Search

قبضہ گروپ کی برین واشنگ فیکٹری سے کیسے نمٹا جائے؟ کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد


قبضہ گروپ نے بڑی مہارت سے پاکستان میں کچھ لوگوں کو تو اس بات پر قائل کیا ہوا ہے کہ اس ملک کی سلامتی صرف اور صرف قبضہ گروپ کی وجہ سے ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو اپنی اس جرنیلی برین واشنگ کی وجہ سے جرنیلی ایجنڈے کے مخالفین سے بحث مباحثے اور مارنے مرنے پر تیار رہتے ہیں۔۔۔اس کے علاوہ اس قبضہ گروپ نے سوشل میڈیا اورالیکٹرونک میڈیا پر اپنا پورا ایک لشکر بھرتی کیا ہوا ہے۔۔۔ان سب کو تنخواہ ہی اس بات کی ملتی ہے کہ وہ جرنیلی ایجنڈے کے مخالفین کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر نشانہ بنائیں۔۔۔عوام کے پاس چونکہ ان کی کوئی شناخت نہیں ہوتی اور وہ یہی سمجھتے ہیں کہ یہ انہی کی طرح کے نارمل انسان ہیں جو کہ اپنی سوچ کا بے لاگ اظہار کر رہے ہیں جبکہ وہ اس قبضہ گروپ کے تنخواہ دار ملازم ہوتے ہیں یا کسی اور انداز میں معاوضہ وصول کرنے والوں میں سے ہوتے ہیں۔


ان کی تنقید عوام کی زہنی صلاحیتوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور ان کو قلمی ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیتی ہے۔۔۔جو لوگ ہتھیار نہ ڈالیں اور ان کے ساتھ مقابلہ جاری رکھیں توایسے شرپسندوں سے نمٹنے کے لئے ان کے پاس وہ فرشتے ہیں جو کہ ان لوگوں کو لاپتہ کر دیتے ہیں۔۔۔۔لوگوں کی یہ گمشدگیاں بھی عام لوگوں کو مزید کمزور کر دیتی ہیں۔

لیکن ان Brain Washed اور تنخواہ دار لوگوں کے گروہ کے باوجود قبضہ گروپ کے حمائیتوں کی تعداد ان لوگوں کے مقابلے میں بہت کم ہے جو کہ پاکستان سے حقیقی محبت کرتے ہیں اور ان سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ان لوگوں کی بڑی تعداد سوشل میڈیا سے بھی دور رہتی ہے اور عملی جدوجہد سے بھی گریز کرتی ہے۔۔۔یہ لوگ بس ووٹ کو عزت دینے کے لئے الیکشن کے سیزن میں گھروں سے باہر ٓاتے ہیں۔


موجودہ حالات میں بھی جب کہ ہر طرف جرنیل کرنیل اور ان کے بوٹ پالش کرنے والے نظر ٓا رہے ہیں۔۔۔ان محبِ وطن پاکستانیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔۔۔ٓاپ اس کے لئے پچھلے الیکشن کی مثال لے لیں۔۔۔جنرل باجوہ نے اپنے لشکر کی مدد سے عمران نیازی کی ہم ممکن مدد کی۔۔۔میڈیا بھی اس کے لئے فوجی ترانے گاتا رہا لیکن اس کے باوجود انتخابات میں وہ تمام تر فوجی دھاندلی کے باوجود پنجاب میں بڑی اکثریت نہیں حاصل کر سکا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جرنیلی ایجنڈے کے مخالفن اکثریت میں ہونے کے باوجود اس قبضہ گروپ سے نجات کیوں حاصل نہیں کر پاتے تو اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کی بہت بڑی تعداد نے جرنیلی میڈیا کے پروپیگنڈے کے زیر اثر یہ سوچ رکھا ہے کہ ان کے پاس وہ طاقت نہیں ہے جس سے یہ قبضہ گروپ کے ساتھ مقابلہ کر سکیں۔۔۔قبضہ گروپ ان کے مقابلے میں بہت زیادہ طاقتور ہے۔



یہ تجزیہ مکمل طور پر درست نہیں ہے۔۔۔زندگی میں بڑے بڑے معرکے سر کرنے لئے ہمیں صرف اپنے وسائل پر ہی بھروسہ نہیں کرنا ہوتا۔۔۔بطور مسلمان ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالی نیک کاموں میں ہماری مدد کرتا ہے۔۔۔غزوہ بدر کی مثال لے لیں۔۔۔اگر ٓاپ کی سوچ کے مطابق دشمنوں کی طاقت کا تجزیہ کیا جاتا تو پھر شاید یہ ممکن ہی نہ ہوتا کہ کفار کے مقابلے میں مسلمانوں کا لشکر میدان جنگ میں اترتا۔۔۔آپ تاریخ کا مطالعہ کر لیں۔۔۔بہت ساری ایسی بڑی شخصیات مل جائیں گی جن کے پاس وسائل نہیں تھے لیکن انہوں نے اپنی جدوجہد سے اپنے سے طاقتور معاشروں کو تبدیل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے لیڈر بھی قبضہ گروپ کی طاقت سے خوفزدہ رہتے ہیں اور ان کی سیاست جیو اور جینے دو والے فارمولے کے گرد گھومتی ہے۔۔۔اس لئے موجودہ صورتحال میں یہ جماعتیں ایسی کسی تحریک چلانے کی نہ تو خود کوشش کرتی ہیں اور نہ ہی کسی چھوٹی جماعت کی چلائی ہوئی تحریک کو کامیاب کرنے کے لئے مدد دیتی ہیں۔۔۔اور اس کی مثال وہ ٓازادی مارچ ہے جو مولانا فضل الرحمن نے کیا تھا لیکن اسے مکمل طور پر کامیاب ہونے سے دو بڑی جماعتوں نے روک دیا اور اپنے اپنے مسائل حل کروا کر مولانا کو تنہا چھوڑ دیا تھا۔



