Search

قبضہ گروپ کے افسروں کی رینجرز میں لُوٹ مار۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔13/06/2020

Updated: Jul 22


آج کھریاں کھریاں میں اصولی طور پر تو بجٹ پر بات ہونی چاہئے لیکن میرا خیال ہے کہ اس کے حوالے سے زیادہ تر معلومات آپ تک پہنچ گئی ہیں اور آپ سب کو اچھی طرح اندازہ ہو گیا ہے کہ یہ بجٹ پاکستان کا سب سے زیادہ آرمی فرینڈلی بجٹ ہے۔۔۔اس بجٹ کے اعداد و شمار میں جائےبغیر یہ کہا جا سکتا ہے کہ نکے نے تابعدار اولاد کی طرح تن من دھن اپنے ابے پر نچھاور کر دیا ہے۔۔۔اس بجٹ میں بائیس کروڑ عوام کے لئے آلو گوشت کے لمے شورے والے سالن میں صرف شورا رکھا گیا ہے اور بوٹیاں اور آلو ان لوگوں کے لئے ہیں جن کے پیٹ کاربوہائیڈریٹس کی زیادتی سے پہلے ہی پھول کر غبارہ بن چکے ہیں۔۔۔میری زاتی رائے میں تو آپ لوگوں کو اس بجٹ پر غیر ضروری بحث مباحثہ کرنے کی بجائے پنجابی کی اس کہاوت پر عمل کرنا چاہئے

اوہ جانے تے اوہ جانے۔۔۔توں بیٹھی بھن دانے




آج قبضہ گروپ کی اس واردات پر بات ہو گی جس کا تعلق پاکستان رینجرز کے مظلوم عملے سے ہے ۔۔۔کراچی میں رہنے والے اور رینجرز کے مظالم کا نشانہ بننے والے اور اپنے قیمتی پلاٹوں سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے تو یقیننا میری اس بات سے اتفاق نہیں کریں گے کیوں کہ انہوں نے تو یہی دیکھا ہے کہ رینجرز بھی قبضہ گروپ کی طرح شہری علاقوں میں اپنے ہی لوگوں کی گردنوں پر بوٹ رکھ کر بیٹھی ہوئی فوج میلہ کر رہی ہے۔

رینجرز کا محکمہ انیس سو اٹھاون میں ایک آرڈیننس کے تحت قائم کیا گیا۔۔۔ساٹھ سال سے زیادہ ہو چکے ہیں لیکن یہ اب بھی اسی آرڈیننس کے تحت کام کر رہا ہے اوراس کے لئے کوئی قانون سازی نہیں کی گئی۔۔۔رینجرز کے قیام کے وقت ایک عارضی انتظام کے تحت اس کی کمانڈ فوجی افسروں کے حوالے کی گئی تا کہ جب تک رینجرز کا عملہ تقرری اور ٹریننگ کے بعد جب اس قابل نہ ہو۔۔۔اس کی کمانڈ وقتی طور پر فوجی افسر کرتے رہیں لیکن آج تک فوجی افسروں نے رینجرز کے اپنے اسٹاف کو اس لیول پر نہیں آنے دیا کہ وہ رینجرز کی کمانڈ سنبھال سکیں۔۔۔ اور جس طرح اس قبضہ گروپ نے پاکستان کے دیگر اداروں کو اپنے قبضے میں لے رکھا ہے اسی طرح انیس سو ساٹھ سے رینجرز پر بھی ان کا اسی طرح قبضہ ہے۔




