Search

پاکستان کے جرنیل اور سیاسی مقدمے۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد 21/04/2020



ٓاج کھریاں کھریاں میں بات کریں گے پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی گروپ کی جس کا تعلق اس محکمے سے ہے جسے بنایا تو اس لئے گیا تھا کہ وہ پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کا کام کرے گا لیکن اس محکمے نے مزدور اتنی زیادہ تعداد میں بھرتی کر رکھے ہیں اور یہ پاکستان کا واحد محکمہ ہے جو سال کے بارہ مہینے نئی بھرتیوں اور ترقیوں میں لگا رہتا ہے۔۔۔پاکستان کے ہر محکمے میں ملکی حالات کے مطابق لوگ رکھے جاتے ہیں اور نکالے جاتے ہیں لیکن اس محکمے میں بھرتی کا عمل بلا روک ٹوک جاری رہتا ہے اور اب ان کے پاس اتنی وافر افرادی قوت ہے کہ انہیں اپنے اس لشکر کو مصروف رکھنے کے لئے اور اس کے اخرجات پورے کرنے کے بہت سارے کاروبار کھولنے پڑے ہیں ۔۔۔یہ گروپ اس وقت ملک میں سوائے ٹیسٹ ٹیوب بے بی بنانے کے تقریبا ہر صنعت میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔


ہمارے ملک میں سیاسی مقدمہ سازی کی صنعت کی بنیاد تو ملک بننے کے ساتھ ہی رکھ دی گئی تھی لیکن اس صنعت کا باضابطہ افتتاح خود ساختہ فیلڈ مارشل ایوب خان نے کیا تھا اور اس موقعے پر ان کے نام کی تختی پنکھا سازی کی صنعت کے لئے مشہور شہر گجرات میں واقع مرحوم چوہدری ظہور الہی کی رہائش گاہ کے باہر نصب کی گئی تھی۔۔۔گجرات شہر کی گلیوں اور سڑکوں کو ٓاج بھی وہ منظر یاد ہے جب چوہدری ظہور الہی کو وردی والوں سے اختلاف رائے کی سزا کے طور پر ہتھکڑی لگا کر شہر میں پیدل مارچ کروایا گیا تھا۔۔۔اس پیدل مارچ کے نتیجے میں نہ صرف مرحوم چوہدری ظہور الہی کے سیاسی قد کاٹھ میں اضافہ ہوا بلکہ ان کی سیاسی بصیرت نے بھی اس کے نتیجے میں بہت ترقی کی اور پھر ٓانے والے کسی بھی دور میں سیاسی حکمرانوں پر حکومت کرنے والوں کی کبھی مخالفت نہیں کی بلکہ ہر موقعے پر وردی والے پہلوانوں کو سیاسی پہلوانوں کو ناک ٓاوٹ کرنے میں مدد دی۔۔۔اسی روایت ان کے بیٹے اور بھتیجے اوران کی اولاد نے ٓاج بھی زندہ رکھا ہوا ہے۔


جنرل یحیی کے دور میں اس مقدمہ سازی کی صنعت نے کوئی مثالی ترقی نہیں کی جس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اس رنگ رنگیلے جرنیل کو فلمی اور غیر فلمی جرنیلوں سے گپ شپ سے ہی فرصت نہیں ملتی تھی ۔۔۔فلمی صنعت میں کام کرنے والوں سے تو اس جرنیلی رنگیلے کو خاص محبت تھی اس لئے وہ سیاسی مقدمہ سازی کی صنعت کے لئے زیادہ وقت نہیں نکال پاتا تھا۔۔۔اپنے فوجی مشیروں کے کہنے پر اس نے ایک ٓادھ سیاسی لیڈر کے خلاف مقدمہ بنوایا لیکن اس کی کاروائی میں بھی زیادہ دلچسپی نہیں لی۔


جنرل ضیا کے دور میں تو اس صنعت نے بہت عروج پایا۔۔۔محسن کشی کے مقدمات کی روایت کا تو بانی بھی اسی جرنیل کو کہا جا سکتا ہے۔۔۔اسی روایت پر عمل کرتے ہوئے بعد میں پرویز مشرف نے بھی پاکستان کواعلانیہ طور پر فتح کیا اور جنرل قمر باجوہ نے پاکستان پرغیر اعلانیہ قبضہ کیا۔


جنرل ضیا کے دور میں سیاسی ورکروں کو مقدمات میں ملوث کرنے کے لئے بہت سارے اقدامات کئے گئے۔۔۔نئی نئی سزائیں بھی ایجاد کی گئیں جن میں سب سے زیادہ پاپولر کوڑے مارنے والی سزا ہوئی۔۔۔لوگوں کی تفریح طبع کے لئے ملزموں کو شہروں کے مصروف ترین چوراہوں میں ٹکٹکی پر نیم برہنہ کر کے کوڑے برسائے جاتے تھے۔۔۔دلچسپ بات یہ تھی کہ ان مظلوم سیاسی کارکنوں پر مقدمات چار دیواری کے اند بند کمروں میں چلائے گئے لیکن سزاوں کا اہتمام سر عام کیا تھا اور سزا سے پہلے علاقے کے لوگوں کو باقاعدہ اطلاع دی جاتی تھی کہ فلاں چوک میں کوڑے لگانے کا مظاہرہ ہو گا جس میں تمام محبِ وطن لوگوں سے شرکت کی اپیل کی جاتی ہے۔


