Search

پی ٹی ایم کے پشتون لیڈر کا پنجاب پولیس پر لسانی حملہ۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد 03/02/2020


پہلے تو مجھے پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما محسن داوڑ سے ایک شکوہ کرنا ہے اور یہ ان سب سے بھی ہے جو کہ پاکستان میں ہر خرابی کی جڑ پنجابی قوم کو قرار دیتے ہیں لیکن اس سے پہلے ایک اچھی خبر یہ ہے کہ محسن داوڑ اور اس کے ساتھ اسلام ٓاباد میں احتجاج کرنے والے مظاہرین کو ٓاج ایک پنجابی جج نے رہا کرنے کا حکم بھی دیا ہے اور ساتھ ہی اس ریاست کی جسے وہ پنجابی ریاست کہتے ہیں اس کی عدالت میں کافی چھترول بھی کی اور اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ ان پڑھے لکھے نوجوانوں پر بغاوت کا مقدمہ کیوں بنایا گیا ہے۔

پنجابی جسٹس اطہر من اللہ نے یہ بھی سوال کیا کہ انتظامیہ نے کس کے کہنے پر یہ غداری کے الزامات ایف ٓائی ٓار میں شامل کئے ہیں لیکن نہتے مظاہرین جن میں خواتین بھی شامل تھیں ان پر لاٹھیاں اور مکے برسانے والے افسران کے پاس اس بات کا حوصلہ نہیں تھا کہ وہ بتا سکیں کہ یہ احکام انہیں پاکستان کے قبضہ گروپ کی طرف سے ٓائے ہیں۔۔۔ان فوجی خچروں کو چونکہ ابھی سرکاری ملازمتوں کے مزے لینے ہیں اس لئے انہوں نے جسٹس کی چھترول بڑے سکون کے ساتھ برداشت کر لی لیکن اپنے اصلی سرپرستوں کے نام لینے سے گریز کیا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے نہ صرف بغاوت والی شق فوری طور پر ہتانے کا حکم دیا لیکن ساتھ ہی تمام گرفتار شدگان کی رہائی میں ٓاسانی کے لئے یہ بھی حکم جاری کر دیا کہ ان سب کو زاتی ضمانت پر رہا کیا جائے تاکہ قبضہ گروپ کے ایجنٹ ان کی رہائی میں مزید رکاوٹ نہ ڈال سکیں۔

اب میں ٓاپ سے یہ وضاحت کر دیتا ہوں کہ میں نے جسٹس اطہر من اللہ کو پنجابی جج کیوں کہا ہے۔۔۔پی ٹی ایم کے رہنما محسن داوڑ جس کی جدوجہد کی میں بہت قدر کرتا ہوں لیکن اس نے ایک جگہ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جب مجھے گرفتار کیا گیا تو گرفتار کرنے والے سپاہی ایک بدشکل پنجابی تھا۔۔۔مجھے محسن داوڑ کی اس بات نے بہت تکلیف پہنچائی ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ اپنی اس با ت پر شرمندگی کا اظہار بھی کرے گا اور اپنے الفاظ بھی واپس لے گا اور اگر اس میں اتنا ظرف نہیں ہے تو پھر اسے کم ازکم یہ بیان ضرور جاری کرنا چاہئے کہ ٓاج ایک پنجابی جج نے ہمارے ساتھ احتجاج کرنے والوں کو ریاستی شکنجے سے ٓازاد کروایا ہے جس کے لئے میں بطور پٹھان ان کا شکر گزار ہوں۔۔۔اب یہ فیصلہ دینے والا جج میری نظر سے تو خوبصورت ہے لیکن یہ میں محسن داوڑ پر چھوڑتا ہوں کہ وہ اس جج کی شکل کے بارے میں کیا کہنا پسند کرے گا۔