رینجرزکا قیام تو ایک سول آرمڈ فورس کے طور پر عمل میں لایا گیا تھا اور اس کا کنٹرول وزارتِ داخلہ کے پاس ہے لیکن اس کو فوج کے افسروں کے لئے نانی ویہڑہ بنا دیا گیا ہے۔۔۔یہ فوجی افسر دو سال کے لئے ڈیپوٹیشن پر رینجرز میں آتے ہیں اور فوج میں کور کمانڈر بننے سے کہیں پہلے ہی کروڑ کمانڈر بن کر واپس چلے جاتے ہیں۔۔۔اس بات کو آپ محمود غزنوی کے سترہ حملوں سے بھی سمجھ سکتے ہیں کہ یہ فوجی افسر بھی باری باری دو سال کے لئے رینجرز کے سومنات والے مندر پر حملہ کرتے ہیں۔۔۔لوٹ مار کرتے ہیں اور لوٹ مار کر کے واپس فوج میں چلے جاتے ہیں۔۔۔انہیں رینجرز کے اپنے اسٹاف سے کوئی ہمدردی نہیں ہوتی۔۔۔۔اس لئے یہ اپنے دو سالہ قیام میں ان کے مسائل کی طرف توجہ دینے کی بجائے ان پر حکومت کرتے ہیں اور پھر جاتے ہوئے حکومت رینجرز کے کسی افسر کے حوالے کرنے کے فوج کے کسی نئے محمود غزنوی کے حوالے کر جاتے ہیں جو کہ اپنے ایازوں کے ساتھ خوب فوج میلہ کرتا ہے۔۔۔جس کی پوسٹنگ کراچی میں ہو تو اسے قیمتی پلاٹ مل جاتے ہیں ۔۔۔اور سرحدی علاقے میں کام کرنے والے قریبی ممالک کے اسمگلروں کو سہولتیں دے کر دو سال کے اندر اندر اپنا ٹارگٹ پورا کر لیتے ہیں۔

یہ فوجی لٹیرے اس دوران رینجرز کے مقامی اسٹاف کو کسی قسم کی سہولت نہیں دیتے۔۔۔ان کی محکمانہ ترقی، ٹریننگ اور دیگر سہولتوں سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی جس کی وجہ سے رینجرز کے اسٹاف کے احساس محرومی میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔




رینجرز میں سپاہی اور سب انسپکٹر کی سطح کی بھرتیاں ڈی جی رینجرز کے اختیار میں ہیں۔۔۔ان کے لئے کوئی سلیکشن بورڈ یا فوج کی طرز کا آئی ایس ایس بھی نہیں ہے۔۔۔اس لئے یہ بھرتیاں ڈی جی رینجرز کی زاتی پسند ناپسند اور سفارشوں کے زریعے کی جاتی ہیں۔۔۔گریڈ سترہ کے رینجرز افسروں کی تقرریاں فیڈرل پبلک سروسز کمیشن کے زریعے ہونی چاہئے لیکن شیند یہی ہے کہ آج تک ایک بھی افسر اس فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے زریعے بھرتی نہیں کیا گیا اور اس کی وجہ یہی بتائی جاتی ہے کہ اگر رینجرز میں ایسے افسران بھرتی ہو گئے تو وہ ان فوجی مہاجروں کے راستے میں رکاوٹ کھڑی کر سکتے ہیں اور اس بات کا امکان ہے کہ ترقی پاتے پاتے یہ لوگ اس مقام تک پہنچ جائیں کہ رینجرز میں فوجیوں کی آمد و رفت کا سلسلہ ہی بند ہو جائے۔

رینجرز کے موجودہ گریڈ سات کا نائیک یا پھر گریڈ چودہ کا سب انسپکٹر اگر محکمانہ ترقی کرتے ہوئے گریڈ سترہ تک پہنچنا چاہے تو اسے اس کے لئے اتنے سالوں کا انتظار کرنا پڑتا ہے کہ اس منزل تک پہنچتے پہنچتے اس کی کمر بھی دوہری ہو جاتی ہے اور اس کے منہ میں اصلی دانت بھی نہ ہونے کے برابر رہ جاتے ہیں۔۔۔اس پر ستم یہ ہے کہ ان ملازمین کے ساتھ فوجی افسر غلاموں والا سلوک کرتے ہیں اور ان کی ترقیاں کسی میرٹ کی بجائے فوجی افسر کی پسند ناپسند پر کی جاتی ہیں۔

