Search

کرپشن کا ورلڈکپ اور عمران نیازی۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔24/01/2020


ٓاج گپ شپ کے لئے مواد تو بہت زیادہ ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک بار پھر عمران نیازی نے پاکستان سے باہر جا کر منہ کھولا ہے اور ایسے لطیفے سنائے ہیں جن کو سن کر سوائے شاہ دولہ کے چوہوں کے ساری دنیا بہت ہنس رہی ہے۔۔۔میں اس بہت ہنسنے کی وضاحت اپنے پیمانے سے کر دیتا ہوں کہ میں ان دنوں سب سے زیادہ اس وقت ہنستا ہوں جب میں کپیل شرما کا کامیڈی شو دیکھتا ہوں لیکن میں اس سے زیادہ اس وقت ہنسا اور اتنا ہنسا کہ میرے ٓانسو نکل ٓائے جب میں نے عمران نیازی کو دنیا بھر کے رہنماوں کے سامنے وہ کچھ کہتے ہوئے سنا جس کا ٓاسان زبان میں مفہوم یہ ہے کہ میں نے سبابقہ حکومتوں کی طرح پاکستانی جرنیلوں کو دبانے کی کوشش نہیں کی بلکہ میں انہیں خوش رکھنے کے لئے ہر وقت فیصل واوڈا جیسے پالشیوں کے ساتھ ٹیم کی شکل میں ان کے بوٹ پالش کرتا رہتا ہوں اس لئے میری حکومت بہت مضبوط ہے اور میں نے ملک میں فوجی ڈنڈے کی مدد سے کرپشن بھی کم کر دی ہے۔

عمران نیازی کے اس لطیفے کو میں نے تو زیادہ اہمیت نہیں دی لیکن ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل والوں نے ایسا لگتا ہے کہ اس بات کو دل پر لے لیا یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انہوں نےلندن جا کر شریف برادران سے لفافہ وصول کر لیا ہو اور پوری دنیا کے سامنے عمرانی حکومت کی کرپشن میں ترقی والی رپورٹ جاری کر کے عمران نیازی کی وہ والی بِستی کر دی جسے وہ محسوس کرنے والی صلاحیت لے کر ہی پیدا نہیں ہوا۔۔۔میری نظر میں یہ صرف عمران نیازی کی بستی نہیں تھی بلکہ یہ اس قبضہ گروپ جس کی کمانڈ اس وقت جنرل باجوہ کے پاس ہے یہ ان سب کی بستی ہے لیکن یہ سارے چونکہ ایک ہی فوجی فیکٹری میں اسمبل ہوئے ہیں اس لئے انہیں پنجابی کے اس محاورے کے مطابق لتھی چڑھی کی کوئی فکر نہیں اور یہ سارے اس وقت اپنی کانفرنسوں میں اس بات پر غور کرنے میں لگے ہوئے ہیں کہ پاکستان پر تاحیات قبضہ برقرار رکھنے کے لئے عمران نیازی کی جگہ فوجی جوتے رگڑ کو کونسا جن نکالا جائے جو عمران نیازی کے جانے کے بعد اس کی کمی محسوس نہ ہونے دے اور قبضہ گروپ کے گلشن کا کاروبار اسی طرح چلتا رہے۔

عمران نیازی اور قبضہ گروپ پر ٓاج میں نے زیادہ بات نہیں کرنی کیونکہ مجھے ٓاپ کے ساتھ دو اچھی باتیں شئیر کرنی ہیں۔۔۔سب سے پہلے تو ٓاپ سب کا شکریہ اور ٓاپ سب کو بھی بہت بہت مبارک ۔۔۔ٓار ایم ٹی وی لندن کے سبسکرائبر کی تعداد اب ایک لاکھ والا پہلا ہدف عبور کر چکی ہے۔۔۔یہ ایک بہت ہی حوصلہ بڑھانے والی بات ہے اور اس میں سب سے زیادہ حصہ ٓاپ لوگوں کا ہے جو اتنی محبت اور توجہ کے ساتھ ہمارے پروگرام کو دیکھتے ہیں۔۔۔اسے پسند کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ شئیر بھی کرتے ہیں۔

سنا ہے کہ قبضہ گروپ جس نے پاکستان کے سارے میڈیا کو اپنے شکنجے میں لے رکھا ہے وہ اب سوشل میڈیا پر بھی چڑھائی کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔۔۔فیس بک کی انتظامیہ اس حوالے سے کمزور ہے اور وہ اس قبضہ گروپ کے تنخواہ دار مجاہدوں کی جھوٹی سچی شکایتوں پر اکژ حرکت میں ٓا جاتی ہے لیکن ٹوئٹر اور یوٹیوب ان کے ڈنڈے سے اس طرح بالکل خوف نہیں کھاتے جس طرح پاکستانی میڈیا میں کام کرنے والے اور ان چینلز کے مالکان خوف کھاتے ہیں۔۔۔ شنید یہ بھی ہے کہ قبضہ گروپ نے یوٹیوب پر فوجی ایجنڈے کے مخالفین کو کنٹرول کرنے کے لئے پیمرا کو کچھ ہدایات جاری کر دی ہیں۔

