Search

فواد چوہدری کا بوٹ پالش انٹرویو اورکاشانہ لاہور کی گمشدہ بچیاں۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔26/06/2


آج بات کرنی ہے فواد چوہدری کے بوٹ پالش انٹرویو کی اور کاشانہ لاہور میں رہائش پذیر یتیم اور لاوارث بچیوں کے ساتھ نیو ریاستِ مدینہ میں ہونے والی زیادتی اس زیادتی کی جس کے حوالے سے کاشانہ کی سپرینٹینڈنٹ افشاں لطیف کا کہنا ہے کہ کاشانہ لاہور صوبائی حکومت کے افسران اور وزرا کی جنسی تسکین کا مرکز بنا دیا گیا ہے۔۔۔وسیم اکرم پلس کے باس کی زبان میں یوں کہہ لیں کہ اسے وزیر اعظم ہاوس کے فورتھ فلور میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔۔۔۔اسی کاشانہ میں رہنےوالی ایک لڑکی اقرا کائنات کی پراسرار موت بھی ہو چکی ہے ۔


فواد چوہدری کا انٹرویو کو تیار کروانے والوں نے اس کی پبلسٹی کمپئین بہت اچھے طریقے سے چلائی ہے۔۔۔میں نے اس انٹرویو کو دیکھا اور سنا ہے اور اس پر بہت سارے لوگوں کے تبصرے بھی سنے ہیں اور مجھے انٹرویو دینے والے کے بارے میں بھی یہ بھی پتہ ہے کہ یہ کس لیول کا بوٹ پالشیا سیاستدان ہے۔۔۔اس چوہدری کا تعلق اس خاندان سے ہے جو کہ انگریز کے دور سے ڈنڈے والوں کے ساتھ فوج میلہ کرتا آیا ہے۔۔۔اس کا ایک چاچا چوہدری الطاف مرحوم بھی تھا جو کہ پنجاب کا گورنر بھی رہ چکا ہے۔

ساری زندگی مسلم لیگی ہونے کا دعوی کرنے والے وہ بہروپیا جب پی پی کو اقتدار ملنے کا وقت آیا تو ایک جرنیل کی سفارش پر پی پی میں لانچ ہوا اور اسے قومی اسمبلی کا ٹکٹ بھی دیا گیا جس سے نہ صرف پی پی کی مقامی تنظیم دو حصوں میں تقسیم ہو گئی اور زوالفقار علی بھٹو کا اپنا جنرل سیکرٹری پارٹی ڈاکٹر غلام حسین پارٹی چھوڑ گیا۔۔۔اس باہمی لڑاائی کی وجہ سے پی پی قومی اسمبلی کی سیٹ ہار گئی لیکن اس چوہدری خاندان کا پی پی پر کنٹرول اتنا بڑھ گیا کہ بےنظیر بھٹو نے بعد میں چوہدری الطاف کو پنجاب کا گورنر بھی بنا دیا۔

فواد چوہدری کا ایک چچا چوہدری افتخار لاہور ہائی کورٹ میں انصاف فار سیل کا دھندہ بھی کرتا تھا اور اس کے کاروبار میں فواد چوہدری نے بھی بہت ہاتھ بٹایا ۔۔۔ اس چوہدری کارپوریشن کی وجہ سے بہت سارے سرمایہ داروں کو فوری لیکن مہنگا انصاف ملا اور چاچا بھتیجے کی ساری انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں رہا۔

فواد چوہدری کے خاندان کو آپ سیاسی مہاجر خاندان بھی کہہ سکتے ہیں لیکن یہ کوئی مظلوم مہاجر نہیں ہیں۔۔۔ان کی ہر ہجرت انہیں لوگوں کے اسکرپٹ کے مطابق ہوتی ہے جو پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی تقسیم کے منصوبے تیار کرتے رہتے ہیں۔۔۔ان کی ہر ہجرت انہیں اقتدار سے بے دخل ہونے والی جماعت سے اس جماعت کی طرف لے جاتی ہے جو کہ اقتدار کے ایوان میں داخل ہونے والی ہوتی ہے۔

ان دنوں اس کی نئی ہجرت کا وقت قریب آ گیا ہے اور یہ انٹرویو بھی انہی لوگوں کی فرمائش پر دیا گیا ہے جو اس کو ہجرت کروا کے نئی فوجی ٹیم میں لانچ کرنا چاہتے ہیں۔۔۔پیشے اور تعلیم کے اعتبار سے وکیل ہونے کی وجہ سے اس کو زبان پر بہت عبور حاصل ہے لیکن چونکہ جٹ چوہدری ہے اس لئے اس کے ہاتھ پاوں اکژ اس کے کنٹرول سے باہر ہو جاتے ہیں۔۔۔یہی وجہ ہے کہ اس نے مبشر لقمان اور سمیع ابراہیم جیسے بوٹ پالشیوں کی مرمت کرنے میں دیر نہیں لگائی لیکن یہ جذباتی ہونے کے علاوہ وہ بھی ہے جسے پنجابی میں کہتے ہیں سیانا کاں۔۔۔اس لئے یہ جب بھی ٹھونگا مارتا ہے تو کسی ایسے طاقتور کو جو اس سے کمزور ہوتا ہے اور جرنیلی سیاست میں اس کا لیول اس سے بہت نیچے کا ہوتا ہے۔۔۔یہی وجہ ہے کہ اس نے مبشر لقمان اور سمیع ابراہیم کی اچھی خاصی مرمت کی لیکن میڈیا کے یہ جرنیلی پہلوان فواد چوہدری کے خلاف کوئی جوابی کاروائی نہیں کر سکے۔