رینجرز سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے ظلم کی یہ داستان ہم سے شئیر کی ہے۔۔۔اس میں رینجرز کےساتھ ہونے والی زیادتیوں کی ایک طویل فہرست ہے۔۔۔ان کا کہنا ہے کہ رینجرز کے عملے کو سرحد پر ہر طرح کے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔۔۔ دشمن کے حملے کا سب سے پہلا نشانہ رینجرز کے جوان ہی بنتے ہیں۔۔لیکن نہ تو ان کے شہیدوں کی کوئی عزت افزائی کی جاتی ہے اور نہ ہی غازیوں فوج کے افسروں کی طرح کوئی زرعی اراضی یا شہری پلاٹ دئیے جاتے ہیں۔۔۔رینجرز کے جوانوں کو بارڈر الاونس کے نام پر صرف پینتالیس روپے دئے جاتے ہیں جن سے کوئی سپاہی اپنے بچے کو چپس کا پیکٹ بھی خرید کر نہیں دے سکتا ۔۔۔یہ بارڈر الاونس انیس سو ساٹھ میں شروع کیا گیا تھا اور آج تک اس میں کوئی اضافہ نہیں ہوا اور رینجرز کے اپنے عملے کو اس مد میں صرف پینتالیس روپے دئیے جاتے ہیں۔


میں نے ان صاحب سے پوچھا کہ پاکستان کے شہروں میں تو رینجرز کا عملہ بہت موجیں کر رہا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ فوج میلہ بھی فوجی افسروں تک محدود ہے۔۔۔یہ لوگ اسی لئے شہروں میں ڈیوٹی کرنا پسند کرتے ہیں تا کہ ہر طرح کا ٓارام بھی رہے تا کہ اپنی تنخواہ کے ساتھ ساتھ انٹرنل سیکیورٹی الاونس اور دیگر الاونسز بھی وصول کر سکیں اور ساتھ ساتھ قیمتی پلاٹوں پر بھی ہاتھ صاف کر سکیں۔۔۔یہی وجہ ہے کہ کراچی سے یہ لوگ واپس جانے کا نام ہی نہیں لیتے اور اب اسی پلان کے تحت انہوں نے لاہور میں بھی ڈیرے ڈال دئیے ہیں۔

فوجی افسروں کی ایکسٹرا ڈیپارٹمنٹل ڈیوٹیز کا حوالہ دیتے ہوئے ان صاحب نے بتایا کہ ان ڈیوٹیز کے دوران یہ افسر لکڑی ، مچھلی، نایاب پرندوں اور جانوروں جو کہ سرحدی علاقے میں ہوتے ہیں ان کا بزنس کر کے بھی لاکھوں روپے کما لیتے ہیں۔۔۔

قبضہ گروپ کے رینجرز میں حکومت کرنے والے افسروں کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ رینجرز کے اسٹاف کے ساتھ بہت توہین آمیز رویہ رکھتے ہیں اور انہیں اپنے سے کمتر تصور کرتے ہیں۔۔۔اس بدسلوکی اور ناانصافی کی وجہ سے رینجرز کے عملے کے اندر ان فوجی افسروں کے خلاف نفرت بہت بڑھتی جارہی ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ جب بھی رینجرز کے سپاہیوں اور سب انسپکٹروں کو موقع ملا وہ ان گھس بیٹھیوں کے ساتھ حساب ضرور برابر کریں گے۔


میری زاتی رائے میں تو رینجرز میں اس خانہ جنگی کی فضا کو بڑھاوا دینے کی بجائے بہتر یہی ہو گا کہ رینجرز کے حوالے سے نئی قانون سازی کی جائے۔۔۔ان کی تقرریاں، ترقیاں، تنخواہیں۔ بارڈر الاونس کو موجودہ مہنگائی کے مطابق کیا جائے اور انہیں بھی فوجیوں کی طرح رہائش علاج اور دیگر سہولتیں دی جائیں۔۔۔ اس محکمے کے افسروں کو فوجی کی غلامی سے ٓازاد کیا جائے اور رینجرز کا کنٹرول رینجرز کے عملے کے حوالے کر دیا جائے ۔۔۔رینجرز کے سپاہیوں اور انسپکٹروں کے مسائل فوج سےہجرت کر کے ٓانے والا افسر کبھی حل نہیں کر سکتا ۔۔۔کیوں کہ اس کے پاس صرف دو سال ہوتے ہیں جس میں اس نے اپنا اور اپنی ٓانے والی نسلوں کا مسقبل محفوظ کرنا ہوتا ہے۔۔۔اس لئے وہ دن رات بارڈر پر ہو یا کراچی جیسی سونے کی کان میں۔۔۔اس کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنا ہدف پورا کرے اور لوٹ مار کے مال کی گٹھڑیاں سمیٹ کو فوج میں اگلی ترقی کے لئے واپس چلا جائے۔

1,315 views