قبضہ گروپ کی طاقت سے مرعوب کر ہو کر ٓاپ انفرادی طور پر یا اجتماعی طور پر جو بھی فیصلہ کریں گے اس کا نتیجہ یہی نکلے گا کہ ان کا کاروبار اسی طرح چلتا رہے گا۔۔۔پاکستان کے بڑے شہروں میں رہنے والے یہ کام بہت ٓاسانی سے کر سکتے ہیں لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ صرف قبضہ گروپ سے ڈرنے کی بجائے اس زات سے ڈرنا شروع کر دیں جس نے انہیں تخلیق کیا ہے۔۔۔اور اس کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ظلم کے خلاف ٓاواز بلند کریں اور دوسروں کا انتظار کرنے کی بجائے خود ٓاگے بڑھیں۔۔۔اس جذبے کے ساتھ صرف پنجاب کے دو بڑے شہروں میں لوگ اگر گھروں سے باہر آ جائیں تو وہ تبدیلی ٓا سکتی ہے جس کاعام پاکستانی ہر وقت خواب دیکھتے رہتے ہیں لیکن عملی جدوجہد کرنے کی بجائے خود کو اور دوسروں کوقبضہ گروپ کی طاقت سے خوفزدہ کر دیتے ہیں۔

بعض لوگ اس معرکے کو سر کرنے کے لئے بھی قبضہ گروپ کی طرف دیکھتے ہیں اور یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ ایک دن فرعون کے گھر موسی پیدا ہو گا اور وہ بنی اسرائیل کی طرح ان کو بھی غلامی سے نجات دلوائے گا۔۔۔۔مجھے زاتی طور پر تو یہ ٓاپشن زیادہ اچھا نہیں لگتا کیوں کہ میں نے سن بھی رکھا ہے اور دیکھ بھی رکھا ہے کہ

مجھاں مجھاں دیا بہناں ہندیاں نیں


یہ جرنیل ٓاپس میں سگے رشتہ دار نہ بھی ہوں تو یہ جرنیلی مفاد کی ایک اسی ڈور سے بندھے ہوئے ہیں جو انہیں ایک دوسرے سے دور نہیں جانے دیتی۔۔۔بعض اوقات ان کے درمیان اختلافات ضرور ہو جاتے ہیں لیکن ان کے باوجود یہ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھاتے جس کی وجہ سے ان کے گروہی مفاد کو نقصان پہنچے۔۔۔ان سب کی تربیت ایک ہی مدرسے میں ہوتی ہے اور اس مدرسے کے نصاب میں بنیادی طور پر یہی سکھایا جاتا ہے کہ یہ ملک انہی کے لئے بنایا گیا تھا۔۔۔بلڈی سویلین اور ان کے سیاسی نمائندے اسے برباد کرنے والوں میں سے ہیں۔۔۔اس ملک کی بقا اسی میں ہے کہ ان بلڈی سویلین اور سیاستدانوں کو ان کے ٓانے والی تھاں پر رکھا جائے۔۔۔اس لئے اگر کوئی جنرل باجوہ سے کم برا جرنیل سامنے بھی ٓائے گا تو وہ عوام کے لئے اتنا ہی اچھا ہو گا جتنا جنرل باجوہ ہے۔۔۔اس نئے جرنیل کا بھی طریقہ واردات پرانا ہوگا بس اتنا ہو سکتا ہے کہ اس کی پٹاری میں سےکوئی نیا عمران نیازی نکل آئے۔




اس لئے یہ ہر پاکستانی کا انفرادی اور اجتماعی مسئلہ ہے۔۔۔اسے حل کرنے کے لئے ہر ایک کو انفرادی طور پر ۔۔۔اپنی زات پر اور اللہ تعالی کی مدد پر بھروسہ کر کے جدوجہد کرنی ہوگی۔۔۔نہ تو کوئی جرنیل ٓاپ کو اس قید سے نجات دلوا سکتا ہے اور نہ ہی ان بڑی جماعتوں کی موجودہ لیڈر شپ اس حوالے سے کسی تحریک کا آغاز کر سکتی ہے کوئی مدد کر سکتی ہے۔۔۔البتہ اس بات کا امکان بہت زیادہ ہے کہ ایک بار جب عوام باہر ٓا جائے تو پھر یہ سیاسی لیڈران بھی اس کارِ خیر میں ٓاپ کے ساتھ شامل ہو جائیں۔

951 views1 comment