Search

لڑکی کے بھائیوں نے مطیع اللہ جان کو اغوا کیوں کیا تھا؟۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد


آج کھریاں کھریاں میں بات کریں گے مطیع اللہ جان کی بازیابی اور سپریم کورٹ میں اس حاضری کی ۔۔۔جس کے دوران ہتھوڑا گروپ کے سربراہ نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے مطیع اللہ جان کو یہ بتانے سے روک دیا کہ اس کے اغوا اور توہین عدالت والی کاروائی کا آپس میں کیا رشتہ ہے۔۔۔اور آخر میں اس دھمکی پر بھی تبصرہ ہو گا جو کہ ہتھوڑا گروپ کی طرف سے یو ٹیوب کو پاکستان میں بین کرنے کے بارے میں دی گئی ہے۔

اگر آپ لوگوں کو یاد ہو تو میں نے گزشتہ کالم میں بھی یہ کہا تھا کہ مجھے تو مطیع اللہ جان کے اغوا کے پیچھے بھی وہی لوگ نظر ٓاتے ہیں جنہوں نے ایڈوکیٹ انعام االرحیم کو چند ماہ پہلے اغوا کیا تھااور پھر اسی اغوا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چیف جسٹس گلزار نے ان کی ایک درخواست کو عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کر دیا تھا۔۔

توہین عدالت کے اس ٹوئٹر والے کیس کو ختم کرنے کا ایک طریقہ تو یہ تھا کہ مطیع اللہ جان سے غیر مشروط معافی منگوا لی جاتی لیکن اس سرپھرے اور پاگل صحافی سے ایسا معافی نامہ لکھوانا بہت مشکل کام ہے۔۔۔ان لوگوں نے اپنے غیبی مددگاروں جنہیں عام طور لڑکی کے بھائی بھی کہا جاتا ہے۔۔۔ان کی طرف سے مطیع اللہ جان پر دباو بھی ڈالا لیکن اس بار لڑکی کے بھائی کامیاب نہیں ہو سکے۔۔۔اس دوران اس کیس کی سماعت کی تاریخ قریب آ گئی۔۔۔اب اس قبضہ گروپ کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ مطیع اللہ جان کو لاپتہ کر دیں اور اسے سماعت پر حاضر نہ ہونے دیں۔۔۔اس دوران جرنیلی میڈیا سے یہ کمپئین چلائی جانی تھی کہ مطیع اللہ جان اس کیس میں پیش ہونے بچنے کے لئےروپوش ہو گیا ہے۔



مطیع اللہ جان کے خلاف یہ مہم شروع بھی کر دی گئی تھی لیکن ابھی اس نے اتنا زور نہیں پکڑا تھا کہ پوری دنیا میں مطیع اللہ جان کے اس اغوا کی سی سی ٹی وی فوٹیج پھیل گئی اور ان نامعلوم لوگوں کی شناخت بھی ہو گئی جنہوں نے سرکاری وردیوں اور گاڑیوں کی مدد سے مطیع اللہ جان کو اغوا کیا تھا۔۔۔اس کے علاوہ مطیع اللہ جان کی حمایت میں سوشل میڈیا پر اتنے ٹرینڈ چل پڑے کہ مطیع اللہ جان کے خلاف سازش کرنے والے اور ان کے میڈیا مجاہدین کے لئے اس بیانئے کو چلانا ناممکن ہو گیا کہ مطیع اللہ جان توہین عدالت والے کیس سے بچنے کے لئے خود غائب ہو گیا ہے۔

اسی صورتِ حال میں ایڈووکیٹ انعام الرحیم کے اغوا سے غیر قانونی فائدہ اٹھانے والے جسٹس گلزار کے لئے بھی یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ مطیع اللہ جان کی غیر حاضری سے بھی کوئی غیر قانونی فائدہ اٹھا سکیں۔

