Search

پاکستانی مقدس گائے کو سعودی شہزادے نے گھاس کیوں نہیں ڈالی؟کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔20/08/2020


آج بات کرنی ہے پاکستان کے جرنیلی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے اُس ہنگامی سعودی دورے کی جو کہ انہوں نے سعودی شہزادے محمد بن سلمان کو رام کرنے کےلئے کیا تھا لیکن وہ اپنے اس جرنیلی مشن میں کامیاب نہیں ہو سکے کیوں کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے انہیں اپنی اس جادوئی چھڑی سمیت قریب آنے کا موقع ہی نہیں دیا جس سے وہ پاکستانی سیاسی شہزادوں کو قابو میں رکھتے ہیں۔

پنجابی تڑکے کے ساتھ اس ناکام دورے کے بارے میں یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ شیخاں نیں پٹھے نئیں پائے۔۔۔اب یقیننا ٓاپ کہیں گے کہ میں نے اپنے اس جرنیل کے لئے پٹھے یعنی گھاس کا لفظ کیوں استعمال کیا ہے۔۔۔تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جرنیل صاحب کا تعلق جس محکمے سے ہے وہ پاکستان میں مقدس گائے کے طور پر جانا جاتا ہے اور اسی مناسبت سے میں نے اس مقدس گائے کے لئے گھاس نہ ڈالنے والی بات کی ہے۔۔۔اگر مقامی منڈی میں یہ صورت حال نہ ہوتی تو پھر میں تیل بیچنے والے سعودی شہزادے کی نسبت سے کوئی ایسا محاورہ استعمال کرتا جس میں تیل دینے کا زکر ہوتا۔


یہ دورہ جنرل باجوہ کو ایسے وقت میں کرنا پڑا جب اس کی جادوئی چھڑی کی مدد سے جنم لینے والی حکومت کی دوسری سالگرہ تھی اور اس کے لئے انہیں بہت سارے انتظامات بھی کرنے تھے لیکن وہ یہ سب چھوڑ چھاڑ کر ہنگامی دورے پر سعودی عرب چلے گئے۔۔۔لیکن سعودیوں نے اس جذبے کی کوئی قدر نہیں کی اور انہیں ایک جونئیر شہزادے خالد بن سلمان کے حوالے کر دیا ۔۔۔یہ شہزادہ نہ تو انہیں مطلوبہ ڈالر دے سکتا تھا اور نہ ہی تیل۔۔۔اس شہزادے نے ایک فوٹو سیشن کر کے انہیں اپنے فوجیوں کے حوالے کر دیا اور یہ تو ٓاپ کو پتہ ہی ہے کہ سعودی فوج کا ملکی معاملات میں ایسا کوئی کردار نہیں ہے جس طرح کا مرکزی کردار پاکستان میں اس مقدس گائے کا ہے جو چارہ کھاتے ہوئے کسان کے بچوں کے حصے کی سوکھی روٹیاں بھی کھا جاتی ہے۔


جنرل باجوہ کے اس دورے کے حوالے سے جرنیلی میڈیا نے بہت لمبے چوڑے دعوے کئے تھے۔۔۔کچھ جرنیلی مجاہدین نے تو اسے ایسا مطالعاتی دورہ قرار دیا تھا جس میں جنرل باجوہ نے سعودیوں کو پاکستانی عظمت کا درس پڑھانے اور فوجی اہمیت سمجھانی تھی۔۔۔اصولی طور پر تو یہ سفارتی مہم آکسفورڈ سے سیاسیات میں تھرڈ کلاس والی ڈگری والے عمران نیازی کی کپتانی میں ہونی چاہئے تھی لیکن اس کے جرنیلی سرپرست اب اس کی حماقتوں کو مزید افورڈ نہیں کر سکتے۔۔۔۔ٓاپ لوگوں کو یاد ہوگا کہ پہلے ایسے دوروں پر جنرل باجوہ اور جنرل فیض عمران نیازی کو بھی ساتھ رکھا کرتے تھے۔

ایسا ہی ایک دورہ ایران کا بھی تھا جس میں عمران نیازی کی زبان پھسلتی جار رہی تھی اور پھر آئی ایس آئی والے جنرل فیض حمید سے برداشت نہ ہو سکا اور اس نے عمران نیازی کو ڈائس پر جا کر پرچی دی اور سمجھایا کہ سعودی عرب اور ایران کی ثالثی والی بات کس انداز میں کرنی ہے۔۔۔ سعودی بادشاہ کے ساتھ ملاقات کے وقت بھی عمران نیازی نے پروٹوکول کی خلاف ورزی کی تھی ۔۔۔شاید اس کی انہی حماقتوں کی وجہ سے اس بار اسے وزیر اعظم ہاوس کے فورتھ فلور پر نظر بند کر کے جنرل باجوہ اور جنرل فیض سعودی عرب روانہ ہو گئے ۔



