Search

پرویز مشرف کی سزا پر جنرل باجوہ نعرےبازی کیوں کروا رہا ہے؟

Updated: Dec 24, 2019

مسلسل کئی دنوں سے اندرونی جھڑپوں میں مصروف ٹوئٹر والے جرنیل نے ٓاج اپنی توپوں کا رخ ہندوستان کی طرف کر دیا ہے اور ایک ٹوئٹر میزائل عدالتوں کی بجائے ہندوستان کی طرف پھینکتے ہوئے بتایا ہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی کا سلسلہ جاری ہے۔۔۔ پاک فوج نے اس بھارتی اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دیتے ہوئے بھارت کو جانی نقصان بھی پہنچایا ہے

اور ان کی پوسٹوں کو بھی تباہ کیا ہے۔۔۔ڈی جی آئی ایس پی ٓار نے بھارتی میڈیا کی ان بریکنگ نیوز کو بے بنیاد قرار دیا ہے کہ کرن اور نیلم وادی میں کوئی فائرنگ کا بڑا تبادلہ نہیں ہوا۔


ٹوئٹر جرنیل کی چونکہ اکثر باتیں پاکستان کے اندرونی حالات کے بارے میں ہوتی ہیں اور اگر کبھی بھولے سے یہ بھائی صاحب بیرونی خطرات کی بات بھی کردیں تو ان کا مقصد بھی لوگوں کو خطرات سے ٓاگاہ کرنا نہیں ہوتا بلکہ جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کے لئے جواز تلاش کرنا ہوتا ہے حالانکہ زیادہ تر پاکستانیوں کو پتہ چل گیا ہے کہ ملک میں ایسے کوئی حالات نہیں ہیں کہ جنرل باجوہ کی نوکری میں توسیع کی جائے۔۔۔اگر ایسا کوئی خطرہ ہوتا تو فوج کے سب سے بڑے فوجی عہدے پر فائز جرنیل کو وقت پر ریٹائر کر کےان کی جگہ جنرل ندیم رضا کو ترقی نہ دی جاتی۔۔۔اسی طرح اب تک پاکستان نے جتنی جنگیں لڑی ہیں ان میں پاک فضائیہ کا بہت اہم کردار ہوتا ہے لیکن ان کے چیف کو ایکسٹینشن دینے کی کبھی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔


خیر میں ٹوئٹر والے جرنیل کی اس غیر سیاسی ٹویٹ کی بات کر رہا تھا تو مجھے اس پر ایک شعر یاد ٓا رہا ہے

رندِ خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو

تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو


اس شعر کو سمجھنے میں ٹوئٹر والے جرنیل کو یقیننا دشواری پیش ٓائے گی کیوں کہ اس کا شعر و ادب سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔۔۔اب ٓاپ یقیننا پوچھیں گے کہ یہ بات میں اتنے وثوق سے کیسے کہہ سکتا ہوں کہ اس کا شعر و ادب سے تعلق نہیں تو اس کے لئے ٓاپ اس کی سیلفیاں دیکھ لیں۔۔۔ان میں زیادہ تر وہ لوگ نظر ٓائیں گے جنہیں پاکستان میں کنجر خانے فروغ دینے کا ٹھیکہ ملا ہوا ہے۔۔۔اس کے علاوہ اس کو بھی جنرل پرویز مشرف کی طرح کتوں کے ساتھ فوٹو شوٹ کا بہت شوق ہے۔۔۔ان تصویری سرگرمیوں کو دیکھ کر اور اس کے بنوائے ہوئے ٓائٹم سانگ دیکھ کر ٓاپ بھی یقیننا میری اس بات سے اتفاق کریں گے۔


اسی شعر کے بارے میں مجھے مرحوم احمد ندیم قاسمی کا ایک کالم یاد ٓا رہا ہے جو انہوں نے ایک مرحوم اخبار روزنامہ امروز میں لکھا تھا۔۔۔انہوں نے اپنے کالم میں زکر کیا کہ ایک استاد نے اپنے شاگرد سے کہا کہ وہ اس شعر کی تشریح کرے تو اس شاگرد نے کہا کہ زاہد ایک بڑھئی جسے پنجابی میں ہم ترخان کہتے ہیں اس کا بیٹا تھا۔۔۔وہ اپنے باپ کی دکان میں چیزوں سے چھیڑ چھاڑ کر رہا تھا۔۔۔جب اس نے ایک رندے کو ہاتھ لگایا تو باپ نے اسے کہا کہ اپنے کام سے کام رکھے ۔۔۔اپنا سبق یاد کرے اور اس رندے کو چھیڑنے سے باز رہے۔