میں اس سے پہلے بھی اس حوالے سے بات کر چکا ہوں کہ پاکستان کے مسائل کا سب سے بڑا سبب پاکستان کا قبضہ گروپ ہے اس گروپ میں پنجابیوں کی تعداد اس لئے زیادہ ہے کیوں کہ پاکستان ایک ایسے خطے پر تعمیر کیا گیا ہے جس میں پنجابی قوم کی تعداد سب سے زیادہ ہے اس لئے تعداد کا یہ فرق پاکستان کے ہر شعبے میں نظر ٓاتا ہے ۔

اس کے بر عکس قبضہ گروپ جو کہ تعداد کے اعتبار سے بہت چھوٹا ہے لیکن اس نے پاکستان کے لوگوں کو بہت سارے گروہوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔۔۔یہ تقسیم لسانی بنیادوں پر بھی ہے اور مذہبی بنیادوں پر بھی۔

اس قبضہ گروپ میں ان سارے گروہوں کے لوگ شامل ہیں۔۔۔پنجابی اور پٹھان یہاں پر بھی اکثریت میں ہیں۔۔۔مہاجر بھی اس میں شامل ہیں۔۔۔اسلام کے مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے بھی اس گروپ کا حصہ ہیں لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ مختلف گروہوں کے لوگ جب قبضہ گروپ میں شامل ہوتے ہیں تو ان میں ایک ایسا جرنیلی رشتہ قائم ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ اپنے سارے وہ اختلافات جو یہ پاکستان کے معاشرے سے اپنے ساتھ لے کر قبضہ گروپ میں شامل ہوتے ہیں ۔۔یہ ان سب کو بھول جاتے ہیں اور عہد کر لیتے ہیں کہ یہ جرنیلی مفاد کے لئے مل جل کر کام کریں گے اور کسی قسم کے رنگ نسل زبان اور مذہب کے فرق کو درمیان میں نہیں ٓانے دیں گے۔۔۔یہی وجہ ہے کہ جب پٹھان جرنیل ملک پر قبضہ کرتا ہے تو پنجابی جرنیل اس کا ساتھ دیتے ہیں اور اسی طرح پرویز مشرف مہاجر جرنیل جب دس سال ملک کا بیڑہ غرق کرتا ہے تو پٹھان اور پنجابی جرنیل اس کام میں اس کی مدد کرتے ہیں۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ قبضہ گروپ کے لوگ جب پاکستان کے عوام پر ظلم کرتے ہیں تو وہ اس وقت بطور پنجابی یا پٹھان ظلم نہیں کرتے ۔۔۔انہیں اس بات کا بھی لحاظ نہیں ہوتا کہ ان کے سامنے ان کے اپنے ملک کا شہری ہے جو کہ ان کی زبان بھی بولتا ہے اور اسی صوبے سے تعلق رکھتا ہے جہاں سے ان کا تعلق ہے۔

اس بات کے لئے مثالیں بہت سی دی جا سکتی ہیں لیکن میں صرف ایک حوالہ دے دیتا ہوں کہ قبضہ گروپ کے گُڈ پشتون طالبان سب سے زیادہ ظلم پشتونوں پر ہی کرتے ہیں۔

بد قسمتی یہ ہے کہ پاکستان کے مظلوم عوام نے قبضہ گروپ کے اس ظلم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسے بھی لسانی بنا دیا ہے جس سے ان پر ہونے والے ظلم میں کوئی کمی نہیں ٓار ہی ہے بلکہ ان مظلوموں کے درمیان جو لسانی تقسیم ہے وہ اور گہری ہوتی جارہی ہے جس کا فائدہ صرف اس قبضہ گروپ کو ہے جو پنجابی پٹھان سنی شعیہ ہونے کے باوجود ایک ہی لنگر خانے سے کھانا بھی کھا رہے ہیں اور ملک پر حکومت بھی کر رہے ہیں۔