اب مطیع اللہ جان اعزاز سید کے ہمراہ لڑکی کے بھائیوں کے ڈیرے سے تو بچ کر واپس آ گیا ہے لیکن اس کی منیر نیازی کے اس شعر والی حالت ہے

اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو

میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

توہین عدالت کے اس کیس کی سماعت کے دوران بھی کچھ ایسا ہی لگ رہا تھا کہ اب مطیع اللہ جان کے سامنے دوسرا دریاہے اور وہ بھی بپھرا ہوا دریا جو اسے ڈبونے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔۔ دورانِ سماعت جسٹس گلزار نے مطیع اللہ جان کے ساتھ کسی رعایت کا مظاہرہ نہیں کیا۔۔۔ اس سماعت کی میڈیا پر کی جانے والی رپورٹنگ سے میرا زاتی تاثر تو یہی ہے کہ وہ ججز کو Back Stabbers کہنے پر اب تک غصے میں ہیں اور انہیں اس بات کا کوئی احساس نہیں کہ سپریم کورٹ میں ایک عرصے سے رپورٹنگ کرنے والے صحافی کو کس نے دن دہاڑے اغوا کیا۔۔۔اس اغوا کے دوران اس سے کیسا سلوک کیا گیا۔



جسٹس گلزار کو بس اپنی اور اپنے ساتھیوں کی ٹوئٹر والی توہین کی فکر تھی۔۔۔انہوں نے مطیع اللہ جان سے تحریری جواب مانگا جس پر مطیع نے وضاحت کی کہ اسے اغوا کر لیا گیا تھا اس لئے وہ یہ جواب تیار نہیں کر سکا۔۔۔عدالت نے اسے مہلت تو دے دی ہے لیکن اس کاروائی کے دوران جب مطیع اللہ جان نے یہ بتانے کی کوشش کی اس اغوا اور توہین عدالت والے کیس کے درمیان کیا رشتے داری ہے تو جسٹس گلزار نے اسے روک دیا اور یہ حکم دیا کہ ساری باتیں تحریری طور پر پیش کی جائیں۔

میری زاتی رائے میں تو ججز کو چاہئے تھا کہ وہ مطیع اللہ جان کو اپنی روداد سنانے کو پورا موقع دیتے ۔۔۔اس طرح عدالت کے ریکارڈ میں بھی اس اغوا کا سارا پس منظر آ جاتا اور عدالت میں موجود لوگوں کو بھی سارے حقائق کا علم مطیع اللہ جان کی زبانی ہو جاتا۔۔۔لیکن ایسا کرنے میں چونکہ ان فرشتوں کی رسوائی کا امکان تھا جن کی پاکبازی کے قصے جرنیلی میڈیا میں چوبیس گھنٹے بھولے بھالے پاکستانیوں کو حفظ کروائے جاتے ہیں۔۔۔اب یہ ساری باتیں مطیع اللہ جان اپنے تحریری جواب میں ضرور بتائے گا لیکن یہ عوام تک نہیں پہنچ پائیں گی اور جرنیلی میڈیا پر اس کیس کا وہی حصہ رپورٹ کیا جائے گا جس کا تعلق ہتھوڑا گروپ کی توہین سے ہے۔

مطیع اللہ جان کے ساتھ ایک اور زیادتی اس سماعت کے دوران یہ کی گئی کہ اس کے اغوا کو جسے وفاقی حکومت کے ایک وزیر نے بھی اغوا کہا ہے۔۔۔اس اغوا کو قبضہ گروپ کے چہیتے جج اعجاز الحسن نے اپنے سرپرستوں کو قانونی الجھنوں سے دور رکھنے کے لئے چیف جسٹس سے فرمائش کر کے عدالتی کاروائی میں اسے اغوا کی بجائے مبینہ اغوا میں تبدیل کروا دیا


