Search

پاکستانی سیاست میں جوتا نمائی کی نئی رسم کا ٓاغاز۔ کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد 15/01/2020



فیصل واوڈا کے بارے میں مجھے زیادہ تو پتہ نہیں ہے کہ اس کا جنم استھان کونسا ہے اور اس نے کس اسکول اور کالج کی ویواروں کو پھلانگ کر تعلیم حاصل کی ہے۔۔۔لیکن اس کی گفتگو اور سیاسی بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی تربیت میں کافی کسر رہ گئی ہے۔۔۔۔اگر اس کے والدین ابھی حیات ہیں تو وہ یقیننا اس کی بوٹ پالش سیاست اور تجارت پر کافی شرمندہ ہوں گے۔۔۔یہ خود تو شرمندہ ہونے والوں میں سے نہیں ہے کیوں کہ اگر اس میں شرمندگی والے جراثیم ہوتے تو یہ دھرنا پارٹی میں اتنی جلدی سے ترقی کبھی بھی نہ کر پاتا۔

کل جب اس نے جرنیلی ٹی وی کے ٹاک شو میں اپنے سیاسی مخالفین کو شرمندہ کرنے کے لئے یا یوں کہہ لیں کہ شرم اور حیا دلانے کے لئے ایک فوجی بوٹ کی نمائش کی تو اس پر پاکستان کے میڈیا میں ایک کہرام سا مچ گیا ہے۔۔۔سوشل میڈیا پر فیصل واوڈا کی اس گھٹیا حرکت پر تبصرے ہو رہے ہیں۔۔۔ٹاک شو میں پیپلز پارٹی کے نمائندے اور ن لیگ کے نمائندے دونوں نے جوتا چھپائی والی رسم کو جوتا نمائی میں تبدیل کرنے پر اعتراض بھی کیا اور پھر اس تقریب سے واک ٓاوٹ بھی کیا لیکن ٹی وی شو کے میزبان نے اپنے شو کی اس تاریخی بے عزتی پر کوئی اعتراض نہیں کیا اور نہ ہی اپنے اسٹاف سے کہا کہ وہ اس جوتے کو کیمرے کی ٓانکھ سے اوجھل کر دیں۔۔۔ظاہر ہے اس فوجی جوتے کو ٹی وی اسٹوڈیو سے نکالنا تو اس مسکین اینکر کے بس میں نہیں تھا کیوں کہ اس کو تنخواہ دینے والوں کی اپنی دال روٹی اسی جوتے کی مرمت اور پالش سے چل رہی ہے۔۔۔اسے اچھی طرح پتہ تھا کہ یہ جوتا کس نے بھجوایا ہے اور اس کی نمائش کا اصل مقصد کیا ہے۔

فیصل واوڈا نے یہ جوتا برداری والا کام کیوں کیا کیا اس پر مزید بات کرنےسے پہلے میں ٓاپ کو لکھنو کے ایک نواب کا قصہ سناتا ہوں۔۔۔بہت ہی دلچسپ بھی ہے اور اس سے ٓاپ کو عمران نیازی ، ن لیگ اور پی پی کے درمیان جو جنرل باجوہ کو لبھانے والے کشمکش چل رہی ہے اس کا بھی اندازہ ہو جائے گا اور ٓارمی ایکٹ ترامیم کے حوالے سے اپوزیشن کے سیاسی چال چلن کی سمجھ بھی ٓاجائے گی۔

لکھنو کے ایک نواب صاحب کے پاس دولت بھی بے شمار تھی اور گھر میں خوبصورت منکوحہ کے علاوہ ہر طرح کی ٓاسائشیں بھی تھیں۔۔۔نواب صاحب سب کچھ ہونے کے باوجود شام کے وقت اپنے ایک دوست کے ساتھ گھر سے چلے جایا کرتے تھے اور پھر رات گئے واپس ٓایا کرتے تھے۔۔۔بیوی ان کی اس بے رخی اور بے نیازی سے بہت پریشان تھی۔۔۔اس نے اپنی ایک نوکرانی سے جو کہ اس کے لئے ٓائی ایس ٓائی والی خدمات انجام دیا کرتی تھی ۔۔۔اسے کہا کہ نواب صاحب کی جاسوسی کرو اور جب یہ گھر سے نکلیں تو ان کا اس طرح تعاقب کرنا کہ انہیں پتہ نہ چلے اور پتہ چلاو کہ نواب صاحب رات گئے تک کہاں موج میلہ کرتے ہیں۔

اگلی شام جب لکھنوی نواب کے دوست نے نواب صاحب کو ٓاواز دی اور نواب صاحب اپنی شیروانی کے بٹن بند کرتے ہوئے اور ٹوپی کو اور ترچھا کرتے ہوئے گھر سے نکلے تو پیچھے پیچھے نوکرانی بھی چل پڑی۔۔۔نواب صاحب اور ان کے دوست گپیں لگاتے ہوئے اور راستے میں پھولوں کے گجرے خرید کر بازار حسن پہنچ گئے۔۔۔نواب صاحب اپنی معشوقہ کے کوٹھے پر چڑھ گئے اور نوکرانی نے اس کوٹھے پہ کام کرنے والے فیصل واوڈا ٹائپ کارندے سے پوچھا کہ اس کوٹھے پر تماشبینوں کو کیا کیا سہولیات دی جاتی ہیں۔۔۔نوکرانی ساری تفصیل لے کر حویلی واپس ٓا گئی اور مالکن کو بتایا کہ نواب صاحب ایک طوائف کے پاس جاتے ہیں اور اس سے گانا بھی سنتے ہیں۔۔۔مجرا بھی دیکھتے ہیں اور موج مستی بھی کرتے ہیں۔

