Search

ڈالر اور ریال ڈھونڈنے والے جرنیلوں کے لئے ایرانی وارننگ۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد 09/01/2020







جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن تمام بڑی جماعتوں نے اس طرح منظور کی ہے جس طرح پاکستان میں لوگ کسی بڑے ٓادمی کے عزیز کے جنازے میں شرکت کرتے ہیں تو ان کی کوشش ہوتی ہے کہ جنازے کو زیادہ سے زیادہ کندھا دیا جائے اور خاص کر ایسے موقعوں پر کندھا دیا جائے جب بڑے صاحب نے جنازے کو کندھا دے رکھا ہو تو ٓاگے بڑھ کر انکا بوجھ اپنے کندھے پر لے لیا جائے۔

مولانا فضل الرحمان اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز اور پی ٹی ایم والوں نے جمہوریت کی زندہ لاش کی ٓاخری رسومات میں حصہ نہیں لیا جس کے نتیجے میں یہ لوگ یقیننا اس ثواب سے محروم رہیں گے جو کہ اب ن لیک اور پی پی کو ملنے والا ہے لیکن ان لوگوں نے بہت اچھا فیصلہ کیا ہے اور پاکستانیوں کو بتایا ہے کہ قبضہ گروپ سے ٹکرانا ان بڑی جماعتوں کے بس کی بات نہیں ۔۔۔یہ جنگ وہی لوگ لڑ سکتے ہیں جن کے پاس جو کچھ بھی ہو وہ اسے لٹانے کے لئے تیار ہوں۔

ٓارمی ایکٹ میں ترمیم کی کاروائی جس انداز سے ہوئی اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ابھی قبضہ گروپ کو اپنی کامیابی کا پورا یقین نہیں ہے۔۔۔ن لیگ اور پی پی نے اس حوالے سے ہر طرح کی سہولت دینے کا اقرار کر رکھا تھا اور عمران نیازی تو پہلے سے ہی جنرل باجوہ کی وردی کو استری کرنے اور بوٹ پالش کرنے میں لگا ہوا تھا تو ایسے میں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اس فوجی مشق کے ناکام ہونے کا بظاہر کوئی اندیشہ نہیں تھا لیکن اس کے باوجود جس تیزی کے ساتھ ساری کاروائی کو مکمل کیا گیا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ ابھی جنرل باجوہ کے راستے میں کچھ بارودی سرنگیں موجود ہیں۔

ان سرنگوں کا مجھے اور ٓاپ کو پتہ نہیں لیکن جنرل باجوہ اینڈ کمپنی کو ان کا اچھی طرح اندازہ ہے۔۔۔سینیٹ کی کاروائی جب ٹی وی پر کاروائی نشر کی جا رہی تھی تو اس وقت جن سینیٹرز نے چئرمین کے کہنے پر اس بل کی حمایت میں یس کہا تو اسے نشر بھی کیا گیا بلکہ اس میں ساونڈ افیکٹ لگا کر ٓاواز کو اور اونچا کیا گیا لیکن جب اگلے ہی لمحے چئیرمین سینیٹ نے ان سینیڑز کو ٓاواز بلند کرنے کا کہا جنہیں اس بل پر اعتراض تھا اور انہوں نے نو کہا تو ساتھ ہی فوجی ٹی وی چینل چارلی چپلن کی گونگی فلم بن گیا اور دیکھنے والوں کو پتہ نہ چل سکا کہ کتنے سینٹرز جنرل باجوہ کی اس ضربِ ایکسٹینشن کے خلاف ہیں۔۔۔قبضہ گروپ کی یہ حرکت بتا رہی ہے کہ ابھی بھی انہیں اپنی کامیابی کا یقین نہیں ہے اور یہ اندر سے خوفزدہ ہیں۔

قبضہ گروپ کے خوفزدہ ہونے کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ انہوں نے ابھی تک سپریم کورٹ سے اپنی ریویو پٹیشن کو بھی واپس نہیں لیا کیونکہ انہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ پارلیمنٹ سے ہونے والی قانون سازی کی ان لوگوں کے لئے کوئی حیثیت نہیں ہے جو جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کے خلاف بھی ہیں اور انہیں ایکس چیف کہنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔۔۔یہ لوگ اس سارے عمل کو سبوتاژ کرنے کے لئے ایک بار پھر عدالت میں جا سکتے ہیں۔۔۔اس بل کو قانونی چیلینجز سے بچانے کی شق بھی اسے عدالت میں جانے سے نہیں روک سکتی بلکہ یہی شق اس کو چیلینج کرنے کی سب سے اچھی گراونڈ فراہم کرے گی۔

