Search

قبضہ گروپ اپنے تجربے کی ناکامی پر معافی مانگے گا؟ کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد ۔۔۔10/05/2020


ٓاج کا کھریاں کھریاں ٓاپ کے سوالات کی روشنی میں ہے۔۔۔ایک صاحب نے پوچھا ہےکہ قبضہ گروپ ٓائے دن ناکام سیاسی تجربے کرتا ہے۔۔۔ان لوگوں کا ضمیر کب جاگے گا اور یہ اپنی لیبارٹری بندھ کر کے سدھرنے والا راستہ اختیار کریں گے؟


جہاں تک بات ہے اس گروہ کے سدھرنے کی تو اس کا فوری طور پر تو کوئی امکان نہیں ہے۔۔۔یہ لاتوں کے بھوت ہے اور ٓاپ کو پتہ ہی ہو گا کہ ایسے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔۔۔ٓاج پاکستان کے عوام انہیں لاتیں مارنا شروع کر دیں یہ فوری طور پر سدھر جائیں گے لیکن بدقسمتی سے پاکستان کے عوام سمجھتے ہیں کہ یہ کام ان کے بس کا نہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام کی سیاسی تربیت جن لوگوں نے کی ہے ان کی اپنی تربیت بھی ایسی ہی یونیورسٹی میں ہوئی ہے جہاں پر صرف بوٹ کو پالش کرنا اور چمکانا ہی سکھایا جاتا ہے۔


اپنی اسی تعلیم و تربیت کی وجہ سے یہ لیڈرلوگ بھی مارا ماری کے قائل نہیں ہیں۔۔۔اور فی الحال جرنیلوں کی لاتیں کھا کر ٹائم پاس کر رہے ہیں۔۔۔عوام کے علاوہ اُن ملکوں کے پاس انہیں سدھارنے کی طاقت ہے جو انہیں ڈالر اور ہتھیار دیتے ہیں اور بدلے میں ان سے کرائے کی فوج والا کام لیتے ہیں۔۔۔ لیکن انہیں بھی ان کو سدھارنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے کیوں کہ ایسا کرنے سے ان کے بین القوامی مفاد کو نقصان پہنچے گا۔


رہی بات موجودہ سیاسی تجربے کی یا پہلے والے سیاسی تجربوں کی تو انہیں تو کبھی بھی ان تجربوں سے اس طرح کا نقصان یا گھاٹا نہیں ہوتا جس طرح کا پاکستان کی ریاست اور عوام کو پہنچتا ہے۔۔۔ان کے ایک تجربے کی روشنی سے پاکستان کے تین دریا ہمارے ہاتھ سے چلے گئے لیکن اس سے نقصان عام زمیندار کو ہو رہا ہے ان کو الاٹ کی جانےوالی زمینوں کے لئے اب بھی پانی کی فراوانی ہے۔۔۔اسی طرح ایک تجربے کے دوران مشرقی پاکستان ہاتھ سے چلا گیا لیکن انہیں اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑا بلکہ ان کی بچے کچھے پاکستان پر گرفت اور زیادہ مضبوط ہو گئی ہے۔۔۔ ان کے لشکر کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے اور ان کو ملنے والے بجٹ میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔


تازہ ترین تجربہ جو کہ عمران نیازی کی شکل میں ہوا ہے وہ بھی فوجی نقطہ نظر سے تو کامیاب رہا ہے۔۔۔پاکستان کی کسی بھی کمزور سے کمزور تر حکومت کے دور میں انہیں ملک پر اس طرح کا کنٹرول نہیں ملا جس طرح کی اجارہ داری ان کی نیازی دور میں ہے۔۔۔اس تجربے سے پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچا ہے۔۔۔عوام کی حالت پتلی ہو گئی ہے لیکن فوجی معیشت کا پہیہ اسی طرح چل رہا ہے۔۔۔ان کی تنخواہوں اور مراعات میں کوئی کمی نہیں ٓائی بلکہ ان کے بہت سارے بیروزگار جرنیلوں کو اس دور حکومت میں نوکریاں مل گئی ہیں۔۔۔سی پیک اسی تجربے کی وجہ سے فوجی کنٹرول میں ٓایا ہے ورنہ نواز شریف کے دور میں انہوں نے بہت ہاتھ پاوں مارے لیکن نواز شریف نے انہیں سی پیک پر قبضہ نہیں کرنے دیا۔۔۔اس وقت پاکستان کے ایک اہم شہر لاہور میں رینجرز کا قبضہ ہے اور یہ قبضہ بھی اسی نئے تجربے کی بدولت ممکن ہوا ہے۔

اسی تجربے کی وجہ سے انہوں نے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کی لیڈر شپ کو جیلوں کی یاترا کروائی ہے اور نواز شریف کی حکومت کو ختم کرنے میں اسی ہتھیار سے سب سے زیادہ کام لیا گیا ہے۔

