Search

پاکستانی قبضہ گروپ کا سب سے خطرناک ہتھیار کونسا ہے؟ کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد 22/01/2020


پاکستان میں اس وقت جو سب سے بڑی جنگ لڑی جا رہی ہے وہ قبضہ گروپ اور عوام کے درمیان ہے۔۔۔قبضہ گروپ تعداد میں بہت چھوٹا ہے لیکن اس نے بڑی مہارت سے اپنے مخالف عوامی گروپ کو جو کہ بہت بڑا گروپ ہے اسے چھوٹے چھوٹے گروپوں میں تقسیم کر دیا ہے۔۔۔کچھ گروہ سیاسی ہیں،کچھ مذہبی اختلاف کی وجہ سے تشکیل پائے ہیں اور کچھ لسانی بنیادوں پر ۔۔۔ان گروہوں کی افزائش میں سب سے زیادہ ہاتھ قبضہ گروپ کا ہے۔۔۔یہ سارے چھوٹے چھوٹے گروہ ایک دوسرے سے ڈانگ سوٹا کرتے رہتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کسی بھی گروہ کو قبضہ گروپ پر کاری ضرب لگانے کا موقع نہیں ملتا۔

جب کبھی کچھ گروہ ٓاپس میں اتحاد کر لیتے ہیں اور قبضہ گروپ کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں تو پہلے تو ان کے درمیان اختلافات پیدا کروانے کی کوشش کی جاتی ہے اور اگر اس میں کامیابی نہ ہو رہی ہو تو پھر قبضہ گروپ کسی نئے گروہ کو مسلح کر کے میدان میں لے ٓاتا ہے اور پھر قبضہ گروپ کی مدد سے یہ نیا گروہ عوامی اتحاد کو شکست دینے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔۔۔عمران نیازی کا گینگ اس کی تازہ ترین مثال ہے۔۔۔ ٓازادی مارچ کو ابھی اسی قبضہ گروپ نے تقسیم کرو اور حکومت کرو والے ہتھیار کی مدد سے ہی غیر موثر کیا ہے۔

عوامی گروپ کے مقابلے میں قبضہ گروپ بہت منظم ہے۔۔۔یہ ایک دوسرے سے پنجابی،پٹھان،سنی،شیعہ جیسے معاملات پر اختلاف نہیں کرتے۔۔۔ان کا فوجی ایجنڈا جس کے مطابق یہ پاکستان پر حکومت کر رہے ہیں یہ اسکے دائرے میں رہتے ہوئے ایک دوسرے سے لڑتے ضرور ہیں لیکن اس لڑائی میں عوام کو شامل نہیں کرتے اور نہ ہی لڑائی کا اس لیول پر لے جاتے ہیں جس سے قبضہ گروپ کا پاکستان میں اقتدار خطرے میں پڑ جائے۔

چھوٹی چھوٹی دو مثالوں پر غور کر لیں تو ٓاپ کو میری بات پر یقین ٓا جائے گا۔۔۔پرویز مشرف مہاجر جرنیل تھا لیکن اسے اقتدار میں لانے والے مہاجر نہیں تھے۔۔۔جب وہ عدالتی شکنجے میں ٓایا تو اسے بچانے والے پنجابی جرنیل تھے اور انہوں نے ایک پنجابی وزیر اعظم کو اس گستاخی کی سزا بھی دی۔

جنرل باجوہ جن کے مذہبی عقیدے پر بہت سارے سوال بھی اٹھ رہے ہیں اور پچھلے دنوں انہوں نے داتا دربار پر حاضری بھی دی لیکن درباروں پر حاضری دینے والے اس جرنیل نے ایک سنی جرنیل کو ترقی دینے کی بجائے اس کی جگہ ایک جونئیر جرنیل ندیم رضا جس کا تعلق اہل تشیع سے بتایا جاتا ہے اسے ترقی دے کر فور اسٹار جنرل بنا دیا۔

