Search

پاڑہ چنار اور وزیرستان والے واقعات کا پنجاب پر کیا اثر ہو گا؟ کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔26/07/2020


ایوب خان کے مارشل لا کی شکل میں منظم ہونے والے قبضہ گروپ اور اس کی پاکستان دشمن اور عوام دشمن سرگرمیوں کے بارے میں اب بچے کھچے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بھی آگہی پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔۔۔گلی گلی محلے محلے ۔۔۔تھڑوں پر سیاسی تبصرے کرنے والے عوامی دانشور یہ بات بڑی اچھی طرح جان گئے ہیں کہ پاکستان پر اصلی اقتدار کس گروہ کا ہے اور سیاسی جماعتوں کی اس جرنیلی نظام میں کتنی وقعت ہے۔

پاکستان کے چھوٹے صوبوں میں تو یہ ٓاگہی بہت عرصے سے ہے۔۔۔ان صوبوں کے لوگ اس ظلم اور زیادتی سے نہ صرف واقف ہیں بلکہ وہ اس کے خلاف احتجاج بھی کر رہے ہیں اور قربانیاں بھی دے رہے ہیں ۔۔۔پی ٹی ایم کی تحریک نے اس حوالے سے زبردست کام کیا ہے۔

اسی طرح مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ نے اور اس دوران ہونے والی تقریروں اور ٹی وی ٹاک شوز میں جمیعت علمائے اسلام کے لیڈروں نے بہت دلیری کے ساتھ مین سٹریم میڈیا میں قبضہ گروپ کو بہت اچھی طرح بے نقاب کیا ہے۔۔۔میاں نواز شریف کی ووٹ کو عزت دو والی مہم نے بھی ان لوگوں کو خلائی مخلوق اور محکمہ زراعت کی شکل میں عام پاکستانیوں سے متعارف کروا دیا ہے۔



کچھ عرصہ پہلے لاہور میں جرنل کرنل بے غیرت کے نعرے گونجے تھے جو کہ اس حوالے سے بہت اچھی تبدیلی تھی لیکن اس کے بعد ن لیگ کی قیادت نے اس عوامی جذبے کو کسی تحریک میں بدلنے کی بجائے مصالحتی رویہ اخیتار کر لیا جس سے اس تحریک نے پنجاب میں وہ شکل اختیار کر لی جسے پنجابی محاورے میں کہتے ہیں

سو گنڈھے تے سو چھتر

ن لیگ کی قیادت نے جیلیں بھی کاٹ لیں۔۔۔میڈیا میں ہونے والی جرنیلی بدنامی کو بھی برداشت کیا لیکن اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی بجائے چپ کا روزہ رکھ لیا ہے۔

پاڑہ چنار میں بم دھماکے کے بعد عوام نے جو رد عمل دیا ہے اور پھر وردی والوں پر پتھراو کر کے انہیں فرار ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔اس کا پورے ملک اور خاص کر پنجاب کے ان لوگوں پر بہت اچھا اثر پڑے گا اور ووٹ کو عزت کے لئے جدوجہد کرنے والوں کے حوصلے اور بھی بلند ہوں گے۔۔۔۔اس کے علاوہ وزیرستان میں بھی اسی قسم کا احتجاج ہوا ہے جس سے خوف زدہ ہو کر قبضہ گروپ کے لشکری میدان چھوڑ کر چلے گئے تھے۔۔۔۔ان دونوں واقعات میں قبضہ گروپ کے خلاف عوامی رد عمل نے پاکستان بھر کے مظلوم عوام کے لئے روشنی کی ایک کرن روشن کر دی ہے۔

ان دونوں واقعات کو پاکستان کے جرنیلی میڈیا نے تو سنسر کر دیا لیکن سوشل میڈیا پر ان دونوں واقعات کی ویڈیوز بہت زیادہ شئیر ہوئی ہیں اور دنیا بھر نے دیکھ لیا ہے کہ عوامی سیلاب کے سامنے یہ وردی والے مسلح ہونے کے باوجود کتنے بے بس ہوتے ہیں۔۔۔۔پنجاب کے لوگوں نے بھی سوشل میڈیا کی بدولت ان دونوں واقعات کو بڑے غور سے دیکھا ہے اور یقننا ان کے حوصلے بھی بلند ہوئے ہوں گے۔۔۔دیکھنا اب یہ ہے کہ پنجاب کے بڑے شہروں میں لوگ ان واقعات سے متاثر ہو کر کب باہر نکلتے ہیں۔۔۔اس حوالے سے کوئی ٹائم ٹیبل تو نہیں دیا جا سکتا لیکن اب اتنا وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ پنجاب کے لوگوں کا وہ خوف اور ڈر بہت حد تک کم ہو گیا ہے جس کی وجہ سے وہ اس قبضہ گروپ کے بارے میں گھروں سے باہر نکلنے سے ڈر رہے تھے۔



اب یہ پنجاب میں کام کرنے والی بڑی جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ بھی پی ٹی ایم کی طرح اپنے لوگوں کو منظم کریں اور پر امن جدوجہد کے لئے تیار کریں۔۔۔لیکن اس بات کا امکان بہت کم ہے کیوں کہ یہ جماعتیں اب بھی اپنے اپنے سیاسی مفاد کے تحت کام کر رہی ہیں۔۔۔انہیں بس اپنی سیاسی بقا کی زیادہ فکر ہے اور اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ موجودہ جرنیلی حکومت نے ملک اور عوام کا کس حد تک بیڑہ غرق کر دیا ہے۔۔۔اس جرنیلی تباہی کا احساس ہونے کے باوجود یہ جماعتیں سوائے بیانات دینے کے عملی طور پر کچھ بھی کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔۔۔اس لئے یہ پہاڑ بھی عوام کو خود ہی سر کرنا ہو گا۔

وزیرستان اور پاڑہ چنار کے بہادر عوام بھی اپنے اوپر ہونے والی زیادتیوں کے خلاف خود ہی باہر نکلے ہیں۔۔۔ان واقعات کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ سارے عام لوگ ہیں اور ان کے ساتھ کسی بھی سیاسی جماعت کی قیادت موجود نہیں ہے۔۔۔ان نہتے لوگوں نے اپنے سے کہیں طاقتور گروہ کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا ۔۔۔ان لوگوں کی بہادری کی تقلید کرنے ہوئے پنجاب میں بھی لوگ خود ہی نکلیں گے۔۔۔یہاں پر بھی پاڑہ چنار اور وزیرستان جیسا کوئی دہشت گردی کا واقعہ ہونے کی دیر ہے ۔۔۔پنجاب کے لوگ بھی گھروں سے باہر نکل ٓائیں گے۔۔بغیر اس بات کا انتظار کئے کہ کوئی بڑا لیڈر ان کی قیادت کرے۔۔۔عوام کا یہ سیلاب بھی اسی طرح قبضہ گروپ کے ہرکاروں کو پسپا کر دے گا جس طرح پاڑہ چنار اور وزیرستان کے لوگوں نے کیا ہے۔


1,007 views