بہرحال ہم نے اسی لئے اپنی ویبسائٹ ٓار ایم ٹی وی لندن بنا دی ہے ۔۔۔فیسبک انسٹا گرام اور یوٹیوب پر ہم اپنی ویڈیوز اور کالم اپلوڈ کرتے رہیں گے لیکن جب بھی کوئی دشواری پیش ٓائی تو ہمارے پاس اپنی ویبسائٹ والا ہتھیار موجود ہے جسے ہم اس قبضہ گروپ کو بے نقاب کرنے کے لئے اب بھی استعمال کر رہے ہیں اور مستقبل میں بھی کرتے رہیں گے۔۔۔ٓاپ لوگ ہماری ویبسائٹ پر لاگ ان کر کے سائٹ ممبر بن جائیں تا کہ ہماری اور ٓاپ کی رشتہ داری میں کوئی عمران نیازی حائل نہ ہو سکے۔

اس ویب سائٹ پر ہم تمام سائٹ ممبران کو یہ سہولت بھی دیں گے کہ وہ ویڈیو کلپس اور اپنی تحریریں بھی اپلوڈ کر سکیں۔۔۔اس لئے ٓاپ سب ہماری ویبسائٹ پر ٓاج ہی وزٹ بھی کریں اور اپنا اکاونٹ بھی بنا لیں ۔۔۔اس ویبسائٹ پر ٓاپ کو فوجی ایجنڈے کے خلاف لکھنے اور بولنے والے شرپسندوں کے پروگرام بھی دیکھنے کو ملیں گے۔۔۔ہماری کوشش ہے کہ انٹرنیٹ پر آر ایم ٹی وی لندن کی شکل میں ایک ایسا فورم بنا دیا جائے جس پر ان سب لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ رکھنے میں مدد ملے جنہیں اس وقت قبضہ گروپ کی سنسر شپ کی وجہ سے پاکستان اور دنیا بھر کے لوگوں تک اپنی ٓاواز پہنچانے میں دشواری پیش ٓا رہی ہے۔

میں نے ٓاپ سے دو اچھی باتیں شئیر کرنے کا کہا تھا تو دوسری اچھی خبر یہ ہے کہ ایڈووکیٹ انعام الرحیم جنہیں ایک پچھلے ماہ قبضہ گروپ کی خفیہ ایجنسی نے اغوا کر لیا تھا۔۔۔وہ اب خیریت سے اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔۔۔ابھی انہوں نے میڈیا سے گفتگو نہیں کی اس لئے ان کی حراست کے دوران ہونے والے واقعات کی تفصیل ابھی سامنے نہیں ٓائی۔

انعام الرحیم صاحب کی حراست کے حوالے سے بھی قبضہ گروپ نے بہت بڑا یوٹرن لیا ہے۔۔۔چند روز پہلے سپریم کورٹ کے سامنے فوجی حکومت کے نمائندے نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ انعام الرحیم صاحب جاسوس ہیں۔۔۔ان کے لیپ ٹاپ سے ایٹمی ہتھیاروں کے متعلق حساس معلومات ملی ہیں اور یہ ایک پورے جاسوسی نیٹ ورک کا حصہ ہیں اس لئے ان کا فوجی حراست میں رہنا ضروری ہے۔

لیکن دو روز قبل اسی فوجی نمائندے نے سپریم کورٹ سے کہا کہ فوجی حکومت انعام الرحیم صاحب کو رہا کرنا چاہتی ہے کیونکہ ان کی صحت بہت خراب ہو چکی ہے اور انہیں کئی بار ہسپتال بھی لے جایا جا چکا ہے۔۔۔ساتھ ہی فوجی حکومت کے نمائندے نے ان کی رہائی کے لئے چند شرائط بھی بتا دیں۔۔۔ان شرائط میں سے ایک مضحکہ خیز شرط یہ تھی کہ انعام الرحیم صاحب اپنے لیپ ٹاپ کا پاس ورڈ تفتیش کرنے والوں کے ساتھ شئیر کریں۔۔۔میں نے مطیع اللہ جان کے پروگرام میں بھی اس بات کا زکر سنا کہ اول تو انعام الرحیم صاحب کا کوئی لیپ ٹاپ اغوا کاروں کے پاس نہیں ہے۔۔۔ان کا لیپ ٹاپ گھر پر ہے اور اس پر کوئی پاس ورڈ بھی نہیں ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی ان کا لیپ ٹاپ استعمال کر سکتا ہے۔۔۔۔پھر میں نے اپنے طور پر بھی اس بات کی تصدیق کی ہے اور مجھے یہی بتایا گیا ہے لیپ ٹاپ گھر پر ہی موجود ہے اور اس پر کوئی پاس ورڈ بھی نہیں ہے۔

انعام الرحیم صاحب کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ان کی صحت کے بارے میں بھی قبضہ گروپ کے ایجنٹ کا موقف غلط تھا اور یہ ساری باتیں صرف اس لئے کی گئی تھیں کہ کسی طرح عدالت سے ان کی رہائی کا فیصلہ لے کر اپنی جان چھڑائی جائے۔۔۔میں نے تو بہت دن پہلے یہ بات کی تھی کہ ان کے اغوا سے سپریم کورٹ کے ہتھوڑا گروپ اور قبضہ گروپ نے جو مقدمے خارج کروانے تھے وہ انہوں نے کروا لئے ہیں اس لئے انہیں جلد ہی چھوڑ دیا جائے گا۔

اب اس بات کا انتظار رہے گا کہ ایڈووکیٹ انعام الرحیم اس حوالے سے کب پریس سے بات کرتے ہیں اور کب سپریم کورٹ میں اپنا حق سچ والا Mission Impossible دوبارہ شروع کرتے ہیں۔

78 views1 comment