Search

قبضہ گروپ کے خلاف پنجاب کا فیصلہ کن کردار۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔28/07/2020


آج کھریاں کھریاں میں اس عوامی جلوس کی بات کرنی ہے جو راولپنڈی میں ٓاٹا چوروں، چینی چوروں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف نکالا گیا۔۔۔۔ اس کے علاوہ کچھ باتیں ان دوستوں سے کرنی ہیں جو کہ یو ٹیوب پر پابندی کی خبریں سن کر پریشان ہیں ۔۔۔ایسے تمام خیر خواہوں سے سب سے پہلے تو یہی کہنا ہے کہ یوٹیوب بند کرنے کی سازش کرنے والے اور اس سازش پر عمل کرنے والے ہتھوڑا گروپ کی کاروائیوں سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔

یو ٹیوب پر پابندی کی خبر تو ٓاپ کے لئے خوشی کی خبر ہے۔۔۔اس سے ٓاپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ بندوقوں اور ہتھوڑوں والے نہتے لوگوں سے کتنے خوفزدہ ہیں اور کس حد تک کمزور ہیں۔۔۔پورے ملک پر اور ملک کے ہر اہم ادارے پر ان کا قبضہ ہے ۔۔۔جرنیلی میڈیا ہر وقت ان کے بوٹوں کی نمائش میں مصروف ہے لیکن اس کے باوجود یہ اندر سے اتنے کھوکھلے اور ڈرپوک ہیں کہ یو ٹیوب پر ہونے والے پروگراموں سے بھی خوفزدہ ہیں۔



یو ٹیوب کے بند ہونے سے آپ کے جرنیلی نالج میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔۔۔آپ لوگوں کو بہت سارے حق پرست اور دلیر صحافیوں نے پاکستان میں ہونے والی سازشوں سے اچھی طرح باخبر کر دیا ہے۔۔۔آپ کو یہ بتا دیا ہے کہ اس ملک پر سیاست دانوں کا اختیار کتنا ہے اور اصل حکمرانی کس کی ہے۔۔۔دودھ کا گلاس ستر سال سے کون پی رہا ہے اور ملائی کس کے منہ پر چپکا کر اسے اپنے جرنیلی میڈیا کی مدد سے چور بنا کر عوامی عدالت کے سامنے گھسیٹ رہا ہے۔۔۔ٓاپ کو ان مسائل کا حل بھی بتا دیا گیا ہے۔۔۔ لیکن اب بھی اگر ٓاپ روزانہ ان کی کرپشن کی نئی کہانیاں مزے لے لے کر سنیں گے ۔۔۔تھڑوں پر بیٹھ کر اپنی بھڑاس نکالتے رہیں گے تو اس سے نہ تو ٓاپ کی جان ان آٹا چوروں اور چینی چوروں سے چھوٹے گی اور نہ ہی ان کے وردی والے سرپرستوں سے۔۔۔

  • بلھے شاہ نے کہا تھا کہ علموں بس کریں او یار

اْپ لوگوں کی بھی یہی اسٹیج ہے۔۔۔اس قبضہ گروپ کے حوالے سے ٓاپ کے پاس ضرورت سے زیادہ علم ٓا چکا ہے۔۔۔اگر اسی طرح معلومات میں اضافہ کرتے رہیں گے تو پھر علم کی یہ زیادتی ٓاپ کو عمل کی طرف لے کر جانے کی بجائے ڈر خوف اور بے عملی کی طرف لے جائے گی۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ٓاپ اپنی مدد ٓاپ کے تحت میدان میں ٓائیں۔۔۔پچیس جولائی کو راولپنڈی میں لوگوں نے بارش کے پہلے قطرے کی صورت میں ایک جلوس نکال بھی دیا ہے۔۔۔اس جلوس کی ویڈیو یقیننا ٓاپ لوگوں نے فیس بک پر دیکھی ہو گی۔



اس عوامی احتجاج کی خبر مجھے ایک صاحب نے فون کر کے دی۔۔۔پہلے تو مبارکباد دی۔۔۔جب میں نے پوچھا کہ یہ کس بات کی مبارکباد ہے تو انہوں نے بتایا کہ جس عوامی احتجاجی تحریک کی باتیں ٓاپ اپنے پروگراموں میں کرتے ہیں۔۔۔آج اس کی ایک جھلک راولپنڈی میں نظر ٓا گئی ہے۔۔۔راولپنڈی کے بہادر عوام نے اپنی مدد ٓاپ کے تحت ایک احتجاجی ریلی نکالی ہے۔۔۔ان صاحب سے گفتگو کے بعد میں نے بھی اس ویڈیو کو دیکھا۔۔۔بلکہ یوں کہہ لیں کہ بار بار دیکھا۔۔۔لوگوں کے نعرے سنے ان کے چہروں کے تاثرات اور ان کا جوش اور جذبہ دیکھا۔۔۔اس ویڈیو کو دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی اور سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہوئی کہ اس ویڈیو میں کوئی اہم سیاسی رہنما شامل نہیں تھا۔

