Search

ٹویٹر والا جرنیل اور فوجی بھینسوں والا ڈیرہ ۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد 17/01/2020


سوشل میڈیا والے محاذ پر گولہ باری کرنے والوں کے لئے تو یہ ایک بہت بڑی خبر ہے کہ ٹوئٹر والے جرنیل کی کل شہادت ہو گئی ہے۔۔۔ میری اس بات سے امید ہے ٓاپ لوگ یہ مطلب نہیں لیں گے کہ ان کی واقعی کسی محاذ پر جہاد کرتے ہوئے شہادت ہوئی ہے۔۔۔وہ اللہ کے فضل سے اپنے پالتو کتوں سمیت خیریت سے ہیں۔۔اللہ تعالی انہیں لمبی عمر دے تا کہ وینا ملک جیسی مجاہدخواتین کا چولہا اسی طرح گرم رہے اور وہ اپنے ٹبر کو دال روٹی کھلا سکیں۔

ویسے ان خواتین کے لئے اچھی خبر یہ ہے کہ جنرل غفور کی جو نئی پوسٹنگ ہوئی ہے وہاں پر وہ ان فوجی فنکاروں کے لئے اور بھی مفید ثابت ہوں گے۔۔۔راولپنڈی میں تو وہ ان فنکاروں کو ڈبے کے دودھ والا مشروب پلایا کرتے تھے لیکن اب وہ انہیں فوجی فارم کی پلی ہوئی گائے بھینسوں کا خالص دودھ ، گھی اور مکھن بھیجنے کی پوزیشن میں ٓا گئے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ انہیں جنرل غفور کے ساتھ رشتہ داری برقرار رکھنی ہو گی۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بازار حسن میں اعضا کی شاعری کرنے والی طوطا چشم رقاصاوں کی طرح یہ بھی نئے نواب کی خدمت میں لگ جائیں اور جنرل غفور کے ساتھ اسی طرح کی بے وفائی کریں جس طرح کی ٓابپارہ والوں نے جنرل غفور کے ساتھ کی ہے۔

جنرل غفور کی اس ٹوئٹر والی شہادت پر بہت سارے لوگوں نے سوشل میڈیا پر جشن بھی منایا اور ایک دوسرے کو مٹھائیاں اور کیک بھی کھلائے لیکن یہ کیک بھی سوشل میڈیا والے کیک تھے جنہیں دیکھ کر بس ٓاپ زبان ہونٹوں پر پھیر سکتے ہیں لیکن کھا نہیں سکتے ۔۔۔قوم یوتھ سے تعلق رکھنے والے انہیں اس خیالی پلاو سے تشبیہ بھی دے سکتے ہیں جو ان کا خلیفہ انہیں ایک عرصے سے کھلا رہا ہے لیکن نہ ان کا پیٹ بھر رہا ہے اور نہ ہی یہ دیگ خالی ہو رہی ہے۔۔۔۔مجھے زاتی طور پر تو جنرل غفور کی اس شہادت پر خوشیاں منانے والوں پر اعتراض ہے کیونکہ میں نے پڑھ رکھا ہے کہ ۔۔۔

دشمن مرے تے خوشی ناں کریئے سجناں وی مر جاناں

جنرل غفور کے جانے سے صرف ان لوگوں کا نقصان نہیں ہو گا جو کہ ان کے سوشل میڈیا لشکر میں باقاعدہ دیہاڑی دار تھے ۔۔۔دیہاڑی دار کا لفظ اس لئے استعمال کیا ہے کہ دروغ بر گردن راوی انہیں معاوضہ مستقل نہیں ملتا تھا بلکہ پرفارمنس کے مطابق ملتا تھا۔۔۔جو مجاہدفوجی ایجنڈے کے مخالفین کے خلاف جتنی گھٹیا زبان استعمال کرتا تھا اسے اتنی ہی زیادہ ادائیگی کی جاتی تھی۔۔۔اور ہندوستانی بگ باس والی وینا ملک اس معاملے میں سب سے ٓاگے تھی اور اکثر یہ گنگناتی ہوئی پائی جاتی تھی۔۔۔

