Search

قبضہ گروپ کے پلاٹوں والے کمانڈر۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد


آج کھریاں کھریاں میں آئی ایس آئی کو اسلام آباد میں الاٹ کی جانے والی پینتالیس ایکڑ زمین کی بات بھی کرنی ہے اور اس کے علاوہ بہاولپور اور چولستان میں پلاٹوں والے کمانڈر زمینوں کی جو لوٹ کھسوٹ کر رہے ہیں اس کا بھی زکر کرنا ہے ۔۔۔ اسی قسم کی پلاٹوں والی لوٹ مار کو کراچی میں چائنا کٹنگ کا نام دیا جاتا ہے۔۔۔کسی زمانے میں تو ایم کیو ایم کے لیڈران اس دھندے میں سب سے آگے تھے لیکن ایک عرصہ ہوا کہ اس فیلڈ پر بھی وردی والوں سی پیک کی طرح قبضہ کر رکھا ہے اور ایم کیو ایم کے بہت سارے خوشحال تنظیمی عہدےداروں کو فاقہ کشی پر مجبور کر دیا ہے۔۔۔اسی فاقہ کشی کی وجہ سے بہت سارے مہاجر چائنا کٹر تو اس وقت کراچی سے ہجرت چکے ہیں۔

چائنا کٹنگ کاوالا یہ دھندا ان دنوں اسلام آباد میں بھی زوروں پر ہے۔۔۔عمران نیازی بھی باپ کا مال سمجھ کر سرکاری زمینوں کی بندر بانٹ کر رہا ہے۔۔۔ویسے تو باپ کا مال کہنا تھوڑا سا غیر مناسب ہے لیکن نواز شریف کے دور میں عمران نیازی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہی الفاظ میں تنقید کیا کرتا تھا۔۔۔اس لئے میں نے بھی وہی جملہ دہرا دیا ہے تا کہ اس کو اور اس کے پیروکاروں کو بات اچھی طرح سمجھ آ جائے۔۔۔ ویسے عمران نیازی پر پلاٹ کے حوالے سے باپ والی مثال کافی حد تک درست اس لئے بھی ہے کہ اس کے اصلی ابا کافی عرصہ لاہور میں پلاٹوں کا دھندہ بھی کرتا رہا ہے ۔

چند روز پہلے نیازی کی کابینہ کی اسی اقتصادی رابطہ کمیٹی جس نے چینی کی امپورٹ ایکسپورٹ والے جرم کی قانونی منظوری دی تھی اب اسی کمیٹی نے فوج کے خفیہ ادارے کے لئے وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کے ایک نواحی علاقے میں پورے پینتالیس ایکڑ اراضی الاٹ کرنے کی منظوری دی ہے۔۔۔کافی عرصے سے آئی ایس آئی اس اراضی کے پیچھے پڑی ہوئی تھی لیکن اب جنرل فیض حمید نے تو باضابطہ طور پر اپنے ادارے کے لئے پورے پینتالیس ایکڑ کا پلاٹ ہتھیا لیا ہے۔

اخباری خبر کے مطابق ملک کی مالی حالت پتلی ہونے کے باوجود اس منصوبے کے لئے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کا بندوبست بھی کر دیا گیا ہے جو کہ موجودہ مالی سال کے ختم ہونے سے پہلے ہی جنرل فیض کے حوالے بھی کر دی جائے گی۔۔۔اس پینتالیس ایکڑ زمین پر جنرل فیض حمید کیا تعمیر کرے گا یہ تو اسی کو پتہ ہو گا یا پھر اس جرنیلی کنسٹرکشن کمپنی کو ۔۔۔جسے اس عظیم الشان منصوبے کو مکمل کرنے کا ٹھیکہ ملے گا۔


میرے ایک دوست نے جو کہ دو بار ٓائی ایس آئی کی مہمان نوازی کا مزہ چکھ چکا ہے ۔۔۔اس کا البتہ یہ خیال ہے کہ اس پاک سر زمین پر آئی ایس آئی کے جدید دفاتر کے علاوہ ایسے مہمان خانے تعمیر کئے جائیں گے جن میں ان لوگوں کو مستقل رہائش دی جائے گی جو کہ پچھلے کئی سالوں سے اس ادارے کی تحویل میں ہیں لیکن ان کے لئے مناسب رہائیشی سہولتیں نہیں ہیں اور نہ ہی جن ڈربوں میں انہیں بند رکھا جا رہا ہے وہ ساونڈ پروف ہیں۔۔۔میں نے اپنے دوست سے پوچھا کہ ساونڈ پروف کمروں کی کیا ضرورت ہے۔۔۔کیا ان کمروں میں نئے ملی ترانوں کی ریکارڈنگ ہوتی ہے ۔۔۔جس کے لئے کمروں کا ریکارڈنگ اسٹوڈیو کی طرح ساونڈ پروف ہونا ضروری ہوتا ہے۔۔۔میرے دوست نے اپنے زاتی تجربے کی روشنی میں جواب دیا اور کہا کہ جب اسے حساس ادارے کے پرائیوٹ ٹارچر سیل میں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا تو اس کی چیخ و پکار سے کچھ لوگوں کی نیند خراب ہو جایا کرتی تھی۔