اس طرح کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ گروہ پاکستان کے عوام کی طرح زبان، رنگ ،نسل اور شیعہ سنی والی تقسیم پر یقین نہیں رکھتا۔۔۔

اسی جرنیلی اتحاد کی برکت ہے کہ یہ ستر سال سے پاکستان پر قابض ہیں اور کوئی بھی سیاسی جماعت ان کو اسلام ٓاباد سے نکالنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

بہت افسوس کی بات ہے کہ آج تک پاکستان میں کوئی ایسا سیاسی اتحاد نہیں بنایا جا سکا جس میں ساری سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہو کر جدوجہد کریں کہ اس ملک میں ٓائین کی بالادستی قائم کرنی ہے۔۔۔حقیقی جمہوریت قائم کرنی ہے اور ٓامرجرنیلوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دینی ہے۔۔۔یہ سیاسی جماعتیں اپنے اپنے طور پر لڑائی لڑنے کے دعوے کرتی ہیں لیکن جیسے ہی ایک اس میدان میں کچھ کامیابی کے قریب ہوتی ہے دوسری سیاسی جماعت جرنیلی لشکر میں شامل ہو کر اسے جنگ میں فتح دلوا دیتی ہے۔۔۔تازہ ترین اس کی مثال ٓازادی مارچ والی ہے جس میں جنگ اس مرحلے میں داخل ہو چکی تھی کہ ملک پر اس قبضہ گروپ کی گرفت کسی حد تک کمزور ہو جاتی۔۔۔بلوچستان ، خیبر پختونخواہ، سندھ اور قبائلی علاقوں کے بعد لاہور جسیے بڑے شہروں میں بھی جرنل کرنل بے غیرت والے نعرے گونجنے لگ گئے تھے لیکن ن لیگ اور پی پی کی قیادتوں نے یوٹرن لے کر قبضہ گروپ کو اور مضبوط کر دیا۔

مجھے ایرانی انقلاب والی جدوجہد یاد ٓا رہی ہے۔۔۔ایران میں جب رضا شاہ پہلوی کے خلاف تحریک چلی تھی تو اس میں ساری جماعتوں نے حصہ لیا تھا۔۔۔ایرانی انقلاب صرف ان لوگوں کی قربانیوں کا نتیجہ نہیں ہے جو کہ اس وقت ایران پر حکومت کر رہے ہیں۔۔۔اس انقلاب کے لئے شیعہ سنی اور ترقی پسند جماعتوں نے بھی بھرپور جدوجہد کی تھی۔۔۔ان سب کا مقصد ایک تھا اور انہوں نے اپنے مذہبی اور سیاسی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر زبردست تحریک چلائی جس کے نتیجے میں شاہ ایران کو ملک سے فرار ہونا پڑا۔۔۔اس انقلاب کے بعد کی داستان زیادہ اچھی نہیں کیونکہ پھر ان شاہ مخالف قوتوں میں چونکہ اہل تشیع کا گروہ سب سے بڑا تھا اس نے اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیا اور تمام چھوٹی جماعتوں کو نگل لیا۔۔۔لیکن اس جدوجہد سے کم ازکم ایران اس بادشاہت سے تو نجات پا گیا جس نے صدیوں سے لوگوں کو اپنے شکنجے میں لے رکھا تھا۔

پاکستان میں بھی عوام کو اسی طرح اپنے حقوق کے لئے کوشش کرنا ہوگی۔۔۔اگر لوگ اس سیاسی ، لسانی اور مذہبی تقسیم جو کہ اسی قبضہ گروپ کی فنڈنگ سے پروان چڑھی ہے، اسی تقسیم کے تحت اپنا اپنا جھنڈا اٹھا کر میدان میں ٓائیں گے تو ہر بار فتح اسی قبضہ گروپ کی ہوگی۔