ہم سا ہو تو سامنے ٓائے

ٹویٹر والے شہید جنرل خود بھی ٹوئٹر والے محاذ پر اگلے مورچوں میں جا کر ٹویٹ اٹیک کرتے تھے۔۔۔ایسی ہی کاروائی کے دوران انہیں کئی بار چوٹیں بھی لگیں لیکن وہ اپنی ٓاخری سانس تک ٹویٹ کرنے سے باز نہیں ٓائے۔۔۔اپنی شہادت سے دو روز قبل انہوں نے ٓاخری لڑائی ثنا بچہ کے ساتھ لڑی جس میں وہ اپنی ہی ٹویٹ کے پھٹ جانے سے شدید زخمی بھی ہوئے اور پھر انہی زخموں کی تاب نہ لا کر اوکاڑہ چل بسے۔

ان کے ٹویٹر والے محاذ سے چلے جانے سے یقیننا ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جسے نئے ٓانے والے جرنیل کے لئے پر کرنا ممکن نہیں ہوگا اور میری زاتی رائے میں تو وہ اس خلا کو پر کرنے کی کوشش بھی نہیں کریں گے کیوں کہ انہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ جنرل باجوہ نے اپنے اتنے بڑے مجاہد کو جسے وہ دن رات اپنے ساتھ رکھتے تھے اس مجاہد کو اوکاڑہ ،جسے فوجی گائے بھینسوں کا ڈیرہ کہا جاتا ہے وہاں کیوں بھیجا ہے۔

ٹویٹروالے جرنیل کی اس شہادت سے صرف قبضہ گروپ کو نقصان نہیں ہوا۔۔۔میرے خیال میں تو یہ ان لوگوں کے لئے بھی بہت بڑا نقصان ہے جو جنرل غفور کے ساتھ ٹویٹروالی جنگیں لڑتے تھے۔۔۔میں تو یہ سوچ کر پریشان ہو رہا ہوں کہ اب یہ سوشل میڈیا والے مجاہد کس کے خلاف اپنے میزائل استعمال کریں گے اور ان کا وقت کیسے گزرے گا۔۔۔ابھی تو یہ لوگ اپنے دشمن کے مرنے پر خوش ہو رہے ہیں لیکن دوچار روز بعد جب انہیں ٹویٹ کرنے کے لئے موضوع نہیں ملے گا تو یہ کیسے گزارا کریں گے۔

جنرل غفور کو میں تو ازراہ تفنن ٹویٹر والا جرنیل کہا کرتا تھا لیکن مجھے یہ دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی ہے کہ دنیا بھر میں یہ بندہ ٹوئٹر والے جرنیل کے لقب سے مشہور ہو گیا ہے۔۔۔اب یہ مشہوری اچھی ہے یا بری اس کا فیصلہ جنرل باجوہ اور ان کے کمانڈر ہی کر سکتے ہیں جو کہ اس وقت پاکستان بچانے کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں۔۔۔یہ ان کے سوچنے کی بات ہے کہ ان کے میجر جنرل کی اس شہرت سے فوجی خاندان کے وقار پر کیا اثر پڑا ہے۔۔۔ٹویٹر پر میں نے ایک چینی سفارت کار کی ٹوئٹ بھی دیکھی ہے جس میں جنرل غفور کو ٹویٹر جرنیل کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے۔

