سب دیہاڑی داروں سے یہی کہنا ہے کہ ان بندوق برداروں میں کے دماغ میں یہ بات بھی ڈال دیں کہ وہ اس وقت بارڈر پر نہیں ہیں اور نہ ہی وہ یہ جنگ ان ڈاکٹروں کی طرح لڑ رہے ہیں۔۔۔اس لئے اچھی بات یہ ہوگی کہ ایسے موقعوں پر اگر ہتھیار سمت سلیوٹ نہیں کر سکتے تو ہتھیار ایک طرف ڈال کر ہی سلیوٹ کر کے ان سفید وردی والے ڈاکٹر مجاہدین کی حوصلہ افزائی کر دیا لریں۔۔۔امید ہے اب یہ لوگ مجھ سے ہتھیار ڈالنے کا طریقہ نہیں پوچھیں گے اور اگر پھر بھی انہیں ایسی معلومات کی ضرورت ہے تو نیازی جونیر سے پوچھ لیں اس کے ایک بڑے نے مشرقی پاکستان میں یہ کارنامہ انجام دے رکھا ہے۔

2,013 views