ٓاج لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بنچ نے قبضہ گروپ کے لئے خطرے کی ایک اور گھنٹی بجا دی ہے۔۔۔قبضہ گروپ نے تین ہفتوں سے ایک وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کو اغوا کر رکھا تھا۔۔۔اس کیس کی تفصیل میں پہلے بھی بتا چکا ہوں اس لئے صرف اتنا بتا دیتا ہوں کہ ٓاج ہائی کورٹ کے جسٹس مرزا وقاص روف نے اس حراست کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ انعام الرحیم صاحب کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔۔۔قبضہ گروپ کے وکیل نے بہت کوشش کی اور فوجی مفاد میں عدالت کو کئی گھنٹے تک اس وکیل کی حراست کی فوجی برکات گنوائیں اور کہا کہ اس نے ٓافیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی ہے اور اس کے خلاف بہت حساس معاملات پر تحقیقات ہو رہی ہیں اس لئے اس وکیل کو قبضہ گروپ کی حراست میں رہنا ضروری ہے لیکن جستس مرزا وقاص روف نے کہا انہیں اس بات کا جواب نہیں دیا جا رہا کہ انعام الرحیم ایڈوکیٹ کو کس قانون کے تحت گھر سے اٹھایا گیا ہے۔

پرویز مشرف کی سزا کے بعد عدلیہ کی طرف سے قبضہ گروپ کو یہ ایک اور بڑا جھٹکا لگا ہے ۔۔۔پرویز مشرف والے فیصلے نے تو مارشل لگانے والے جرنیلوں کے خواب چکنا چور کئے تھے لیکن اس فیصلے نے تو قبضہ گروپ کے لئے اپنی غیر قانونی حراستی سرگرمیوں کو جاری رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔۔۔اب ایسے تمام لوگ جنہیں فوجی مفاد کے نام پر گھروں سے اغوا کیا جا رہا تھا ان کے لئے اس فیصلے نے ایک امید کی کرن روشن کر دی ہے کہ وہ عدالتوں سے رجوع کر کے انصاف لے سکتے ہیں۔

جسٹس مرزا وقاص روف نے انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اور قبضہ گروپ کے خفیہ دباو کو نظر انداز کرتے ہوئے جو فیصلہ انعام الرحیم صاحب کی غیر قانونی حراست کے حوالے سے دیا ہے اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ عدالتوں میں ثاقب نثار والے جرنیلی ججوں کے علاوہ ایسے ججز بھی موجود ہیں جنہیں اپنے عہدے اور ٓائین اور قانون کی پاسداری عزیز ہے۔۔۔ایسے ہی ججز ٓانے والے دنوں میں جنرل باجوہ کی ضرب ایکسٹینشن پر بھی قانونی ضرب لگائیں گے لیکن اس نیک کام کا آغاز اس وقت ہو گا جب جرنل باجوہ کو ایکس چیف کہنے والے حرکت میں ٓائیں گے۔

ایران امریکہ والی کشیدگی بھی نیا رخ اختیار کر چکی ہے اور ایران نے پاکستانی فوجی حکومت کی طرح امریکی حملے پر اقوام متحدہ میں جا کر تقریری مقابلہ کرنے یا قوم کو جمعے کےجمعے ٓادھا گھنٹا جی ایچ کیو کی طرف منہ کر کے کھڑا ہونے کی بجائے جوابی کاروائی کر دی ہے۔۔۔۔کل دو امریکی اڈوں پر ایران نے میزائل مارے۔۔۔ان میزائلوں سے امریکیوں کو کتنا نقصان ہوا اس کے بارے میں متضاد اطلاعات ہیں۔۔۔امریکی میڈیا تو اسے ایک ناکام حملہ قرار دے رہا ہے لیکن اس حملے نے دنیا کو ایران کے حوالے سے یہ پیغام دے دیا ہے کہ ایرانی چپ نہیں بیٹھیں گے اور اپنے جنرل کی ہلاکت کابدلہ لے کر رہیں گے۔۔۔ اس لئے کوئی بھی ملک اس تنازعے میں فریق بننے سے گریز کرے۔اس حملے کے فورا بعد ڈانلڈ ٹرمپ کی پالیسی میں بھی تبدیلی نظر ٓا رہی ہے اور اس نے جوابی کاروائی کرنے کی بجائے اپنا لہجہ تبدیل کر لیا ہے۔۔۔مجھے اس بگڑتی ہوئی صورتِ حال کے بین القوامی اثرات پر بات کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں اس لئے میں اس کے جو اثرات پاکستان پر پڑیں گے صرف ان کی بات کروں گا۔

