Search

چھوٹے خاں صاحب اور استاد قمر باجوہ کا راگ کشمیری جہاد۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔04/08/2020


آج مقبوضہ کشمیر میں تبدیلی کی سالگرہ ہے۔۔۔اس تبدیلی پر جسے یومِ استحصال بھی کہا جا رہا ہے، جنرل باجوہ اینڈ سنز نے بظاہر تو بہت واویلا کر رکھا ہے۔۔۔لیکن ان کے تمام دعوے لپ سروس سے ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھے۔۔۔چھوٹی سی وضاحت یہ بھی کر دوں کہ میرا ان سے کوئی ایسا مطالبہ نہیں ہے کہ یہ پنڈی والے مورچے سے نکل کر پڑوسی پر حملہ کر دیں۔۔۔میں صرف ان کی تقریروں اور گیتوں کی روشنی میں بات کر رہا ہوں۔

عمران نیازی نے اقوام متحدہ کی دیواروں سے باتیں کرتے ہوئے بہت بڑھکیں ماری تھیں۔۔۔ایٹمی ہتھیاروں کی طرف اشارہ کیاتھا۔۔۔اس کے گنڈہ پوری شہد بیچنے والے وزیر نے بھی میزائل مارے کی دھمکیاں نہ صرف ہندوستان کو دی تھیں بلکہ دوسرے ملکوں کو بھی خبردار کیا تھا۔۔۔اسی طرح عمران نیازی کے چپڑاسی وزیر نے بھی پاو اور آدھا پاو والے ہتھیاروں کی تڑی لگائی تھی لیکن اب ایک سال ہو گیاہے ۔۔۔قمر باجوہ اینڈ سنز اپنے اپنے دھندے میں مصروف ہے۔۔۔ایک دنیا بھر سے باجوے ڈھونڈ کر انہیں نوکریاں دے رہا ہے۔۔۔اور دوسرا ان لوگوں کو نواز رہا ہے جو اسے حوروں والے ٹیکے لگاتے رہے ہیں یا پھر حوروں اور غلمانوں سے ملاقاتیں کرواتے رہے ہیں۔۔۔باپ بیٹا کو اس بات کی کوئی فکر نہیں کہ ایک سال ہو چلا ہے اور ابھی تک مقبوضہ کشمیر والے ایک بڑی جیل میں قید ہیں۔


عمران نیازی نے کشمیر آزاد کروانے کا ایک نسخہ یہ بھی ایجاد کیا تھا کہ جمعے کے جمعے پاکستان بھر میں لوگ آدھے گھنٹے کے لئے کھڑے ہو کر ہندوستان پر دباو بڑھائیں گے۔۔۔یہ نسخہ بھی ایک ٓادھ جمعے کے بعد استعمال ہونا بند ہو گیا تھا کیونکہ اس سے خلیفہ جی کے ٓارام کے اوقات میں خلل پڑنا شروع ہو گیا تھا ۔۔۔پچھلے دنوں عمران نیازی کے ایک اور امپورٹڈ مشیر نے اسی قسم کا ایک اور نسخہ تجویز کیا ہے اور وہ ہے ایک منٹ کی خاموشی۔۔۔آج اس نسخے کا استعمال ہو گا ۔۔۔یہ امریکی نسخہ ہے ۔۔۔ہو سکتا ہے کام دکھا جائے۔

قمر باجوہ اینڈ سنز دونوں کو ہی سچ بولنے کی عادت نہیں ہے۔۔۔ایک اپنی کرسی کے لئے جرنیلوں کے سامنے لم لیٹ ہے اور دوسرا اپنی ایکسٹینشن کے لئے در در مارا پھرتا ہے۔۔۔اب ٓاپ میں سے کچھ فوجی مطالعہ پاکستان کے ماہر یہ اعتراض کریں گے کہ اس نے تو یہ ایکسٹینشن ڈنڈے کے زور پر جی ایچ کیو میں بیٹھے بیٹھے لے لی تھی اور سیاسی جماعتوں نے یہ ایکسٹینشن اپنے اپنے سیاسی منشور میں لپیٹ کر پیش کی تھی۔۔۔اسے تو نہ پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دینا پڑا اور نہ ہی اس عمارت کے سامنے جہاں پر کسی زمانے میں عمران نیازی کے چیلے شلواریں ڈرائی کیا کرتے تھے۔۔۔تو ان لوگوں کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ گو کہ پاکستانی آرمی چیف پاکستان میں کسی کو جوابدہ نہیں ہوتا لیکن ڈالروں والی سرکار کے سامنے یہ بھی ہر وقت اسی طرح یس سر یس سر کرتا ہے جس طرح ان دنوں عمران نیازی اور اس کے درباری اپنے اپنے جرنیلی فرشتے کے سامنے یس سر یس سر کرتے رہتے ہیں۔