جنرل باجوہ کو سعودی عرب آمد پر بھی کوئی خاص پروٹوکول نہیں دیا گیا اور ان کے استقبال کے لئے شاہی خاندان کے کسی اہم رکن نے ٓانے کی زحمت نہیں کی۔۔۔دورے کے دوران بھی سوائے دفاعی امور کے کسی اہم مسئلے پر بات نہیں ہوئی۔۔۔مجھے تو یہ جنرل باجوہ کے ساتھ سراسر زیادتی لگ رہی ہے کہ سعودیوں نے ان کی تشریف ٓاوری سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔۔۔اگر انہوں نے دفاعی امور پر ہی بات کرنی تھی تو اس کے لئے کسی بھی چھوٹے موٹے جرنیل کو بھیجا جا سکتا تھا یا پھر فون پر بھی گپ شپ ہو سکتی تھی۔

جنرل قمر جاوید باجوہ اس وقت دنیا بھر کی سیاست کا ایکسپرٹ سمجھا جاتا ہے۔۔۔امریکہ سے لے کر چین تک کے سربراہوں سے اس کے زاتی تعلقات ہیں۔۔۔ایک ایٹمی طاقت کا وہ جرنیلی سربراہ ہے۔۔۔معیشت کے حوالے سے بھی اس کا دعوی ہے کہ وہ اس کا بھی ماہر ہے۔۔۔تو ایسے آل راونڈر سے فیض حاصل نہ کرنا سعودیوں کی بد قسمتی ہے۔۔۔ایسی ہر فن مولا شخصیت ان کے پاس ٓائی ہوئی تھی اور انہوں نے اسے اپنے نائب وزیر دفاع اور چند جرنیلوں کے علاوہ کسی اہم شخصیت سے ملنے کا موقع نہیں دیا۔


بہرحال اب لوٹ کے بدھو گھر کو ٓائے اور وہ بھی خالی کٹورا لے کر۔۔۔سعودی شہزادے نے شاہ محمود قریشی کی زبان سے دلوائی گئی جرنیلی دھمکیوں پر جو منہ پھیرا ہے وہ اسے سیدھا کرنے کو تیار نہیں۔۔۔صورتِ حال میں تلخی پہلے کی طرح برقرار ہے۔۔۔نہ تو تیل ادھار ملے گا اور نہ ہی بنکوں میں رکھنے کے لئے مزید ڈالر۔

جرنیلی نیوز چینل کے مستند بوٹ پالشئے صابر شاکر نے تو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اس کشیدگی کو بھی عمران نیازی والے این آ ر او کا تڑکا لگا دیا ہے۔۔۔موصوف فرما رہے ہیں کہ یہ ساری خرابی اس لئے پیدا ہوئی ہے کہ سعودی عرب والے نواز شریف کے لئے این ٓار او مانگ رہے ہیں اور جنرل باجوہ اور عمران نیازی نے فیصلہ کیا ہے کہ اس دباو میں نہیں آنا۔۔چاہے پاکستان کے پلے کچھ بھی نہیں رہے۔۔۔شریف فیملی کا احتساب اسی طرح جاری رہے گا۔

مجھے تو یہ تجزیہ بھی شاہ محمود قریشی کے بیان جیسا لگ رہا ہے۔۔۔اس سے صورتحال میں مزید تلخی بڑھے گی اور تیل والی سرکار ہمیں ادھار تیل دینے کی بجائے سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کو محاورے والا تیل اور وہ بھی تتا تیل دینا شروع کر دے گی۔۔۔صابر شاکر نے کافی مرچ مصالحہ لگا کر ساری خرابی کی جڑ شریف فیملی کو قرار دیا ہے۔۔۔بالکل عمران نیازی کی طرح جو کہ اپنی ہر ناکامی اور نالائقی پر الزام پچھلی حکومت کے متھے لگا دیتا ہے۔



پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پیدا ہونے والی اس کشیدگی میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ وہ بیانات ہیں جو کہ شاہ محمود قریشی کی طرف سے آئے تھے۔۔۔ان بیانات کے حوالے سے زیادہ تر لوگوں کی یہی رائے ہے کہ یہ بیانات دیتے وقت اس نے اپنے سیاسی باس عمران نیازی کو اعتماد میں نہیں لیا اور اس نے بھی فواد چوہدری کی طرح اپنی ہی حکومت کے لئے مشکلات میں کسی اور کے اشارے پر اضافہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

