Search

قائد اعظم، خلائی مخلوق اور زوالفقار علی بھٹو؟ کھریاں کھریاں۔۔۔19/04/2020



کھریاں کھریاں کے ایک قاری نے پوچھا ہے کہ کیا قائد اعظم اور زوالفقار علی بھٹو کو بھی مکمل اقتدار ملا تھا یا یہ دونوں بھی موجودہ دور کے سیاسی حکمرانوں کی طرح ملک کے علامتی حکمران تھے۔۔۔۔ٓاج کا کالم اسی سوال اور ایک اور سوال کے حوالے سے ہے جو جنرل باجوہ کی معاشی مہارت اور ملک کو باضابطہ طور پر جرنیلوں کے حوالے کرنے کے بارے میں ہے۔


پاکستان بننے کے بعد انیس سو اکاون تک پاکستان کی ٓارمی کے کمانڈر انچیف کو برطانیہ سے نوکری کا پروانہ ملتا تھا اور پہلے دونوں کمانڈر انچیف برطانیہ سے تعلق رکھتے تھے اور یہ جرنیل بھی پاکستان کے حکمرانوں کی اتنی ہی عزت اور تابعداری کرتے تھے جتنی ان دنوں والے جرنیل پاکستانی سیاسی حکمرانوں کی کرتے ہیں۔۔فرق صرف اتنا ہے کہ انہوں نے قائد اعظم کے احکامات ماننے سے انکار کیا لیکن مارشل لا نہیں لگایا اور نہ ہی انہیں اٹک کے قلعے میں قید کیا۔


جہاں تک قائد اعظم کی بات ہے تو سب سے پہلے یہ زہن میں رکھیں کہ انہوں نے برطانیہ کے گورنر جنرل ہونے کا حلف لیا تھا۔۔۔اس وقت پاکستان کوئی ٓازاد ملک نہیں تھا۔۔۔انیس سو سینتالیس سے لے کر انیس سو چھپن تک پاکستان میں ہر ایک گورنر جنرل نے برطانیہ کے بادشاہ سے وفادری کا حلف لیا اور پھر انیس سو چھپن میں جب پاکستان ایک جمہوری ملک بن گیا تو پھر برطانوی گورنر جنرل کا عہدہ ختم کر دیا گیا۔


قائد اعظم کے کمانڈر انچیف ان کو جواب دہ نہیں تھے لیکن اس کے علاوہ ان کے ساتھ ان کے قریبی رفقا نے بھی تعاون نہیں کیا اور ان کی بیماری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں عملا حکومت اور فیصلہ سازی سے علیحدہ کر رکھا تھا۔


جہاں تک بات ہے زوالفقار علی بھٹو کی تو اس نے جب ملک کی باگ ڈور سنبھالی تو اس وقت پاکستانی جرنیل ہندوستان کے سامنے ہتھیار ڈالنے والی حرکت کی وجہ سے کافی کمزور ہو چکے تھے اس لئے کچھ عرصہ تو انہوں نے بھٹو کے سامنے اپنی وفاداری اور تابعداری کا مظاہرہ لیکن کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ان جرنیلوں نے پھر زور پکڑ لیا اور پھرسیاسی حکومت کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔۔۔ایک مذہبی تحریک کی سرپرستی کی اور پھر ٓاخر کار جنرل ضیا نے براہ راست اقتدار پر قبضہ کر لیا۔


جنرل باجوہ نے کورونا کے بعد جس نئی قوم کی بات کر رہا ہے اس سے مراد پاکستانی عوام نہیں ہیں جن کے ساتھ یہ کیڑے مکوڑوں والا سلوک کرتے ہیں۔۔۔ان کے لئے قوم اور فوج میں کوئی فرق نہیں۔۔۔ٓاپ کو یاد ہو گا جب عدالتی غدار جنرل پرویز مشرف کو عدالت نے سزا دی تھی تو یہ پوری قوم کس طرح بندوقیں نکال کر اس کے ساتھ کھڑی ہوگئی تھی۔۔۔کینیڈا امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے معاشی ماہر ہیں ان کے پاس صرف تعلیم ہے ۔۔۔بندوق کی طاقت نہیں ہے اسلئے وہ اپنے ملک کے حوالے سے ٹھیک بات کر رہے ہیں۔۔۔ہمارے ہاں کے جرنیلی حکمرانوں نے نہ صرف ایف اے میں اکنامکس پڑھ رکھی ہے بلکہ ان کے پاس بندوق کی طاقت بھی ہے جس کے زور پر یہ ملک کے سارے وسائل اور باہر سے ٓانے والی ساری امداد جی ایچ کیو میں لے جاتے ہیں۔