میری ویڈیوز پر اکژ لوگ اس طرح کے کمنٹس کرتے ہیں جن میں وہ پنجابی قوم کو لعن طعن کرتے ہیں لیکن میں انہیں اس تنقید کا جواب نہیں دیتا لیکن بد شکل پنجابی والی بات چونکہ پی ٹی ایم کے ایک اہم رہنما محسن داوڑ کی زبان سے نکلی ہے جو کہ بہت نقصان دہ ہو سکتی ہے اور اس کا نقصان پنجابیوں سے زیادہ ان لوگوں کو ہو گا جو کہ ظالم کے خلاف لڑائی میں پہلے سے کمزور بھی ہیں اور اپنی اس طرح کی باتوں سے وہ پاکستان کی ایک بڑی ٓابادی کو اپنے سے دور کر رہے ہیں۔

صورتحال کا تقاضا یہ ہے کہ کسی کی انفرادی غلطی کو پوری قوم کے متھے نہ لگایا جائے۔۔۔ٓاپ کو پولیس سے شکایت ہے یا کسی اور ادارے سے تو اس ادارے کا نام لے کر بات کریں نہ کہ اس پر کوئی لسانی مہر لگائیں۔۔۔ایسا کرنے سے ٓاپ پوری قوم کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ وہ نہ تو ٓاپ کا ساتھ دے بلکہ ٓاپ کی پٹائی کرنے والوں کے راستے میں کوئی رکاوٹ بھی نہ ڈالے۔

کراچی کا کاروباری میڈیا یہ کام بڑے اچھے طریقے سے کرتا ٓایا ہے۔۔۔ایم کیو ایم کے لیڈروں نے بھی اسی طرح کی مجروں والی باتیں اسلام ٓاباد میں کی تھیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ کبھی اپنے صوبے سے باہر نہیں نکل سکے اور ٓاج بھی انہوں نے جو دفاتر اپنے ہوم گراونڈ سے باہر بنائے تھے وہ قبرستانوں سے بھی زیادہ ویران ہیں۔

کل ہی ایک پنجابی بلاگر وقاص گورایہ پر ہالینڈ میں اسی قبضہ گروپ کے ایجنٹوں نے حملہ کیا ہے جس قبضہ گروپ کو محسن داوڑ جیسے لوگ پنجابی فوجی کہتے ہیں۔۔۔ پنجابی وقاص گورایہ کو ایک بار پہلے بھی انہیں پنجابی جرنیلوں نے اغوا کیا تھا اور تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور اس کی خوش قسمتی ہےکہ وہ ہالینڈ کا شہری ہے جس کی وجہ سے جان بچا کر ہالینڈ واپس ٓانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔۔۔ان دنوں بھی وہ انہیں پشتونوں کے لیڈر منظور پشتین کی رہائی کے حوالے سے مہم چلا رہا تھا جن پشتونوں کے رہنما محسن داوڑ نے بد شکل پنجابی والی بات کی ہے۔۔۔ٹوئٹر والے پنجابی جرنیل سے جنگ لڑنے والے مجاہدین میں بھی بہت سارے پنجابی شامل تھے اور وقاص گورایہ ان میں سے بہت نمایاں تھا جس نے نہ صرف ٹویٹر والے پنجابی جرنیل کے ہزاروں مجاہدین کو جو کہ منظور پشتین غدار والے ٹرینڈ بناتے تھے ان سب مجاہدین کو ٹوئٹر پر ہر طرح کا جانی مالی نقصان پہنچایا اور اسی کا نتیجہ ہے کہ ٹویٹر والا پنجابی جرنیل اب راولپنڈی میں وینا ملک جیسے فن کاروں کی کمپنی چھوڑ کر اوکاڑہ کے ملٹری فارم میں بھینسوں کی رکھوالی پر لگا دیا گیا ہے۔

۔۔مجھے امید ہے کہ محسن داوڑ کی طرف سے جلد ہی وضاحت ٓا جائے گی تا کہ سوشل میڈیا پر پی ٹی ایم کے لئے ٓاواز اٹھانے والے پنجابی اپنا مشن جاری رکھ سکیں۔

868 views