Search

مولانا طارق جمیل کے دعائیہ مِشن کا مقصد کیا ہے؟ کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔26/04/2020


ٓاپ کی طرف سے جو سوالات کا سیلاب ٓایا ہے اس میں نیو مدینہ کے غیر سرکاری مبلغ مولانا طارق جمیل کے ان فتووں کے بارے میں پوچھا گیا ہے جن میں عمران نیازی کو تو پاکستان کا واحد ایماندار اور سچا انسان بتایا گیا ہے اور پاکستان کی باقی ساری ٓابادی کو اس فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے۔۔۔اس کے علاوہ مولانا نے عمران نیازی کے دشمن میڈیا پر بھی لعن طعن فرمائی ہے۔۔۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق میڈیا کے حوالے سے تو مولانا نے اپنے خلیفہ جی کی طرح یو ٹرن لے لیا ہے اور فردا فردا بھی کچھ اینکرز کو فون کر کے معذرت کر لی ہے اور اس کے علاوہ ٹی وی پر بھی اس بات کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی سرنڈر کا لفظ بھی استعمال کیا ہے۔۔یہ جنگی لفظ حالانکہ کسی مولانا کی ڈکشنری میں نہیں ہوتا لیکن چونکہ مولانا طارق جمیل کا زیادہ ایک نیازی کی قربت میں گزر رہا ہے اور اس نیازی کے بڑے بزرگوں نے مشرقی پاکستان میں سرنڈر کا ایک عملی نمونہ بھی پیش کر رکھا ہے تو یوں سمجھ لیں کہ جس طرح خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔۔۔مولانا نے بھی نیازی جونئیرسے سرنڈر والا رنگ پکڑا ہے اور چندہ ٹرانسمیشن میں کی جانے والی گولہ باری کے فورا بعد ہی سرنڈر کر دیا ہے۔

مولانا نے خواتین کے حوالے سے بھی نازیبا گفتگو کی ہے لیکن چونکہ یہ پاکستان کا ایک کمزور طبقہ ہے اس لئے مولانا نے ان کے سامنے ابھی سرنڈر نہیں کیا لیکن اگر جرنیلی قبیلے سے تعلق رکھنے والی خواتین نے یا پھر بنی گالہ کے حجرے میں مقیم پیرنی سے اگراس حوالے سے ٓاواز اٹھائی تو ٓانے والے دنوں میں ٓاپ یہ بھی دیکھ لیں گے کہ حوروں کے نقشے تقسیم کرنے والا مذہبی ٓارکیٹیکٹ ان سے بھی معافی مانگ لے گا۔


ٓاپ لوگوں کو اس بات پر بھی اعتراض ہے کہ مولانا نے یہ کیوں کہا کہ عمران کو اجڑا ہوا چمن ملا جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت کے اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ عمران نیازی نے جب وزیر اعظم والی نوکری کا چارج لیا تو ملک کی صورت حال بہت بہتر تھی۔


اس حوالے سے میری تو یہی گزارش ہے کہ ٓاپ مولانا طارق جمیل کو اتنی سنجیدگی سے نہ سنا کریں۔۔۔انہوں نے جو کچھ بھی کہا وہ انہوں نے ایک وزیر اعظم کی محبت میں کہا ہے اور یہ تو ٓاپ نے سن ہی رکھا ہو گا کہ جنگ اور محبت میں سب جائز ہے۔۔۔مولانا اس وقت نیوریاست مدینہ کے غیر سرکاری برانڈ ایمبیسیڈر ہیں اور یہ ان کی ڈیوٹی میں شامل ہے کہ وہ اس برانڈ کو زیادہ سے زیادہ پروموٹ بھی کریں اور ساتھ ساتھ جو اس ریاست کے سیاسی مخالفین ہیں ان کو بھی رگڑا لگاتے رہیں۔