نواب صاحب کی بیوی بہت سیاستدان تھی اس نے فورا اندازہ لگا لیا کہ ایسی کیا کمی ہے جس کی وجہ سے نواب صاحب اس کوٹھے پر جاتے ہیں۔

اگلے شام جب نواب صاحب کے دوست نے انہیں ٓاواز دی ۔۔۔جیسے ہی نواب صاحب نے اپنی شیروانی کی طرف ہاتھ بڑھایا تو ان کی بیگم نے ان کا ہاتھ پکڑا اور انہیں کہا کہ اس کمرے میں ٓائیں میں نے ایک ضروری بات کرنی ہے۔۔۔ نواب صاحب جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئے انہوں نے دیکھا کہ کمرے میں مجرے کا سیٹ لگا ہوا ہے۔۔۔نواب صاحب نے حیرت سے اپنی بیگم کی طرف دیکھا تو بیگم نے کہا کہ ٓاپ تھوڑی دیر اس گاو تکیئے کے ساتھ ٹیک لگا کر اس مشروب کی چسکیاں لگائیں اور میں ابھی واپس ٓا رہی ہوں۔

تھوڑی دیر کے بعد نواب صاحب کی بیگم کمرے میں سولہ سنگھار کئے ہوئے داخل ہوئیں اور ٓاتے ہی انہوں نے پروفیشنل طوائفوں کی طرح نواب صاحب کے سامنے ٹھمکے لگانے شروع کر دیئے۔۔۔پہلے تو نواب صاحب بہت حیران ہوئے لیکن پھر انہوں نے اس تبدیلی کو انجوائے کرنا شروع کردیا۔

اس دوران ان کا دوست باہر کھڑا انتظار کر رہا تھا۔۔۔اس نے تنگ ٓا کر ٓاواز دی ۔۔۔نواب صاحب بہت دیر ہو رہی ہے۔۔۔کہیں پر ٓاپ کا انتظار ہو رہا ہے۔۔۔نواب صاحب نے اپنے دوست کو جواب دیا کہ۔۔۔ٓاپ اکیلے ہی تشریف لے جائیں۔۔۔ہم نے بازار حسن گھر پر ہی کھول لیا ہے۔

نواب صاحب کے دوست کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا اس لئے وہ اکیلا ہی بازار حسن چلا گیا لیکن جب اسی مخصوص کوٹھے پر گیا تو نائیکہ نے جب دیکھا کہ نواب صاحب تشریف نہیں لائے تو اس نے نواب صاحب کی خیریت پوچھی۔۔۔دوست نے ساری بات بتا دی کہ انہوں نے بازار حسن گھر میں ہی کھول لیا ہے۔۔۔نواب صاحب کے یو ٹرن کا سن کر طوائف اور نائیکہ بہت پریشان ہو گئیں ۔۔۔انہوں نے سوچا اگر یہ سونے کے انڈے وینے والی مرغی ہمارے ہاتھ سے چلی گئی تو ہمارا مالی مستقبل تو بہت تاریک ہو جائے گا اس لئے کوئی ایسی ترکیب ہونی چاہئے کہ ہمارا نواب ہمارے کوٹھے پر واپس ٓا جائے۔

طوائف نے نواب صاحب کے دوست سے کہا کہ وہ انہیں نواب صاحب کی حویلی کا پتہ بتائے تا کہ وہ وہاں جا کر احتجاج کر سکیں۔۔۔اگلی شام طوائف اپنے سازندوں کو لے نواب صاحب کی حویلی کے سامنے پہنچ گئی اور اس نے اپنا مجرا شروع کر دیا۔۔۔نواب صاحب اس وقت اپنی بیوی کا مجرا انجوائے کر رہے تھا جب انہوں نے باہر سے گانے بجانے کی ٓاوازیں سنیں تو باہر جانے لگے۔۔۔بیوی نے کہا کہ ٓاپ گاو تکئیے کے ساتھ ٹیک لگا کر جام نوش فرمائیں۔۔۔میں پتہ کرتی ہوں کہ باہر کیا ہو رہا ہے۔۔۔نواب صاحب کی بیگم نے باہر ٓا کر بازار حسن والی طوائف سے کہا کہ وہ یہاں شریفوں کے علاقے میں سر عام مجرا کیوں کر رہی ہے۔۔۔طوائف نے جواب دیا کہ اس گھر میں رہنے والی ایک شریف عورت نے ہم سے ہمارے نواب صاحب کو چھین لیا ہے اس لئے ہم گھر کے باہر احتجاجا مجرا کر رہے ہیں اور اس وقت یہ مجرا جاری رہے گا جب تک ہمیں ہمارے نواب صاحب واپس نہیں ملیں گے۔