اس ریلی میں عام پاکستانی تھے اور سب ہم ٓاواز ہو کر آٹا چوروں، چینی چوروں اور ان کے سرپرستوں اور ان کے ملازم عمران نیازی کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔۔۔دروغ بر گردنِ راوی ریلی کے شرکا نے نکے اور ابے کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے لاہوریوں کی طرح جنرل کرنل بے غیرت تو نہیں کہا لیکن اس جانور سے تشبیہ ضرور دے دی جو کہ اس وقت پاکستانی عوام پر پورے دو سال سے بھونکنے اور انہیں بیدردی سے کاٹنے میں مصروف ہے۔


راولپنڈی یعنی قبضہ گروپ کے گڑھ میں بلڈی سویلین کی اس ریلی کا نکلنا۔۔۔اس بات کا ثبوت ہے کہ اب عوام کو اندازہ ہو گیا ہے کہ انہیں اپنے ساتھ زیادتی کرنے والوں کے خلاف کیا کچھ کرنا ہے۔۔۔انہیں پتہ چل گیا ہے کہ ان پر مہنگائی کا سونامی لانے والا کون ہے اور اس کے خلاف کیا کاروائی کرنی ہے۔۔۔۔ان کے اندر سے ڈر اور خوف بھی نکل چکا ہے۔

پچھلے دنوں پاڑہ چنار کے لوگوں نے تو اس قبضہ گروپ کے خلاف عملی مزاحمت بھی کی۔۔۔ان کی گاڑیوں پر پتھراو بھی کیا ۔۔۔اسی طرح وزیرستان میں بھی اس قبضہ گروپ کے ساتھ عوام نے یہی سلوک کیا اور انہیں پاڑہ چنار کی طرح اپنی بیرکوں میں جانے پر مجبور کر دیا۔

میں نے ان دونوں واقعات کا زکر پہلے بھی کیا تھا اور پاڑہ چنار اور وزیرستان کے عوام کی بہادری کو بھی سراہا تھا اور ساتھ ہی پنجاب کے لوگوں سے بھی اپیل کی تھی کہ وہ بھی ان لوگوں کی بہادری سے کوئی سبق سیکھیں۔۔۔اب راولپنڈی کے لوگوں نے تو اس تحریک کا آغاز کر دیا ہے۔۔۔اب یہ پنجاب کے دوسرے شہروں کے لوگوں کا فرض ہے کہ وہ بھی اس تحریک میں اپنا حصہ ڈالیں۔۔۔آٹا چور اور چینی چور مسلسل ٓاپ لوگوں کی جیبوں پر ڈاکے ڈال کر بنی گالہ کا کچن اور عمران نیازی کا سیاسی کاروبار چلانے میں مصروف ہیں۔۔۔اس لئے ٓاپ کو چاہئے کہ اس چور انڈسٹری کو بند کرنے کے لئے گھروں سے نکلیں۔۔۔جب ٓاپ اس چور انڈسٹری کو بند کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے تو ان لوگوں کا دھندہ بھی بند ہو جائے گا جو جرنیلی ایجنڈے کے تحت ان کی سرپرستی کر رہے ہیں۔




ایک صاحب نے پاڑہ چنار کے واقعے پر قبضہ گروپ کی وکالت کرتے ہوئے میسیج بھیجا ہے کہ یہ عوامی ہمدردی کے تحت کیا گیا تھا۔۔۔فوجی گاڑیوں میں سوار لشکر اپنے لوگوں پر بندوقیں سیدھی کر سکتا تھا لیکن انہوں نے ایسا کرنا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔اس لئے ان کے اس انسانی ہمدردی کے عمل کو بزدلی سے تعبیر نہ کیا جائے۔

میری زاتی رائے میں تو یہ کوئی عوامی ہمدردی نہیں تھی۔۔۔فاٹا اور بلوچستان کے لوگوں سے پوچھ لیں کہ یہ ان کے ساتھ کیسی انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔۔۔چند ماہ پہلے پی ٹی ایم کے لوگوں کو اسی طرح گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا تھا اور پھر اس پر ظلم یہ کیا گیا کہ اس مقدمے میں پی ٹی ایم کے لیڈروں کو ہی ملزم نامزد کر کے گرفتار کر لیا گیا تھا۔۔۔بعد میں ان رہنماوں پر بھی کوئی الزام ثابت نہیں ہوا اور ان بے گناہ مارے جانے والے پاکستانی شہریوں کو قبضہ گروپ کی طرف سے معاوضہ بھی دیا گیا۔۔۔جس نے یہ ثابت کر دیا کہ عوام پر قاتلانہ حملے میں کون لوگ ملوث تھے۔

