Search

قاضی فائز عیسی اور سپریم کورٹ کے برادرانِ یوسف۔۔۔ کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔20/06/2020


آج کھریاں کھریاں میں بات کرنی ہے۔۔۔جسٹس قاضی فائز عیسی پر اس جرنیلی حملے کی جس کی منصوبہ بندی نکے ,ابے اور آبپارہ والے فوجی انجینئیر نے کی تھی ۔۔۔یہ حملہ گو کہ وقتی طور پر ناکام ہو گیا ہے لیکن ان جرنیلوں اور بائیس سال سیاست میں کھجل خوار ہونے والے عمران نیازی دونوں کا فلسفہ یہی ہے کہ گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں ۔۔۔اس لئے یہ میدان جنگ وقتی طور پر قاضی فائز عیسی اور ان کے وکلا نے جیت لیا ہے لیکن بہت جلد ٓاپ کو جرنیلی لشکر نئے ساز و سامان کے ساتھ میدان جنگ میں دوبارہ نظر آئے گا۔اس کے علاوہ عمران نیازی کی اس حکومت کا تذکرہ بھی ہو گا جو کہ قمرونا وائرس کی وجہ سے اس وقت جرنیلی وینٹی لیٹر پر ہے

جہاں تک قاضی فائز عیسی والے کیس کے فیصلے کا تعلق ہے تو اس فیصلے سے دندان ساز صدر کے بھیجے ہوئے ریفرنس کے کچھ دانت تو توڑ دئیے گئے ہیں لیکن اس کیس کو تیار کرنے والے، کروانے والے اور اس کی منظوری دینے والے کسی بھی جرنیلی مہرے کے خلاف کوئی کاروائی کا اعلان نہیں کیا گیا۔۔۔الٹا اس کیس کو اس ایف بی ٓار کے پاس تحقیقات کے لئے بھیج دیا گیا ہے۔۔۔ جس کے دفتر کے ہر فلور پر جے ٓائی ٹی والے واجد ضیا بغل میں کسی نہ کسی جرنیلی ایجنڈے کے مخالف کی فائلیں اٹھائے جی ایچ کیو کی طرف منہ کر کے کھڑے رہتے ہیں۔


جسٹس قاضی فائز عیسی کے ساتھ ان کے سات برادر ججز نے جو سلوک کیا ہے اس پر مجھے ایک واقعہ یاد آ رہا ہے۔۔۔اس ہلکے پھلکے لطیفہ نما واقعے سے سپریم کورٹ کے ہتھوڑا گروپ کی واردات اور زیادہ واضح ہو جائے گی۔۔۔ایک بیمار شخص کو یہ پتہ چلا کہ جب اس کی موت کا وقت آئے گا تو فرشتہ اس کے سرہانے ٓا کر کھڑا ہو جائے گا۔۔۔جب اس کی حالت مزید بگڑ گئی تو اس نے دیکھا کہ فرشتہ اس کے سرہانے آ کر کھڑا ہو گیا ہے۔۔۔۔مریض نے فورا اٹھ کر چارپائی پر اپنی پوزیشن بدل لی۔۔۔یا یوں کہہ لیں یو ٹرن لے لیا اور اپنا سر چارپائی کے اس طرف کر لیا جسے ہم پنجابی میں دھوناں والا پاسا کہتے ہیں۔۔۔ فرشتے نے جب اسے رخ بدلتے دیکھا تو وہ بھی پلک جھپکتے میں مریض کے سرہانے آ کھڑا ہوا۔۔۔مریض نے جان بچانے کے لئے ایک اور یو ٹرن لے لیا۔۔۔فرشتے کو واپسی کی جلدی تھی اس لئے اس نے بھی وقت ضائع کئے بغیر اس کے سر کی طرف پرواز کر لی۔۔۔مریض اور فرشتے کے درمیان یہ یو ٹرن والی گیم جاری تھی ۔۔۔گھر والوں نے دیکھا کہ مریض بار بار چارپائی پر یو ٹرن لے رہا ہے تو انہوں نے اندازہ لگایا کہ مریض بہت درد میں مبتلا ہے۔