میری زاتی رائے میں تو یہ ایک پروفیشنل سولجر کے لئے کوئی اعزاز کی بات نہیں کہ اسے ٹویٹر جرنیل کہا جائے۔۔۔ فوجی خاندان کے اس وقار جس کے تحٖفظ کی بات کچھ روز پہلے ہی اسی جرنیل نے کی تھی ۔۔۔مجھے تو یہ بات اس وقار کے خلاف لگ رہی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میرے اور ٓاپ کے برا لگنے سے اس قبضہ گروپ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔انہیں وقار کا مسئلہ اس وقت پیش ٓاتا ہے جب بات کسی مسکین سیاستدان یا صحافی نے کی ہے۔۔۔ایسے لوگوں کے خلاف تو یہ فورا جوابی کاروائی کر دیتے ہیں لیکن اب یہ بات چونکہ اس حکومت کے نمائندے کی طرف سے ٓائی ہے جس کے بنائے ہوئے سی پیک سے انہیں اربوں روپے کی ٓامدنی ہو گی اور ان کے ایک سابقہ جرنیل کو تو پینتیس لاکھ ماہانہ کی ٓامدنی شروع بھی ہو گئی ہے اس لئے اس توہین ٓامیز لقب پر فوجی خاندان کی طرف سے کوئی رد عمل نہیں ٓائے گا۔

عمران نیازی کی مثال لے لیں۔۔۔پاکستان کی فوج کے خلاف سب سے زیادہ تقریریں اسی نے کی ہیں اور ان ساری پتلونیں گیلی کرنے والی ویڈیوز کی سوشل میڈیا پر کئی سالوں سے کامیاب نمائش بھی جاری ہے لیکن اس قبضہ گروپ کو ان ویڈیوز سے کوئی مسئلہ نہیں ۔۔۔ان سے ان کے خاندانی وقار پر کوئی چھینٹا نہیں پڑتا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنے بچے کو گود میں کھلانے والے والدین کو اس بات پر کبھی اعتراض نہیں ہوتا کہ اس نے ان کی شلوار قمیض گیلی کیوں کر دی ہے۔۔۔ عمران نیازی بھی چونکہ جنرل باجوہ کے نکے کے طور پر مشہور ہے اس لئے اس کی فوجی تنقید جو اس نے ماضی میں کی اور وہ جو اس نے وزیر اعظم سلیکٹ ہو جانے کے بعد ایران اور امریکہ میں کی اور غیر ملکی پریس کے سامنے اس بات کا اعتراف کیا کہ ہماری فوج دہشت گردوں کی سرپرستی اور ٹریننگ میں ملوث رہی ہے۔

جنرل غفور کی اس تبدیلی سے پاکستان کی فوجی سیاست پر تو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن اس کی اپنی صحت یقیننا اس سے اچھی ہو جائے گی۔۔۔صحت سے میری مراد فوجی صحت بھی ہے اور جسمانی صحت بھی۔۔۔بعض فوجی دانشوروں کا کہنا ہے کہ اس پوسٹنگ سے میجر جنرل ٓاصف غفور کے لیفٹینٹ جنرل بننے کے امکانات اور بڑھ گئے ہیں۔

بہرحال یہ تو ٓانے والے وقت ہی بتائے گا کہ میجر جنرل غفور کی اس پوسٹنگ سے اس کی فوجی صحت کتنی بہتر ہو گی لیکن جسمانی صحت کے بارے میں ابھی سے بتا دیتا ہوں کہ وہ پہلے سے بہت اچھی ہو جائے گی اور اس کا رنگ بھی مزید گورا ہو جائے گا۔۔۔وجہ اس کی ان کریموں کا استعمال نہیں جو کہ وینا ملک اور مہ وش حیات استعمال کرتی ہیں بلکہ ان گائے بھینسوں کا خالص دودھ ، مکھن اور دیسی گھی ہو گا جو کہ اوکاڑہ کی ان زمینوں پر چارہ کھا کر موٹی ہوتی جا رہی ہیں جن زمینوں کے مزارعے ایک عرصے سے فوجی جبر کا شکار ہیں اور ان کی زمینوں پر قبضہ گروپ نے قبضہ کر رکھا ہے۔


407 views