اگر ٓاپ لوگوں نے اسی فوج کے ایک جرنیل حمید گل جو کہ عمران نیازی کا پہلا سیاسی گرو بھی تھا۔۔۔اس کا انٹرویو نہیں دیکھا تو اسے ضرور دیکھٰیں ۔۔۔اس انٹرویو میں قبضہ گروپ کا اپنا جرنیل یہ اعتراف کر رہا ہے کہ پاکستانی فوج کا چیف بنانے میں دوسرے ملکوں کا بھی کردار ہوتا ہے۔۔۔جنرل باجوہ نے بھی اپنی ایکسٹینشن کے لئے بہت سارے غیرملکی پھیرے لگائے تھے اور وہاں سے منظوری ملنے کے بعد اپنے مقامی حریفوں کے ساتھ پنجہ ٓازمائی کی تھی۔۔۔اگر اسے ڈالر والی سرکار کی حمایت حاصل نہ ہوتی تو یہ کبھی بھی اپنے ہی تھری اسٹار جنرل کو اسی طرح لاپتہ کرنے میں کامیاب نہ ہوتا جس طرح یہ پورے ملک میں پاکستانیوں کو لاپتہ کر کے سرکاری مہمان خانوں میں مستقل طور پر رکھ لیتے ہیں۔۔۔یہ بیچارہ تھری اسٹار جنرل بھی ایسے ہی کسی مہمان خان میں ہے اور لگتا ہے کہ جنرل باجوہ کی جرنیلی زندگی میں یہ اسی قید خانے میں رہے گا۔


کشمیر کے حوالے سے سڑکوں کے نام تبدیل کرنے اور پھوکے فائر کرنے کی بجائے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ قمر باجوہ اینڈ سنز پاکستانی عوام کو حقیقت بتا دیتے اور اس بات کا اعتراف کر لیتے کہ ہمارے اندر اب لڑائی جھگڑا کرنے کی سکت نہیں ہے۔۔۔ہمارے لئے بہتر یہی ہے کہ اپنے اندرونی معاملات کی طرف توجہ دیں ۔۔۔ان دونوں باتوں کاعوام کے سامنے اعتراف نہ کرنے کے باوجود دونوں باتیں ابا اور نکا مستقل مزاجی سے کر رہے ہیں لیکن اپنے اپنے مفاد کے مطابق۔۔۔ دونوں ہر موقعہ پر لڑائی جھگڑے سے کوسوں میل دور بھاگتے ہیں۔۔۔کشمیری عوام نے جب کنٹرول لائن پر جانا چاہا تو عمران نیازی نے خصوصی خطاب کر کے انہیں منع کیا اور کہا کہ وقت کا انتظارکریں۔۔۔میں بتاوں گا کہ ایسا کب کرنا ہے لیکن ایک سال ہونے کے باوجود وہ وقت نہ ٓایا ہے اور نہ ٓائے گا۔۔۔اسی طرح جنرل باجوہ نے کشمیری صورت حال کا فائدہ اٹھا کر ایکسٹینشن لینی تھی ۔۔۔وہ اس نے لے لی۔



اب جنرل قمر باجوہ کی پوری توجہ پاکستان کے سیاسی محاذ کی طرف ہے۔۔۔اس کے لشکری کشمیریوں کی خاطر لڑنے کے لئے نہ تو تیار ہیں اور نہ ہی ان کے اندر وہ صلاحیت ہے۔۔۔۔اس لئے یہ اپنی ساری طاقت پاکستان کے اندر جرنیلی ایجنڈے کے مخالفین کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔۔۔قمر باجوہ اینڈ سنز نے عملی طور پر کشمیر کا مسئلہ حل کر دیا ہے،جسے ٓاپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں۔۔۔

ادھر تم ادھر ہم

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یہ اپنے لوگوں کو اعتماد میں لے کر انہیں بتائیں کہ ہم اب ہندوستان سے جنگ لڑنے کے قابل نہیں رہے اور نہ ہی جنگ ہمارے مفاد میں ہے۔۔۔جنگ لڑنے کے لئے ہتھیاروں کی ضرورت ہوتی ہے اور ہتھیاروں کےلئے جس چیز کی ضرورت ہے وہ ساری کی ساری ہم اپنے جرنیلوں کو جزیرے، بنگلے،فاسٹ فوڈ چینز اور پلاٹ خریدنے کے لئے دے دیتے ہیں۔۔۔ایسے میں ہم جنگ کس طرح کر سکتے ہیں۔

