Search

منظور پشتین کی گرفتاری کی مزاحیہ ایف ٓائی ٓار۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔27/01/2020


پاکستان کی فوجی حکومت نے ملکوں ملکوں عمران نیازی سے بھیک منگوانے کے بعد اب ڈالر کی کڑکی کے دور میں اسٹیٹ بنک کے فارن ایکسچینج ریزرو بچانے کے لئے اس کے دوروں کو اسپانسر کروانا شروع کر دیا ہے۔۔۔میری زاتی رائے میں تو یہ بہت ہی نا مناسب سی بات تھی لیکن چونکہ نیو مدینہ کے خلیفہ کی اخلاقیات والا نصاب بالکل مختلف ہے ۔۔۔اس کے مطابق یہ اسپانسر شپ اسی طرح حلال ہے جس طرح وزیر اعظم ہاوس والی یونیورسٹی میں داخلے کے لئے جنرل باجوہ کی فوجی سفارش حلال سمجھی گئی تھی ۔

عمران نیازی تو پہلے ہی موریوں والی شیروانیاں پہنتا ہے اب مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہ ہر وقت ہمیں ایسے کپڑوں میں نظر ٓائے گا جن پر کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کی کٹ کی طرح اسپانسرز کے اسٹکر لگے ہوئے ہوں گے۔۔۔عمران نیازی نے اپنے دورے کے اسپانسر کو بین القوامی اسٹیج پر متعارف کروا کر پوری دنیا کے سرمایہ داروں کو خبر دے دی ہے کہ وہ اپنی کمپنیوں کی مشہوری کے لئے صرف کرکٹ ، فٹبال اور ٹینس کے سپر اسٹارز کی طرف توجہ نہ دیں بلکہ اب پاکستان کا ستر سالہ ہینڈ سم وزیر اعظم بھی معقول معاوضے پر یہ کام ان کے لئے کرنے پر تیار ہے۔۔۔۔عمران نیازی نے ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کر دی ہے کہ وہ اس کام کے لئے ڈالروں میں کم ازکم کتنا معاوضہ لے گا۔

مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ اب وہ دن ٓانے والے ہیں جن کے بارے میں مراد سعید ٹنل والے نے کہا تھا کہ میرا کپتان آئے گی اور اربوں ڈالر لائے گی۔۔۔اب یقیننا پاکستان کے اس قبضہ گروپ کے اچھے دن ٓانے والے ہیں جنہیں عمران نیازی عرف ڈبل شاہ نے جھانسا دیا تھا کہ وہ ان کے لئے ڈالروں کی برسات کر دے گا اور پاکستان کی تمام چھاونیاں میں گوڈے گوڈے ڈالر بہتے ہوئے نظر ٓائیں گے۔

مقبوضہ پاکستان کے تاجر بھی اگر چاہیں تو اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور اپنے اپنے متعلقہ وزیر کو وہ اسی طرح بین القوامی دوروں کے لئے اسپانسر کر کے نہ صرف بیچاری نیو مدینہ کی ریاست کی مالی مدد کر سکتے ہیں بلکہ وہ اس اسپانسر شپ کی ٓاڑ میں جہانگیر ترین کی طرح اتنی ترقی کر سکتے ہیں کہ اپنا زاتی جہاز خرید کر اس میں نیو مدینہ کے غریب غربا اور مسکین وزیروں کو سرکاری اور غیر سرکاری کاموں کے لئے دنیا بھر میں لے کر جا سکتے ہیں۔

میں نے اپنے ایک یوتھئے دوست سے پوچھا کہ عمران نیازی نے چند لاکھ ڈالروں کے لئے کے ہاتھ پھیلانے سے پہلے خود کشی کیوں نہیں کر لی۔۔۔ اگر اس کی حکومت ملکی خزانے پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہتی تھی تو وہ اس غیر ملکی دورے کے لئے اپنے سعودی برادر سے اچھی نسل کے اونٹ منگوا لیتا اور ان پر ہچکولے کھاتا ہوا یا حبیبی یا حبیبی کی تسبیح کرتا ہوا نیو ریاست مدینہ کے برانڈ ایمبیسیڈر مولانا طارق جمیل کے ہمراہ سویٹزرلینڈ پہنچتا تو نہ صرف بیت المال کے لئے بہتر ہوتا بلکہ پوری دنیا ہمارے خلیفہ کی اس سادگی اور ایمانداری کو دیکھ کر متاثر ہو جاتی اور ممکن تھا کہ اس معاشی کانفرنس کے شرکا اس ڈرامے سے متاثر ہو کر پاکستان میں اتنی زیادہ انویسٹمنٹ کر دیتے کہ اسے سنبھالنے کے لئے ہمیں ٓائی ایم ایف سے معاشی مزدوروں کو بلانے کی ضرورت پڑ جاتی۔