مجھے امید ہے کہ اب مجھے مزید وضاحت کی ضرورت نہیں ہے کہ عمران نیازی اور اس کی سیاسی طوائفیں اس وقت ٹی وی ٹاک شوز میں پٹ سیاپا کیوں کر رہی ہیں۔

ٓ

ٓارمی ایکٹ کے حوالے سے اپوزیشن کے ہم لیٹ ہونے سے عمران نیازی بہت پریشان ہے۔۔۔اس کا خیال تھا کہ اپوزیشن جنرل باجوہ کے ساتھ ایک پیج پر ٓانے سے انکار کرے گی اور نتیجے میں وہ اکیلا ہی فوجی بوٹوں کے جوڑے کی پالش کرتا رہے گا لیکن پی پی اور ن لیگ نے اس کا سیاسی کوٹھا ویران کر دیا ہے۔۔۔اسی کا ایک ثبوت فیصل واوڈا نے ٹی وی پر صرف ایک جوتے کی نمائش کر کے دیا ہے۔۔۔اصولی طور پر اسے لیفٹ اور رائٹ کرنے والے دونوں جوتے عوام کو دکھانے چاہئے تھے لیکن ان سیاسی طوائفوں کا ایک جوتا ٓارمی ایکٹ میں رمیم کے دوران گم ہو چکا ہے۔۔۔فیصل واوڈا اور اس کا عمران نیازی اس گم شدہ جوتے کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔۔۔کل والے ٹاک شو میں بھی غالبا فیصل واڈا دوسرے جوتے کی تلاش میں ٓایا تھا۔۔۔ان کو شک ہے کہ اس فوجی جوتے کاگمشدہ بھائی اس وقت اپوزیشن کے پاس ہے۔۔۔اسی لئے اس نے ن لیگ اور پی پی کی موجودگی میں وہ اکلوتا جوتا دکھایا ۔۔۔۔ساتھ ہی ان دونوں جماعتوں پر بہت تنقید بھی کی لیکن اس کی ساری حرکت کا اصل مقصد اپوزیشن کو شرمندہ کر کے گم شدہ فوجی جوتے کو واپس لے کر بخیر و عافیت بنی گالہ بوٹ پالش اسٹوڈیو لے کر جانا تھا۔

فیصل واوڈا کے فوجی جوتے کے بعد اب بات کر لیتے ہیں اس جرنیلی جوتے کی جس نے ایک تھری اسٹار جرنیل کو استعفے دینے پر مجبور کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر کئی روز سے یہ خبر گردش کر رہی ہے کہ فوج کے سب سے سینئر جرنیل سرفراز ستار سے جبری استعفی لے لیا گیا ہے۔۔۔اس خبر میں یہ بھی زکر ہے کہ سرفراز ستار اور ان کے اہل خانہ کو ان کے گھر میں نظر بند رکھا گیا۔۔۔اس فوجی نظر بندی کی وجہ سے ان کا بیٹے کا بھی نقصان ہوا اور وہ میڈیکل کالج جا کر امتحان میں بھی شامل نہیں ہو سکا۔

اس خبر میں کتنی صداقت ہے یہ تو مجھے پتہ نہیں لیکن ٹوئٹر والے جرنیل نے اس خبر کی ابھی تک تردید نہیں کی جس کی وجہ سے میرا گمان بھی یہی ہے کہ یہ خبر کافی حد تک درست ہے۔۔۔اگر یہ خبر بے بنیاد ہوتی تو ٹوئٹر والا جرنیل جو کہ ہر وقت ٹوئٹر پر گولہ باری میں مصروف رہتا ہے وہ اس خبر کی تردید ضرور کر دیتا۔۔۔جرنیلی میڈیا نے بھی اس خبر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اور یہ سارے نواز شریف کی چہل قدمی والی ویڈیو پر ایسے تبصرے کر رہے ہیں جیسے ایران امریکہ کشیدگی سے زیادہ اس ویڈیو کی وجہ سے پاکستان کی فوجی ریاست کو خطرات لاحق ہیں۔

جنرل سرفراز ستار کے ساتھ ہونے والے اس سلوک سے ٓاپ لوگ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پاکستان کا قبضہ گروپ اس وقت ملک پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لئے کتنا بے چین ہے۔۔۔سیاسی جماعتوں کو بوٹ پالش پر راضی کر لینے کے باوجود بھی ان کے لئے خطرات اسی طرح موجود ہیں۔۔۔اگر جنرل سرفراز ستار سے جبری استعفی والی بات درست ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جن جرنیلوں نے جرنل باجوہ کی ایکسٹینشن کی مخالفت کی تھی ۔۔۔اب ان کی تعداد چھ رہ گئی ہے اور یہ سارے ابھی فوج میں موجود ہیں۔۔۔اپنے ساتھی جرنیل کی اس فوجی شہادت پر یہ کیا رد عمل دیں گے یہ تو میں ٓاپ کو نہیں بتا سکتا لیکن اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

456 views1 comment