عمران نیازی اس غیر ضروری بیان بازی پر غصے میں ہے لیکن اسے اچھی طرح پتہ ہے کہ وہ نہ تو فواد چوہدری کے خلاف کوئی کاروائی کر پایا تھا اور نہ ہی وہ اس بیان بازی پر اپنے مودی کے خلاف کوئی ایسی کاروائی کر سکتا ہے جس کی منظوری جرنیلی حکومت کی طرف سے نہ دی گئی ہو۔۔۔اس لئے شاہ محمود قریشی کو سبق سکھانے کے لئے اس نے اپنے اُس پرنسپل سیکرٹیری اعظم خان کا سہارا لیا ہے جس نے کچھ عرصہ پہلے فردوس عاشق اعوان کو بھی گھر جانے پر مجبور کر دیا تھا۔


میڈیا میں رپورٹ ہونے والی خبروں کےمطابق اعظم خان اور شاہد محمود قریشی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور اس دوران اعظم خان نے شاہ محمود قریشی کو تھپڑ مار دیا۔۔۔اس تھپڑ بازی کی زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔۔۔ لیکن ایک طرف دونوں فریقوں کے چیلے اپنےاپنے پہلوان کو تھپڑ مارنے والا پہلوان مشہور کر رہے ہیں اور دوسری طرف خبر بریک کرنے والے چینل کو میڈیا کے کے لئے نیب کا کام کرنے والا ادارہ جسے پیمرا کہتے ہیں اس کی طرف سے ٹی وی چینل کو تھپڑ بازی کی خبر نشر کرنے پر نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔۔۔ لیکن میری زاتی رائے میں اس تھپڑ بازی جس کی ابتدا چاہے نیازی کے خان نے کی ہو یا جنرل باجوہ کے قریشی نے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔بس اس تھپڑ بازی سے یہ پتہ چل رہا ہے کہ نکا اور ابا کس حد تک ایک پیج پر ہیں۔



میرا تو یہی خیال ہے کہ اس مار دہاڑ کے پیچھے وہ دوغلا عمران نیازی ہے ہے جو کہ ایسے موقعوں پر بدلہ لینے کے لئے کرائے کے بدمعاشوں سے کام لیتا ہے۔۔۔شاہ محمود قریشی کو چونکہ یہ پی ٹی آئی کی فارن فنڈنگ کا بھانڈا پھوڑنے والے دوست کی طرح گریبان سے پکڑ کر گھر سے نکال نہیں سکتا تھا اس لئے اس کام کے لئے اس نے ایک بار پھر فردوس عاشق اعوان والا ہتھیار استعمال کیا ہے ۔

عمران نیازی کواپنے گھریلو پیر کے جنات کی مخبریوں کی وجہ سے شاہ محمود قریشی پر زیادہ اعتماد بھی نہیں ہے۔۔۔اسے اچھی طرح پتہ ہے کہ مائنس ون فارمولا تیار کرنےوالے سائنسدانوں کے ساتھ سب سے زیادہ تعاون کون کرتا ہے۔۔۔عمران نیازی نے اس تھپڑ سے شاہ محمود قریشی کو آنے والی تھاں پر لانے کی کوشش بھی کی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اِسے اُس غیر ضروری بیان بازی کی بھی سزا دی ہے جس کی وجہ سے سعودی عرب سے ایسی لڑائی شروع ہو چکی ہے جو کہ کسی بھی طور پر سعودی شہزادے کے پاکستانی ڈرائیور کے مفاد میں نہیں ہے۔۔۔اس بیان بازی سے اگر فائدہ ہوا تو وہ اُس مقدس گائے کو ہوگا جو کہ فی الحال بغیر گھاس کھائے سعودی عرب سے واپس چلی ٓائی ہے۔


اس لڑائی سے مقدس گائے کے سیاسی وچھے کو بھی نقصان پہنچے گا لیکن سب سے زیادہ نقصان مہنگائی کے مارے عام پاکستانیوں کو ہوگا۔۔۔عام پاکستانی کو اس جرنیلی حکومت اور اس مقدس گائے کے چارے کی سپلائی کے لئے مزید ٹیکسز اور مہنگائی کا بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔۔۔۔سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانیوں کے لئے بھی مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا ۔۔۔ فوری طور پر جنگ بندی نہ ہوئی اورادھار تیل والی سہولت بحال نہ ہوئی تو آنے والے دنوں میں اس مقدس گائے کو توند بھر کر چارہ دینے کے لئے پاکستانیوں کو اپنے پیٹ پر دو چار پتھر اور باندھنے ہوں گے۔۔۔ کیوں کہ موٹے پیٹ والی مقدس گائے کو نہ تو فاقے پسند ہیں اور نہ ہی کم گھاس کھانے کی عادت ہے۔



1,874 views