Search

کاکول کے مدرسے کے طالبان اور نہتے عوام ۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد 18/05/2020


ٓاج کا کھریاں کھریاں مشتمل ہے ٓاپ کی طرف سے ٓائے ہوئے چند سوالات پر۔۔ایک صاحب نے کہا ہے کہ کھریاں کھریاں میں جو ایف اے پاس جرنیلوں کی بات کی گئی ہے وہ درست نہیں ہے۔۔۔اس وقت جو جرنیل پاکستان پر حکومت کر رہے ہیں یہ اس دور کے ہیں جب کہ کاکول میں میٹرک پاس بچوں کو ٹریننگ دی جاتی تھی۔۔۔ایف اے پاس جرنیلوں کی ابھی باری نہیں ٓائی۔

سب سے پہلے تو ان صاحب کا بہت شکریہ کہ انہوں نے میری غلطی کی نشاندہی کی۔۔۔ ہاپ کی میٹرک پاس جرنیل والی بات سے مجھے ٹی وی ڈرامے اندھیرا اجالا کا وہ کردار یاد ٓا گیا جس کا تکیہ کلام تھا ۔۔۔داہ جماعتاں پاس ٓاں تے ڈائرکٹ حوالدار ٓاں۔۔۔مجھے امید ہے کہ ٓاپ نے سلطان کھوسٹ کا یہ حوالدار کرم داد والا کردار ضرور دیکھا ہوگا۔


میں نے جس جرنیل کے ایف اے پاس ہونے کی بات کی تھی وہ بھی اسی پولیس والےکی اپنی پینٹ کو اوپر نیچے کرتے ہوئے نجی محفلوں میں یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ ایک بار میں ان سیاستدانوں سے نمٹ لوں۔۔۔پھر میں اس ملک کی معاشی صحت کو بھی ٹھیک کر لوں گا۔۔۔یہ میرے لئے کوئی بڑا مسئلہ نہیں کیوں کہ میں نے ایف اے میں اکنامکس پڑھی ہوئی ہے۔

جہاں تک موجودہ جرنیلوں کے میٹرک پاس ہونے کا تعلق ہے تو یقینا ٓاپ کی معلومات درست ہوں گی لیکن یہ میٹرک پاس جرنیل جو کچھ یہ پاکستان کا حشر کر رہے ہیں۔۔۔کل کو اگر ایف اے پاس والے ٓا جائیں گے تو وہ بھی یہی کچھ کریں گے۔۔۔چاہے ان کی بنیادی تعلیم میٹرک ہو یا ایف اے۔۔۔ان کو شجاعت اور صداقت کا جو سبق کاکول اکیڈمی میں حفظ کروایا جاتا ہے۔۔۔ساری خرابی کی جڑ اس نصاب میں ہے۔۔۔اس اکیڈمی میں پڑھنے والے طالبان چاہے میٹرک پاس کر کے ٓائیں یا ایف اے۔۔۔اس اکیڈمی کا درس نظامی مکمل کرنے کے بعد وہ پرویز مشرف اور جنرل باجوہ ہی بنتے ہیں۔


ایک اور سوال یہ پوچھا گیا ہے کہ جب پاکستان کے بڑے بڑے لیڈر اس قبضہ مافیا کے سامنے ڈھیر ہو گئے ہیں تو پھر ہم عوام جو کہ سب کچھ سمجھتے ہیں لیکن بے بس ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف کوئی تحریک کیسے چلا سکتے ہیں۔

ان صاحب سے میری درخواست ہے کہ بطور مسلمان ہمارا عقیدہ ہے کہ جنت ہمیں اسی صورت میں مل سکتی ہے جب کہ ہم نے نیک اعمال کئے ہوں۔۔۔اسلام کی تعلیمات پر عمل کیا ہو اور ہمیں موت سے ڈر بھی نہ لگتا ہو۔۔۔پنجابی میں ہم کہتے ہیں۔۔۔اپنے مریاں بغیر جنت وی نئیں ملدی

پاکستان کی جو صورت حال ہے اس میں تبدیلی بھی اسی صورت میں ممکن ہے جب پاکستان کے عوام پاکستان کو جنت بنانے کے لئے انفرادی قربانی دینے کے لئے تیار ہوں گے۔۔۔ٓاپ نے یقیننا حضرت موسی کی قوم کا وہ واقعہ قران مجید میں پڑھا ہو گا جب انہیں کہا گیا کہ وہ اس شہر میں داخل ہو جائیں۔۔۔اللہ ان کی مدد کرے گا اور کامیابی ان کے قدم چومے گی لیکن ان لوگوں نے حضرت موسی کی بات ماننے سے انکار کردیا اور کہا کہ اس شہر میں ایک بہت ہی طاقتور قوم بستی ہے۔۔۔ہم ان سے مقابلہ نہیں کر سکتے۔۔۔ٓاپ اور ٓاپ کا خدا جائیں اور ان کو اس شہر سے نکالیں اور پھر ہم اس شہر میں داخل ہوں گے۔۔۔۔اس قوم کو اس نافرمانی پر پھر سزا یہ ملی کہ وہ چالیس سال تک زلیل اور رسوا ہوتی رہی اور صحرا میں بھٹکتی رہی۔