پاکستانی جرنیلی میڈیا چونکہ ان دنوں عمران نیازی کے ساتھ پہلے جتنا تعاون نہیں کر رہا اس لئے یہ ضروری تھا کہ انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جائے اور ٓاپ سب نے دیکھ بھی لیا کہ اس تنقید کا کتنا فائدہ ہوا۔۔۔فوری طور پر تمام اینکرز نے جو کچھ ماہ پہلے تک جرنیلی ایجنڈے کے تحت عمران نیازی کے قصیدے پڑھا کرتے تھے اور ان دنوں نئی جرنیلی پالیسی کے تحت عمران نیازی میں کیڑے ڈالنے اور نکالنے میں مصروف ہیں ان سب نے اس تنقید کا برا منایا اور کورونا ورونا، ٓاٹا چینی سب چھوڑ چھاڑ کر اس بیان کے حوالے سےمولانا پر گولہ باری شروع کر دی۔۔۔اوروہی پروگرام جن میں عمران نیازی کے وزیروں اور مشیروں کی کرپشن پر بات ہو سکتی ہے وہ سارے کے سارے مولانا کے شکوہ جواب شکوہ کی نذر ہو گئے۔


عمران نیازی کی حکومت کا طریقہ واردات ہی یہ ہے کہ میڈیا میں کوئی نہ کوئی ایسی شرلی چھوڑ دی جائے جس کی وجہ سے لوگوں کی توجہ اصل مسائل کی طرف سے ہٹائی جا سکے اور اس دوران وہ اپنی لوٹ مار جاری رکھ سکیں۔۔۔۔ان کی یہ پالیسی اب تک کامیاب ہے اور وہ ٓائے دن کوئی نہ کوئی ایسا شوشا چھوڑ دیتے ہیں جس پر سیاسی جماعتیں اور میڈیا اس شوشے کا ٓاپریشن کرنے میں لگ جاتے ہیں اور جیسے ہی وہ اس کام سے فارغ ہوتے ہیں ۔۔۔ساتھ ہی ایک نیا پٹاخہ میدان میں ٓا جاتا ہے۔۔۔۔اس طرح میڈیا اور اپوزیشن کی جماعتیں بھی مصروف رہتی ہیں اور عمران نیازی کے چالیس چور لوٹ مار کے سامان کی گٹھڑیاں باندھنے میں لگے رہتے ہیں۔


مولانا طارق جمیل چونکہ زومعنی گفتگو کے ماسٹر ہے اس لئے انہوں نے جو اجڑا چمن کی تشبیہ دی ہے وہ بھی صرف پاکستان کے حوالے سے نہیں ہے۔۔۔سوشل میڈیا پر بہت سارے لوگوں نے اس بات کی وضاحت کی ہے اور یقینا یہ ٓاپ کی نظر سے بھی گزری ہوگی۔


مولانا طارق جمیل کی ایک تصویر یقینا ٓاپ سب نے دیکھ رکھی ہو گی جس میں وہ جنرل باجوہ کے ساتھ کھڑے ہیں اور جنرل باجوہ نے ہاتھ بلند کر رکھا ہے جس سے مولانا کی دستار اپنی جگہ سے ہٹ گئی ہے لیکن مولانا نے اپنی دستار سنبھالنے کی بجائے فوٹو شوٹ پر توجہ رکھی ہے۔۔۔یہ تصویر بہت اچھی طرح بتا رہی ہے کہ مولانا کو اپنی دستار سے زیادہ جنرل باجوہ کی قربت پیاری ہے۔۔۔یہی صورت حال مولانا کی عمران نیازی کے حوالے سے ہے۔۔۔انہیں اپنی نیک نامی اور شہرت کا کوئی پاس نہیں ۔۔۔ان کی ہر ممکن کوشش ہے کہ کسی عمران نیازی کا اقتدار بچ جائے ۔۔۔رہی بات عزت کی تو وہ تو ٓانی جانی شے ہے۔۔۔ میڈیا میں دو چار پروگراموں کی مدد سے دوبارہ بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔

