Search

پاکستانی فوج میں تبدیلی اور مائنس ون فارمولا؟ کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد


ویسے یہ شعر تو ٓاپ نے یقننا سن رکھا ہوگا۔۔۔

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال ٓاپ اپنی حالت کے بدلنے کا

اس شعر میں جرنیلی پاکستان کے حالات کو زہن میں رکھتے ہوئے اگر ٓاپ اس میں ایک ترمیم کر دیں اور اسے یوں کر لیں ۔۔۔

خدا نے آج تک اس فوج کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال ٓاپ اپنی حالت کے بدلنے کا

پاکستانی فوج کی بالکل یہی حالت ہے۔۔۔اس کی جرنیلی قیادت قیام پاکستان سے لے کر اب تک اس خوش فہمی میں ہے کہ یہ محکمہ ہر عیب سے پاک ہے۔۔۔پاکستان بنا چاہے کس کی بھی ہمت سے ہے لیکن اب اس کی بقا ان جرنیلوں کے ہاتھ میں ہے۔۔۔کیوں کہ عوام بلڈی سویلین ہیں اور سیاستدان سارے کے سارے کرپٹ ہیں۔۔۔اپنی اس جرنیلی سوچ کی وجہ سے یہ آدھا ملک بھی گنوا چکے ہیں اور کئی جنگیں بھی ہار چکے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ اپنے فوجی برتری والے نظرئیے پر اسی طرح ڈٹے ہوئے ہیں۔

ان کے پاس طاقت بھی ہے۔۔۔ہتھیار بھی ہیں اور سارے ریاستی وسائل بھی ہیں اس لئے ان کو تبدیل کرنا اس وقت ممکن ہے جب ان کے اندر سے تبدیلی کی لہر اٹھے گی جو کہ اس وقت اٹھتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہی۔


پاکستانی فوج اتنا بڑا لشکر ہے کہ اسے پاکستان جیسے غریب ملک کے وسائل کے ساتھ چلانا ناممکن ہے۔۔۔اس لئے اس لشکر کو اپنا وجود برقرار رکھنے کےلئے ہر وقت ڈالروں کی ضرورت رہتی ہے ۔۔۔یہی وجہ ہے کہ اس کے جرنیل ڈالروں کی تلاش میں ہر طرح کی خدمت انجام دینے کے لئے ہر گھڑی تیار کامران رہتے ہیں اور یہی وہ خدمات ہیں جن کی وجہ سے ہنستا بستا پاکستان دہشت گردی کا شکار ہو گیا ہے اور ترقی کرنے کی بجائے ان دنوں پاکستان کی معاشی تاریخ کے بد ترین عمرانی دور میں داخل ہو گیا ہے۔


ملک کی معاشی صورت حال کے مطابق بہت ضروری ہے کہ اس حد سے بڑھے ہوئے لشکر کی ڈاون سائزنگ کی جائے۔۔۔ لیکن اس سے پہلے پڑوسیوں کے ساتھ ہر وقت حالتِ جنگ میں رہنے کی بجائے جیو اور جینے دو کی بنیاد پر اچھے تعلقات استوار کرنے ہوں گے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ کام ان جرنیلوں کے مفاد میں نہیں ہے اور نہ تو عوام اس حوالے سے کچھ کرنے کے موڈ میں ہیں اور نہ ہی ان کی عوامی قیادت اتنی طاقتور ہے کہ اس عوامی مفاد کے منصوبے پر عمل کروا سکے۔۔۔زیادہ تر سیاسی جماعتیں اسی لشکر کی مدد سے اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑتی ہیں اور ایک دوسرے کو چت کرتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی بڑی سیاسی جماعت سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی ان کے غیر ضروری اخراجات میں کمی کرنے کی بجائے انہیں راضی رکھنے کے لئے ان کی جائز ناجائز فرمائشیں پوری کرتی رہتی ہے۔


اس لشکر کو راہ ِ راست پر لانے کی طاقت صرف اور صرف پاکستانی عوام کے پاس ہے لیکن بد قسمتی سے پاکستانی عوام یہ جدو جہد مل جل کر کرنے کی بجائے مختلف سیاسی جماعتوں کے جھنڈوں تلے کر رہے ہیں۔۔۔عوام اگر اس مقصد کے لئے سیاسی برانڈنگ کو چھوڑ کر ایک جھنڈے کے نیچے اکٹھے ہو کر پاکستان کے دو چار بڑے شہروں میں سڑکوں پر ٓا جائیں تو یہ فوج بھی ٹھیک ہو سکتی ہے اور اسے قابو میں رکھنے والی قیادت بھی مل سکتی ہے۔

اس وقت ملک میں جو جرنیلی سیاست والا دور چل رہا ہے جس میں ہر طرف باجوے ہی باجوے نظر ٓار ہے ہیں۔۔۔ایسے میں مائینس ون ہو یا ٹو یا تھری۔۔۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔۔۔جو بھی فوجی چھڑی کی مدد سے پلس ہو گا وہ بھی اسی طرح بوٹ پالش کرے گا جس طرح عمران نیازی پچھلے دو سال سے کر رہا ہے۔۔۔اب ان جرنیلوں کو عمران نیازی نے تابعداری کا ایسا چسکہ ڈال دیا ہے کہ اب ان کے لئے کسی ایسے سیاسی ملازم کو برداشت کرنا ممکن نہیں جو کہ نیازی جیسی سروس دینے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو۔

مولانا فضل الرحمن صاحب کی الیکشن والی تجویز ۔۔۔ان ہاوس والے ٓاپشن سے بہتر ہے لیکن اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ جنرل فیض جیسے جادوگر کی موجودگی میں نئے الیکشن کا نتیجہ عوامی جماعتوں کے حق میں نکلے گا۔۔۔ جنرل باجوہ کے سیاسی لشکر کی موجودگی میں زیادہ امکان تو اسی بات کا ہے کہ نتیجہ وہی نکلے گا جس طرح کا نتیجہ دو ہزار اٹھارہ میں نکلا تھا۔۔۔ایک ایسی جماعت کے سر پر تاج رکھا جائے گا جو کہ جی ایچ کیو کی اجازت کے بغیر سانس بھی نہیں لے گی۔


اگر ایسی کوئی جماعت دستیاب نہ ہوئی تو پھر چوں چوں کا مربہ بنایا جائے گا اور کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت نہیں لینے دی جائے گی اور پھر ان کمزور سیاسی جماعتوں کو فوجی چھڑی کی مدد سے کنٹرول کیا جائے گا۔۔۔ہر صوبے میں مختلف جماعت کی حکومت ہو گی اور مرکز میں ایسا حکومتی اتحاد ہو گا جس پر سب سے زیادہ کنٹرول جی ایچ کیو کا ہوگا۔

لیکن اگر عوام نئے انتخابات میں جانے سے پہلے پنجاب کے دو تین بڑے شہروں میں کوئی ایسی تحریک چلا دیں جس کے نتیجے میں جنرل باجوہ اور دیگر سیاسی جرنیلوں کی رخصتی ہو جائے تو پھر نئے انتخابات کے زریعے حقیقی تبدیلی ٓا سکتی ہے۔۔۔جب تک جنرل باجوہ اور اس کے ساتھی جرنیل جی ایچ کیو میں بیٹھے ہیں ۔۔۔ان ہاوس تبدیلی ٓائے۔۔۔مائنس ون ہو یا نئے انتخابات۔۔۔ہر ایک کا نتیجہ جرنیلی حکومت کی صورت میں نکلے گا

2,812 views