Search

نیو مدینہ کا دونمبر خلیفہ اور وردی والے چالیس چور۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔14/05/2020


مجھے امید ہے کہ میری طرح ٓاپ سب نے بھی بچپن میں علی بابا اور چالیس چوروں والی کہانی ضرور پڑھی ہو گی یا اپنی دادی یا نانی سے سن رکھی ہو گی۔۔۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس کہانی کو پڑھتے ہوئے میں اس کے سحر میں گرفتار ہو جاتا تھا اور مجھے کبھی یہ اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ یہ قصہ چوروں کے بارے میں ہے اور چوری کرنا بہت بڑا جرم ہے۔۔۔ اور ان چالیس چوروں کو عوامی دولت لوٹنے کے جرم میں سزا ہونی چاہئے۔۔۔عوامی دولت میں نے اس لئے کہا ہے کہ علی بابا چالیس چور والے دور میں صرف عوام ہی اتنے لاچار اور مسکین ہوتے تھے کہ چور ڈاکو ان کے گھروں میں چوریاں چکاریاں کر سکیں۔۔۔اس وقت کے حاکموں کے خزانے کے ارد گرد پہرے بھی سخت ہوتے تھے اور اور ان کے خزانے کو چوری کرنے میں جان اور مال دونوں کا خطرہ ہوتا تھا۔


چالیس چوروں کے سردار کے پاس جو خزانے والی سپر مارکیٹ کو کھولنے والا کوڈ ورڈ کھل جا سم سم تھا وہ مجھے بہت اچھا لگتا تھا اور میرا اس بات پر یقین تھا کہ واقعی اس جملے میں کوئی ایسی طلسماتی قوت ہے جو خزانے کا دروزہ کھول دیتی ہے۔۔۔مجھے کبھی اس کھل جا سم سم کو استعمال کرنے کی ضرورت تو نہیں پڑی کیوں کہ بچپن میں ہماری ضروریات بہت محدود ہوا کرتی تھیں۔۔۔ٓانے ٹکے کا زمانہ تھا۔۔۔پیزا ہٹ یا مکڈانلڈ جیسی کمپنیاں پاکستان میں نہیں تھیں اس لئے ہمارے والدین کو ہماری فرمائیشیں پوری کرنے کے لئے علی بابا والے چالیس چوروں کی طرح ڈاکے نہیں ڈالنے پڑتے تھے۔۔۔اور نہ ہی ہمیں اپنے والدین کے خزانے سے کوئی زیادہ اشرفیاں غائب کرنے کی ضرورت ہوا کرتی تھی۔

ٓاج مجھے یہ علی بابا اور چالیس چور کا قصہ اس لئے یاد ٓایا کہ ہمارا نیا پاکستان بھی ایسا لگتا ہے کہ چالیس چوروں کے قبضے میں ٓا گیا ہے۔۔۔یہ گروہ بھی ملک کی اشرافیہ کو لوٹنے کی بجائے صرف اور صرف غریب عوام کو لوٹ رہا ہے۔۔۔ان میں اور پرانے چوروں میں فرق یہ ہے کہ وہ پہلے چور گھروں میں نقب لگا کر چوری چکاری کرتے تھے لیکن اس نیو مدینہ والے چوروں کو لوگوں کے گھروں میں داخل ہونے کی زحمت نہیں کرنی پڑتی۔۔۔ان چالیس چوروں کا سردار بہت سیانا ہے۔۔۔یہ خود تو چوری کی وارداتوں میں شریک نہیں ہوتا لیکن اس نے اپنے چوروں کو چوری کے جدید گر سکھا دئیے ہیں۔

یہ ماڈرن چوراپنی اپنی وزارتوں میں بیٹھے بیٹھے اربوں روپے کے ڈاکے ڈال رہے ہیں ۔۔۔پچھلے دنوں کپتان کے ساتھی چوروں نے ٓاٹا اور چینی کی امپورٹ ایکسپورٹ سے اربوں روپے کمائے۔۔۔تازہ ترین واردات اس کے گینگ نے ہندوستان سے ادویات کی امپورٹ کےسلسلے میں کی ہے۔۔۔پٹرول کے دھندے میں بھی یہ لوگ عوام کی جیبوں پر مسلسل ڈاکے ڈال رہے ہیں۔۔۔دنیا بھر میں کورونا تباہی کا سبب بنا ہوا ہے لیکن چوروں کے اس گینگ نے اسے بھی لوٹ مار کا ہتھیار بنا لیا ہے۔۔۔پہلے ماسک اسمگل کر کے دولت اکٹھی کی ۔۔۔۔لاہور کے ایکسپو سنٹر میں منجی بسترا اسٹائل والا ایک سنٹر بنایا اور فی بسترا قومی خزانے کو لاکھوں روپے کا ٹیکہ بھی لگا دیا۔۔۔ٹائیگر فورس جو کہ میدان میں ٓانے سے پہلے ہی لولی لنگڑی ہو گئی ہے اس کی وردیوں کے نام پر بھی اچھے خاصے فنڈز کی بندر بانٹ کر لی گئی۔