گھر والوں نے سوچا کہ مریض کو اس یو ٹرن والی تکلیف سے بچانے کے لئے کیوں ناں چارپائی کےساتھ باندھ دیا جائے تاکہ یہ سکون کے ساتھ ایک ہی پوزیشن میں لیٹا رہے۔۔۔گھر کے افراد نے مل جل کر مریض کو رسیوں سے باندھ دیا اور پھر اس کے نتیجے میں فرشتے نے اپنا کام ٓاسانی سے مکمل کیا۔۔۔فرشتہ جب اپنے پراجیکٹ کو فائنل ٹچ دے رہا تھا تو مریض نے اپنے گھر والوں کی طرف بہت غصے سے دیکھا اور کہا۔۔۔میں اجے مرناں تے نئیں سی پر تساں مینوں بنھ کے مروایا اے۔

میری زاتی رائے میں تو سپریم کورٹ کے سات برادر ججوں نے بھی جسٹس قاضی فائز عیسی کے ساتھ یہی واردات کی ہے۔۔۔انہوں نے تو قاضی فائز عیسی کو ہاتھ پیر باندھ کر ایف بی آ رکے سامنے ڈال دیا ہے۔۔۔اب یہ ان کی اور ان کے اوپر مسلط فرشتے پر منحصر ہے کہ وہ کب تک اپنے مشن میں کامیاب ہوتے ہیں۔

عمران نیازی کی سیاسی موت والا فرشتہ بھی ایک بار پھر عمران نیازی کے سرہانے لینڈ کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہے ۔۔۔عمران نیازی کی مرشدہ کے جنوں نے اسے بھی یہ بتا دی ہے اور وہ بھی ان دنوں سیاسی بستر پر یوٹرن لینے کی مشقیں کر رہا ہے۔۔۔پچھلے دنوں سندھ کا وہ دورہ جس میں اس نے اپنےپیٹ میں غریبوں کے لئے اٹھنے والے مروڑوں کا علاج ہرن اور بٹیرے کھا کر کیا۔۔۔یہ دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔

پاکستان کی بڑی اپوزیشن جماعتیں اس وقت کسی حد اس بات پر آمادہ ہو گئی ہیں کہ وہ عمران نیازی کو مل جل کر اس پوزیشن میں لے آئیں گے ۔۔۔جس سے جرنیلی فرشے کو اس کی روح قبض کرنے میں آسانی رہے۔۔۔ ویسے تو جرنیلی فرشتہ یہ کام اپنے طور پر بھی کر سکتا ہے لیکن اس کے سرپرستوں کی کوشش ہے کہ پورےسیاسی خاندان کو اس نیک کام میں شامل کر لیا جائے یا کم ازکم عمران نیازی کی اپنی جماعت میں سے ایسے بہروپیوں کو یہ زمہ داری دی جائے جن پر عمران نیازی کو بھروسہ ہے کہ وہ نہ تو اسے اوور ڈوز والے ہتھیار سے نقصان پہنچائیں گے اور نہ ہی کوئی خطرناک ٹیکہ لگائیں گے۔


عمران نیازی کی فوجی مشکلات ایک بار پھر کورونا کی طرح تیزی سے پھیل رہی ہیں۔۔۔جی ایچ کیو کے سرٹیفائیڈ دفاعی تجزیہ نگاروں نے بھی ٹی وی پر اپنی جہالت کا اعتراف کرنا شروع کر دیا ہے اور عمران نیازی کی حمایت کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی حماقت کہنا شروع کر دیا ہے۔۔۔یہ ریٹائرڈ جرنیل جو کچھ کہہ رہے ہیں ۔۔۔اس کا اسکرپٹ بھی انہی کا تیار کردہ ہے جنہوں نے ان دفاعی تجزیہ نگاروں کی مدد سے عمران نیازی کے لئے میڈیا میں ایک کامیاب جہاد کیا تھا۔۔۔ان جرنیلوں کے بارے میں عام طور پر یہ بھی کہا جاتا ہے۔۔۔

