Search

لاپتہ افراد اور چپل چوری کرنے والا چوکیدار ۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔04/07/2020


کل میں نے واٹس ایپ کے ایک گروپ میں ایک مسیج پڑھا کہ پانچ جولائی کو مسنگ پرسنز کے لئے سوشل میڈیا پر ٓاواز اٹھائی جائے گی۔۔۔ میری ٓاپ سب سے بھی گزارش ہے کہ آج پانچ جولائی کو ان تمام لوگوں کے لئے جنہیں وردی کی ٓاڑ میں دہشت گردی کرنے والوں نے سالوں سے غائب کر رکھا ہے ۔۔۔۔ان مظلوموں کے لئے ٓاپ سب بھی ٓاواز اٹھائیں اور خاص کر کے ٹوئٹر پر Release all missing persons کا جو ٹرینڈ شروع کیا جائے گا۔۔۔اس میں بھر پور شرکت کریں تا کہ پوری دنیا کو پتہ چلے کہ پاکستانی عوام کے دفاع کا دعوی کرنے والے بہروپئے ہی اپنے لوگوں کے ساتھ یہ واردات کر رہے ہیں۔

اسی گروپ میں ایک صاحب نے ایک پوسٹ بھی شئیر کی ہوئی تھی اور ساتھ ہی اس کے نیچے ایک نوٹ بھی تھا کہ اس پوسٹ کو پاکستان کے موجودہ حالات سے بالکل بھی نہ جوڑا جائے۔۔۔مجھے اپنی فوج پہ پورا بھروسہ ہے۔۔۔پاک فوج زندہ باد۔۔۔میں اس پوسٹ میں کچھ تبدیلیوں کے بعد اسے ٓاپ کے ساتھ شئیر کر رہا ہوں۔۔۔گروپ میں پوسٹ کرنے والے صاحب کا نام میں اس لئے نہیں دے رہا کیوں کہ میں نہیں چاہتا کہ پانچ جولائی کو جب مسنگ پرسنز کے لئے ٹوئٹر پر ٹریند چل رہا ہو تو مسنگ پرسنز کی گنتی میں ایک اور بندے کا اضافہ ہو جائے۔


یہ لطیفہ نما واقعہ بہت ہی زبردست اور سبق ٓاموز ہے۔۔۔آپ چاہیں تو اس سے وردی والے بہروپیوں کے بارے میں اپنی صیح رائے بھی کام کر سکتے ہیں اور چاہیں تو جرنیلی میڈیا پر کام کرنے والے حوالداروں کی طرح جنرل باجوہ زندہ باد کے نعرے لگا کر خود کو قمرونا وائرس سے محفوظ بھی کر سکتے ہیں۔

لطیفہ نما سچا واقعہ کچھ یوں ہے۔۔۔نماز سے فارغ ہو کر جب نمازی مسجد سے باہر نکلے تو انہوں نے دیکھا کہ ان سب کی چپلیں چوری ہو چکی ہیں۔۔۔نمازیوں نے مسجد کے باہر کھڑے چوکیدار سے پوچھا کہ چپلیں کہاں گئیں۔۔۔وردی والے چوکیدار نے جواب دیا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹ نے چوری کر لی ہیں۔۔۔نمازیوں نے بھارتی چور کی نشاندہی پر وردی والے چوکیدار کو بہت شاباشی دی اور اس کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے انہیں اس واردات کے بارے میں بڑی اہم معلومات دی ہے۔

کچھ نمازیوں نے چوکیدار کو نقد انعام بھی دیا۔۔۔چوکیدار بولا کہ اسے اس بہادری کے کارنامے پر ایک ٓادھ تمغہ بھی ملنا چاہئے تا کہ وہ اپنا سینہ اور چوڑا کر سکے۔۔۔نمازیوں نے اس کی تمغے والی فرمائش پوری کرنے کی حامی بھری اور چوکیدار زندہ باد کے فلک شکاف نعرے لگاتے ہوئے گھروں کو چل پڑے۔۔۔راستے میں ایک نمازی کو خیال آیا کہ وہ چوکیدار سے مزید تفتیش کرے۔۔۔نمازی نے یو ٹرن لیا اور مسجد پہنچ کر چوکیدار سے پوچھا۔۔۔چوکیدارا زرا اے تے دس جس ویلے چوری ہو رئی سی ۔۔۔توں اوس ویلے کتھے غائب سیں۔۔۔۔چوکیدار کی داڑھی تو نہیں تھی لیکن اس کی وردی میں تنکا ضرور تھا۔۔۔اس نمازی کے سوال سے اندازہ لگا لیا کہ اس کا یوم حساب قریب ٓا رہا ہے۔۔۔اس نے نمازی کے سوال کا جواب دینے کی بجائے نمازی پر حملہ کر دیا اور اسے زمین پر گرا کر اس کے سینے پر سوار ہو گیا اور خود بھی زور زور سے چلانے لگا کہ میں نے بھارتی ایجنٹ کو پکڑ لیا ہے اور ساتھ ہی مسجد کے لاوڈ اسپیکر پر بھی اعلان کروا دیا کہ مسجد سے جوتیاں چرانے والا بھارتی ایجنٹ پکڑا گیا ہے۔۔۔اپنے اپنے گھر سے نئی جوتیاں لے کر فورا مسجد پہنچیں اور بھارتی چور کی چھترول کر کے ثواب دارین حاصل کریں۔