ابھی میرا دوست جواب دینے والا تھا کہ مجھے ایک اور خیال ٓایا اور میں نے اس یوتھئے سے کہا کہ اگر عمران نیازی اونٹ پر جاتا اور اس اونٹ پر کشمیر کی ٓازادی کے بینر اسی طرح لگے ہوئے ہوتےجس طرح پچھلے دنوں گوجرانوالہ میں ایک گدھے پر لگے ہوئے تھے تو اس طرح پوری دنیا میں کشمیر کا مسئلہ بہت نمایاں ہو جاتا۔۔۔فوجی حکومت نے تو بس اس کشمیر کو اب کھالیں جمع کرنے والے مجاہدین سے لے کر ٹوئٹر والے مجاہدین کے سپرد کر دیا ہے جس سے یہ مسئلہ بہت حد تک سرد خانے میں چلا گیا ہے۔

میرے یوتھئے دوست نے میری باتوں کا فوری جواب دینے کی بجائے انہیں اپنے واٹس ایپ ہیڈکوارٹر بھیج دیا ہے اور اب اس انتظار میں ہے کہ جیسے ہی اسے معقول جواب ملے گا وہ مجھے فارورڈ کر دے گا۔

مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ عمران نیازی کے نئے اسپانسر اکرام سہگل نے جس کے بارے میں ایک اخباری خبر یہ ہے کہ سابقہ فوجی بھگوڑا ہے ،اس فوجی بھگوڑے نے عمران نیازی کی اُس تقریر کو سنجیدہ لے لیا ہے جس میں عمران نیازی نے فاقوں سے مرنے والے پاکستانیوں کو صبر شکر کا مشورہ دیتے ہوئے یہ شرلی چھوڑی تھی کہ وہ خود پریشان حال ہے ۔۔۔اخراجات بہت زیادہ ہیں اور موجودہ قلیل تنخواہ میں گزارہ نہیں ہو رہا۔۔۔عمران نیازی نے اپنی مالی بیچارگی کی بات کرتے ہوئے اس بات کا مطالبہ تو نہیں کیا تھا کہ جس طرح ٓاپ لوگ شوکت خانم کے لئے چندہ اور کھالیں دیتے ہیں اسی طرح میرا کچن چلانے کے لئے بھی دل کھول کر عطیات دیں لیکن اکرام سہگل نے اپنا فوجی فریضہ سمجھتے ہوئے اپنے خزانے کا منہ کھول دیا ہے۔۔۔میں اس نیک کام کے لئے اللہ تعالی سے دعا نہیں کر سکتا کیوں کہ مجھے اچھی طرح پتہ ہے کہ اس نیک کام کا مالی ثواب اکرام سہگل کو ضرور ملے گا اور وہ بھی ستر ہزار گنا کیوں کہ عمران نیازی بیت المال کو اپنے دوستوں پر خرچ کرنے کے حوالے سے زرا بھی کنجوس نہیں ہے ۔۔۔ کنجوسی وہ بس اس وقت دکھاتا ہے جب بیت المال کی رقم سے غریب عوام کے لئے کوئی ٓاسانی اور سکون پیدا ہو رہا ہے۔۔۔وہ چاہتا ہے کہ پاکستان کے لوگ اس دنیا کا عارضی چین اور سکون انجوائے کرنے کی بجائے وہ ابدی سکون لیں جو کہ صرف ان دنوں ان پچاس لاکھ قبرستانوں میں ملے گا جن کے لئے عمران نیازی نے ہر طرح کی منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے اور جیسے ہی اسے اپوزیشن کے سیاسی جھٹکوں سے نجات ملی وہ ان قبرستانوں کا سنگ ِ بنیاد رکھ دے گا ۔۔۔یہ قبرستان بھی وہ ایک غیر ملکی ماہر تعمیرات سے بنوا رہا ہے جسے برطانیہ میں اس کام کا کافی تجربہ ہے۔