میں نے اپنے دوست سے پوچھا کہ جب وہ اس حساس ادارے کی مہمان نوازی بھگت رہا تھا تو کیا اس کے چیخنے چلانے کی آواز پڑوس میں رہنے والے لوگوں تک پہنچ جاتی تھی۔۔۔میرے دوست نے جواب دیا کہ آس پڑوس میں تو ویرانہ ہی تھا لیکن اس مہمان خانے کے جو انچارج تھے ۔۔۔انہیں ان آہ و زاریوں سے بڑی disturbance ہوتی تھی ۔۔۔ اپنی چھاپہ مار کاروائیوں کے بعد جب صاحب جی آرام فرما رہے ہوتے تھے تو ہماری چیخ و پکا رسے ان کی نیند خراب ہو جاتی تھی اور پھر وہ اس کا غصہ بھی مجھ پر ہی نکالا کرتے تھے اور میری پٹائی کرنے والے حساس افسر کے ساتھ ٹیگ ٹیم بنا کر تشدد کرتے تھے۔۔۔اب اس نئے جرنیلی مہمان خانے کی تعمیر کے دوران ہر طرح کی سہولت کا انتظام ہو گا۔۔۔ہر کمرے میں ریاست کے دشمنوں کو صراطِ مستقیم پر لانے کے لئے ہر طرح کے جدید ایکویپمنٹ بھی ہوں گے اور اس کے علاوہ سارے کمرے ساونڈ پروف بھی کر دیئے جائیں گے تاکہ میرے جیسے گستاخوں کی چیخیں اپنے اپنے کمرے تک ہی محدود رہیں اور کسی اعلی افسر کی نیند خراب نہ ہو سکے۔

اس پینتالیس ایکڑ زمین کے علاوہ عمران نیازی نے اپنے چہیتے پرنسپل سیکرٹری محمد اعظم خان سمیت بیورو کریسی کے نو ارکان کو out of turn پلاٹس الاٹ کر دئیے ہیں جن میں ہر پلاٹ کی مالیت چار سے پانچ کروڑ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔۔۔ان پلاٹوں کو بنانے کے لئے بھی چائنا کٹنگ والا فارمولا اپنایا گیا ہے اور سی ڈٰی اے نےجس طرح ان پلاٹوں کی تخلیق کی ہے اس پر اعتراض کرتے ہوئے ایک سابقہ کیبنٹ سیکرٹری ابو احمد عاکف ستارہ امتیازنے ایک سینئیر وکیل بیرسٹر ظفراللہ خان کی مدد سے عدالت سے رجوع کر لیا ہے اور اپنی پٹییشن میں کہا ہے کہ پلاٹوں کی یہ الاٹمنٹ نہ صرفillegal ہے بلکہ unreasonable بھی ہے۔۔۔ اس کیس کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے لئے منظور بھی کر لیا گیا ہے اور جسٹس محسن اختر کیانی اس کیس کی سماعت کریں گے۔۔۔۔۔عمران نیازی کے پرنسپل سیکرٹری کے علاوہ ہتھوڑا گروپ کے موجودہ سربراہ جسٹس گلزار احمد اور ایک اور جسٹس مشیر عالم بھی اس بہتی گنگا سے ہاتھ دھوتے ہوئے پلاٹ کی شکل میں اپنا حصہ وصول کر رہے ہیں۔

چند روز پہلے قومی اسمبلی کے رکن ریاض حسین پیرزادہ نے بھی روایتی سیاسی عاجزی کے ساتھ بہاولپور میں فوجی چائنا کٹنگ کی ایک لمبی چوڑی دردناک کہانی بھی اسمبلی کے فلور پر سنا دی ۔۔۔۔ریاض حسین پیرزادہ نے بتایا کہ فوج اپنی کاروباری سرگرمیوں کے لئے جنوبی پنجاب میں زمینیں لے رہی ہے اور ان زمینوں کے لئے فوج آٹھ آٹھ سو سال سے آباد لوگوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کر رہی ہے۔۔۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے لوگوں کے ساتھ فوج بالکل اسی طرح کا سلوک کر رہی ہے جو کہ امریکہ میں ریڈ انڈینز کے ساتھ کیا گیا تھا۔۔۔ریاض پیرزادہ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ فوج کو ان کاروباری سرگرمیوں کی اجازت کس نے دی ہے اور وہ کس قانون کے تحت فوجی مقاصد کے لئے حاصل کی گئی زمینوں پر ہاوسنگ سوسائیٹیاں بناتے ہیں۔