میں نیئں بولدی مرے وچ میرا یار بولدا


اس وقت عمران نیازی کی حکومت دیوار پر لکھے ہوئے اس ہدایت نامے کی طرح ہے جس پر لکھا ہوتا ہے کہ یہاں پر پیشاب کرنا منع ہے لیکن آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ ایسی دیواروں کے پاس لائین بنا کر ہدایت نامے کی خلاف ورزی کر رہے ہوتے ہیں۔۔۔ کورونا کے حوالے سے اس بات کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ عمران نیازی کی حکومت اس وقت جرنیلی وینٹی لیٹر پر ہے۔

اختر مینگل کا حکومت سے علیحدگی کا اعلان، جہانگیر ترین کی فوجی پروٹوکول کے ساتھ لندن روانگی ۔۔۔شہباز شریف کو جنرل باجوہ کی فون کال ۔۔۔یہ ایسے واقعات ہیں جو کہ اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ جنرل باجوہ اپنی ایکسٹینشن باضابطہ طور پر ہوجانے کے بعد اب اس کام کے لئے تیاری کر رہے ہیں کہ عمران نیازی کی حکومت کو جرنیلی وینٹی لیٹر سے اتار دیا جائے۔


جنرل باجوہ کو اپنی سیاسی اور مالی مشکلات دور کرنے کے لئے نئے بھکاریوں کی ضرورت ہے۔۔۔عمران کی مدد سے تمام اہم ملکی اداروں پر جرنیلی قبضہ مکمل ہو چکا ہے۔۔۔اس سرٹیفائیڈ بھکاری کی شکل دکھا کر عربوں سے جو کچھ حاصل کیا جا سکتا تھا وہ تو حاصل کیا جا چکا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جرنیلی خرچے اسی طرح جاری ہیں بلکہ ان میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔۔۔کورونا کی مد میں ملنے والی امداد کو بیچ کر کچھ دن تو گزر بس ہو سکتی ہے لیکن کچھ ماہ بعد جب یہ دھندہ بند ہو جائے اور وہ سارےبد نصیب پاکستانی جو کہ نکے اور ابے کی پارٹنر شپ میں کورونا کا شکار ہو چکے ہیں ۔۔۔جب یہ سارے اس دینا سے ہجرت کر جائیں گے تو پھر امدادی سامان اور ڈالر آنے بھی بند ہو جائیں گے۔۔۔اس لئے ضروری ہے کہ اب نئے چہرے جرنیلی سرکس میں متعارف کروائے جائیں تا کہ گلشن کا کاروبار چلتا رہے۔


جنرل باجوہ نے کچھ ماہ پہلے بھی اس کام کے لئے کافی لیفٹ رائٹ لیفٹ رائٹ کی ہے لیکن کامیابی نہیں ہوئی تھی۔۔۔ان دنوں بھی ن لیگ کی مقامی قیادت کو ڈرا دھمکا کر پھر منانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ بھی کامیاب نہیں ہوئی کیونکہ جاسوس اداروں کو اچھی طرح پتہ ہے کہ ن لیگ کی صدارت چاہے کسی کے بھی پاس ہو۔۔۔فیصلے کا اختیار لندن والوں کے پاس ہے۔

تحریک انصاف کا شوگر ڈیڈی بھی اسی مشن پر لندن ٓایا ہوا ہے۔۔۔میڈیا میں ایسی خبریں ٓار ہی ہیں کہ اس نے میاں نواز شریف سے رابطہ بھی کیا ہے اور ان کے درمیان بات چیت آگے بھی بڑھی ہے۔

مجھے اس بات کو تو علم نہیں ہے کہ ان خبروں میں کتنی صداقت ہے لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ جہانگیر ترین کی یہ فوجی دال نہیں گلے گی اور میاں نواز شریف کو اچھی طرح اندازہ ہے کہ اس کام سے عمران نیازی کی سیاسی موت توواقع ہو جائے گی لیکن اس سے ن لیگ کو بہت سیاسی نقصان ہو گا اور فائدے میں صرف جنرل باجوہ رہے گا جسے اپنی کمزور جرنیلی حکومت کو سیاسی طور پر صحت مند بنانے کے لئے ایک نئے عمران نیازی کی ضرورت ہے۔

1,517 views1 comment