عمران نیازی اس سےپہلے بھی اپنے معاشی مددگاروں کو عربوں سے نواز چکا ہے۔۔۔ اب ٓاپ مجھ سے یہ نہ پوچھیں کہ میں الف والے اربوں کی بات کی ہے یا ع والے عربوں کی جو جلد ہی عمران نیازی کی سخاوت کی وجہ سے پاکستان میں شکار کھیلنے کے لئے ٓا رہے ہیں۔۔۔یہ سارا گیس ورک ٓاپ خود ہی کر لیں۔۔۔مجھے تو اس بات کا بھی شبہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اکرام سہگل نے اس نیک کام کی نیت کرتے ہی نیو مدنیہ کے خلیفہ سے بہت کچھ وصول کر لیا ہو۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما منظور پشتین کو فوجی حکومت نے گرفتار کر لیا ہے اور ان پر وہ سارے الزامات لگا دئے ہیں جو کہ ایف ٓائی ٓار ڈرافٹ کرنے والے ایک ایف اے پاس حوالدار کی نوٹ بک میں لکھے ہوئے تھے۔۔۔اس ایف ٓائی ٓار کا سب سے بڑا لطیفہ یہ ہے کہ اس میں ایک الزام یہ ہے منظور پشتین اشتعال انگریزی پھیلانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔میں نے جب سے یہ اشتعال انگریزی والی بات پڑھی ہے تو گوگل پر بھی بہت سرچ کی ہے اور اپنے کئی قانون دان دوستوں سے بھی پوچھا ہے کہ یہ کیسا جرم ہے اور اس کی سزا کیا ہے، ابھی ان لوگوں کی طرف سے جواب نہیں ٓایا کیونکہ یہ سارے پاکستانی لیڈروں پر بننے والے بغاوت کے پرانے مقدمات کی فائلیں پڑھ رہے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کہ اس سنگین جرم کا ارتکاب کون کون سا غدار لیڈر کر چکا ہے اور اسے اس جرم میں کیا سزا دی گئی تھی۔۔۔۔اب چونکہ غداری والے مجرموں کو تعداد اتنی زیادہ ہے کہ یہ شاید قبضہ گروپ کے پورے لشکر سے بھی زیادہ ہو اس لئے ان لوگوں کا جواب ٓانے میں بہت وقت لگ جائے گا۔۔۔میری زاتی رائے میں تو یہ یقیننا اشتعال انگیزی سے بھی زیادہ بڑا جرم ہو گا ورنہ قبضہ گروپ کو کیا ضرورت کی تھی کہ اتنی تیزی سے حرکت میں ٓاتا اور سورج نکلنے سے پہلے ہی چھاپہ مار کر منظور پشتین کو گرفتار کر لیتا ۔۔۔ایک ٓادھ روز پہلے ہی فوجی حکومت نے پی ٹی ایم سے مذاکرات کی بات کی تھی ۔۔۔اس سرکاری دعوت سے تو یہی لگتا ہے کہ منظور پشتین اوراس کی جماعت غداروں کا ٹولہ نہیں ہے لیکن شاید یہ دعوت پاکستان کے اصلی مالکوں سے پوچھ کر نہیں دی گئی تھی۔۔۔

منظور پشتین پر اس ٓائین کی توہین کا الزام بھی لگایا گیا ہے جسے قبضہ گروپ کے جنرل جب چاہتے ہیں ڈسٹ بن میں پھینک دیتے ہیں لیکن یہ توہین چونکہ ایک پشتون سیاسی رہنما نے کی ہے اس لئے قبضہ گروپ کو یہ قبول نہیں ہے کہ کوئی عام ٓادمی اس ٓائین کے خلاف بات کرے جس ٓائین کے تحفظ اور ریپ اور دونوں کا ٹھیکہ ان کے پاس ہے۔

منظور پشتین کی گرفتاری سے پی ٹی ایم کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا بلکہ قبضہ گروپ کے لئے مشکلات میں اور اضافہ ہو گا۔۔۔اس جماعت کے دو ارکان محسن داوڑ اور علی وزیر پہلے ہی قبضہ گروپ کے حراستی مراکز میں رہ چکے ہیں۔۔۔وہ بھی قید کے دوران ریاستی جبر کو برداشت کر گئے تھے اور یقیننا منظور پشتین بھی بہادری کے ساتھ اس قید کا مقابلہ کرے گا ۔

2,119 views