ٓاپ میں سے بہت سے لوگوں کے علم میں ہو گا کہ عمران نیازی کی مالی مدد کرنے والے اور نواز شریف کے حوالے سے کراچی اسٹاک ایکسچینج میں گو نواز گو کے نعرے لگانے والے سرمایہ دار مولانا کے متاثرین میں سے ہیں اور مولانا گاہے بگاہے ان لوگوں کی کوٹھیوں میں جا کر ثواب دارین تقسیم کرتے ہیں۔۔۔حوروں کے نقشے بیان کرتے ہیں اور ان موٹے پیٹوں والے سرمایہ داروں کو گناہوں سے پاک صاف ہونے کے سرٹیفیکیٹ بھی جاری کرتے ہیں۔۔۔ان سرمایہ داروں کاکراچی اسٹاک ایکسچینج سے زیادہ سرمایہ عمران نیازی کی حکومت پر لگا ہوا ہے۔۔۔ان لوگوں کو خوف ہے کہ اگر ان کا گھوڑا ریس سے باہر ہو گیا تو ان کی عمر بھر کی کمائی لٹ جائے گی۔

اس لئے یہ لوگ بھی مولانا کی مدد سے کوشش کر رہے ہیں کہ ان کا لنگڑا گھوڑا نہ صرف ریس میں رہےبلکہ ریس میں سب سے ٓاگے بھی رہے۔۔۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس ریس کے منتظم اب اس گھوڑے سے تنگ ٓا گئے ہیں۔۔۔انہوں نے دیکھ لیا ہےکہ یہ گھوڑا چارہ تو بہت کھاتا ہے لیکن کرتا بس وہ ہے جسے پنجابی میں کہتے ہیں لد کرنا ۔۔۔اس لئے ریس کورس کے منتظمِ اعلی یعنی جنرل باجوہ کو جو کہ اس لنگڑے گھوڑے کو سائیڈ لائین کرنا چاہتے ہیں یہ کاروباری لوگ مولانا کی مدد سے اس کام سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔۔۔پاکستان کی مروجہ سیاسی زبان میں یوں کہہ لیں کہ ان دونوں کو ایک بار پھر ایک پیج پر لانے کی کوششیں کر رہے ہیں ۔


اسی مہم کے تحت مولانا نے ٓاہ و زاریاں کرتے ہوئے ایک دعا فرمائی تھی جس میں جنرل باجوہ اور عمران نیازی کو امین اور صادق ہونے کا سرٹیفیکیٹ جاری بھی کیا تھا اور اس بات کی بھی دعا کی گئی تھی کہ عمران نیازی کی دائیں بائیں اوپر نیچے اور ہر طرف سے غیبی امداد کی جائے ۔۔۔یہ دعا بھی ایک طرح سے جنرل باجوہ جو کہ خلائی مخلوق کے کمانڈر ہیں انہیں متاثر کرنے کے لئے تھی۔

بہر حال مولانا اس وقت سیٹھوں اور عمران نیازی کے لئے جرنیلی این ٓار او لینے والے محاذ پر کام کر رہے ہیں بالکل اسی طرح جس طرح کچھ عرصہ پہلے انہوں نے مولانا فضل الرحمان سے بھی اسی طرح کے رابطے کئے تھے۔۔۔جنرل باجوہ کا چونکہ مذہبی دامن داغدار ہے اور اکثر ان کے عقیدے کے حوالے سے میڈیا میں بھی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔۔۔ان کے اپنے قبیلے کے ایک افسر نے ان کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں ایک درخواست بھی دائر کر دی تھی اس لئے جنرل صاحب کی کوشش ہوتی ہے کہ مولانا طارق جمیل جیسے فتوی فروشوں کو اپنے قریب رکھیں تا کہ جب بھی ان کی مذہبی سوچ پر سوال اٹھے تو اس کا دفاع کرنے کے لئے ان کے پاس زیادہ سے زیادہ کاروباری علما موجود ہوں۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا کو بھی جنرل باجوہ نے اپنی اسلامی کور میں شامل کر رکھا ہے۔۔۔ البتہ جنرل باجوہ کراچی کے سیٹھوں کی طرح مولانا سے متاثر نہیں ہیں اس لئے مولانا ان سے اپنی چرب زبانی سے اتنا بڑا کام نہیں نکلوا سکتے اس لئے وہ رو رو کر اونچی ٓاواز میں باجوہ صاحب کا نام لے کر دعائیں کرتے رہتے ہیں تا کہ شاید بڑے صاحب کے دل میں نرمی پیدا ہوجائے اور وہ ایک بار پھر اپنے نکے کو جرنیلی پیچ پر جگہ دے دیں۔

849 views1 comment