کورونا والی چینی امداد ہی دیکھ لیں۔۔۔اب ورلڈ بنک اور دیگر مالیاتی ادارے پاکستان کو کورونا سے نمٹنے کے لئے جو ڈالر دیں گے وہ بھی زیادہ انہی کے حصے میں ٓائیں گے کیوں کہ اس جنگ کو بھی انہی نے اپنے ایک جرنیل کے زریعے کنٹرول کر رکھا ہے۔۔۔کورونا پاکستان میں پھیل رہا ہے۔۔۔ہلاکتیں بھی عوام کی ہو رہی ہیں اور بھوک سے بھی عوام ہی مر رہے ہیں۔۔۔بیروزگار بھی عوام ہی ہو رہے ہیں۔۔۔ان پر اس ٓافت کی وجہ سے نہ تو بھوک مسلط ہوئی ہے اور نہ ہی بیروزکاری۔۔۔ انہوں نے تو اپنی چھاونیوں کو اور ہسپتالوں کو عوام کے لئے بند کر رکھا ہے اور اس کے علاوہ حفاظتی سامان بھی انہی کے پاس سب سے زیادہ ہے۔۔۔اس لئے جنرل باجوہ کی بات ٹھیک ہے کہ ٓانے والے دنوں میں پاکستان کی قوم ایک نئی قوم بن کر ابھرے گی۔۔۔اور یہ قوم کونسی ہے وہ میں پہلے ہی وضاحت کر دی ہے۔


جہاں تک بات ہے ملک ان جرنیلوں کے حوالے کرنے کی تو وہ تو ہر دور میں ان کے حوالے رہتا ہے۔۔۔ان لوگوں کی خواہش تو یہی ہے کہ وہ ملک کا مکمل کنٹرول سنبھال لیں لیکن یہ اتنی بڑی فوج ہے کہ اس کا ملک کے سارے وسائل کھا کر بھی پیٹ نہیں بھرتا۔۔۔ان کا گھر بار چلانے کے لئے پاکستان کو بیرونی قرضوں اور امداد کی ہر وقت ضرورت رہتی ہے۔۔۔امداد دینے والے اور قرضے دینے والے پاکستان کو اپنی شرائط پر مدد دیتے ہیں ۔۔بعض اوقات ان کی شرط یہ بھی ہوتی ہے کہ ملک میں جمہوری نظام ہو۔۔۔اس لئے ان جرنیلوں کو ملک میں کٹھ پتلی سیاسی حکومتوں کی ضرورت رہتی ہے۔۔۔لیکن اگر ڈالر دینے والے ملک اس بات کا اشارہ کر دیں کہ انہیں اپنے ایجنڈے کو پورا کرنے کے لئے پاکستان میں سیاسی حکومت کی بجائے جرنیلی حکومت درکار ہے تو پھر یہ اعلانیہ طور پر پاکستان پر قبضہ کر لیتے ہیں۔


اس وقت جنرل باجوہ کی تو پوری کوشش ہے کہ ملک میں فوجی صدارتی نظام متعارف کروا دیا جائے لیکن پاکستانی عوام کی خوش قسمتی ہے کہ اب نکے اور اس کے درمیان بھی پنجابی والی پھک پڑ چکی ہے اور اس کی ایکسٹینشن سے متاثر ہونے والے جرنیل بھی اب اس جرنیلی صدارتی منصوبے میں اس کی مدد کرنے سے انکاری ہیں

730 views