Search

فروغ نسیم المعروف ڈڈھو اور ملک ریاض۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔04/06/2020


آج دو لوگوں کے بارے میں بات کرنی ہے۔۔۔ایک اردو اسپیکنگ مہاجر ہے اور دوسرا پنجابی ہے اور کھرب پتی ہونے کے باوجود دھوتی بھی پہنتا ہے۔۔۔ان دونوں کا پاکستانی کی سیاست میں بہت ہی گھٹیا کردار ہے۔۔۔پچھلے کئی سالوں سے دونوں جرنیلوں کے لئے خاکروب والا کام کر رہے ہیں ۔۔۔ کسی زمانے میں ایسے گھروں میں جہاں دیسی ٹوائلٹ ہوا کرتے تھے ان میں ان سروسز کو آوٹ سورس کیا جاتا تھا۔

اب اس کام کی زیادہ تفصیل میں نہیں جاوں گا کیوں کہ اس سے گند مچانے والوں اور گند صاف کرنے والوں دونوں کی دل آزاری ہو سکتی تھی۔۔۔بہرحال میں نے جو اس وقت ایک پنجابی اور ایک اردو اسپیکنگ سیاسی جھاڑو دینے والے کا انتخاب کیا ہے تو اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ان دنوں یہ دونوں اس خدمت میں بہت نمایاں ہیں ۔۔۔اس لئے ان کی بات کرنا زیادہ مناسب ہے ورنہ ان کے علاوہ بھی بہت سارے جھاڑو بردار اس وقت جی ایچ کیو کی ہر برانچ کے سامنے اسی ڈیوٹی پر لگے ہوئے ہیں۔

ان دو لوگوں کا انتخاب کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ٓاپ لوگوں کو یہ بھی پتہ چل جائے کہ کسی کا لسانی یا قومی پس منظر اس کے گھٹیا ہونے کا زمہ دار نہیں ہوتا۔۔۔لوگ پیدا ضرور کسی پنجابی، پٹھان، بلوچ ،سندھی یا مہاجر کے گھر میں ہوتے ہیں لیکن ان میں گھٹیا پن پیدائیشی نہیں ہوتا بلکہ یہ ساری خوبیاں ان میں اس وقت پیدا ہوتی ہیں اور نشو نما پاتی ہیں جب انہیں اپنے معاشرے کی ٓاب و ہوا لگتی ہے۔

ملک ریاض پنجابی ہے اور اس وقت پاکستان کے جرنیلوں کے ساتھ اگلے مورچے میں پاکستانی معاشرے اور سیاست کی تباہی میں جو کردار ادا کر رہا ہے۔۔۔تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ سارے پنجابی نو دولتیئے ملک ریاض جیسے ہوتے ہیں۔۔۔اسی طرح مہاجر فروغ نسیم اگر جرنیلی حکومت کی غیر قانونی مدد کے لئے ہر طرح کا قانون گھڑ رہا ہے اور ٓائین کی جرنیلی تشریح کر رہا ہے تو اس کی وجہ سے ہم سارے مہاجروں پر گولہ باری نہیں کر سکتے۔


یہاں تھوڑی سی وضاحت بھی کر دوں کہ فروغ نسیم کو مہاجر والا لقب میں نے نہیں دیا۔۔۔یہ اس کی اپنی چوائس ہے اور اس نے سیاست میں قدم بھی اسی جماعت کی مدد سے جمائے ہیں جس نے پاکستانی سیاست میں مہاجر برانڈ کی بہت زیادہ مارکیٹنگ کی ہوئی ہے۔۔۔اسی فروغ نسیم ہی کا ایک کارنامہ یہ ہے کہ اس نے مہاجر لیڈر الطاف حسین کو نیلسن مینڈیلا کا خطاب دیا تھا۔۔۔یہ علیحدہ بات ہے کہ اس نے بعد میں اپنے ہی نیلسن مینڈیلا کی پیٹھ میں چھراگھونپ کر اب اس جرنیلی لشکر کے جھنڈا اٹھا کر کھڑا ہے جس نے اس نیلسن مینڈیلا کا پاکستانی سیاست اور میڈیا پر بلیک آوٹ کروا رکھا ہےْ۔

میرا ایک برٹش دوست لوگوں کی تصویریں دیکھ کر ان کے بارے میں بہت ساری باتیں بتا دیتا تھا۔۔۔آپ میری اس بات کو مزاق مت سمجھئے گا۔۔۔میں زاتی طور پر ایسے پاکستانی لوگوں کو بھی اچھی طرح جانتا ہوں جو کسی بھی شخص کو دیکھ کر ہی اس کا ماضی حال اور مستقبل بتانے میں ماہر تھے۔۔۔مرحوم غلام محمد قاصر بھی اس میدان میں خاص ملکہ رکھتے تھے۔۔۔ان کا یہ شعر تو یقیننا آپ سب نے سن رکھا ہوگا

کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام

مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا


یہ نوے کی دہائی کے آخر کی بات ہے۔۔۔جب ہم نے حلقہ ارباب زوق نیویارک کے سالانہ اجلاس کے لئے مرحوم غلام محمد قاصر کو پشاور سے امریکہ آنے کی زحمت دی۔۔۔اپنے قیام کے دوران انہوں نے مجھے اور مرحوم جوہر میر کو میزبانی کا شرف بھی بخشا۔۔۔ان کے اس چند ہفتوں کے قیام میں جہاں انہوں نے مشاعروں میں اپنی شاعری سے دھوم مچا دی وہیں نجی محفلوں میں ان کی شخصیت کا یہ روحانی پہلو بھی سامنے آیا اور انہوں نے میری موجودگی میں ایسے لوگوں کو جنہیں وہ زندگی میں کبھی ملے بھی نہیں تھے ان لوگوں کو نہ صرف مسقبل کے حوالے سے باتیں بتائیں بلکہ ان کے ماضی کے واقعات کا بھی حوالہ دیا۔۔۔۔ایسے ہی ایک دوست میرے ساتھ اخبار میں کام کرتے تھے۔۔۔میں تو انہیں بہت اچھا سمجھتا تھا لیکن اس شخص کو دیکھتے ہی قاصر صاحب نے مجھے مشورہ دیا کہ اس سے بچ بچا کر رہنا۔۔یہ کوئی اچھی خصلت کا ٓادمی نہیں ہے۔۔۔بعد میں قاصر صاحب کی یہ بات درست ثابت ہوئی اور اس شخص نے اپنی حرکتوں سے نہ صرف مجھے بلکہ بہت سے لوگوں اور اس ادارے کو بھی نقصان پہنچایا۔


اب میں واپس آتا ہوں اپنے برٹش دوست کی طرف جو کہ تصویروں کی مدد سے انسانی شخصیت کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے۔۔۔میں نے اسے فروغ نسیم کی تصویر دکھائی ۔۔۔تصویر کے نیچے انگریزی میں فروغ نسیم بھی لکھا ہوا تھا۔۔۔میرے برٹش دوست نے کہا کہ اس بندے کا نام کتنا عجیب ہے۔۔۔اسے کوئی انسانی نام نہیں ملا جو اس نے اپنا نام فراگ رکھ لیا ہے۔۔۔میں نے اپنے دوست سے کہا کہ یہ فراگ نہیں بلکہ فروغ ہے ۔۔۔لیکن بہت کوشش کرنے کے بعد بھی وہ فروغ کو اسی طرح فراگ کہتا رہا جس طرح پاکستان کو تیل ادھارا دینے والے عربی اپنی زبان کے حروف تہجی کی مجبوری کی وجہ سے باکستان کہتے رہتے ہیں۔۔۔یہی مجبوری میرے اس برٹش دوست کی بھی ہے اور اس نے بھی جان بوجھ کر فروغ نسیم کو فراگ نسیم نہیں کہا ۔۔۔میری وضاحت پر اس نے معذرت بھی کی لیکن اس کے باوجود بھی اس نے جب بھی اس کا نام لیا تو فراگ ہی کہا۔


میرے اس دوست نے فروغ نسیم کے حوالے سے بہت کچھ کہا لیکن اگر اس دریا کو کوزے میں بند کیا جائے تو بات اس فراگ جسے ہم ملک ریاض کی مادری زبان میں ڈھڈو اور نسیم فروغ کی مادری زبان میں مینڈک پکارتے ہیں اسی پر ٓا کر ختم ہوتی ہے۔۔۔جس طرح ڈھڈو کسی ایک جگہ سے دوسری جگہ چھلانگ لگاتا رہتا ہے اور ہر وقت ٹر ٹر کرتا رہتا ہے وہ ساری خوبیاں اس مہاجر وکیل میں موجود ہیں۔

اس کی بہت ساری چھلانگیں تو آپ سب نے دیکھ رکھی ہیں لیکن تازہ ترین دو چھلانگیں تو ٓاپ سب کو یاد ہوں گی۔۔۔پہلئ چھلانگ وہ تھی جب اس نے جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کے لئے وزارتِ قانون والے چھپڑ سے ٹر ٹر کرتے ہوئے وکالت کے چھپڑ میں چھلانگ لگائی تھی۔۔۔پھر اس کے بعد یہ ڈھڈو چھلانگ لگا کر واپس وزارت قانون کے چھپڑ میں آ گیا تھا۔۔۔ان دنوں یہ ڈھڈو ایک بار پھر وزارت قانون والے چھپڑ سے باہر آ گیا ہے اور دو تین دن سے سپریم کورٹ میں وکیل بن کر سپریم کورٹ کے ایک جج قاضی فائز عیسی کے خلاف ٹرا رہا ہے۔