جنرل ضیا کے دور میں اس صنعت کے فروغ کے لئے غیر ممالک نے بھی تعاون کیا اور جدید ٹیکنالوجی کے علاوہ قرضہ حسنہ بھی دل کھول کر دیا۔۔۔شہید زوالفقار علی بھٹو کے مقدمے کی تو سارے کی ساری فنڈنگ ڈالرز میں وصول کی گئی۔۔۔اس مقدمہ کی وجہ سے ہماری فوجی مقدمہ سازی کی صنعت غیر ملکی منڈیوں میں بہت مقبول ہو گئی تھی ۔۔۔امریکہ نے تو اس کے فروغ کے لئے مستقل بنیادوں پر امداد بھی فراہم کرنا شروع کر دی تھی جو کہ ضیا الحق کی ٓاخری رسومات تک بغیر کسی تعطل کے جاری رہی ۔


جنرل مشرف نے جب پاکستان فتح کیا تو ساتھ ہی اس دم توڑتی ہوئی مقدمہ سازی کی صنعت کی طرف خصوصی توجہ کی۔۔۔۔ اپنی فوجی چھڑی لہراتے ہوئے سب سے پہلے اس صنعت کی ترقی کے لئے نواز شریف پر طیارے کے اغوا کا مقدمہ بنوایا۔۔۔۔جاوید ہاشمی پر غداری کا مقدمہ بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا۔۔۔یوسف رضا گیلانی کو بھی لمبی جیل یاترا کروائی گئی۔۔۔بے نظیر بھٹو اوراس کے شوہر پر بھی جنرل پرویز کا فوجی کوڑا وقفے وقفے سے برستا رہا۔


جنرل مشرف نے تو اس صنعت کو فروغ دینے کے لئے ایک نیا ادارہ نیب کے نام سے بنا دیا جو ان دنوں بھی اس مقدمہ سازی کی صنعت کے فروغ میں سب سے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔۔۔فرق بس اتنا ہے کہ موجودہ دور میں اس فوجی صنعت کو چلانے والے پردے کے پیچھے ہیں اور انہوں نے اپنی سیاسی کٹھ پتلی کو اس کام پر لگا رکھا ہے۔۔۔اپوزیشن کی بڑی جماعتیں اس مقدمہ سازی کی صنعت سے فیض یاب ہو چکی ہیں۔۔۔ان دنوں میڈیا کی باری ہے اور جنگ اور جیو کا مالک میر شکیل الرحمان اس مقدمہ سازی کی صنعت کا تازہ ترین شکار ہے۔


بات ختم کرنے سے پہلے یہ بھی وضاحت کر دوں کہ پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے بھی کافی عرصہ اس فوجی مقدمہ سازی کی صنعت کے فروغ کے لئے کام کیا لیکن بعد میں ان جماعتوں کی قیادت نے اس بات کا احساس کر لیا کہ اس واردات سے اصل فائدہ ان جماعتوں کو نہیں بلکہ ان وردی والوں کو ہو رہا ہے جو ان سیاسی لڑائیوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہر گستاخ سیاسی حکومت کو گھر بھیجنے کے لئے اس سیاسی چپقلش کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔


اس لئے ان دونوں جماعتوں نے جب ٓاپس میں میثاقَ جمہوریت کر لیا تو سیاسی دنگل کروانے والوں نے عمران نیازی کی شکل میں نئے سیاسی مزدور کا اضافہ کیا تا کہ اس مقدمہ سازی کی صنعت کا پہیہ چلتا رہے اور اس نئے مزدور کی مدد سے یہ جرنیلی صنعت کار اپنے پلان میں کامیاب رہے ہیں اور پچھلے اٹھارہ ماہ میں جتنے سیاسی رہنما جیلوں میں بھجوائے گئے ہیں اس کی تعداد شاید پاکستان کے ساری تاریخ میں نہیں ملتی۔۔۔اس وقت بھی اس جرنیلی مزدور کو مقدمہ بازی کا اتنا چسکہ پڑ گیا ہے کہ یہ کورونا سے لڑنے کی بجائے اپنا زیادہ وقت سیاسی مخالفین پر مقدمے بنوانے میں صرف کر رہا ہے۔۔۔ عمران نیازی کو نوکری دینے والے اب کافی حد تک پیچھے ہٹ گئے ہیں لیکن عمران نیازی کو اس مزدوری میں اتنا مزہ ٓایا ہے کہ وہ اب ایسے اوور ٹائم میں لگا ہوا ہے جس کا اسے کوئی معاوضہ بھی نہیں ملے گا بلکہ اس بات کا بھی امکان ہے کہ جلد ہی جب اسے نوکری سے برخواست کیا جائے گا تو اس کی چارچ شیٹ میں ایک الزام ان اوور ٹائم کے دوران بنائے گئے مقدمات کا بھی ہو گا۔

669 views