ستر کی دہائی میں بھی ایسی ہی ایک فوجی کاروائی لاہور میں کی گئی تھی۔۔۔جس میں چند لوگ شہید ہو گئے تھے لیکن اس کے بعد فوج کے اندر بہت احتجاج ہوا اور کچھ افسروں نے تو فوج سے استعفی بھی دے دیا تھا۔۔۔پاڑہ چنار اور وزیرستان میں بھی عوام کے خلاف کاروائی کرنے سے گریز اسی لئے کیا گیا کیونکہ اس کے نتیجے میں عوامی احتجاج اور تیز ہو سکتا تھا اور قبضہ گروپ کے اپنے اندر بھی جو اس وقت ایک بے چینی اور تشویش پھیلی ہوئی ہے ۔۔۔اس میں بھی اضافہ ہو سکتا تھا۔۔۔۔ان کو اچھی طرح پتہ ہے کہ اگر انہوں نے عوام پر کھلے عام ظلم کیا تو اس کے نتیجے میں ان کے اپنے لشکر کے اتحاد اور تنظیم کو لاحق خطرات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن سے جہاں کچھ باجوائی جرنیلوں کو فائدہ ہوا ہے وہیں اس کی وجہ سے بہت سارے جرنیلوں کے خواب چکنا چور بھی ہو گئے ہیں۔۔۔جنرل باجوہ کو ہندوستان کے جرنیلوں سے کہیں زیادہ خوف اپنے لشکر سے ہے۔۔۔اسی خوف کے تحت اس نے پچھلے دنوں فوجی افسروں اور ان کے اہل خانہ پر سمارٹ فون استعمال کرنے کی پابندی لگائی۔۔۔ رینجرز میں بھی اب سمارٹ فون کے استعمال پر پابندی لگا دی گئی ہے۔۔۔تین سو سے زیادہ افسروں کو فوج سے قبل از وقت فارغ کر دیا۔۔۔ان فوجی افسروں کو اپنی صفائی میں کچھ کہنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ ان کے سافٹ وئیر میں ایسی کیا خرابی پیدا ہو گئی ہے کہ اب وہ جرنیلی ایجنڈے پر کام کرے کے قابل نہیں رہے۔



بہر حال راولپنڈی ہی وہ اہم شہر ہے جہاں پر عوامی احتجاج کی سب سے زیادہ ضرورت ہے اور اس شہر کے لوگوں نے اس تحریک کی ابتدا کر دی ہے ۔۔۔ اب لاہور ،گوجرانوالہ، سیالکوٹ،فیصل آباد اور راولپنڈی کے ارد گرد کے چھوٹے شہروں کے لوگوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔۔۔جن ٓاٹا چوروں اور چینی چوروں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف پنڈی وال میدان میں نکلے ہیں ان کی وجہ سے پورے پنجاب کے لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔۔۔اس لئے انہیں بھی کسی سیاسی جماعت کے ان لیڈروں کا انتظار کئے بغیر سڑکوں پر ٓا جانا چاہئے جو کہ نیب کے خوف سے گھروں میں بیٹھ کر عمران نیازی کے ٓاوٹ ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔

آخر میں ایک وضاحت بھی کر دوں کہ میں نے پنجاب کے لوگوں سے جو کچھ بھی کہا ہے وہی کچھ میں پورے ملک کے لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں لیکن پاکستان کی موجودہ صورتحال میں پنجاب چونکہ بڑا صوبہ ہے۔۔۔ ملکی معاملات میں بڑے بھائی کا کردار ادا کرتا ہے۔۔۔اس لئے یہ اس کا فرض ہے کہ وہ کارِ خیر کی ابتدا کرے۔۔۔چھوٹے صوبے تو اس حوالے سے بہت کچھ کر رہے ہیں اور اپنی گستاخیوں پر قبضہ گروپ سے مار بھی کھا رہے ہیں۔۔۔ پنجاب کے لوگوں پر یہ زمہ داری اس لئے بھی عائد ہوتی ہے کہ انہوں نے افرادی قوت اور وسائل مہیا کر کے اس لشکر کو اتنا طاقتور کر دیا ہے کہ اس نے پورے پاکستان کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔


1,244 views1 comment