دو ہفتے بعد اس توہین عدالت والے کیس کی سماعت ہو گی۔۔۔اس کا نتیجہ کیا نکلے گا یہ تو شاید ہتھوڑا گروپ والے بھی نہیں جانتے اس لئے میں اس بارے میں لندن میں بیٹھ کر کیا بتا سکتا ہوں۔۔۔بہر حال اتنا بتا دیتا ہوں کہ اس کا تیار شدہ فیصلہ بھی اسی عدالت سے ٓائے گا جو کہ محکمہ زراعت کے افسروں پر مشتمل ہے۔۔۔ہو سکتا ہے میری اس بات سے ہتھوڑا گروپ والوں کو مزید تکلیف پہنچے لیکن یہ میری زاتی رائے ہے جو میں نے ثاقب نثار اور جسٹس کھوسہ کے گینگ کی وارداتیں دیکھ کر کام کی ہے۔۔۔اب یہ بڑے وارداتیئے اس وقت سپریم کورٹ میں نہیں ہیں لیکن یہ گندی مچھلیاں تالاب کو اتنا گندہ کر کے نکلی ہیں کہ اب اس تالاب کو صاف کرنے کے لئے صرف دو چار بالٹیاں پانی نکالنے سے کام نہیں چلے گا۔۔۔اس کے لئے محکمہ نہر والی بھل صفائی کرنی ہو گی لیکن شرط یہ ہے کہ یہ بھل صفائی عوامی نمائندوں سے کروائی جائے۔۔۔اگر اس بھل صفائی کے لئے بھی محکمہ زراعت کے لشکر کو ٹھیکہ دیا گیا تو پھر پہلے والا گند بھی باہر نہیں آئےگا بلکہ اس گند میں نیا گند شامل کر دیا جائے گا،

اگر ہتھوڑا گروپ نے مطیع اللہ جان پر بھی اسی طرح توہین عدالت والی کاروائی چلائی جس طرح ثاقب نثار نے ن لیگ کے رہنماوں کے خلاف کی تھی تو پھر یقیننا مطیع اللہ جان کو سزا ملے ۔۔۔وہ سزا علامتی بھی ہو سکتی ہے اور اسے اڈیالہ والے سرکاری مہمان خانے میں بھیجا جا سکتا ہے لیکن دونوں صورتوں میں نقصان ہتھوڑا گروپ اور اس کے سرپرستوں کا نقصان مطیع اللہ جان سے کہیں زیادہ ہو گا۔۔۔

اور اب بات کر لیتے ہیں یو ٹیوب پر پابندی والی دھمکی کی ۔۔۔یہ دھمکی بھی انہیں کی طرف سے ٓائی ہے جن کی عزت ایک صحافی کی ٹوئیٹ سے بھی خطرے میں پر جاتی ہے۔۔۔ان لوگوں کو چاہئے کہ اسلام ٓاباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کا وہ فیصلہ پڑھ لیں جو انہوں نے مطیع اللہ جان کے خلاف ایسی ہی ایک درخواست پر دیا ہے اور کہا ہے کہ ججز کی عزت سوشل میڈیا کے تبصروں سے نہ تو گھٹ سکتی ہے اور نہ ہی بڑھ سکتی ہے۔۔۔یہ لوگ یو ٹیوب کو بین کرسکتے ہیں کیوں کہ انہوں نے تو قبضہ گروپ کے اشارے پر پاکستان کے ایک منتخب وزیر اعظم کو پھانسی پر چڑھا دیا تھا اور ایک وزیر اعظم کو قبضہ گروپ کی فرمائش پر بلیک لا ڈکشنری والا ہتھیار استعمال کرتے ہوئے گھر بھجوا دیا تھا۔۔۔اس لئے یہ یو ٹیوب پر بھی پابندی لگا سکتے ہیں لیکن یہ پابندی بھی انہی کی فرمائش پر لگے گی جنہوں نے مطیع اللہ جان کو اغوا کیا تھا اور جن کے لئے سی سی ٹی وی میں نظر آنے والے اس اغوا کو جسٹس اعجاز الحسن نے مبینہ اغوا میں تبدیل کروا دیا ہے۔

2,317 views