میں اسی لئے لوگوں سے بار بار یہی کہتا ہوں کہ موجودہ بڑی سیاسی جماعتیں چونکہ اسی فوجی چھتری کے سائے میں پروان چڑھی ہیں اس لئے ان کے لئے یہ ممکن نہیں کہ یہ قبضہ گروپ کے ساتھ ہتھ جوڑی کر سکیں۔۔۔یہ سیاسی جماعتیں یقیننا پاکستان اور اس کے عوام کے ساتھ مخلص ہیں لیکن یہ پاکستان کو لگے ہوئے کینسر کا علاج اول تو کرنا ہی نہیں چاہتیں لیکن اگر وقتی طور پر ان میں یہ خواہش پیدا بھی ہوتی ہے تو ان کی کوشش ہوتی ہے کہ سارے کا سارا کریڈٹ انہیں ملے اور یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں امر ہو جائیں لیکن ان کی یہ خواہش جلد ہی دم توڑ جاتی ہے جب انہیں سامنے قبضہ گروپ کی بندوقیں نظر ٓاتی ہیں اور ان بندوقوں کے ساتھ ساتھ دوسری سیاسی ،مذہبی،لسانی جماعتیں اور عدلیہ والا ہتھوڑا گروپ دکھائی دیتا ہے۔

پاکستان کے بڑے شہروں میں رہنے والوں کو سیاسی جماعتوں کے منشور سے ہٹ کر اپنی مدد ٓاپ کے تحت پاکستان کے سب سے بڑے معاشی مسئلے کو سمجھنا ہو گا کہ ان کے پاس وسائل کتنے ہیں اور انہیں ان وسائل کو اپنے بچوں کی پیٹ بھرنے اور انہیں صحت اور تعلیم کی سہولتیں دینے پر خرچ کرنا ہے یا ایسے ہتھیار بنانے پر ضائع کرنا ہے جنہیں بنانے کے بعد بھی پاکستان اتنا ہی غیر محفوظ ہے جتنا ان ہتھیاروں کے بغیر تھا۔۔۔پاکستان جیسے غریب ملکوں کو ختم کرنے کے لئے ترقی یافتہ ملکوں کو کسی جنگی ہتھیار کی ضرورت نہیں ہوتی۔۔۔ان کے پاس ایسے معاشی ہتھیار ہیں کہ جنہیں استعمال کر کے وہ پاکستان کو مکمل طور پر برباد کر سکتے ہیں۔۔۔ایسا ہی ایک ہتھیار انہوں نے پاکستان پر قبضہ گروپ کی صورت میں مسلط کر رکھا ہے جس کے اخراجات پورے کرتے کرتے پاکستان کی ریاست اتنی مقروض ہو چکی ہے کہ اب اس کے حکمران دنیا بھر میں ایک ہاتھ میں تسبیح اور دوسرے میں کشکول لے کر پھرتے رہتے ہیں۔

بات کافی لمبی ہو چکی ہے اس لئے اجازت لیتے ہوئے مجھے یہی کہنا ہے کہ پاکستان کی حقیقی ٓازادی کے لئے لوگوں کو گھروں سے نکلنا ہوگا۔۔۔اپنے اپنے مذہبی اور سیاسی نظریات کو اس وقت تک راستے کی دیوار نہ بننے دیں جب تک ٓاپ پاکستان کے سب سے بڑے مسئلے کو مل جل کر حل نہیں کر لیتے۔۔۔جب ٓاپ لوگ قبضہ گروپ سے نجات حاصل کر لیں گے تو پھر اس کے بعد ایک جمہوری ملک میں بات چیت کے زریعے سارے چھوٹے چھوٹے مسائل کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے لیکن اگر قبضہ گروپ کے خلاف اپنی اپنی سیاسی جماعت اور فرقے کا جھنڈا اٹھا کر باہر نکلیں گے تو پھر نتیجہ وہی نکلے گا جو کہ ٓازادی مارچ کا نکلا ہے۔

254 views