میری زاتی رائے میں یہ میزائل ان تمام ملکوں کےلئے بشمول پاکستان ایک وارننگ ہے جو اس کشیدگی سے ڈالر اور ریال کمانے کے منصوبے بنا رہے تھے۔۔۔ایران نے اس بات کا ویسے بھی اعلان کر رکھا ہے کہ وہ ایسے ملکوں کو بھی نشانہ بنائے گا جو امریکہ کا ساتھ دیں گے۔۔۔ایران کے لئے امریکہ کو براہ راست نشانہ بنانا تو ممکن نہیں لیکن اب وہ ایسی کاروائیاں ضرور کریں گے جن سے امریکی مفادات کو زد پہنچے گی۔۔۔ایران افغانستان میں امریکہ کے لئے پریشانیاں پیدا کرے گا جو کہ ہمارے لئے بھی اتنی ہی پریشان کن ہوں گی کیوںکہ ان کے نتیجے میں ہم پر امریکی دباو بھی بڑے گا اور افغانستان سے نکلنے والے شعلے ایک بار پھر پاکستان میں بھی داخل ہو جائیں گے۔

عراق میں صورت حال خراب ہونے سے ہندوستان کے لئے تیل کی امپورٹ بہت مہنگی ہو جائے گی کیونکہ اس کا زیادہ انحصار عراقی تیل پر ہے۔۔۔ہندوستان بھی اپنے اس نقصان پر اگر کوئی رد عمل دے گا تو اس کی لپیٹ میں بھی پاکستان ضرور ٓائے گا۔

ٹوئٹر والے جرنیل نے بیان تو یہی دیا ہے کہ پاکستان کی زمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہو گی لیکن ایسا کرنا ان کے لئے ممکن نہیں ۔۔۔پاکستان کی فوجی تاریخ بتاتی ہے کہ ہم کبھی بھی امریکی فرمائشی جنگ سے دور نہیں رہتے اور اس بار تو عمران نیازی کے سعودی کفیل کو بھی ہماری ضرورت ہے۔۔۔اگر ہم اس کے کہنے پر ملائشیا اور ترکی کو ناراض کر سکتے ہیں تو کیا ایران کے حوالے سے اس کی مدد نہیں کریں گے۔

پاکستان کی فوجی حکومت کے لئے امریکہ کے ٓاگے لم لیٹ ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں اور وہ بھی ایسے میں جب کہ جی ایچ کیو پر بیک وقت ریال اور ڈالر والی موسلا دھار بارش ہونے کا امکان دکھائی دے رہا ہو۔

اس بین القوامی تنازعے سے سب سے زیادہ نقصان عمران نیازی کو پہنچ رہا ہے۔۔۔اس کے مسلم امہ کے لیڈر بننے والے سارے خواب چکنا چور ہو گئے ہیں۔۔۔ان دنوں وہ اتنا بے بس اور لاچار ہو گیا ہے کہ وہ ان بین القوامی معاملات پر بیان بھی جاری نہیں کر سکتا۔۔۔پہلے ٹوئٹر والے جرنیل نے فوجی پالیسی کا اعلان کیا تو اس کےکئی روز بعد عمران نیازی نے اسی اسکرپٹ کو اپنی ٹوئٹ میں نقل کر دیا۔۔۔عمران نیازی نے سعودی شہزادے کے ساتھ جتنے مراسم بنا رکھے تھا اسے اب تک وہاں کے کئی دورے کر لینے چاہئے تھے۔۔۔ایران والوں کو اس نے گھر جا کر ثالثی کی پیشکش کی تھی لیکن اب یہ ایرانی حکومت کو فون کال تک نہیں کر سکا۔۔۔۔اس کا احتساب والا مشن بھی مکمل طور پر ٓاوٹ ٓاف کنٹرول ہو چکا ہے اور جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن نے اس کے ہاتھ سے احتساب والا کوڑا بھی واپس لے لیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اب یہ کوڑا اس کے ساتھیوں کی طرف رخ کرنے والا ہے۔۔۔فی الحال اس گینگ کا ٹک ٹاک احتساب شروع ہو چکا ہے۔۔۔کل میں نے ہنسنے مسکرنے والی اور عمران نیازی کی روحانی برکات کے قصیدے گانے والی زرتاج گل وزیر کو روتے ہوئے دیکھا۔۔۔نجم سیٹھی کی بیٹی پر مریم نواز پر تہمتیں لگانے والی یہ ٹک ٹاک اسٹار اس بات پر برہم تھی کہ اس کی فیملی لائف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔۔۔فواد چوہدری اور مبشر لقمان میں بھی دنگل اسی ٹک ٹاک احتساب کی کڑی ہے۔۔۔جلد ہی عمران نیازی بھی اسی کی لپیٹ میں آئے گا اور اس بار پاکستان کے فوجی میڈیا کو بھی قبضہ گروپ کی طرف سے پوری ٓازادی ہو گی کہ وہ یہ فلمیں بار بار دکھائے لیکن اس وارننگ کے ساتھ کہ یہ صرف سیاسی بالغان کے لئے ہیں۔


672 views