ٹوئٹر والے جرنیل کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے ساتھی جرنیلوں کو مشورہ دے کہ وہ اس وقت اپنی اصلی ڈیوٹی کی طرف توجہ کر لیں اور ایک سرٹیفائڈ غدار کو بچانے کے لئے عدالت پر گولہ باری فوری طور پر بند کردیں اور اس بار اپنے سیاسی نظام اور ٓائین کے سامنے ہتھیار ڈال کر دیکھ لیں۔۔۔ان کے حق میں بھی بہتر ہوگا اور اس پاکستان کے لئے بھی جس کے دفاع کے نام پر یہ موج میلہ کر رہے ہیں۔


مولانا فضل الرحمان نے دو روز انتظار کرنے کے بعد ایک بہت ہی دھواں دار پریس کانفرنس کی ہے اور قبضہ گروپ کو وہ باتیں سر عام کہہ دی ہیں جو کہ پاکستان کی بڑی جماعتیں بند کمروں میں کہنے سے بھی گریز کرتی ہیں۔۔۔مولانا نے پاکستانی عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے قبضہ گروپ کو بتا دیا ہے کہ وہ پاکستان کی عدالتوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور قبضہ گروپ کو چاہئے کہ وہ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ پرویز مشرف کی حمایت سے باز رہے۔۔۔ٓاپ لوگوں نے یقیننا مولانا کی یہ پریس کانفرنس دیکھی ہو گی۔۔۔اس پریس کانفرنس کے بعد اب قبضہ گروپ کو ایک بار پھر اسی طرح بیک فٹ پر جانا پڑے گا جس طرح مولانا کے ٓازادی مارچ نے اس قبضہ گروپ کو اور اس کی کٹھ پتلی حکومت کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔مولانا کی عدالتی فیصلے کی حمایت نے یہ پیغام دے دیا ہے کہ اگر قبضہ گروپ کی طرف سے ان عدالتوں کی طرف چڑھائی کی گئی تو پھر میرے مجاہدین ایک بار پھر اپنے گھروں سے باہر نکل ٓائیں گے۔


پشتون تحفظ موومنٹ کے علی وزیر نے پرویز مشرف کی سزا اور اس کے رد عمل اور جرنیلی گروپ کی جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف گولہ باری کے جواب میں ایک زبردست ٹوئٹ کی ہے ۔۔۔علی وزیر نے اپنی ٹوئٹ سے اس قبضہ گروپ کے کان کھولنے کی اچھی کوشش کی ہے اور لکھا ہے کہ شوکت صدیقی اکیلا تھا سائیڈ پہ کر لیا۔۔۔قاضی فائز عیسی کے ساتھ ججز اور وکلا ڈٹ گئے ۔۔۔نہ ہٹا سکے۔۔۔وقار سیٹھ کے ساتھ وکلا ججزسیاستدان اور عوام ہے ۔۔۔کوشش کرو گے تو نتائج کے بارے میں لازمی سوچنا۔۔۔ہمارا کام مشورہ دینا تھا باقی تہاڈی مرضی


علی وزیر ایک ایسی تحریک کا نمائیندہ ہے جو کہ بہت تیزی سے پھول پھل رہی ہے اور ان کے پاس بھی افرادی قوت بہت بڑی تعداد میں ہے۔۔۔مجھے امید ہے کہ ٹوئٹر والا جرنیل اگر میرے رندِ خراب حال والے شعر کو نہیں سمجھ سکاتو کم ازکم علی وزیر کی اس ٹویٹ میں چھپے ہوئے پیغام کو ضرور سمجھ لے گا جس میں پنچ لائین پنجابی میں ہے جسے یہ اور جنرل باجوہ اچھی طرح سمجھتے ضرور ہیں چاہے بولتے نہیں۔


اس ٹویٹ کی وارننگ کے بعد بہتر تو یہی ہو گا کہ یہ قبضہ گروپ عدالتی سرٹیفائڈ غدار پرویز مشرف کی حمایت سے بھی باز ٓا جائے اور جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف بھی سرجیکل اسٹرائیک کے سارے منصوبے ختم کر دے لیکن اگر یہ اپنا ہٹ دھرمی پر قائم رہا تو پھرپاکستان کی گلیوں میں ایسا سونامی ٓائے گا جو فوجی وزیر اعظم کی کرسی سے زیادہ اس کے سرپرست قبضہ گروپ کو نقصان پہنچائے گا۔

86 views