اس کی کوشش ہے کہ کسی طرح وہ پراجیکٹ جو اس نے وزارت قانون میں ایک اور ڈھڈو نما انسان جسے بیرسٹر ہونے کا دعوی بھی ہے اس کے ساتھ مل کر شروع کیا تھا۔۔۔اسے پشاور بی آر ٹی کی طرح ادھورا نہ چھوڑے کیوں کہ اس کو مکمل کرنے میں ہی پاکستان کے جرنیلی مافیا کی زندگی ہے۔۔۔ایکسٹینشن کا ٹیکہ لگوانے والے جرنیل کو پتہ ہے کہ اس کی اگلی ایکسٹینشن اور نئے انتخابات تک سپریم کورٹ کا چیف جسٹس قاضی عیسی فائز بن چکا ہو گا اور پھر اس جسٹس کی موجودگی میں جرنیلی ایجنڈا آگے بڑھانا ناممکن ہو جائے گا ۔

اس وقت ان کی اپنی منتخب کی ہوئی حکومت اور صدر موجود ہے۔۔۔سپریم کورٹ کا تالاب بھی وہی ہے جسے ثاقب نثار گندہ کر کے جا چکا ہے اور اسی گندگی سے فیض پانے والی بہت ساری مچھلیاں اور ڈھڈو ابھی تک اس تالاب میں موجود ہیں جن کی مدد سے قاضی فائز عیسی کو راستے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔۔۔اسی جرنیلی منصوبے کے تحت قاضی عیسی فائز کے خلاف ایک ایسے پردہ نشین صحافی سے درخواست دلوائی گئی جسے قاضی فائز عیسی کے ساے ٹبر کے گناہوں کا تو اچھی طرح پتہ ہے لیکن اسے قاضی صاحب کے نام کے اسپیلنگ بھی نہیں آتے ۔۔۔اس وقت سپریم کورٹ میں قاضی فائز کی درخواست کی سماعت جاری ہے۔۔۔ججز ایسے ریمارکس دے رہے ہیں جیسے یہ لوگ قاض عیسی فائز کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن جب اس کیس کا فیصلہ ہو گا تو زیادہ امکان یہی ہے کہ یہ سارے بروٹس والے روپ میں نظر آئیں گے۔


بات ختم کرنے سے پہلے کچھ زکر اب ملک ریاض کا ہو جائے جس کی ایک بیٹی نے پوری دنیا میں ٹھیکیدار کی بیٹی کے نام سے شہرت پائی ہے۔۔۔یہ بیٹی ان دنوں ولائیتی قرنطینہ میں ہے۔۔۔اس بیٹی نے اپنے باپ کی زاتی فوج کے ساتھ خان سسٹرز کے گھر جا کر جو خانہ جنگی کی تھی۔۔۔اس کی ویڈیوز تو ٓاپ سب نے دیکھ رکھی ہیں۔۔۔اس خانہ جنگی کے حوالے سے میں جو اٹھائیس مئی والے کھریاں کھریاں میں جو باتیں کی تھیں وہ ساری درست ثابت ہو چکی ہیں۔

اخباری خبروں کے مطابق خان سسٹرز نے سوشل میڈیا پر جنگ جیتنے کے باوجود ہتھیار ڈال دئیے ہیں۔۔۔ دروغ بر گردن راوی یہ ہتھیار انہوں نے ایک میجر اکبر کے ملازمین کے دباو پر ڈالے ہیں۔۔۔اب ٓاپ اگر مجھ سے میجر اکبر کا اتا پتا پوچھیں گے تو میں اس کے لئے ٓاپ کی اتنی مدد کر سکتا ہوں کہ حامد میر کا وہ ویڈیو کلپ دیکھ لیں جس میں اس نے میجر اکبر کا پورا تعارف پیش کیا ہے۔۔۔ خان سسٹرز نے عدالت سے انصاف لینے کی بجائے اپنی درخواست واپس لے لی ہے اور تحریری طور پر یہ بھی اقرار کر لیا ہےکہ ان پر ٹھیکیدار کی بیٹی نے کوئی حملہ نہیں کیا۔۔۔ان کے پیروں سے نکلنے والا خون بھی ان کی اپنی حماقت کا نتیجہ ہے۔

ملک ریاض نے جس طرح اپنی بیٹی کے لئے انصاف حاصل کیا ہے اس سے یہ تو ثابت ہوتا ہے کہ ملک ریاض بحریہ ٹاون میں آہ زاریاں کرنے والوں کے حق میں جتنا بھی برا ہو لیکن وہ ایک اچھا باپ ضرور ہے ۔۔۔ اس نے اپنا سارا جرنیلی اثاثہ داو پر لگا کر اپنی بیٹی کو بچا لیا ہے۔۔۔پدرانہ جذبے سے ٓاپ بھی سبق حاصل کر سکتے ہیں لیکن اس بات کو بھی زہن میں رکھیں کہ اس طرح کا انصاف پاکستان میں بہت مہنگا ہے۔۔۔شاید اتنا مہنگا کہ سپریم کورٹ کا جج قاضی فائز عیسی بھی اسے حاصل نہیں کر سکتا۔

1,138 views