اس جرنیلی لوٹ مار کی داستان کو بھی منظر عام پر ٓائے ہوئے کئی دن گزر گئے ہیں لیکن اس پر نہ تو عمران نیازی نے کوئی آٹا چینی ٹائپ کا انکوائری کمیشن قائم کیا ہے جو کہ اس بات کا پتہ چلائے کہ بہاولپور کے لوگوں کی زمینوں پر فوجی لوٹ مار کیوں کی جا رہی ہے اور وہاں کے کاشتکاروں کو ان کی بچی کھچی زمینوں کے لئے پانی کی فراہمی میں رکاوٹ کیوں ٓا رہی ہے اور ان کے حصے کا پانی کون چوری کر رہا ہے۔

نیب کا ادارہ بھی اس وقت ن لیگ کے رہنماوں کے تعاقب میں مصروف ہے ۔۔۔تین ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔۔۔اس انتقامی ادارے نے جنگ اور جیو کے مالک میر شکیل الرحمن کو حراست میں لے رکھا ہے اور ابھی تک کوئی ریفرنس بھی عدالت کے سامنے نہیں لایا گیا۔۔۔سرکاری زمینوں پر قبضے ان دنوں ہور رہے ہیں۔۔۔پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ بھی جاری ہے لیکن اس طرف توجہ کرنے کی بجائے نیب کے افسران میر شکیل الرحمن سے اس دور کے پلاٹوں کا حساب کتاب لے رہے ہیں جب کہ عمران نیازی کا سیاسی جنم بھی نہیں ہوا تھا۔۔۔ویسے بے چارہ چوم ٹو والا چئیرمین اس کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتا ہے۔۔۔اسلام ٓاباد کی ہر حساس ویڈیو لائبریری میں اس کی نیلی پیلی فلمیں موجود ہیں۔

ان فلموں میں سے سر تا پیر والی فلم کی ریلیز تو اسے کافی مشکلات میں ڈال چکی ہے اور اب وہ مزید کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتا ۔۔۔اس لئے وہ نہ تو ان دنوں ہونے والی اس سیاسی چائنا کٹنگ کا نوٹس لے رہا ہے جس کے تحت عمران نیازی کے پرنسپل سیکرٹری نے اور دیگر وفاقی افسروں نے پلاٹ لئے ہیں۔۔۔ اور نہ ہی اس پینتالیس ایکڑ والی جرنیلی الاٹمنٹ پر کوئی سوال اٹھا رہا ہے اور اس نے اپنی پوری توجہ میر شکیل الرحمن کے کیس پر کر رکھی ہے اور اس کی کوشش ہے کہ میر شکیل الرحمن کی اس وقت تک ضمانت نہ ہو پائے جب تک وہ اپنے چینل کوجرنیلی رنگ میں نہیں ڈھال دیتا۔


کراچی کی اسٹیل مل کے مزدوروں کے ساتھ بھی ایک جرنیل کے بیٹے اسد عمر نے اسی لئے وعدہ خلافی کی ہے کیوں کہ اس مل کےساتھ ہزاروں ایکڑ شہری زمین ہے۔۔۔ اس مل کی زمینوں پر پلاٹون کمانڈروں کی مدد سے پلاٹنگ کر کے اربوں روپے کمائے جا سکتے ہیں۔۔۔اب ٓاپ یقیننا یہ بھی جاننا چاہیں گے کہ یہ پلاٹون کمانڈر کون لوگ ہیں۔۔۔یہ دراصل جرنیلی پاکستان کے وہ افسر ہیں جو کراچی میں چائنا کٹنگ کرنے والوں کی سرپرستی کے لئے مشہور ہیں او جنہیں پلاٹوں کی خرید و فروخت کا اتنا زیادہ تجربہ ہے کہ اب انہیں پلاٹون کمانڈر کا ٹائٹل مل چکا ہے۔۔۔یہ پلاٹون کمانڈرو اپنے ادارے کے لئے بہت سارا مال اکٹھا کر سکتے ہیں۔۔۔اور ویسے بھی ان دنوں اس ریاستی ادارے کو سرمایہ کی بہت ضرورت ہے ۔۔

جنرل باجوہ نے حالیہ بجٹ میں بھی اپنے لشکر کے لئے بڑی معقول رقم رکھوائی ہے ل اس کے باوجود ان کو اپنے لشکریوں کو خوش باش رکھنے کے لئے بہت زیادہ پیسوں کی ضرورت ہے۔۔۔اور کراچی کی اسٹیل مل والی زمینوں میں چائنا کٹنگ کر کے یہ ضرورت بھی کافی حد تک پوری کی جا سکتی ہے۔

943 views2 comments