فواد چوہدری کا یہ انٹرویو جرنیلی سیاست آرگنائز کرنے والوں نے تیار کیا ہے۔۔۔اس انٹرویو میں ایک تو پاکستانی عوام کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اندھے اور بہرے جرنیلی مافیا تک ان کی چیخ وپکار پہنچ گئی ہے اور وہ جلد ہی اس عذاب سے پاکستانی عوام کو نجات دلوا دیں گے لیکن اس انٹرویو میں خفیہ واردات یہ ہے کہ یہ جرنیلی ڈرامہ نگار ابھی عمران نیازی کو مکمل طور پر سیاست سے آوٹ نہیں کرنا چاہتے۔۔۔وہ اپنے اس مہرے کو سنبھال کر رکھنا چاہتے ہیں تا کہ اگر مستقبل میں کوئی اور سیاست دان نواز شریف بننے کی کوشش کرے تو وہ اس ہتھیار کو ایک بار پھر پالش کر کے میدان میں لا سکیں۔


اس انٹرویو میں عمران نیازی کی دو تین خامیوں کا زکر کرنے کے باوجود اس میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ عمران کی ناکامی میں اس کی اپنی نالائقی کا عمل دخل کم ہے اور اس کا سب سے بڑا سبب تحریک انصاف کے اپنے لوگوں کی لڑائی ہے۔۔۔فواد چوہدری نے اس بات کو ہائی لائٹ کرنے کے لئے جہانگیر ترین اور اسد عمر کی لڑائی کی بات کی ہے اور کہا ہے کہ جہانگیر ترین نے اسد عمر کی چھٹی کروائی اور اسد عمر نے جہانگیر ترین کو بے دخل کیا۔۔۔پاکستان کی فوجی سیاست کو سمجھنے والے کبھی بھی فواد چوہدری کی اس بات سے اتفاق نہیں کریں گے۔۔۔یہ سارے فیصلے وہی لوگ کرتے رہے ہیں جنہوں نے نیا پاکستان بنانے والا منصوبہ تیار کیا تھا اور اس میں رنگ بھرنے کے لئے عمران نیازی کی سیاسی خدمات معقول معاوضے پر حاصل کی تھیں۔

اب وقت آ گیا ہے کہ گو نیازی گو نیازی کوgone نیازی کیا جائے لیکن چونکہ ابھی اس ہتھیار کو جرنیلی اسلحہ خانے میں محفوظ رکھنا ہے اس لئے آپ سب کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ عمران نیازی کا اس فلاپ ڈرامے میں بہت ہی کم حصہ ہے اور اس کی زمہ داری ان کھلاڑیوں پر عائد ہوتی ہے جنہیں سلیکٹ تو کپتان نے ہی کیا تھا لیکن ان کی گھٹیا پرفارمنس نے کپتان کو فیل کر دیا۔


اب بات کر لیتے ہیں نیو مدینہ میں یتیم اور لاوارث بچیوں کےساتھ ہونے والی زیادتی کی ۔۔۔ اور اس جنگ کی جو وسیم اکرم پلس کی ٹیم نے کاشانہ لاہور کی سپرینٹینڈنٹ افشاں لطیف کے خلاف شروع کر رکھی ہے۔

اپنی بات کرنے سے پہلے میں آپ سب کو یہ بھی بتا دوں کہ ظلم کی اس داستان کے حوالے سے اگر ٓاپ کو مکمل معلومات درکار ہیں تو ٓاپ اس کے لئے افشاں لطیف کی ٹوئٹر ٹائم لائن وزٹ کریں جس پر کاشانہ میں بے سہارا بچیوں کے ساتھ سرکاری اور وزارتی زیادتیوں کی ساری تفصیل موجود ہے

نیو مدینہ میں یتیم اور لاوارث بچیوں کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے اور ان کے اپنے ساتھ کیا حکومت کیا سلوک کر رہی ہے۔۔۔یہ ظلم کب بند ہو گا ۔۔۔اس کا مجھے تو کوئی امکان نہیں نظر آتا کیوں کہ نہ تو ریاستِ مدینہ کے مبلغ اور برانڈ ایمبیسیڈر مولانا طارق جمیل نے ابھی تک اس واقعے پر کسی تشویش کا اظہار کیا ہے اور نہ ہی اس ریاست کی جنوں والی سرکار نے اپنے کسی موکل کو اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے بھیجا ہے۔۔۔ جس کی وجہ شاید یہ ہے کہ اس اسکینڈل میں عمران نیازی کے ساتھ وہ چوہدری برادران بھی شامل ہیں جنہیں وہ پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہہ چکا ہے۔۔۔یہ ڈاکو اس وقت حکومت میں ہیں اور ان کا اپنا قریبی ساتھی راجہ بشارت بھی اس اسکینڈل کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔۔۔اس لئے چوہدری برادران تو اس جرم کو مٹی پاو پالیسی کے تحت ہی چھپانے کی کوشش کریں گے۔

رہی بات جرنیلی حکمرانوں کی تو وہ ان دنوں ایک امریکی خاتون سنتھیا رچی کو انصاف دلوانے میں مصروف ہیں ۔۔۔ان کے پاس مقامی مظلوم بچیوں کے لئے کوئی ٹائم نہیں ہے۔۔۔ لیکن اگر لاہور کے شہری اپنے زندہ دن ہونے کا ثبوت دیں اور ان یتیم بچیوں کے وارث بن کر میدان میں آ جائیں تو پھر ممکن ہے کہ چودہ مارچ دو ہزار بیس سے کاشانہ سے غائب ہونے والی تمام بچیاں بھی خیر خیریت سے برآمد ہو جائیں اور کائنات کے قاتلوں کو بھی سزا مل جائے۔

522 views