یہی حال پاکستان میں ہے۔۔۔عوام چاہتی ہے کہ ان کے رہنما قربانیاں دیں اور ملک کو قبضہ گروپ سے ٓازاد کروا کر ان کے حوالے کر دیں۔۔۔ایسا ہر گز ممکن نہیں ہے۔۔۔نہ تو اس وقت پاکستان کی بڑی جماعتوں کے پاس ایسی دلیر قیادت موجود ہے جو کشتیاں جلا کر مقابلے میں ٓا جائے اور نہ ہی اس قیادت کو عوام پر زیادہ بھروسہ ہے۔

پچھلے دنوں نواز شریف اور اس کی بیٹی نے اس قبضہ گروپ کا بہت مقابلہ کیا لیکن انہیں اپنی جماعت کے کچھ لیڈروں اور عوام کی طرف سے مطلوبہ سپورٹ نہیں ملی۔۔۔اسی طرح مولانا فضل الرحمان نے ایک کاوش کی تھی۔۔۔زبردست تحریک چلائی لیکن پنجاب کے عوام نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔۔۔اگر پنجاب کے لوگ اس موقعے پر ن لیگ کی قیادت کی طرف دیکھنے کی بجائے اسے اپنی قومی زمہ داری سمجھ کر میدان میں ٓا جاتے تو اس وقت ملک کا نقشہ کافی حد تک تبدیل ہو چکا ہوتا۔۔۔نہ صرف نکا بلکہ نکے کا ابا بھی دنیا کے کسی اور جزیرے میں فوج میلہ کر رہا ہوتا۔


بہر کیف میری زاتی رائے میں تو پاکستانی عوام کو اپنے اندر کا لیڈر بیدار کرنا ہوگا۔۔۔گلی محلے اور شہر کی سطح پر کام کرنا ہوگا ۔۔۔جب ملک میں بائیس کروڑ لیڈر گلیوں اور سڑکوں پر جدوجہد کریں گے تو پھر قبضہ گروپ ان سب کو نہ تو مار سکتا ہے اور نہ نواز شریف اور اس کی بیٹی کی طرح سب کو کوٹ لکھپت میں بند کر سکتا ہے۔۔۔تمام لوگوں کو عوامی سطح پر ایک دوسرے کےساتھ جڑنا ہوگا اور اس بات پر ایمان رکھنا ہوگا کہ جنت اپنے مریاں بغیر نئیں ملدی۔۔۔۔جب یہ صورت حال پیدا ہو جائے گی۔۔۔عوامی جدوجہد شروع ہو جائے گی تو چھوٹی بڑی ساری سیاسی جماعتوں کی لیڈر شپ بھی اپنا اپنا لشکر لے کر میدان میں اتر ٓائے گی۔


دو روز پہلے پاکستان میں اہل تشعیع نے ماتمی جلوس نکالے۔۔۔ایک جلوس پر کالی وردی والوں نے ڈانگ سوٹا کرنے کی کوشش کی لیکن اس جلوس کے شرکا نے بڑی بہادری کا مظاہرہ کیا اور جوابی کاروائی کی۔۔۔جس کے نتیجے میں یہ کالی وردی والے میدان چھوڑ کر بھاگ گئے اور جلوس اپنی منزل کی طرف بڑھتا چلا گیا۔۔۔ایسا ہی ایک جلوس اور بھی نکلا۔۔۔اس جلوس کے راستے میں خاکی وردی والے تھے لیکن انہوں نے اس جلوس کا راستہ روکنے کی بجائے اس کے ساتھ پورا تعاون کیا اور یہ جلوس بھی اپنی منزل مقصود کی طرف سفر کرتا رہا۔

اب یہاں ٓاپ کے سوچنے والی بات یہ ہے کہ ان جلوس کے شرکا میں ایسا کیا جذبہ تھا۔۔۔ان کی تربیت کس نے کی تھی۔۔۔انہیں ان وردی والوں سے خوف کیوں نہیں ٓایا۔۔۔اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کالی وردی والوں نے ڈانگ سوٹا کیوں کیا اور خاکی وردی والوں نے ان کے ساتھ تعاون کیوں کیا۔

اگر ٓاپ ان سوالوں کے جواب ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جائیں تو ٓاپ کو سمجھ ٓا جائے گی کہ پاکستان کو جنت بنانے کے لئے ٓاپ کو اور ٓاپ جیسے دوسرے لوگوں کو کس طرح عملی جدو جہد کرنی ہے۔

ڈاکٹر وحید احمد کا ایک بہت ہی اچھا شعر ہے

خنجر بکف ہجوم غلاماں ہے منتظر

آقا کبھی حصار سے باہر بھی ٓائے گا

ٓاپ لوگوں کو بھی ظالم آقاوں سے نجات کے لئے غلاموں کی طرح خود کچھ کرنا ہوگا۔۔۔اور ٓاپ کی خوش قسمتی ہے کہ ٓاپ کے ٓاقا اتنے بزدل اور کمزور ہیں کہ ان پر کسی خنجر کا وار کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ایک بار ٓاپ کا ہجوم ان کی چھاونیوں کی طرف رواں دواں ہو گیا تو پھر یہ کالی وردی والوں کی طرح ٓاپ سے ڈانگ سوٹا نہیں کرٰن گے بلکہ ٓاپ کے ساتھ اسی طرح تعاون کریں گے جس طرح ماتمی جلوس کے ساتھ خاکی وردی والوں نے چند روز پہلے کیا تھا۔

895 views1 comment