تمام نمازی نئی جوتیوں سمیت مسجد پہنچے اور وردی والے چوکیدار کی ہدایات کے مطابق اس بھارتی ایجنٹ کو مار مار کر اگلے جہان پہنچا دیا۔۔۔مار پیٹ سے فارغ ہو کر جب لوگ گھروں کو جانے لگے تو چوکیدار نے ان سے کہا کہ ٓاپ لوگوں نے میری قیادت میں اتنی بڑی جنگ جیتی ہے۔۔۔۔اس لئے گھروں کو جانے سے پہلے شکرانے کے دو دو نفل ضرور پڑھ کر جائیں۔۔۔چوکیدار کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے تمام لوگوں نے مسجد میں داخل ہو کر شکرانے کے دو نفل ادا کئے۔۔۔نفل ادا کرنے کے بعد جب وہ سارے نمازی مسجد سے باہر نکلے تو انہوں نے کیا منظر دیکھا ۔۔۔اس کے بارے میں ٓاپ خود اندازہ لگائیں ۔۔۔میں صرف اتنا بتا دیتا ہوں کہ وہ سارے ایک بار پھر ننگے پیر چوکیدار زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے گھروں کو روانہ ہوئے تھے۔

مسنگ پرسنز کا صیح جنرل نالج اور پریکیٹکل پاکستان کے چھوٹے صوبوں کے لوگوں کو ہے۔۔۔کچھ روز پہلے ٓاپ نے ایک بلوچ لڑکی کو زارو قطار روتے ہوئے دیکھا ہوگا جو کہ اپنے بھائیوں کی گمشدگی کا بات کر رہی تھی۔۔۔ایسے دردناک منظر بلوچستان کے ہر دوسرے گھر میں دیکھے جا سکتے ہیں۔۔۔سندھ کے باشعور نوجوان بھی اسی ظلم کا کافی عرصے سے شکار ہیں۔۔۔اس شکنجے سے صرف وہی سندھی لوگ بچ پاتے ہیں جو کہ ان سیاسی جماعتوں کا ساتھ دیتے ہیں جن کے منشور میں بوٹ پالش کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔۔۔اسی طرح خیبر پختون خواہ کے قبائلی علاقوں میں یہی حال ہے۔۔۔پی ٹی ایم والوں کے پاس تو ان لاپتہ افراد کی لسٹ بھی ہے جس میں ہزاروں پشتون شامل ہیں۔

پنجاب کے علاوہ ان تینوں صوبوں کے لوگ اپنے پیاروں کی جبری گمشدگی والے عذاب سے گزر رہے ہیں۔۔۔یہ ان نمازیوں کی طرح بھولے اور بے خبر بھی نہیں ہیں جو اپنے ہی جوتے چوری کرنے والے کو انعام اور تمغے دیتے ہیں۔۔۔یہ مظلوم لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے پیاروں کو اغوا کرنے والا کونسا چوکیدار ہے۔۔۔یہ اس چوکیدار کے خلاف نعرے بھی لگا رہے ہیں لیکن ان کی بد قسمتی ہے کہ اس چوکیدار کے پاس بہت بڑا لشکر ہے۔۔۔ہتھیار ہیں۔۔۔ریاستی وسائل ہیں۔۔۔جن کی مدد سے اس نے ان کے پیاروں کو لاپتہ بھی کر رکھا ہے اور ان کے لئے ٓاواز اٹھانے والوں کو بھی مسلسل لاپتہ کر رہا ہے۔۔۔اس چوکیدار نے حال ہی میں اسلام آباد میں پینتالیس ایکڑ زمین بھی اسی مقصد کے لئے حاصل کی ہے تا کہ مسنگز پرسنز کی بڑھتی ہوئی ٓابادی کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

آج پانچ جولائی ہے۔۔۔میری پنجاب کے لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ بھی اس مسنگ پرسنز والی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور چھوٹے صوبوں سے گم شدہ ہونے والے مظلوموں کے لئے ٓاواز بلند کریں ۔۔۔جوتی چور چوکیدار اور اس کے سرپرستوں کے ظلم کے خلاف کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں تا کہ اغوا کاروں کے اس گینگ کو روکا جا سکے۔۔۔۔اگر ٓاپ ان لوگوں کے ساتھ نہیں کھڑے ہوں گے تو وہ دن دور نہیں جب پنجاب میں بھی کورونا کی طرح یہ مسنگ پرسنز والا وائرس پھیل جائے گا۔

452 views1 comment