بہر حال کشمیر کے حوالے سے بیان بازی چونکہ قمر باجوہ اینڈ سنز کے زاتی مفاد کے لئے ضروری ہے ۔۔۔اس لئے یہ اس دھندے میں اب بھی مصروف ہیں۔۔۔اسی سلسلے میں انہوں نے وہ سریلا ہتھیار بھی لانچ کر دیا ہے جس کو بنانے میں کافی عرصے سے آئی ایس پی آر اور وینا ملک کی برادری کے انجینرز لگے ہوئے تھے۔۔۔اس ہتھیار کے لانچ کرنے سے ہندوستان میں کس حد تک جانی اور مالی نقصان ہو گا یہ تو مجھے پتہ نہیں لیکن قمر باجوہ اینڈ سنز کو اس سے کافی نقصان ہو گیا ہے۔۔۔۔لیکن یہ کوئی مالی نقصان نہیں ہے کیونکہ اس کام میں جو پیسہ استعمال ہوا ہے وہ ٓاپ لوگوں کی جیبوں سے نکلا ہوا ہے۔



سوشل میڈیا پر باپ بیٹے پر جو تنقید ہو رہی ہے اور جس طرح کی جگتیں لگ رہی ہیں۔۔۔پاکستان کی سیاسی اور جرنیلی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔۔۔۔پاکستان ایک سیاسی تھیٹر میں تبدیل ہو گیا ہے۔۔۔یہ جگتیں سوشل میڈیا کی بدولت پوری دنیا میں سفر کر رہی ہیں اور اس کشمیر میں بھی جا رہی ہیں جہاں کے لوگوں کو ہم نے ایک عرصے سے آزادی دلوانے کا لارا لگا رکھا ہے۔

ایک ستم ظریف نے اس نغمے کی پیروڈی کرتے ہوئے اسے کچھ یوں کر دیا ہے

جا چھوڑ دے میری دادی

ایک جگت باز نے تو اسے جا چھوڑ دے میری نانی کر دیا ہے۔۔۔اب یہ دادی کون ہے اور نانی کون ۔۔۔یہ میں نہیں بتا سکتا لیکن اتنا بتا دیتا ہوں کہ نانی اور دادی ایک ہی روحانی شخصیت کے دو روپ ہیں۔

جا چھوڑ دے میری دادی سے پہلے بھی اسی طرح کنٹرول لائین پر ایک صحافتی طوائف نے اونچے سروں میں بہت ہی بے سرے انداز میں گایا تھا

انڈیا جا جا۔۔۔مرے کشمیر سے نکل جا

لیکن نہ تو اس وقت ہندوستان پر اس ناچ گانے کا کوئی اثر ہوا تھا اور نہ ہی اس نئے سریلے ہتھیار کے خوف سے ہندوستان کشمیر کو ٓازاد کرے گا۔۔۔اور یہ بات قمر باجوہ اینڈ سنز کو اچھی طرح پتہ ہے لیکن دونوں اپنا اپنا الو سیدھا کر رہے ہیں ۔۔۔ ایک وزیر اعظم ہاوس میں اپنے نو رتنوں کے ساتھ موج میلہ کر رہا ہے اور دوسرا جی ایچ کیو میں اپنے چور کمانڈروں کے ساتھ فوج میلے میں لگا ہوا ہے۔

آخر میں اپنے کشمیری بھائیوں سے کہنا ہے کہ ان جرنیلی تلوں میں ایک قطرہ تیل بھی نہیں ہے۔۔۔اس لئے قمر باجوہ اینڈ سنز کی طرف دیکھنا چھوڑ دیں۔۔۔یہ تو ایسے چوکیدار ہیں جو ساری رات یہی ٓاواز لگاتے ہیں

جاگدے رہناں تے ساڈے تے نہ رہناں

اور میں ایسا ان کشمیری بھائیوں کی حوصلہ شکنی کے لئے نہیں کہہ رہا۔۔۔بس انہیں حقیقت سے ٓاگاہ کر رہا ہوں کیوں کہ ہمارے ہاں ایک ایسی حکومت ٓا چکی ہے جس کے بارے میں ایک چھوٹا سا لطیفہ سن لیں تو ہنسی بھی ٓائےگی اور بات بھی سمجھ میں آ جائے گی۔

خواجہ سراوں نے اپنی سیاسی پارٹی بنا کر الیکشن میں حصہ لیا۔۔۔ووٹ مانگنے کے لئے جلسوں میں میں ناچتے گاتے اور ٹھمکے لگاتے ہوئے عوام کے ساتھ صرف ایک ہی وعدہ کرتے تھے ۔۔۔جے تہاڈے گھر کاکا ہویا تے حکومت مفت نچے گی

آپ لوگ یوں سمجھ لیں کہ ٓاپ کی تقدیر بھی ایسی ہی ایک پارٹی کے ہاتھ میں ہے۔۔یہ لوگ آپ کے لئے ناچنے گانے اور ٹھمکے لگانے کے علاوہ اور کچھ نہیں کر سکتے


938 views