علی بابا والے چالیس چوروں کو اور ان کے سردار کو تو گھوڑوں پر سوار ہو کر گاوں گاوں جانا پڑتا تھا۔۔۔راتوں کو چھپ چھپا کر وارداتیں کرنا پڑتی تھیں لیکن نئے پاکستان کے چوروں اور ان کے کپتان کو ایسی کوئی زحمت نہیں کرنی پڑی ۔۔۔۔اس نئے گینگ کو یہ بھی سہولت ہے کہ ان کا چوری کا مال پرانے دور کی طرح غیر محفوظ بھی نہیں ۔۔۔وجہ اس کی یہ ہے کہ انہوں نے اپنا خزانہ نہ تو کسی غار میں چھپا رکھا ہے اور نہ ہی اس کے لئے کوئی کھل جا سم سم جیسا کوڈ ورڈ رکھا ہوا ہے جسے بریک کر کے کوئی ان کا خزانہ لوٹ کر لے جائے۔

اب چونکہ پاکستان بھی نواں نکور ہو چکا ہے اور ہر طرف تبدیلی ٓا رہی ہے تو چوروں کے کپتان نے بھی اپنے ٓائین چوری چکاری میں بہت ساری ترمیمیں کردی ہیں۔۔۔سب سے بڑی ترمیم یہ ہوئی ہے کہ اس گینگ نے اپنی ممبر شپ کو اوپن کر دیا ہے۔۔۔اس کے علاوہ اس نے چور بازاری کو فروغ دینے کے لئے مقامی چوروں کے علاوہ دنیا بھر کے چوروں کے لئے بھی اپنے گینگ کی ممبر شپ اوپن کر دی ہے۔


برطانیہ سے تعلق رکھنے والے چوروں کو تو اس کی طرف سے بہت زیادہ مراعات دی جا رہی ہیں اور اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ جن دنوں یہ برطانیہ میں وارداتیں کر رہا تھا تو ان برطانوی چوروں نے بھی اس کی ہر طرح سے مدد کی تھی اور برطانیہ میں اس کے ڈیرے کے لئے ہر طرح کی فنڈنگ بھی کی تھی۔۔۔کچھ چور امریکہ سے بھی اس گینگ کو جوائین کرنے کے لئے ٓائے ہیں لیکن برطانوی چوروں کے مقابلے میں ان کی حیثیت ٓاٹے میں نمک جتنی ہے۔

اس بین القوامی چوروں والی تبدیلی کے علاوہ جہانگیر ترین سے دوستی میں دراڑیں پڑ جانے کے بعد ایک تازہ ترین تبدیلی چوروں کے کپتان نے یہ کی ہے کہ اپنے گینگ میں وردی اور دہشت گردی والی انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے چوروں کو بڑی تیزی کے ساتھ اپنے گینگ میں شامل کر نا شروع کر دیا ہے۔۔۔ ویسے تو پہلے دن سے اس کے چور گینگ میں وردی والے کچھ چور شامل ہیں لیکن ان دنوں اس نے ان لوگوں کو اپنے گروہ میں شامل کرنے کے لئے کچھ زیادہ ہی جدو جہد شروع کر رکھی ہے۔

ان چوروں کی شمولیت سے اس کو دو طرح کا فائدہ ہو رہا ہے۔۔۔ایک تو یہ نئے چور بڑے اثر رسوخ والے ہیں اور دوسرا ان کے پاس ایسے جدید ہتھیار ہیں جو کہ اس کپتان کے گینگ میں سے کسی کے پاس نہیں۔۔۔اور اس کے علاوہ ان چوروں کے عدالتی ہتھوڑا گروپ کے ساتھ بھی خصوصی تعلقات ہیں ۔۔۔۔اگلے روز میں نے اس کے چورگینگ کا ایک اکٹھ دیکھا تو اس میں اس کے ارد گرد وردی والے چوروں کی اتنی زیادہ تعداد تھی کہ اس کی اپنی شیروانی کا رنگ بھی خاکی خاکی سا لگ رہا تھا۔

چوروں کا یہ گروہ دن رات نئے پاکستان کو لوٹنے میں مصروف ہیں۔۔۔کوئی ان کو روکنے والا نہیں کیوں کہ روکنے والے بھی اس کارپوریشن کے شئیر ہولڈر بن چکے ہیں۔۔۔ابھی میں سوشل میڈیا پر دیکھ رہا تھا تو ایک صاحب نے بحریہ ٹاون والےملک ریاض کے بارے میں لکھا ہے کہ جس طرح ملک جی نے اپنے کاروبار کو ترقی دینے کے لئے ریٹائرڈ جرنیلی ہارس پاور استعمال کی تھی ۔۔۔موجودہ حکومت بھی اسی نسخے پر عمل کر رہی ہے۔