رہی بات قوم سے معافی مانگنے کی تو وہ تو اس جرنیل نے بھی نہیں مانگی تھی جس کی حکومت میں فوج نے ہتھیار ڈالے اور ٓادھا ملک ہاتھ سے چلا گیا تھا۔۔۔ایک بار جب اس جنرل یحیی کے گھر کے باہر جہاں وہ نظر بند تھا لوگوں نے یحیی مردہ باد کے نعرے لگائے تو اس نے اپنے نوکر سے پوچھا کہ یہ شور کیوں ہو رہا ہے۔۔۔نوکر نے بتایا کہ یہ ٓاپ کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں تو اس مستقل ٹن رہنے والے جرنیلی مجاہد نے کہا کہ میں نے کونسا ان کی گدھی کو ہاتھ لگا دیا ہے جو یہ میرے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔


ایک اور سوال میں شہباز شریف کے حالیہ انٹرویو اور جرنیلوں کی پاکستان کی لیفٹ کی طرف جھکاو رکھنے والی جماعتوں کی بات کی گئی ۔۔۔میری زاتی رائے میں تو ان دنوں پاکستان کے جرنیلوں کو لیفٹ رائٹ سے اتنا مسئلہ نہیں ہے جتنا مسئلہ ان لیڈروں سے ہے جو کہ عوامی مقبولیت رکھتے ہوں۔۔۔ٓاپ نے ایک سے زیادہ بار دیکھ لیا ہے کہ یہ اپنی مرضی سے کسی نئے چہرے کو سیاست میں متعارف کرواتے ہیں اور پھر اسے اقتدار میں بھی لاتے ہیں لیکن جیسے ہی وہ جرنیلی سیاستدان عوامی سیاستدان میں تبدیل ہونے لگتا ہے ہے یہ اسے راستے سے ہٹا کر اس کی جگہ نیا کردار لے ٓاتے ہیں ۔


شہباز شریف اور عمران نیازی میں اس لحاظ سے تو کوئی فرق نہیں ہے کہ دونوں جی ایچ کیو کے ساتھ پارٹنرشپ میں سیاست کرنا چاہتے ہیں لیکن جہاں تک تعلق ہے اس انٹر ویو کا جس کی ٓاپ نے بات کی ہے تو وہ کوئی ایسی بریکنگ نیوز نہیں ہے۔۔۔پاکستان میں جب بھی اقتدار سیاسی نمائندوں کو رسما منتقل کیا جاتا ہے تو اسی طرح کے مذکرات کئےجاتے ہیں۔۔۔کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر سارا عمل ہوتاہے۔۔۔اگر ٓاپ کو یاد ہو تو بے نظیر بھٹو کو جو کہ الیکشن جیت کر ٓائی تھی اسے بھی حکومت دینےسے پہلے اس سے ساتھ اسی طرح کی سودے بازی کی گئی تھی اور کچھ وزارتیں فوج کے نامزد کردہ لوگوں کو دلوائی گئی تھیں۔

شہباز شریف کے حالیہ انٹرویو پر ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پاکستان کا میڈیا اس بات پر شور مچاتا کہ اس انٹرویو سے ایک اور ثبوت مل گیا ہے کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی تھی اور یہ ساری سیاسی انجئینرنگ خلائی مخلوق نے کی تھی لیکن اصل مجرموں کی طرف انگلیاں اٹھانے کی بجائے پورا میڈیا اس کام پر لگا دیا گیا کہ ن لیگ اور اس کی قیادت کو عوام کی نظروں میں اور رسوا کیا جائے اور لوگوں کو بتایا جائے کہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والوں کا کردار کیا ہے۔۔۔پچھلے چار سال سے فوجی میڈیا اسی کام میں لگا ہوا ہے کہ کسی طرح نواز شریف کی سیاست اور عوام میں مقبولیت کو ختم کیا جائے لیکن انہیں اس مشن میں کامیابی نہیں ہو رہی۔۔۔شہباز شریف کے انٹرویو کو بھی اچھال کر یہی کام کیا جا رہا ہے۔


جہاں تک شہباز شریف کے قبضہ گروپ سے رابطوں کی بات ہے تو یہ تو پاکستان کی سیاست میں دلچسپی رکھنے والے کسی بھی پڑھےلکھے اور باشعور پاکستانی کے لئے کوئی خبر نہیں۔۔۔سب کو پتہ ہے کہ شہباز شریف اور چوہدری نثار ن لیگ میں اسی گروہ کی نمائندگی کرتے رہے ہیں جو کہ قبضہ گروپ کی جائز ناجائز فرمائشیں مان کر حکومت کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

اسی لئے میرا موقف تو یہی ہے کہ پاکستان میں حقیقی تبدیلی لانے کے لئے اور اس قبضہ گروپ سے نجات حاصل کرنے کے لئے عوام کو سامنے ٓانا ہوگا ۔۔۔موجودہ بڑی جماعتوں کی قیادتیں جیو اور جینے دو والی سیاست پر یقین رکھتی ہیں اور اس فارمولے کے تحت کبھی بھی پاکستان کو اس قبضہ گروپ سے نجات نہیں ملے گی۔

2,469 views