چند دن پہلے اس نے نکے باجوے کو اپنے ساتھ ملایا اور اب اس نے نئے پاکستان کی ہاوسنگ اسکیم میں لوٹ مار کو ممکن بنانے کے لئے بھی کچھ وردی والے چوروں کو باضابطہ طور پر ساتھ ملا لیا ہے۔۔۔اس کے علاوہ بھی بہت سارے حاضر ڈیوٹی اور ریٹائرڈ وردی والے چوروں کے اس گروہ میں شامل ہو چکے ہیں اور ان کی تعداد چالیس سے اتنی زیادہ ہے کہ میرے لئے ان کے نام لینا ممکن نہیں۔۔۔سوشل میڈیا پر ان کی شیطان کی ٓانت سے بھی زیادہ لمبی فہرست گردش کر رہی ہے۔۔۔اپ چاہیں تو وہاں دیکھ سکتے ہیں۔

چوروں کے اس گروہ کی جرنیلی ایکسپیینشن کا مقصد صرف اور صرف ملک ریاض والے بزنس فارمولے کی مدد سے حکومت بچانا ہے۔۔۔ملک جی نے بھی یہی فارمولہ استعمال کیا تھا۔۔۔ان کی طرف سے اخباروں میں بحریہ ٹاون کے لئے نوکریوں والے اشتہارات یقیننا ٓاپ نے بھی دیکھے ہوں گے جن میں بحریہ ٹاون میں اہم نوکری کے خواہشمند امیدوار کے لئے بنیادی قابلیت یہ رکھی جاتی تھی کہ وہ یا فوج کا ریٹائرڈ جرنیل ہو یا اس کا تعلق عدالتی ہتھوڑا گروپ سے ہو۔


ملک ریاض کو جج اور جرنیل کے اس کمبینیشن نے بہت دولت اکٹھی کر کے دی۔۔۔۔بلکہ اتنی زیادہ اکٹھی کر دی کہ اس میں سے بہت ساری برطانیہ کی کرائم ایجنسی نے پکڑ کر واپس پاکستان کی حکومت کے حوالے کر دی ۔۔۔اس پکڑی ہوئی دولت کے ساتھ چوروں کے کپتان اور اس کے چوروں نے کیا کیا یہ تو یقیننا ٓاپ سب کے علم میں ہو گا۔۔۔اور اگر نہیں بھی ہے تو اندازہ لگا لیں کے چوری کے مال کے ساتھ اور چور کے ساتھ چوروں کا نیا سردار کیا کر سکتا ہے۔۔۔۔وہ بھی ایسی صورت میں جب کہ اس کے گروہ میں شامل بہت سارے چوروں کو اس کے گھر کی طرف ملک ریاض ہی نے بھیجا ہو۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ملک ریاض والے جج اور جرنیل فارمولے سے نئے پاکستان کے کپتان چور اور اس کے ساتھی چوروں کا کاروبار کتنے دن اور چلےگا اور مزید کتنی لوٹ مار کرے گا۔۔۔میری زاتی رائے میں تو یہ کاروبار جلد ٹھپ ہو جائے گا۔۔۔کیونکہ ان دنوں ملک ریاض کا اپنا بزنس ماڈل فلاپ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔۔۔اس کی کاروباری شہرت میں بڑے بڑے ڈینٹ پڑ چکے ہیں۔۔۔اب اسے نئے شکار تو نہیں مل رہے ۔۔۔اس کی گزر بسر اب ان لوگوں کا خون نچوڑ کر ہو رہی ہے جو کہ پہلے سے ہی اس کے شکنجے میں ہیں۔

وردی والے چوروں کو شامل کرنے سے چوروں کے اس گینگ کو وقتی طور پر تو فائدہ ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے لیکن یہ عارضی فائدہ ہے۔۔۔بہت جلد یہ وردی والے چور تعداد میں اتنے بڑھ جائیں گے کہ کپتان کے اصلی والے چالیس چور اقلیت میں تبدیل ہو جائیں گے۔۔۔پھر وردی والوں کی اکژیت اپنی تاریخ کو دہراتے ہوئے اپنے ٹرپل ون بریگیڈ کی بندوقوں کے زور پر پورے گینگ پر قبضہ بھی کر لے گی اور سردار چور والی کرسی پر بھی کسی وردی والے کو بٹھا دے گی۔۔۔۔اور نئے پاکستان کا چور کپتان ایسی غار میں پھینک دیا جائے گا جس میں کھل جا سم سم والا دروازہ بھی نہیں ہو گا۔۔۔اور اس غار میں کھانے کا انتظام تو ہو گا لیکن پینے کے لئے صرف سادہ پانی ہوگا اور اسکو اس ٹیکے کی سہولت بھی میسر نہیں ہو گی جسے لگوا کر چور کپتان حوروں اور غلمانوں کے درشن کر سکے گا۔

718 views